مخدوم جاوید ہاشمی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
مخدوم جاوید ہاشمی

انتخابی حلقہ NA-23, لاہور

در منصب
17 فروری 1997 – 12 اکتوبیر 1999
صدر رفیق تارڈ
فاروق لغاری
وزیرِ اعظم نواز شریف

Ministry of Youth Affairs
در منصب
26 May 1993 – 18 July 1993
صدر غلام اسحاق خان
وزیرِ اعظم نواز شریف

پیدائش 1 جنوری 1948 (1948-01-01) ‏(66)
ملتان, مغربی پاکستان, ڈومنین پاکستان
پیدائشی نام مخدوم محمد جاوید ہاشمی
قومیت پاکستانی
سیاسی جماعت پاکستان مسلم لیگ ن (24 دسمبر 2011 تک)
پاکستان تحریک انصاف (موجودہ)
سکونت اسلام آباد
مادر علمی جامعہ پنجاب
(B.Sc., M.Sc. and M.Phil.)
پیشہ سیاستدان
مذہب Islam

سابق وزیر صحت۔ مسلم لیگ نواز کے قائم مقام صدر۔ ملتان کے ایک گاؤں مخدوم رشید میں یکم جنوری 1948ء کو پیدا ہوئے۔ پہلے ایم اے پولیٹکل سائنس کیا اور پھر فلسفے میں ایم اے کی ڈگری پنجاب یونیورسٹی سے حاصل کی۔

سیاست[ترمیم]

مخدوم جاوید ہاشمی زمانہ طالبعلمی میں جماعت اسلامی کی برادر مگر خود مختار طلبا تنظیم اسلامی جمعیت طلبہ کے سرگرم رکن رہے اورسال 1971 میں پنجاب یورنیورسٹی کی سٹوڈنٹس یونین کے صدر منتخب ہوئے۔

مولانا مودودی سے مکالمہ[ترمیم]

تعلیم مکمل کرنے کے بعد جاوید ہاشمی مولانا مودودی کی خدمت میں حاضر ہوئے جنہیں وہ اپنا مرشد و رہنما تسلیم کرتے ہیں۔ جاوید ہاشمی نے مولانا مودودی سے کہا کہ میں تعلیم اور جمعیت سے فارغ ہوچکا ہوں مگر جماعت اسلامی میں شمولیت اختیار نہیں کررہا۔ میرے لئے دعا کریں۔ مولانا مودودی نے فورا دعا کے لئے ہاتھ اٹھادئے۔ اور دعا کی کہ یا اللہ اس نوجوان سے اپنے دین کی خدمت لے لے۔ (بحوالہ جاوید ہاشمی کی کتاب، ہاں میں باغی ہوں)

آمریت کا سایہ[ترمیم]

مخدوم جاوید ہاشمی نے اپنی عملی سیاست کا آغاز بھی پاکستان کے اکثرسیاستدانوں کی طرح فوجی آمریت سائے میں کیا اور انیس سو اٹھہتر میں پاکستان میں فوجی آمر جنرل ضیا الحق کی کابینہ میں وزیر مملکت برائے امور نوجوانان مقرر ہوئے۔

انیس سو پچاسی میں غیر جماعتی اسمبلی کے ممبر منتخب ہونے کے بعد اس اپوزیشن گروپ کے ممبر بنے جس نے ضیا الحق کی خواہشات کے برخلاف سید فخر امام کو سپیکر قومی اسمبلی منتخب کرایا۔

اہم کردار[ترمیم]

چار دفعہ قومی اسمبلی کے ممبر منتخب ہونے والے مخدوم جاوید ہاشمی نے اس وقت انتہائی اہم کردار ادا کیا جب انہوں نے وزیر اعظم نواز شریف کی طرف سے پارٹی کے اندر رہ کر ایک ایسے قانون کی مخالفت کی جو اگر پاس ہو جاتا تو کسی مجرم کو بھی شہر کے چوک میں پھانسی دی جا سکتی تھی۔

گرفتاری[ترمیم]

پاکستان کے موجودہ سیاستدانوں میں مخدوم جاوید ہاشمی نےملک میں فوجی حکمرانی کے بارے میں ایک واضح موقف اختیار کیا اور اس کے لیے قربانی بھی دی۔ انہوں نے مشرف دور حکومت میں تقریبا چھے سال جیل میں گزارے ۔ دو سال گرفتار رہنے کے بعد جب رہا ہوئے تو انیس اکتوبر سال 2003 کو ایک پریس کانفرنس میں ایک فوجی افسر کا خط پڑھنے کی وجہ سے انہیں بغاوت کے جرم میں گرفتار کر لیا گیا۔ جاوید ہاشمی تقریباً چار سال تک اس جرم میں جیل میں رہے۔ چار اگست 2007ء کو سپریم کورٹ نے ان کی رہائی کا حکم دیا۔ اور انہیں کوٹ لکھپت جیل سے رہا کر دیا گیا۔ تمام سیاسی حلقوں نے ان کی رہائی کا خیر مقدم کیا۔

3 نومبر 2007ء کو فوجی آمر پرویز مشرف کے "ہنگامی حالت" کے اعلان کے بعد آپ کو گرفتار کر لیا گیا۔

تحریک انصاف[ترمیم]

جاوید ہاشمی نے 24 دسمبر، 2011 کو پاکستان تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کی۔[1] اور پارلیمان سے استعفی دے دیا۔[2]