مراکش
| مملکتِ مراکش | |||||
|---|---|---|---|---|---|
|
|||||
| شعار: الله، الوطن، الملك |
|||||
| ترانہ: النشيد الشريف | |||||
| دارالحکومت | رباط |
||||
| عظیم ترین شہر | دار البیضاء | ||||
| دفتری زبان(یں) | عربی تامازيغت | ||||
| نظامِ حکومت
بادشاہ
وزیرِ اعظم |
آئینی ملوکیت محمد السادس عباس الفاسی |
||||
| آزادی - فرانس سے آزادی ہسپانیہ سے آزادی |
چین سے 2 مارچ 1956ء 7 اپریل 1956ء |
||||
| رقبہ - کل - پانی (%) |
446550 مربع کلومیٹر (57) 172414 مربع میل 0.06 |
||||
| آبادی - تخمینہ:2007ء - کثافتِ آبادی |
31,224,000 (37) 70 فی مربع کلومیٹر(129) 181 فی مربع میل |
||||
| خام ملکی پیداوار (م۔ق۔خ۔) - مجموعی - فی کس |
تخمینہ: 2007ء 127 ارب بین الاقوامی ڈالر (57 واں) 3800 بین الاقوامی ڈالر (118 واں) |
||||
| انسانی ترقیاتی اشاریہ (تخمینہ: 2007ء) |
0.646 (126) – متوسط |
||||
| سکہ رائج الوقت | مراکشی درھم (MAD) |
||||
| منطقۂ وقت - عمومی ۔ موسمِ گرما (د۔ب۔و) |
(یو۔ٹی۔سی۔ 0) غیر مستعمل (یو۔ٹی۔سی۔ 0) |
||||
| ملکی اسمِ ساحہ (انٹرنیٹ) |
.ma | ||||
| رمزِ بعید تکلم (کالنگ کوڈ) |
+212 |
||||
سلطنت مراکش شمالی افریقہ کا ایک ملک ہے ۔ بحر اوقیانوس کے ساتھ طویل ساحلی پٹی پر واقع اس ملک کی سرحد آبنائے جبرالٹر پر جاکر بحیرہ روم میں جاملتی ہیں۔ مشرق میں مراکش کی سرحد الجزائر، شمال میں بحیرہ روم اور اسپین سے منسلک آبی سرحد اور مغرب میں بحر اوقیانوس موجود ہے۔ جنوب میں اس کی سرحدیں متنازعہ ہیں۔ مراکش مغربی صحارا پر ملکیت کا دعویدار ہے اور 1975ء سے اس کے بیشتر رقبے کا انتظام سنبھالے ہوئے ہے۔
مراکش افریقہ کا واحد ملک ہے جو افریقی یونین کا رکن نہیں البتہ وہ عرب لیگ، عرب مغرب یونین، موتمر عالم اسلامی، میڈيٹیریئن ڈائیلاگ گروپ اور گروپ 77 کا رکن ہے اور امریکہ کا ایک اہم غیر نیٹو اتحادی ہے۔
فہرست |
نام [ترمیم]
ملک کا مکمل عربی نام "المملكة المغربي" ہے جس کا مطلب مغربی سلطنت ہے۔ تاریخی طور پر مورخین مراکش کو المغرب الاقصی کہتے تھے جس کی بنیاد پر اسے مغرب کہا جانے لگا۔ اردو سمیت کئی زبانوں میں اسے مراکش کہا جاتا ہے جو اس کے سابق دارالحکومت کا نام ہے۔
تاریخ [ترمیم]
جدید مراکش کا علاقہ 8 ہزار سال قبل مسیح میں آباد ہوا۔ قدیم دور میں یہ ماریطانیہ کہلا تا تھا۔ واضح رہے کہ ماریطانیہ نام کا ملک بھی مراکش کے قریب ہی واقع ہے۔ شمالی افریقہ اور مراکش عظیم رومی سلطنت کا حصہ رہے ہیں اور رومی سلطنت میں مراکش کا علاقہ Mauretania Tingitana کہلاتا تھا ۔ 5 ویں صدی میں رومی سلطنت کے زوال کے بعد وینڈلز، وزیگوتھ اور بازنطینی یونانیوں نے اس سرزمین پر قبضہ کیا۔ اس دور میں بھی جدید مراکش کے پہاڑی علاقے آزاد رہے جن میں بربر نسل کے لوگ رہتے تھے۔
ظہور اسلام کے بعد 7 ویں صدی میں عرب افواج شمالی افریقہ کو فتح کرتے ہوئے مراکش پہنچیں۔ 670ء میں خلافت امویہ کا جرنیل عقبہ بن نافع شمالی افریقہ کی ساحلی پٹی میں فتوحات حاصل کرتے کرتے مراکش پہنچا اور 683ء تک جدید مراکش کا تقریبا تمام علاقہ فتح کرلیا۔
