مانٹریال

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
مونٹریال

مانٹریال کا شہر کینیڈا کا دوسرا بڑا اور کیوبیک صوبے کا سب سے بڑا شہر ہے۔ اس شہر کا پرانا نام ولے ماری تھا۔ تاہم شہر کا نیا نام ماؤنٹ رائل سے نکلا ہے جو شہر کے مرکز میں واقع تین چوٹیوں والا پہاڑ ہے۔ پہلے پہل یہ نام اس جزیرے کو دیا گیا تھا جہاں یہ شہر واقع ہے۔

جولائی 2009 میں کینیڈا کے اعداد و شمار کے محکمے کے مطابق اس شہر کی آبادی 1906811 افراد پر مشتمل اور کینیڈا بھر میں دوسرے نمبر پر تھی۔ صدیوں سے کیتھولک اور پروٹسٹنٹ فرقے کے افراد کی موجودگی کے باعث یہ شہر پورے شمالی امریکہ میں منفرد حیثیت رکھتا ہے۔

شہر میں سب سے زیادہ بولی جانے والی زبان فرانسیسی ہے جو تقریباً 57 فیصد افراد بولتے ہیں۔ انگریزی کے بولنے والے تقریباً 13 فیصد ہیں۔ پیرس کے بعد مانٹریال دنیا کا دوسرا بڑا فرانسیسی زبان والا شہر ہے۔

مانٹریال کو دنیا کے ان چند شہروں میں شمار کیا جاتا ہے جہاں بہترین زندگی گذاری جا سکتی ہے۔ اگرچہ اسے کینیڈا کے معاشی مرکز کی حیثیت حاصل تھی لیکن 1976 میں ٹورنٹو کی آبادی اور اس کی معاشی ترقی مانٹریال سے آگے نکل گئی۔ آج بھی یہ شہر کامرس، ہوابازی، معیشت، ادویہ سازی، ٹیکنالوجی، ثقافت، سیاحت، فلم اور عالمی امور کے حوالے سے اہم مرکز شمار ہوتا ہے۔ مانٹریال کو دنیا میں اپنی شبینہ زندگی کی وجہ سے چند گنے چنے شہروں میں شمار کیا جاتا ہے۔

2010 میں مانٹریال کو مرکزی شہر کی حیثیت سے کل 289 شہروں میں سے 34ویں نمبر پر رکھا گیا تھا۔ سالانہ اعشاریے میں ٹورنٹو کے بعد مانٹریال کا نمبر آتا ہے۔ 2009 میں مانٹریال کو شمالی امریکہ کا اول شہر قرار دیا گیا تھا کہ جہاں بین الاقوامی نوعیت کے مقابلے رکھے جا سکیں۔ مانٹریال کے مرکز میں میک گِل یونیورسٹی موجود ہے جو کینیڈا میں پہلے نمبر پر جبکہ دنیا بھر کی 20 بہترین یونیورسٹیوں میں شمار ہوتی ہے۔

تاریخ[ترمیم]

آثارِ قدیمہ سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ مانٹریال کی جگہ پر یورپیوں کی آمد سے کم از کم 2000 سال قبل تک یہاں مختلف مقامی خانہ بدوش قبائل آباد تھے۔ 1000 عیسوی میں یہاں مکئی کی کاشت شروع ہو گئی تھی۔ اگلی چند صدیوں کے دوران مضبوط گاؤں بننا شروع ہو گئے تھے۔ ماہرین آثارِ قدیمہ نے مقامی قبائل کے یہاں اور دیگر جگہوں پر ۱۴ویں صدی تک نشانات پائے ہیں۔ فرانسیسی مہم جو جیکوئس کارٹیئر جب 2 اکتوبر 1535 کو یہاں پہنچا تو اس نے یہاں موجود مقامی قبائلیوں کی تعداد کا اندازہ کم از کم 1000 لگایا۔

