محمد رفیع

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
محمد رفیع
پس منظری معلومات
پیدائشی نام محمد حاجی علی محمد رفیع
پیدائش 24 دسمبر 1924
کوٹلہ سلطان سنگھ ، پنجاب ، برطانوی ہند
تعلق بھارت
وفات 31 جولائی 1980 (55 سال کی عمر میں)
ممبئی ، مہاراشٹر ، بھارت
اصناف ہندوستانی کلاسیکی موسیقی ، غزل ،پس منظر گلوکاری ، قوالی ، ٹھمری
پیشے پس منظر گلوکار ، اردو ، ہندی ، پنجابی اور دیگر علاقائی زبانون میں نغمہ سرائی کی ، علاوہ ازیں انگریزی ، اسکوٹش ، ہسپانوی اور فرانسیسی میں گانے ریکارڈ ہوئے۔
ادوات گلوکار
سالہائے فعالیت 1944–1980


پیدائش: 24 دسمبر 1924ء

انتقال:31 جولائی 1980ء

بالی وڈ کے مشہور گلوکار۔

ابتدائی زندگی[ترمیم]

محمد رفیع امرتسر کے کوٹلہ سلطان سنگھ گاؤں میں پیدا ہوئے۔ بتایا جاتا ہے کہ اس وقت ان کی گلی میں ایک فقیر آتا تھا جو بلند آواز میں گیت گاتا تھا رفیع کو اسے گنگناتا دیکھ ان کے بڑے بھائی نے استاد وحید خان کی سرپرستی میں انہیں تعلیم دلائی۔


پہلا گانا[ترمیم]

رفیع نے لاہور ریڈیو پر پنجابی نغموں سے اپنے سفر کی ابتدا کی۔ پہلی پنجابی فلم ’گل بلوچ‘ میں انہوں نے اپنا گیت زینت بیگم کے ساتھ ریکارڈ کیا۔ کہا جاتا ہے کہ ایک روز کندن لال سہگل کا پروگرام تھا۔ وہ اپنے وقت کے مشہور گلوکار تھے اور انہیں سننے کے لیئے سینکڑوں کا مجمع، بجلی فیل ہونے کی وجہ سے سہگل نےگانے سے انکار کر دیا ۔اسی وقت رفیع کے بھائی نے پروگرام کے منتظمین سے کہا کہ ان کا بھائی بھی ایک گلوکار ہے اور اسے موقع دیا جائے۔

مجمعے کی ناراضگی کو دیکھتے ہوئے منتظمین نے رفیع کو گانے کا موقع دیا۔ 13 سال کی عمر میں انہوں نے اِسٹیج پر گیت گایا۔ اسی پروگرام میں موسیقار شیام سندر موجود تھے۔ انہوں نے ایک جوہری کی طرح رفیع کو پرکھ لیا اور انہیں بمبئی آنے کی دعوت دی۔ بس یہیں سے رفیع کا یادگار سفر شروع ہوا۔

نئی زندگی[ترمیم]

تقسیم ہند سے قبل انہوں نے کئی فلموں میں نغمے گائے۔ فلم جگنو میں ملکہ ترنم نورجہاں کے ساتھ ان کا گایا یہ گیت ’یہاں بدلہ وفا کا بے وفائی کے سوا کیا ہے‘ ان کے ہزارہا یاد گار نغموں میں سے ایک ہے۔

نوشاد سے ملاقات[ترمیم]

رفیع کی زندگی میں سب سے بڑا موڑ اس وقت آیا جب موسیقار اعظم نوشاد نے انہیں گانے کا موقع دیا۔ اس وقت نوشاد علی اور طلعت محمود کی جوڑی بہت کامیاب تھی نوشاد کا ہر گیت طلعت گاتے تھے۔ کہا جاتا ہے کہ ایک روز نوشاد نے طلعت کو گانے سے قبل سگریٹ پیتے دیکھ لیا۔ اصولوں کے پکے نوشاد بہت برہم ہوئے اور انہوں نے طلعت کے بجائے رفیع کو چن لیا۔ رفیع نے زندگی میں کبھی سگریٹ یا شراب کو ہاتھ نہیں لگایا تھا۔

نوشاد کے ساتھ رفیع کی جوڑی بہت کامیاب رہی۔ بیجوباؤرا کے سارے نغمے ہٹ ہوئے۔ من تڑپت ہری درشن کو آج، جیسا کلاسیکی گیت ہو یا چاہے مجھے کوئی جنگلی کہے کا چنچل نغمہ رفیع کو ہر طرح کے گیت گانے میں مہارت حاصل تھی۔ انہوں نے وہ نغمے بھی گائے جسے اس وقت کے دوسرے گلوکاروں نے گانے سے منع کر دیا تھا۔ کشور کمار نے ’ہاتھی میرے ساتھی کا گیت نفرت کی دنیا کو چھوڑ کر‘گانے سے منع کر دیا تھا کیونکہ اس میں آواز کی لے کافی اونچی تھی لیکن رفیع نے یہ گیت گایا اور بہت مقبول ہوا۔