اس فتح کے بعد مراکش میں اسلامی ثقافت اپنے عروج پر پہنچی اور مقامی بربر آبادی کی اکثریت نے اسلام قبول کرلیا۔
بنو امیہ کے زوال کے بعد خلافت عباسیہ کا دور آیا جس میں مراکش مرکزی حکومت کی دسترس سے نکل گیا اور ادریس بن عبداللہ نے ادریسی سلطنت قائم کردی۔ ادریسیوں نے فاس کو اپنا دارالحکومت قرار دیا اور مراکش کو تعلیم و ہنر کا مرکز بنادیا۔
مراکش بربروں کی دو بادشاہتوں کے درمیان اپنے عروج پر پہنچ گیا جو ادریسیوں کے بعد قائم ہوئیں۔ پہلے مرابطین اور بعد ازاں موحدین کے دور میں مراکش تمام شمال مغربی افریقہ اور اندلس کے بیشتر حصے کا حکمران بن گیا۔ اسلامی اسپین میں اشبیلیہ اور غرناطہ جیسے شہر یورپ میں علم و ہنر، سائنس، ریاضی، علم فلکیات، جغرافیہ اور طب کے مراکز تھے۔
شاہ فرڈيننڈ اور ملکہ آئزابیلا کے ہاتھوں سقوط غرناطہ کے بعد اسپین میں مسلم اقتدار کا سورج غروب ہوگیا اور عیسائیوں نے مسلمانوں اور یہودیوں پر مظالم کے پہاڑ توڑدیئے۔ عیسائیوں کے مظالم سے تنگ آکر اسپین کے مسلمان اور یہودی مراکش آگئے۔ عیسائیوں نے مسلم ثقافت کی ہر نشانی کو ختم کرنے کے لئے اندلس کا ہر کتب خانہ تباہ کردیا جس کے باعث ہزاروں انمول کتابیں ضائع ہوگئیں۔
مراکش 1666ء تا 1912ء [ترمیم]
بعد ازاں سلطنت علویہ نے عروج حاصل کیا جسے اسپین اور مسلسل مغرب کی جانب توسیع پانے والی سلطنت عثمانیہ کی جارحیت کا سامنا کرنا پڑا ۔ علوی اپنی حیثیت کو برقرار رکھنے میں کامیاب رہے حالانکہ ان کی حکومت گذشتہ حکومتوں کے مقابلے میں چھوٹی لیکن کافی دولت مند تھی۔ 1684ء میں انہوں نے طنجہ پر بھی قبضہ کرلیا۔
مراکش پہلا ملک ہے جس نے 1777ء میں امریکہ کو بطور آزاد ملک تسلیم کیا۔ امریکی انقلاب کے آغاز میں بحر اوقیانوس میں سفر کرنے والے امریکی جہازوں پر بربر قزاق حملے کیا کرتے تھے۔ اس وقت امریکیوں نے یورپی قوتوں سے مدد کی درخواست کی لیکن اس کی شنوائی نہیں ہوئی۔ 20 دسمبر 1777ء کو مراکش کے سلطان نے اعلان کیا کہ امریکی تاجروں کے جہاز سلطنت کی حفاظت و امان میں ہوں گے۔
امریکہ۔ مراکش دوستی کا یہ معاہدہ امریکہ کا قدیم ترین دوستی کا معاہدہ ہے جو آج تک برقرار ہے۔ اس معاہدے پر جون ایڈمز اور تھامس جیفرسن نے دستخط کئے تھے اور یہ 1786ء سے نافذ ہے۔ صدر جارج واشنگٹن نے سلطان سیدی محمد کو خط لکھا جس سے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات مزید مستحکم ہوئے۔ طنجہ میں امریکی قونصلیٹ ملک سے امریکی حکومت کی پہلی ملکیت تھی۔ اس عمارت میں اب طنجہ امریکن لیگیشن میوزیم قائم ہے۔
یورپی اثرات [ترمیم]
مراکش اس وقت افریقہ میں سب سے دولت مند ملک تھا اور وہ بحیرہ روم میں داخلے کے راستے پر قائم ہونے اور اپنے بہترین محل وقوع کے باعث یورپی استعماری قوتوں کی نظر میں آگیا۔ فرانس نے 1830ء میں مراکش میں زبردست دلچسپی دکھائی۔ 1904ء میں مراکش میں فرانس کے حلقہ اثر کی برطانوی قبولیت نے جرمنی میں زبردست ردعمل پیدا کیا اور جون 1905ء کے اس بحران کو 1906ء میں اسپین میں الجزیراس کانفرنس کے ذریعے حل کیا گیا جس کے ذریعے مراکش میں فرانس کی "خصوصی حیثیت" اور فرانس اور اسپین کے مشترکہ قبضے کو تسلیم کیا گیا۔ یورپی قوتوں کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے ساتھ مراکش کا دوسرا بحران برلن نے پیدا کیا اور 30 مارچ 1912ء کو معاہدہ فاس کے تحت مراکش کو فرانس کی کالونی بنادیا گیا۔ معاہدے کے تحت اسی سال 27 نومبر کو اسپین کو شمالی و جنوبی علاقوں کا قبضہ دیا گیا۔