70 سال بعد جب ایک اور فرانسیسی مہم جو سیموئل ڈی چیمپلین یہاں پہنچا تو اس نے ان قبائل کو یہاں سے بالکل ہی غائب پایا۔ اس کے مطابق اس انخلاء کی وجوہات میں یورپیوں کی بیماریاں اور دیگر قبائل کے ساتھ جنگیں اہم تھیں۔ 1611 میں چیمپلین نے یہاں سمور کی تجارتی چوکی مانٹریال کے جزیرے پر بنائی۔

ولے ماری جلد ہی سمور کی کھال کا اہم مرکز بن گیا اور یہاں سے شمالی امریکہ کا راستہ کھل گیا۔ 1760 تک کینیڈا فرانس کی ماتحت آبادی رہا جس کے بعد سات سالہ جنگ میں برطانیہ کی فتح کے بعد یہ شہر برطانیہ کے حوالے کر دیا گیا۔ مانٹریال کو 1832 میں شہر کا درجہ دیا گیا۔ لاچِن نہر کے بننے سے یہاں بحری جہاز آنے لگ گئے۔ وکٹوریا کے پل کے بننے سے ریل کا راستہ کھل گیا۔ 1860 تک برطانوی شمالی امریکہ میں مانٹریال سب سے بڑا شہر اور کینیڈا کا غیر متنازعہ معاشی اور ثقافتی مرکز بن چکا تھا۔

مانٹریال 1844 سے 1849 تک کینیڈا کے صوبے کا دارلخلافہ رہا تاہم عوامی بغاوت کے دوران مجمعے نے پارلیمان کی عمارت کو جلا کر راکھ کر دیا۔ اس کے بعد اوٹاوا کو بوجہ کینیڈا کا دارلخلافہ بنا دیا گیا جو سرحد سے دور واقع تھا۔ بعد ازاں اوٹاوا کینیڈا کے آزاد ملک کا دارلحکومت بنا۔

پہلی جنگِ عظیم کے بعد جب امریکہ میں شراب کی بندش ہوئی تو مانٹریال امریکہ کے شرابیوں کے لئے جنت بن گیا۔ تاہم شہر میں بے روزگاری بڑھتی رہی اور 1929 میں سٹاک مارکیٹ کے کریش ہونے اور عظیم معاشی بحران کی وجہ سے عروج پر پہنچ گئی۔

دوسری جنگِ عظیم کے دوران جبری بھرتی کے خلاف شہر کے میئر نے بغاوت کرتے ہوئے اعلان کیا کہ تمام مرد و عورت حکومت کے احکام کی خلاف ورزی کریں گے۔ تاہم حکومت نے میئر کو 1944 تک کے لئے جیل بھیج دیا۔

1951 تک شہر کی آبادی دس لاکھ سے تجاوز کر چکی تھی۔ سینٹ لارنس کے بحری راستے کے 1959 میں کھلنے کے بعد سے بحری جہاز مانٹریال سے ہٹ کر براہ راست آنے جانے لگے۔ وقت ساتھ اس وجہ سے شہر کا معاشی غلبہ کمزور پڑتا گیا۔ تاہم 1960 کی دہائی میں صورتحال بہتر ہونے لگی اور ایکسپو 67، کینیڈا کی بلند ترین فلک بوس عمارات کی تعمیر، نئی ایکسپریس وے اور مانٹریال کے میٹرو کی تعمیر ہوئی۔

1979کی دہائی میں وسیع پیمانے پر سماجی اور سیاسی تبدیلیاں واقع ہونے لگیں اور فرانسیسی بولنے والے کینیڈین باشندوں کو اپنی ثقافت اور اپنی زبان کے تحفظ کی فکر لاحق ہو گئی۔ اس وقت شہر کی اقلیتی انگریزی بولنے والی آبادی کاروباری سرگرمیوں پر چھائی ہوئی تھی۔ اس وجہ سے پارٹی کیبویکوئس نے آزاد کیوبیک کی تحریک چلائی جس کے نتیجے میں اکتوبر کا بحران پیدا ہوا۔ نتیجتاً بہت سارے کاروباری افراد شہر سے اپنے کاروبار کو منتقل کرنے لگے۔ 1976 میں مانٹریال میں گرمائی اولمپک کھیل منعقد ہوئے۔

