لہجے والی زبان

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش

لہجے والی زبان ایسی زبان کو کہا جاتا ہے جس میں آواز کے لہجہ کی تبدیلی یا بولنے کے انداز کی بنیاد پر الفاظ اور جملوں کا مطلب بدل جاتا ہو. چینی زبان دنیا کی سب سے زیادہ بولی جانے والی لہجائی زبان ہے جسے تقریبا 1 ارب سے زائد افراد بولتے ہیں.جنوبی ایشیاء میں پنجابی اور ڈوگری جیسی مغربی پہاڑی زبانیں لہجے والی ہیں.کچھ حد تک ہر زبان میں لہجوں کے ذریعہ جذبات کو ظاہر کیا جاتا ہے (جیسے کہ غصہ یا دکھ) لیکن ایک ہی حروف والے الفاظ کے معنی لہجے کے ساتھ صرف ٹونل لینگیویجز(لہجے والی زبان)میں تبدیل ہوتے ہیں

مثالیں[ترمیم]

چینی میں "ما" لفظ کا مطلب لہجہ کی تبدیلی پر انحصار کرتا ہے - اونچے لیکن بغیر کسی تبدیلی کے لہجے کے ساتھ "ما" کا مطلب "ماں" ہے چڑھتے ہوئے لہجے کے ساتھ "ما" کا مطلب "بهنگ" ہے گر کر پھر چڑھتے ہوئے لہجے کے ساتھ "ما" کا مطلب "گھوڑا" ہے گرتے ہوئے لہجے کے ساتھ "ما" کا مطلب "ڈانٹ" ہے عام بغیر تبدیلی کے لہجے کے ساتھ "ما" کا مطلب ہے ایسے ہے کے بولنے والا ایک سوال پوچھ رہا ہے اگر لہجوں کی تبدیلی کو تیروں سے دکھایا جائے (↑ اٹھتا ہوا، ↓ گرتا ہوا، ↔ بغیر تبدیلی کے، ↺ گر کر اٹھتا ہوا)، تو چینی کا ایک فقرہ اس طرح ہو سکتا ہے - چینی میں -( 妈妈 骂 马 的 麻 吗؟ / 妈妈 骂 马 的 麻 吗؟ سروں کے ساتھ - ماما ↔ ما ↓ ما ↺ دے ما ↑ ما؟)

مطلب - کیا ماں گھوڑے کی بهنگ کو ڈانٹ رہی ہے؟

اگر کوئی دوسری زبان بولنے والا کسی چینی سے یہ فقرہ سنے تو اسے اس فقرے میں صرف "ماما ما ما دے ما ما "کا احساس ہوگا. اسے لگے گا کے ایک ہی لفظ "ما" بار بار دہرایا جا رہا ہے جبکہ الگ الگ لہجے کی وجہ سے اصل میں یہاں پانچ مختلف الفاظ کہے جا رہے ہیں.

اسی طرح پنجابی میں بھی لہجوں کا استعمال ہوتا ہے.

"کوڑا" بغیر کسی لہجے کی تبدیلی کے "کوڑا" (یعنی "چابک") کا معنی رکھتا ہے.

"کوڑا" گر کر پھر اٹھتے لہجے کے ساتھ "گھوڑا" کا مطلب رکھتا ہے

"کوڑا" اٹھتے ہوئے لہجے کے ساتھ "کڑوا" کا مطلب رکھتا ہے خیال رہے کے انہیں پنجابی کی دونوں (گورمکھی اور شاہ مکهی) رسم الخط میں الگ الگ لکھا جاتا ہے، لیکن ان کا تلفظ ایک سا ہوتا ہے صرف لہجا مختلف. پنجابی میں پوچھا جا سکتا ہے "کوڑا، کوڑا کے کوڑا؟" - اگر ان کو لہجے کے لحاظ الگ الگ طریقے سے بولا جائے تو مادرپدر پنجابیوں کو اس کا مطلب "گھوڑا، چابک، یا کڑوا؟" سمجھ آئے گا جبکہ ممکن ہے کے غیر پنجابیوں کو لگے کے ایک ہی لفظ تین دفعہ کہا گیا ہے.