مالکونس
| راگ موسیقی | |
| فہرست ٹھاٹھ | |
| کلیان ٹھاٹھ: ایمن کلیان - بھوپالی | |
| بھیرویں ٹھاٹھ: بھیرویں - گن کلی - للت | |
| ٹوڈی ٹھاٹھ: میاں کی ٹوڈی - ملتانی | |
| کھلچ ٹھاٹھ: راگیشری - تلنگ - تلک کا مود - جھنجھوٹی | |
| بھیرویں ٹھاٹھ: بھیرویں - مالکونس | |
| ماروا ٹھاٹھ: ماروا - پوریا | |
| آساوری ٹھاٹھ: آساوری - درباری | |
| بلاول ٹھاٹھ: کیدارا - پہاڑی - بہاگ | |
| پوربی ٹھاٹھ: پوریا دھناسری - بسنت | |
| کافی ٹھاٹھ: شدھ بہار - پیلو - بھیم پلاس | |
مالکونس بھیرویں ٹھاٹھ کا اوڈو راگ ہے۔ مالکونس قدیم ترین راگوں میں سے ایک ہے۔
فہرست |
تشکیل راگ [ترمیم]
مالکونس میں رکھب اور پنچم کے سر ورج ہوتے ہیں۔ اس میں مدھم شدھ اور گندھار دھیوت نکھاد کومل استعمال کئے جاتے ہیں۔ اس کا وادی سر مدھم اور سموادی کھرج ہے۔ گا-سا اور دھا-ما کی مینڈھ مالکونس کا روپ نکالتی ہے۔ انہیں مینڈھوں سے اس کی شکل واضع ہوتی ہے۔ مالکونس گانے کا وقت نصف شب ہے۔
آروہی آمروہی [ترمیم]
مالکونس کی آروہی آمروہی درج ذیل ہیں:
آروہی سا گا ما دھا نی سا
آمروہی سا نی دھا ما گا سا
استعمال [ترمیم]
استاد عمانت علی خان نے راگ مالکونس میں غزل گائ تھی:
پیار نہیں ہے سر سے جسکو
وہ مورکھ انسان نہیں
مال اور کونس [ترمیم]
مال اور کونس، یہ کونسیا، دو راگوں کی آمیزش بتائ جاتی ہے۔ آج کل یہ دونوں راگ الگ الگ ناپائدہ ہیں۔ البتہ انکی دیگر آمیزشیں موجود ہیں، لیکن ان کی ہیسیت الگ الگ کرنا تقریبآ ناممکن ہے۔ ایک نظریہ یہ بھی ہے کہ مال اور کونس الگ الگ راگ نا کبھی تھے، اور نا اس وقت ہیں، بلکہ مالکونس ایک ہی راگ ہے۔
حوالہ جات [ترمیم]
کنور خالد محمود، عنایت الہی ٹک، سرسنگیت۔ الجدید، لاہور؛ المنار مارکیٹ، چوک انارکلی۔ 1969ء صفہ 140۔