1980 اور 90 کی دہائیوں میں معاشی ترقی کی رفتار دوسرے شہروں کی نسبت کم رہی۔ تاہم 1990 کی دہائی کے آخر میں مانٹریال کا معاشی موسم بہتر ہونے لگا اور نئے نئے معاشی اور کاروباری ادارے یہاں اپنا کام شروع کرنے لگے۔ یکم جنوری 2002 کو مانٹریال اور جزیرے پر اس کے آس پاس موجود 27 چھوٹی آبادیوں کو ملا دیا گیا۔ نتیجتاً مانٹریال کا شہر بنا جو مانٹریال کے پورے جزیرے پر واقع ہے۔ تاہم بہت ساری آبادیوں کو یہ انضمام پسند نہیں آیا اور انہوں نے ریفرنڈم کے نتیجے میں یکم جنوری 2006 کو علیحدگی حاصل کر لی۔

جغرافیہ[ترمیم]

مانٹریال کا شہر کیوبیک کے صوبے کے جنوب مغربی حصے میں واقع ہے۔ شہر کا اصل رقبہ جزیرے کے بڑے حصے پر سینٹ لارنس اور اوٹاوا دریا کے سنگم پر واقع ہے۔ مانٹریال کی بندرگاہ سینٹ لارنس کی آبی گذرگاہ کے ایک سرے پر واقع ہے۔ یہ آبی گذرگاہ عظیم جھیلوں کو بحرِ اوقیانوس سے ملاتی ہے۔ شہر کا نام جزیرے کے سب سے اہم اور نمایاں جغرافیائی مقام یعنی رائل نامی پہاڑ کے نام پر رکھا گیا ہے۔ یہ پہاڑ انگریزی میں ماؤنٹ رائل کہلاتا ہے اور سطح سمندر سے 232 میٹر بلند ہے۔

موسم[ترمیم]

مانٹریال کی گرمیوں کا موسم گرم رہتا ہے تاہم اکثر حبس ہو جاتا ہے۔ اوسطاً زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 26 جبکہ اوسطاً کم سے کم درجہ حرارت 16 ڈگری رہتا ہے۔اکثر اوقات درجہ حرارت 30 ڈگری سے زیادہ ہو جاتا ہے۔ مانٹریال کی سردیاں زیادہ تر انتہائی سرد، برفانی، تیز ہوا کے ساتھ اور یخ بستہ ہوتی ہیں۔ سردیوں میں اوسطاً زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت منفی 5 جبکہ اوسطاً کم سے کم درجہ حرارت منفی 13 رہتا ہے۔ بعض اوقات سردیوں میں دن کے وقت درجہ حرارت صفر سے اوپر چلا جاتا ہے اور بارش بھی ہو سکتی ہے جبکہ دیگر اوقات منفی 20 سے بھی نیچے جا سکتا ہے۔

بہار اور خزاں کے موسم بالعموم معتدل ہوتے ہیں تاہم موسم اچانک شدید ہو سکتا ہے۔ گرمیوں کی لہر نومبر میں جبکہ نومبر، مارچ اور اپریل میں برفانی طوفان بھی ممکن ہیں۔

15 جنوری 1957 کو کم سے کم درجہ حرارت منفی 37.8 جبکہ یکم اگست 1975 کو سب سے زیادہ درجہ حرارت 37.6 ریکارڈ کیا گیا تھا۔

سالانہ بارش کی مقدار 39 انچ جبکہ 86 انچ برف بھی شامل ہے۔ برفباری نومبر سے مارچ تک ہوتی ہے۔ بہار کے اواخر سے گرمیوں اور خزاں کے شروع تک طوفانِ باد و باراں آتے رہتے ہیں اور بہت زیادہ بارش ہوتی ہے۔ شہر میں سالانہ 2000 گھنٹے اوسطاً سورج نکلتا ہے۔