نغمگی کا یہ سفر بہت کامیاب رہا۔ انہوں نے اردو ، ہندی مراٹھی، گجراتی، بنگالی بھوجپوری تمل کے علاوہ کئی زبانوں میں گیت گائے۔ رفیع کی خاصیت تھی کہ وہ جس فنکار کے لیئے گاتے اسی کی آواز اور اسی کے انداز کو اپناتے۔

فلم پیاسا میں جانی واکر کے لیے انہوں نے ’تیل مالش’ کا جو گیت گایا اسے سن کر لگتا ہے کہ سامنے جانی واکر ہی گا رہے ہیں اور اس کا اعتراف خود جانی واکر نے بھی کیا تھا۔

شخصیت[ترمیم]

رفیع بہت سیدھے اور صاف دل انسان تھے۔ کئی مرتبہ انہوں نے بغیر ایک پیسہ لئے گیت گایا۔ ایک بڑے موسیقار نے رفیع کی موت کے بعد اعتراف کیا کہ ان کے پاس رفیع کو دینے کے لیے پیسے نہیں تھے۔ گیت ختم ہونے کے بعد انہوں نے رفیع صاحب سے نظریں نہیں ملائیں اور دنیا کو دکھانے کے لئے ایک خالی لفافہ پکڑا دیا۔ رفیع نے اسے لے لیا لیکن بعد میں ملاقات کے بعد کبھی اس کا تذکرہ بھی نہیں کیا جب بھی ملے مسکرا کر ملے۔


اعزازات[ترمیم]

رفیع کو ان کے گیتوں پر 6 فلم فیئر ایوارڈ مل چکے ہیں۔ حکومت نے انہیں پدم شری کے ایوارڈ سے بھی نوازا۔ 36000 سے زیادہ نغمے گائے اور وہ سارے گیت آج بھی کروڑوں لوگوں کی زبان پر ہیں۔ اس سے بڑا کوئی اور اعزاز نہیں ہو سکتا۔رفیع ایسے فنکار تھے جنہوں نے درجنوں فنکاروں کی زندگی بنا دی۔ فلم دوستی میں موسیقار شنکر جے کشن کے نغموں کو اپنی آواز دینے کے بعد وہ نغمے بہت مقبول ہوئے اور دنیا نے اس جوڑی کو پہچانا۔

' تم مجھے یوں بھلا نہ پاؤ گے، جب کبھی بھی سنو گے گیت میرے سنگ سنگ تم بھی گنگناؤ گے ' ہاں واقعی رفیع جیسے لافانی گلوکار کو بھلانا کسی کے بس کی بات نہیں ہے اور برسوں گزرنے کے بعد اب یہ ثابت ہو گیا کہ ان جیسا فنکار بھارتی فلم انڈسٹری کو نہیں مل سکتا۔

بیرونی روابط[ترمیم]