مزاحمت [ترمیم]
دوسری جنگ عظیم کے بعد طے پانے والے میثاق اوقیانوس کے تحت مراکش کی کئی قومی سیاسی جماعتوں نے ملک کی آزادی کا مطالبہ کیا اور استقلال پارٹی نے پہلی مرتبہ 1944ء میں عوامی سطح پر آزادی کی آواز اٹھائی۔
1953ء میں سلطان محمد پنجم کی مڈغاسکر جلاوطنی اور ان کی جگہ غیر مقبول محمد بن عارفہ کی تقرری نے ملک بھر میں فرانس کے خلاف زبردست ردعمل پیدا کیا۔ اس دوران سب سے مشہور واقعہ اوجدا میں مراکشی باشندوں کو فرانس اور دیگر یورپی باشندوں کی رہائش گاہوں پر حملہ تھا۔ فرانسی قبضے کے خلاف یکم اکتوبر 1955ء کو "آرمی ڈی لبریشن" قائم کی گئی جس کا قیام "کمیٹی ڈی لبریشن ڈو مغرب عرب" نے قاہرہ، مصر میں کیا۔ اس کا ہدف سلطان محمد پنجم کی وطن واپسی اور الجزائر اور تیونس کی آزادی تھا۔ فرانس نے 1955ء میں محمد پنجم کو وطن واپسی کی اجازت دی اور مذاکرات کا آغاز ہوا جو بالآخر اگلے برس مراکش کی آزادی پر متنج ہوئے۔
یہ "انقلاب شاہ و عوام" کہلاتا ہے جسے ہر سال 20 اگست کو منایا جاتا ہے۔
آزادی [ترمیم]
مراکش نے 2 مارچ 1956ء کو سیاسی طور پر آزادی حاصل کی اور 7 اپریل کو فرانس نے مراکش پر اپنے قبضے کا باقاعدہ اعلان کردیا۔ 1956ء اور 1958ء میں فرانس سے معاہدات کے تحت ہسپانوی قبضے کے تحت علاقوں پر مراکش کا قبضہ ہوا لیکن دیگر ہسپانوی قبضہ جات کو طاقت کے بل بوتے پر حاصل کرنے کی کوشش ناکام رہی۔ طنجہ کا بین الاقوامی شہر 29 اکتوبر 1956ء کو معاہدہ طنجہ پر دستخط کے ساتھ ایک بار پر حاصل کرلیا۔ ان کا دور سیاسی عدم استحکام کا دور سمجھا جاتا ہے۔ 1970ء کی دہائی میں مراکش نے مغربی صحارا پر فوج کشی کی اور اس خطے کا معاملہ ابھی تک حل طلب ہے۔
مراکش جون 2004ء میں امریکہ کا نان نیٹو اتحادی قرار پایا اور اس نے امریکہ و یورپی یونین کے ساتھ آزاد تجارت کے معاہدے کئے۔
2003ء میں مراکش کا سب سے بڑا شہر کاسابلانکا دہشت گرد حملوں کا نشانہ بنایا۔ ان حملوں کا نشانہ مغربی اور یہودی باشندے تھے جس میں 33 شہری ہلاک اور 100 سے زائد زخمی ہوئے جن کی اکثریت مراکشی تھی۔
2006ء میں مراکش نے آزادی کی 50 ویں سالگرہ منائی۔
جغرافیہ [ترمیم]
ایک لاکھ 75 ہزار 402 مربع میل (4 لاکھ 46 ہزار 550 مربع کلومیٹر) کے رقبے پر پھیلا مراکش رقبے کے لحاظ سے دنیا کا 57 واں سب سے بڑا ملک ہے۔
مشرق اور جنوب مشرق میں اس کی سرحد الجزائر سے ملتی ہے۔ بحیرہ روم کے ساحل کے ساتھ ساتھ چند شہروں پر اب تک ہسپانوی قبضہ برقرار ہے۔ مراکش کے شمال میں آبنائے جبرالٹر ہے۔ بحیرہ روم کے ساتھ ساتھ ساحلی علاقوں پر کوہ ریف کا پہاڑی سلسلہ واقع ہے۔ معروف کوہ اطلس کا سلسلہ جنوب مغرب سے شمال مشرق کی جانب ہے۔ ملک کے جنوب مشرق کا بیشتر علاقہ صحرائے اعظم میں شامل ہے جہاں آبادی بہت کم ہے۔ آبادی کی اکثریت ان دونوں پہاڑی سلسلوں کے شمال میں رہائش پذیر ہے۔ جنوب میں سابق ہسپانوی کالونی مغربی صحارا واقع ہے جس پر 1975ء میں مراکش نے قبضہ کرلیا تھا اور اسے اپنا جنوبی صوبہ قرار دیتا ہے۔