طرزِ تعمیر[ترمیم]

150 سال تک مانٹریال کو کینیڈا کے صنعتی اور معاشی مرکز کی حیثیت حاصل رہی ہے۔ فیکٹریوں، ایلی ویٹروں، گوداموں، ملوں، کارخانوں اور ریفائنریوں کی تعیمر میں مختلف انداز استعمال کیے گئے ہیں جو آج ماضی کی جھلک دکھاتے ہیں۔

آبادی[ترمیم]

کینیڈا کے اعداد و شمار کے محکمے کے مطابق 2006 کی مردم شماری میں مانٹریال کی کُل آبادی 1620693 نفوس پر مشتمل تھی۔ یورپی النسل افراد آبادی کی اکثریت ہیں جن میں سے فرانسیسی، برطانوی، آئرش اور اطالوی اہم ہیں۔ اقلیتوں میں سیاہ فام، مراکشی، لاطینی امریکی، جنوبی ایشیائی اور چینی اہم ہیں۔

فرانسیسی کو سب سے زیادہ افراد مادری زبان گردانتے ہیں۔ دوسرے نمبر پر انگریزی اور اس کے بعد اطالوی، عربی، ہسپانوی، کریول، چینی، یونانی، پرتگالی، رومانی، ویتنامی اور روسی زبانیں آتی ہیں۔ آبادی کی اکثریت فرانسیسی اور انگریزی دونوں ہی کسی نہ کسی حد تک جانتی ہے۔

رومن کیتھولک اکثریتی مذہب ہے تاہم چرچ جانے والے افراد کی ہفتہ وار اوسط کینیڈا بھر میں سب سے کم ہے۔ 84 فیصد سے زیادہ افراد رومن کیتھولک ہیں۔ دیگر اہم غیر عیسائی مذاہب میں اسلام سب سے بڑا مذہب ہے۔ یہاں مسلمانوں کی تعداد کینیڈا میں دوسرے نمبر پر ہے۔ اس کے بعد یہودی مذہب کی آبادی تقریباً 93000 ہے۔

معیشت[ترمیم]

مانٹریال

مانٹریال کی معیشت کینیڈا میں دوسرے جبکہ کیوبیک صوبے میں سب سے بڑی ہے۔

مانٹریال کی صنعتوں میں ہوابازی، بجلی کے سامان، ادویات، مطبوعات، سافٹ وئیر انجینرنگ، مواصلات، ٹیکسٹائل اور لباس کی تیاری، تمباکو اور نقل و حمل اہم ہیں۔ خدمات کا شعبہ بھی کافی مضبوط ہے اور سول، مکینیکل، پراسیس انجینرنگ، فنانس، اعلٰی تعلیم، تحقیق و ترقی اس شعبے میں اہم ہیں۔ ہوابازی میں نوکریوں کی تعداد کے لحاظ سے مانٹریال 2002 میں شمالی امریکہ میں چوتھے نمبر پر تھا۔

مانٹریال کی بندرگاہ دنیا میں سب سے بڑی غیر بحری بندرگاہ ہے۔ یہاں سالانہ 2 کروڑ 60 لاکھ ٹن کارگو منتقل ہوتا ہے۔ غلہ، چینی، پیٹرولیم کی مصنوعات، مشینری اور عام استعمال کی اشیاء یہاں سے منتقل ہوتی ہیں۔ اس وجہ سے مانٹریال ریلوے کا بھی اہم مرکز ہے۔ کینیڈین نیشنل ریلوے کا صدر دفتر یہاں قائم ہے اور کینیڈین پیسیفک ریلوے کا صدر دفتر بھی 1995 تک یہاں موجود تھا۔

