مارشاسنگھ
مارشاسنگھ برطانیہ کے شہر بریڈفورڈ سے لیبر پارٹی کی جانب سے ممبر آف پارلیمنٹ ہیں۔ وہ بھارتی پنجاب میں 1954 کو پیدا ہوئے۔ بچپن میں ہی برطانیہ آگئے تھے انہوں نے بریڈفورڈ کے اسکول بیل ویو بوائز اسکول میں تعلیم حاصل کی۔ وہ ٹریڈیونین میں بھی سرگرم رہنما تھے۔ 1997 میں بریڈفورڈ کے ایک سفید فام ممبر آف پارلیمنٹ نے میکس میڈن نے مستعفی کا اعلان کیا جس پر لیبر پارٹی کے قوانین کے مطابق نئے امیدوار کو منتخب کرنے کے لئے جماعت کے اندر انتخابی عمل دہرایا گیا۔ اس انتخاب میں مارشا سنگھ کے علاوہ دیگر افراد میں لارڈ نذیراحمد، محمد عجیب، رنگزیب چوہدری، ذوالفقار احمد، محمد تاج، و دیگر کشمیری پاکستانی شامل تھے۔ مارشاء سنگھ پارٹی کے اندر منتخب ہوئے اور بعد ازاں انہوں نے 1997 کے الیکشن میں حصہ لے کر کامیابی حاصل کی۔ وہ بعد ازاں 2001 اور پھر 2005 کے الیکشن میں بھی منتخب ہورہے ہیں۔ ان کی اکثریت میں تسلسل سے کمی واقع ہورہی ہے۔ گزشتہ انتخبات میں دو مرتبہ محمد ریاض اور ایک مرتبہ ہارون رشید الیکشن لڑ چکے ہیں مگر ہر مرتبہ مارشا سنگھ کو کامیابی حاصل ہوئی ہے۔ ان کی پہلی اہلیہ فوت ہوچکی ہیں۔ ان کے دو بچے ہیں، حال ہی میں انہوں نے دوسری شادی کرلی ہے۔
6 مئی 2009 کو جنگ اخبار نے خبردی کہ مارشاسنگھ سمیت دیگر 20 ممبران پارلیمنٹ کو سیاست سے باہرکرنے کے لئے پارٹی کے قائد سے درخواست کی گئی۔ خبر کے مطابق مارشا سنگھ عوام کی خدمت کرنے میں ناکام رہے۔ [1]
21 مئی 2009 کو کشمیر کی تحریک حق خودارادیت کے لئے نو قائم شدہ تنظیم نے جس کے ممبران کا تعلق لیبر پارٹی سے ہے مارشا سنگھ کو برطانوی پارلیمنٹ دارلعوام کے کمیٹی روم میں کشمیر کی آزادی کے لئے ان کی خدمات کے اعتراف میں انہیں ایوارڈ سے نواز۔ یہ ایوارڈ کشمیر کے صدر راجہ ذوالقرنین خان نے پیش کیا۔ [2]
29 فروری 2012 کو مارشا سنگھ خرابی صحت کے باعث پارلیمنٹ کی ممبر شپ سے مستعفی ہوگئے۔ لیبر پارٹی کے قوانین کے مطابق جب پارٹی یہ سمجھے کہ کوئی ممبر آف پارلیمنٹ اپنے فرائض کسی وجہ سےانجام نہیں دے پارہا تو وہ اُسے مستعفی ہونے کامشورہ دے سکتے ہیں۔