مراکش کا دارالحکومت رباط ہے اور اس کا سب سے بڑا شہر اور بڑی بندرگاہ کاسابلانکا ہے۔
دیگر بڑے شہروں میں اگادیر، فاس، مراکیش، محمدیہ، طنجہ و دیگر شہر شامل ہیں۔
علاقائی تقسیم [ترمیم]
1997ء میں منظور شدہ قانون کے مطابق مراکش کو 16 نۓ علاقوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ ہر علاقہ کو مزید چھوٹے انتظامی حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے جن کو صوبہ کہتے ہیں۔ مراکش میں صوبوں کی کل تعداد 61 ہے۔ علاقہ کا سربرہ والی (گورنر) کہلاتا ہے جسکو بادشاہ وقت نامزد کرتا ہے۔ اور والی اس صوبہ کا سربراہ بھی ہوتا ہے جس میں وہ رہتا ہے۔
مراکش کے علاقے اور انکے صوبے درج ذیل ہیں۔
بین الاقوامی تعلقات [ترمیم]
| تنظیم | تاریخ شمولیت | |
|---|---|---|
| اقوام متحدہ | 12 نومبر 1956ء سے | |
| عرب لیگ | یکم اکتوبر 1958ء سے | |
| انٹرنیشنل اولمپک کمیٹی | 1959 سے | |
| آرگنائزیشن آف افریقن یونٹی | تاسیسی رکن 25 مئی 1963ء، دستبرداری 12 نومبر 1984ء | |
| گروپ آف 77 | 15 جون 1964ء سے | |
| موتمر عالم اسلامی | 22 ستمبر 1969ء | |
| عرب مغرب یونین | 17 فروری 1989ء | |
| عالمی تجارتی تنظیم | یکم جنوری 1995ء سے | |
| میڈیٹیرینیئن ڈائیلاگ گروپ | فروری 1995ء سے | |
| غیر نیٹو اتحادی | 19 جنوری 2004ء سے | |
بیرونی روابط [ترمیم]
| مراکش کے بارے میں مزید جاننے کے لئے وکیپیڈیاساتھی منصوبے: | |
| لغت و مخزن وکشنری سے |
|
| انبارِ مشترکہ ذرائع العام سے |
|
| آزاد تعلیمی مواد و مصروفیات ویکیورسٹی سے |
|
| آزاد متن خبریں ویکی اخبار سے |
|
| مجموعۂ اقتباساتِ متنوع ویکی اقتباسات سے |
|
| آزاد دارالکتب ویکی منبع سے |
|
| آزاد نصابی و دستی کتب ویکی کتب سے |
|
- حکومت مراکش کا سرکاری موقع
- مراکشی پارلیمان
- {{{2}}} کتاب عالمی حقائق میں معلومات
- مراکش منصوبہ مفتوح فہرست پر
- ویکیمیڈیا نقشہ نامہ Morocco
Morocco سفری راہنمائی منجانب وکی سفر- مراکشی قبائل
|
||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
|
|||||
![]() |
بحیرہ روم | بحیرہ روم |
بحر اوقیانوس | ![]() |
| بحر اوقیانوس | ||||
| جزائر کناری کا پرچم جزائر کناری ۔ بحر اوقیانوس |
متناسقات: 32°N 6°W / 32°N -6°E{{#coordinates:}}: invalid longitude
- Pages with malformed coordinate tags
- شمال افریقی ممالک
- 1956ء میں قائم ہونے والے ممالک اور علاقے
- مراکش
- افریقی ممالک
- عربی زبان بولنے والے ممالک اور علاقے
- عرب لیگ کی رکن ریاسات
- بحیرہ روم کے ممالک
- بحر اوقیانوس کے کنارے واقع ممالک
- مؤتمر عالم اسلامی کے رکن ممالک
- فرانسیسی بین الاقوامی تنظیم کے رکن ممالک
- آئینی بادشاہتیں
- موجودہ بادشاہتیں
- فرانسیسی زبان بولنے والے ممالک
- 1956ء میں آزاد ہونے والے ممالک
- اتحاد بحیرہ روم کے رکن ممالک
- اقوام متحدہ کے رکن ممالک