کینیڈا کے خلائی ادارے کا صدر دفتر بھی یہاں موجود ہے۔ اس کے علاوہ مانٹریال میں بین الاقوامی ہوابازی کے ادارے کا صدر دفتر موجود ہے۔ اس کے علاوہ ایاٹا، اینٹی ڈوپنگ ادارہ اور دیگر بے شمار اہم بین الاقوامی ادارے بھی یہاں قائم ہیں۔ مانٹریال فلم اور ٹیلی ویژن کے پروگراموں کی تیاری کا مرکز بھی ہے۔ الائنس فلم اور نیشنل فلم بورڈ آف کینیڈا اور ٹیلی فلم کینیڈا کے صدر دفاتر بھی یہاں واقع ہیں۔

وڈیو گیم کی صنعت بھی 1997 سے مانٹریال میں اہمیت اختیار کرتی جا رہی ہے۔ حال ہی میں یہاں اوبی سافٹ مانٹریال، ای اے، ایڈوس انٹرایکٹو، آرٹیفیشل مائنڈ اینڈ موومنٹ، سٹریٹیجی فرسٹ، ٹی ایچ کیو وغیرہ کے دفاتر بھی یہاں قائم ہوئے ہیں۔

مانٹریال فنانس انڈسٹری میں بھی اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ بینک آف مانٹریال اور رائل بینک آف کینیڈا کے قانونی صدر دفاتر یہاں قائم ہیں۔ یہ دونوں بینک کینیڈا کے پانچ بڑے بینکوں میں شامل ہیں۔

گریٹر مانٹریال کی جی ڈی پی 2005 میں 120 ارب ڈالر تھی جو دنیا بھر میں 39ویں نمبر پر تھی۔ اندازہ ہے کہ 2012 تک یہ 140 ارب تک پہنچ جائے گی۔

مانٹریال کی تیل کی صفائی کا مرکز کینیڈا بھر میں سب سے بڑا ہے اور پیٹرو کینیڈا، الٹرامر، گلف آئل، پیٹرمونٹ، ایش لینڈ کینیڈا، پراچیم پیٹرو کیمیکل، کوسٹل پیٹرو کیمیکل، وغیرہ کے لئے تیل یہاں صاف کیا جاتا ہے۔ تاہم 2010 میں شیل نے اس پلانٹ کو بند کرنے کا فیصلہ کیا اور سینکڑوں افراد بے روزگار ہو گئے۔ مشرقی کینیڈا کے لئے تیل مہیا کرنے کے لئے دوسرے ملکوں کی ریفائنریوں پر انحصار بڑھ گیا ہے۔

حکومت[ترمیم]

مانٹریال میں شہری حکومت کا سربراہ میئر ہوتا ہے۔ سٹی کونسل کو عوام براہِ راست منتخب کرتے ہیں۔ کونسل کے کل 73 اراکین ہوتے ہیں۔

نقل و حمل[ترمیم]

دیگر بڑے شہروں کی طرح مانٹریال میں بھی ٹریفک جام عام ہیں۔ خصوصاً یہ مسئلہ ان جگہوں پر زیادہ ہوتا ہے جہاں باہر والی ٹریفک شہر میں داخل ہوتی یا باہر نکلتی ہے۔ سینٹ لارنس دریا کی چوڑائی کی وجہ سے اس پر بنائے جانے والے پُل مہنگے اور مشکل ہو گئے ہیں۔

فضائی رابطہ[ترمیم]

مانٹریال کے دو بین الاقوامی ہوائی اڈے ہیں۔ ایک ہوائی اڈہ مسافر بردار جبکہ دوسرا مال برداری کے کام آتا ہے۔

ریل[ترمیم]

مانٹریال میں وی آئی اے ریل کا صدر دفتر ہے جو اسے کینیڈا کے دیگر شہروں سے ملاتی ہے۔ ایم ٹریک مانٹریال کو امریکی ریلوے سے ملاتا ہے۔

جڑواں شہر[ترمیم]

مانٹریال کے جڑواں شہر درج ذیل ہیں: