متحدہ قومی موومنٹ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
Padlock.svg اس صفحہ کو ترامیم کیلیے نیم محفوظ کر دیا گیا ہے اور صارف کو اندراج کر کے داخل نوشتہ ہونا لازم ہے؛ (اندراج کریں یا کھاتہ بنائیں)
متحدہ قومی مومنٹ
قائدِ ایوانِ زیریں ڈاکٹر فاروق ستار
قیام 1984 (1984)
صدر دفتر کراچی, پاکستان
خیالیت Liberal
بین الاقوامی وابستگی کوئی نہیں
رنگ سرخ ، سبز اور سفید
ایوانِ بالا میں نشستیں 6/100[1]
ایوانِ زیریں میں نشستیں 25/342[2]
موقع حبالہ
http://www.mqm.com/[3]
MQM USA
پاکستان

مقالہ بسلسلہ مضامین:
پاکستان کی حکومت اور سیاست



متحدہ قومی موومنٹ یا متحدہ قومی تحریک کی بنیاد 1978ء میں ایک لسانی تنظیم کے طور پر رکھی گئی۔ اس تنظیم کے بانی الطاف حسین تھے اور اس کے قیام کا ایک اہم مقصد جامعہ کراچی میں زیر تعلیم اردو بولنے والے طالب علموں کے مفادات کا تحفظ تھا۔ بعد ازاں اس تنظیم نے اپنے دائرے کو وسعت دے کر اسے صوبہ سندھ کی سیاسی جماعت کا درجہ دے دیا۔

ابتدائی دور میں ایم کیو ایم سے مراد "مہاجر قومی موومنٹ" تھا۔ 1997ء میں اس جماعت نے خود کو قومی دھارے میں شامل کرنے کے لیے اپنا نام سرکاری طور پر مہاجر قومی موومنٹ سے بدل کر متحدہ قومی موومنٹ رکھ لیا اور اپنے دروازے دوسری زبانیں بولنے والوں کے لیے بھی کھول دیے۔

تشدد اور اس جماعت کا شروع سے ساتھ رہا ہے۔ پرویز مشرف کے دور میں اس جماعت نے اپنا حلیہ تبدیل کرنے کی کوشش کی، حکومت میں شامل ہوئی، اور اپنے آپ کو ملک گیر جماعت کے بطور متعارف کرانے کی طرف مائل ہوئی۔ مگر تشدد کی سیاست سے پیچھا نہ چھڑا سکی، جیسا کہ کراچی میں 2007ء کے فسادات سے واضح ہوا۔ مبصرین کے مطابق اس کی وجہ یہ ہے کہ جماعت ایک "مافیا" کے طور چلائی جاتی ہے۔[4] کراچی میں متحدہ کی دہشت کا یہ عالم ہے کہ برطانوی حکومت نے بینظیر بھٹو کی اکتوبر 2007ء میں کراچی واپسی سے پہلے الطاف حسین سے بینظیر کی سلامتی یقینی بنانے کے لیے گفت و شنید کی۔[5] صدر مشرف کے دور سے قبل سرکاری حلقوں میں اس جماعت کو کراچی میں ہونے والے تشدد کے واقعات کا ذمے دار سمجھا جاتا تھا۔ ماضی کی حکومتوں نے ایم کیو ایم کے خلاف کئی بار مختلف سطحوں پر کریک ڈاؤن بھی کیے۔ ایم کیو ایم کا کہنا ہے کہ اس کے سینکڑوں کارکن ماضی کی حکومتی کارروائیوں کا نشانہ بنے جن میں سے کئی ایک کو تشدد کے ذریعے ہلاک کردیا گیا۔ انسانی حقوق کی کئی بین الاقومی تنظیمیں جن میں اقوام متحدہ کا انسانی حقوق کا ادارہ اور امریکی سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ شامل ہیں ،کراچی میں تشدد کے اکثر واقعات پر ایم کیو ایم کو تنقید کا نشانہ بناتی ہیں۔ متحدہ نے پرویز مشرف کے فوجی تاخت 2007ء اور "ہنگامی حالت" کی مخالفت نہیں کی۔ فوجی تاخت کے بعد بااثر امریکی ذرائع ابلاغ نے متحدہ کے "ترقی پسند نظریات" کی تعریف کے مضامین شائع کیے۔[6] لیکن اس کے جلد ہی بعد متحدہ کے سربراہ الطاف حسین نے مغرب پسندی کے تاثر کو زائل کرنے کے لیے ایک امریکہ مخالف بیان جاری کیا۔[7]

سیاسی دھارے میں آنے کے بعد ایم کیو ایم نے اپنی توجہ کا مرکز سندھ میں اردو بولنے والے طبقوں کو بنایا۔ چونکہ کراچی اور سندھ کے کئی دوسرے بڑے شہروں میں اردو بولنے والوں کی ایک بڑی تعداد آباد ہے اس لیے ایم کیو ایم نے وہاں کی بلدیاتی ،صوبائی اور قومی اسمبلی کی نشستوں پر نمایاں کامیابی حاصل کرنی شروع کردی۔ گذشتہ کئی برسوں سے کراچی ، حیدر آباد ، میر پور خاص ، شکار پور اور سکھر کو ایم کیو ایم کے گڑھ تصور کیا جاتا ہے۔ سندھ کے شہری علاقوں میں ایک بڑی سیاسی قوت رکھنے کے ساتھ اب یہ جماعت سندھ کی صوبائی اسمبلی اور قومی اسمبلی میں بھی اپنا اثر رسوخ رکھتی ہے۔

متحدہ قومی موومنٹ بننے کے بعد اس جماعت نے دوسرے لسانی گروہوں اور طبقوں کی توجہ حاصل کرنے کے لیے اپنے منشور میں ایسے پہلوؤں کو شامل کیا ہے جن کا تعلق نچلے اور درمیانے طبقے سے ہے۔ سندھ میں اس جماعت کو رفتہ رفتہ دوسری زبانیں بولنے والوں کی بھی حمایت حاصل ہورہی ہے۔

ایم کیو ایم نے قومی سطح کی سیاسی جماعت بننے کے لیے اب سندھ سے باہر دوسرے صوبوں بالخصوص پنجاب میں بھی اپنے دفتر قائم کرنے شروع کر دیے ہیں۔ 2008ء کے انتخابات میں اس نے پنجاب سے قومی اور صوبائی اسمبلی کی نشستوں کے لیے، پارٹی کے اپنے دعوؤں کے مطابق، ڈیڑھ سو سے زیادہ امیدوار کھڑے کیے۔ جب کہ اس سے قبل ایم کیو ایم کو پنجاب مخالف جماعت تصور کیا جاتا تھا۔

ایم کیو ایم نے 2002ء کے انتخابات میں سندھ کے شہری علاقوں کی اکثر سیٹیں جیتیں۔ اسی طرح 2005ء کے بلدیاتی انتخابات میں بھی سندھ کے شہری علاقوں کا میدان ایم کیو ایم کے ہاتھ رہا۔

ایم کیو ایم پرویز مشرف کے دور میں ان کی ایک اہم حلیف جماعت تھی۔ 2002ء کے انتخابات کے بعد سندھ اور مرکز ی حکومتوں میں وہ پانچ سال تک حکومت کا حصہ رہی اور صدر مشرف کی پالیسیوں کے حق میں زبردست آواز اٹھاتی رہی۔ اس پر یہ الزام بھی لگایا جاتا ہے کہ اس نے صدر مشرف کی خاطر 12 مئی 2007ء کو کراچی میں چیف جسٹس کے دورے کے موقع پر خونی فسادات کرائے تھے۔ ایم کیو ایم اس سے انکار کرتی ہے۔ پرویز مشرف کی حمایت میں ایک نمایاں کردار رکھنے کے باوجود وہ قومی وسائل کی تقسیم، کالاباغ ڈیم اور کئی دوسرے معاملات پر صدر کی پالیسیوں کی مخالفت بھی کرتی رہی۔

متحدہ قومی موومنٹ کے بانی اور قائد الطاف حسین نے 1992ء کے فوجی آپریشن سے قبل ہی خود ساختہ جلاوطنی اختیار کر کے لندن میں سکونت اختیار کر لی تھی اور اب ان کے پاس برطانیہ کی شہریت ہے۔ ایم کیو ایم کا انٹرنیشنل سیکرٹریٹ لندن میں ہے جہاں سے الطاف حسین پارٹی کے امور کی نگرانی کرتے ہیں اور ٹیلی فونی تقاریر کے ذریعے پارٹی کارکنوں سے رابطے میں رہتے ہیں۔


2008ء کے انتخابات میں سندھ کے شہری علاقوں میں ایک بار پھر ایم کیوایم اکثر سیٹیں جیت لیں ہیں اور سندہ میں پیپلز پارٹی کے ساتھ حکومت میں شامل ہے۔

[8]

اعتراضات

ایم کیو ایم کا قیام دو نعروں کی بنیاد پر عمل میں آیا تھا۔

  • محصورین مشرقی پاکستان کی باعزت وطن واپسی
  • سندھ میں بدنام زمانہ کوٹہ سسٹم کا خاتمہ۔

ایم کیو ایم نے اپنے قیام کے 25 سال گزر جانے کے بعد بھی آج تک محصورین مشرقی پاکستان کے لئے کوئی سنجیدہ قدم نہیں اٹھایا ۔ 1988 سے تاحال 4 دفعہ حکومت میں شامل رہنے کے باوجود کوٹہ سسٹم کا خاتمہ کی قرارداد پیش نہیں کی۔

ایم کیو ایم پر ایک اور اعتراض یہ کیا جاتا ہے کہ اس نے سیاست میں بھتہ خوری[9] اور کلاشنکوف کلچر متعارف کروایا۔ اس کے قائد کا بیان " ٹی وی بیچو ، وی سی آر بیچو ، اسلحہ خریدو" نے خاصی شہرت حاصل کی تھی۔ سانحہ 12 مئ بھی ایم کیو ایم کے لیے بھی ایم کیو ایم کو ذمہ دار سمجھا جاتا ہے۔

امیر ترین سیاسی جماعت

کراچی کے ایک روزنامے نے اپنی 21 جنوری 2010 کی اشاعت میں دعوی کیا ہے کہ متوسط طبقے کی نمائندگی کے دعویدار یہ جماعت ملک کی امیر ترین سیاسی جماعت ہے جو تقریبا 9 کروڑ روپے کے اثاثوں کی مالک ہے [10]

تشدد

متحدہ پر اکثر اپنے مخالفین کو نشانہ بنا کر ہلاک کرنے کا الزام لگتا رہا ہے۔ جنوری 2011ء کے نشانہ ہلاکت واقعات کے بعد گرفتار ملزموں کی 26 افراد کی فہرست میں زیادہ تر کا تعلق متحدہ سے بتایا گیا۔[11]


بلاگ و چوپال


حوالہ جات

  1. ^ "Party Position in the Senate of Pakistan - 2009" (in snposition). Election Commission of Pakistan. http://www.ecp.gov.pk/Senate_position.pdf. Retrieved 2009-07-28.
  2. ^ "National Assembly Party Position Including Reserved Seats". Election Commission of Pakistan. 2009-06-01. http://www.ecp.gov.pk/NAPosition.pdf. Retrieved 2009-07-28.
  3. ^ Link is not included here, because it is a reported attack site, according to Google advisory.
  4. ^ گارڈین 2 جون 2007ء The Karachi ruling party 'run like the mafia' from an office block in London
  5. ^ روزنامہ انڈیپنڈنٹ، 15 نومبر 2007ء،، "Mysterious world of a movement in exile "
  6. ^ WSJ دسمبر 2007ء، "Pakistan's Embattled Leader Embraces Maverick Partner, by Yaroslav Trofimov"
  7. ^ روزنامہ ڈان، 8 دسمبر 2007ء، "MQM lashes out at US policies"
  8. ^ [1] "ایم کیو ایم، مہاجر قومی موومنٹ سے سے متحدہ قومی موومنٹ تک"
  9. ^ "MQM pioneered 'bhatta' culture in Karachi: Asma". دی نیشن. 7 ستمبر 2011ء. http://nation.com.pk/pakistan-news-newspaper-daily-english-online/Regional/Karachi/06-Sep-2011/MQM-pioneered-bhatta-culture-in-Karachi-Asma.
  10. ^ http://hindumqm.wordpress.com/%DA%BE%D9%86%D8%AF%D9%88-%D8%A7%DB%8C%D9%85-%DA%A9%DB%8C%D9%88-%D8%A7%DB%8C%D9%85-%DA%A9%DB%8C-%D8%A8%DA%BE%D8%AA%DB%81-%D8%AE%D9%88%D8%B1%DB%8C/
  11. ^ "Names of 26 target killers revealed". The Nation. January 21, 2011. http://www.nation.com.pk/pakistan-news-newspaper-daily-english-online/Regional/Karachi/21-Jan-2011/Names-of-26-target-killers-revealed.