اُن کے انتقال سے جہان موسیقی کا وہ آفتاب غروب ہو گیا، جس کا شاندار کیریئر 1940ء کے لگ بھگ شروع ہوا تھا اور جو چالیس سال تک موسیقی کے آسمان پر جگمگاتا رہا۔ 201331 جولائی 1980ء کواس آفتاب کو غروب ہوئے تینتیس برس ہو رہے ہیں لیکن اپنے چار عشروں پر پھیلے ہوئے کیریئر کے دوران محمد رفیع نے جو ہزارہا گیت گائے، وہ موسیقی کے آسمان پر دمکتے ایسے ستارے ہیں کہ جن کی روشنی رہتی دنیا تک شائقین موسیقی کے دلوں کو جگمگاتی رہے گی۔محمد رفیع کے مختلف زبانوں میں گائے گئے گیتوں کی تعداد کا اندازہ پچیس اور چونتیس ہزار کے درمیان لگایا جاتا ہے۔ وہ چوبیس دسمبر 1924ء کو امرتسر کے قریب کوٹلہ سلطان سنگھ میں ایک متوسط مسلمان گھرانے میں پیدا ہوئے۔ اُن کے والد حاجی علی محمد اہلِ خانہ کے ساتھ 1935ء میں لاہور منتقل ہو گئے۔محمد رفیع اپنے گاؤں کی گلیوں میں پھرنے والے ایک فقیر کی نقل کرتے ہوئے گایا کرتے تھے۔ اُن کے بڑے بھائی جناب حمید صاحب کو اپنے چھوٹے بھائی کے اندر چھپی فنکارانہ صلاحیتوں کا جلد ہی اندازہ ہو گیا اور پھر انہوں نے اپنی پوری توجہ محمد رفیع کو دنیائے موسیقی میں وہ مقا م دلوانے میں صرف کر دی، جس کے وہ بجا طور پر مستحق بھی تھے۔ سات سال کی عمر سے ہی محمد رفیع نے اپنے دور کے بڑے فنکاروں استاد بڑے غلام علی خاں اور استاد وحید خان سے کلاسیکی موسیقی کی تعلیم حاصل کرنا شروع کر دی تھی۔ کہا جاتا ہے کہ اُس دور کے نامور گائیک کے ایل سہگل کو ایک پروگرام میں اپنے فن کا مظاہرہ کرنا تھا تاہم عین وقت پر غالباً بجلی چلے جانے کے بعد اُنہوں نے گانے سے انکار کر دیا۔ تب محمد رفیع بھی وہیں موجود تھے، جنہیں اسٹیج پر آ کر اپنی آواز کا جادہ جگانے کا موقع دیا گیا۔ وہیں اُنہیں موسیقار شیام سندر جی نے پہلی مرتبہ سنا تھا۔اُس وقت اُن کی عمر تقریباً بیس برس تھی، جب اُنہوں نے فلم ’گل بلوچ‘ کے لیے اپنا پہلا گیت پنجابی زبان میں ریکارڈ کروایا۔ یہ فلم اٹھائیس فروری 1944ء کو ریلیز ہوئی۔ شیام سندر جی محمد رفیع کی آواز سے اتنا متاثر ہوئے کہ اُنہوں نے اپنی تمام آنے والی فلموں کے لیے رفیع صاحب کو پلے بیک سنگر کے طور پر بُک کر لیا۔ اگلے چار برسوں میں یعنی 1948ء تک محمد رفیع بمبئی کی فلمی دنیا میں بہت سی فلموں میں اپنی آواز کا جادو جگانے کے بعد پلے بیک گلوکار کے طور پر اپنا ایک مستحکم مقام بنا چکے تھے۔ اُسی دور میں محمد رفیع کو موسیقار نوشاد کے ساتھ بھی کام کرنے کا موقع ملا اور پھر تو نغمہ نگار شکیل بدایونی، موسیقار نوشاد اور گلوکار محمد رفیع کی ایک ایسی ٹیم بن گئی کہ جس نے دنیائے موسیقی کو ایک سے ایک ہِٹ گیت دیا۔محمد رفیع نے اپنے دور کے تقریباً سبھی بڑے موسیقاروں کے ساتھ کام کیا۔ 1965ء میں بھارت کا اعلیٰ ترین اعزاز پدم شری حاصل کرنے والے محمد رفیع کی بے مثال آواز کی نمایاں خوبی یہ تھی کہ وہ نعت اور بھجن گا رہے ہوں یا غزل اور قوالی، المیہ گیت گا رہے ہوں یا طربیہ، ہمیشہ ایسا ہی محسوس ہوتا ہے، جیسے اُن کی آواز بنی ہی اُس مخصوص گیت کے لیے ہو۔ خاص طور پر شمی کپور پر فلمائے گئے اُن کے گیتوں میں شوخی اور چنچل پن اپنے عروج پر نظر آتا ہے۔گوناگوں خوبیوں کی حامل آواز کی ایک اور نمایاں خصوصیت یہ تھی کہ وہ اونچے سے اونچا یا دھیمے سے دھیما سُر بھی سہولت کے ساتھ گا لیتے تھے اور اتنی مہارت سے گاتے تھے کہ سننے والا اُس گیت کے مخصوص ماحول میں پہنچ جاتا ہے۔ لکشمی کانت اور پیارے لال کی موسیقار جوڑی کے ساتھ بھی محمد رفیع نے کام کیا۔ آنجہانی لکشمی کانت نے محمد رفیع کی یادیں تازہ کرتے ہوئے ڈوئچے ویلے کو بتایا تھا کہ وہ اُن لوگوں کے لیے بھی گیت گا دیا کرتے تھے، جو کہتے تھے کہ اُن کے پاس کم پیسے ہیں یا معاوضہ ادا نہیں کر سکیں گے۔اُنہوں نے، بچپن سے کلاسیکی موسیقی کی جو تعلیم حاصل کی تھی ،اُس کا عکس بھی اُن کے بہت سے گیتوں میں ملتا ہے۔ محمد رفیع کی طرح کے فنکار روز روز جنم نہیں لیتے۔ اُن کے انتقال کے تینتیس برس بعد بھی پلے بیک گلوکاری میں اُن کی طرح کا فنکار دور دور تک نظر نہیں آتا۔