مرزا صاحباں

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش

مرزا صاحباں (انگریزی میں Mirza Sahiba) پنجابی ادب کے خزاے میں سے محبت کی ایک سچی اور لازوال داستان ہے جس کو نظم کی شکل دے کر شاعر پیلو نے شہرت دوام حاصل کی۔ مرزا صاحباں

پنجابی کی چار کلاسیکی رومانوی کہانیوں میں سے ایک ہے۔ باقی تین ہیر رانجھا، سسی پنوں اور سوہنی مہیوال ہیں۔


داستان[ترمیم]

مرزا اور صاحباں جو باہم رشتہ دار تھے اور بچپن سے اکھٹے کھیلتے رہے تھے، نہ جانے کب ایک دوسرے کے پیار میں کھو گئے۔ لیکن جب اس خوبصورتی کو زبردستی طاہر خان کے بیاہہ جانے لگا تو صاحباں نے اپنی محبت مرزا کو کامو براہیم کی زبانی پیغام بھیجا۔

"تمہیں آ کر صاحباں کے ہاتھ حنا سے رنگنے چاہییں"۔

وقت آ گیا ہے کہ اپنی عزت نفس بچانے کے لیے، اپنے وعدوں کی پاسداری کے لیے اور سچ کی جیت کے لیے جان کی بازی لگا دو۔ مرزا جو ایک گرم خون نوجوان تھا، اپنے گھوڑے کی پیٹھ پر بٹھا کے صاحباں کر لے جاتا ہے۔ لیکن رستہ میں جب وہ ایک درخت کی چھاؤں میں آرام کر رہے ہوتے ہیں، پیچھا کرنے والے پہنچ جاتے ہیں۔

صاحباں ظاہری طور خوبصورت ہونے کے ساتھ ساتھ من کی بھی خوبصورت تھی، جو اپنی وجہ سے کوئی خون نہیں بہانا چاہتی تھی۔ وہ حنا کی بجاۓ اپنے ہاتھوں کو خون سے نہیں رنگنا چاہتی تھی، اور مرنے والا بھی اس کا اپنا ہی ہوتا۔ کیونکہ ایک طرف اسکی محبت مرزا تھا تو دوسری طرف اسکا بھائی۔ وہ جانتی تھی کہ مرزا کا نشانہ خطا نہیں جاتا اور اگر مرزا نشانہ لے گا تو نشانہ بننے والا اسکا اپنا بھائی ہی ہو گا۔ بھائی پر اعتماد اس کو ایک بہت بڑی غلطی کرنے پر مجبور کرتا ہے۔ وہ سمجھتی ہے کہ اسکا بھائی اس پر ترس کھاۓ گا اور ان کو معاف کر کے گلے لگا لے گا۔ اس خیال سے وہ مرزا کو جگانے سے پہلے اس کا تیر کمان ہٹا دیتی ہے۔ لیکن بھائی اسکی سوچ کے بر عکس مرزا پر حملہ کر دیتا ہے اور مرزا کو مار دیتا ہے۔ صاحباں یہ برداشت نہیں کر سکتی اور تلوار لے کر خود کشی کر لیتی ہے۔


اخلاقی اور تہذیبی اقدار[ترمیم]

پنجابی ادب کی چاروں کلاسیکی رومانوی کہانیاں محبت کرنے والوں کی موت پر ہی ختم ہوتی ہیں۔ لیکن پنجابی اس اختتام کو محبت کرنے والوں کی فتح قرار دیتے ہیں۔ لاتعداد لوک گیت ان کرداروں پر لکھے گئے ہیں، جنکو بڑی محبت اور عقیدت سے گایا اور سنا جاتا ہے۔ کیونکہ محبت مر نہیں سکتی، اور ان محبت کرنے والوں کے دنیا ترک کرنے سے انکی محبت امر ہو گئی ہے، جو ہمیشہ زندہ رہے گی۔

اسی قسم کے خیالات کا اظہار وارث شاہ کے کلام ہیر میں بھی ملتا ہے، جو ہیر کی محبت کو اسی انداز سے دیکھتے ہیں جیسے خدا سے حقیقی محبت۔ جب آپ محبت کے مضمون کو شروع کرتے ہیں تو پہلے خدا سے مدد مانگتے ہیں۔ یہی ریت ہے پنجاب کی اور پنجابیوں کی، جہاں مرنے والوں کی محبت کو زندہ سمجھا جاتا ہے، اور اسکو حقیقی محبت کے روح گردانا جاتا ہے۔

جیسا کہ ہر معاشرہ میں اخلاقیات کی جانچ کے دو معیار ہوتے ہیں ایسے ہی پنجابی معاشرہ میں بھی ہے۔ ہر چیز کو دو زاویوں سے دیکھا جاتا ہے، ایک انتہائی نزدیک سے اور دوسرا ذرا فاصلہ سے۔ جہاں ایکا طرف تو اخلاقی اقدار ہیر کو زہر کھانے پر مجبور کرتی ہیں اور دوسری طرف اسکے مزار پر چڑھاوے چڑھاۓ جاتے ہیں اور دعائیں مانگی جاتی ہیں۔

سسی، ہیر، سوہنی، صاحباں اور ان جیسے بے شمار دوسرے لوگوں نے اس دوغلے معیار کے خلاف جنگ کی ہے۔ اور پنجابی ادب اور تہذیب ان کی عظمت کے گیت گاتے ہیں۔

مزید پڑھیۓ[ترمیم]