مریم الزمانی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
مریم الزمانی بیگم صاحبہ
مغل مہارانی
Jodhbai.jpg
مریم زمانی، ایک مصور کی نظر میں
پورا نام راج کماری ہیرا کنواری
مدفن آگرہ
رفیق زندگی جلال الدین محمد اکبر
خاندان مغل
والد راجہ بھیرمل
اولاد نورالدین جہانگیر
مذہب پیدائشی مذہب ہندو، بعد از نکاح اسلام

مریم الزمانی بیگم صاحبہ (دیگر نام: رکماوتی صاحبہ،راج کماری ہیرا کنواری اور ہرکھا بائی) ایک راجپوت شہزادی تھیں جو مغل بادشاہ جلال الدین محمد اکبر سے شادی کے بعد ملکہ ہندوستان بنیں۔ وہ جے پور کی راجپوت ریاست امبیر کے راجا بھارمل کی سب سے بڑی صاحبزادی تھیں۔ آپ کے بطن سے ولی عہد و ہندوستان کے اگلے بادشاہ نور الدین جہانگیر پیدا ہوئے۔

زندگی[ترمیم]

آپ یکم اکتوبر 1542ء کو پیدا ہوئیں اور 6 فروری 1562ء کو تقریباً 20 سال کی عمر میں آپ کی شادی اکبر سے ہوئی۔ راجستھان کے آخری آزاد راجہ مالدیو کی جانب سے چھوٹے بیٹے کو ولی عہد بنانے کے فیصلے پر حقیقی جانشیں بھیرمل نے اکبر کی مدد سے اپنا حق حاصل کیا اور پھر اپنی بیٹی مغل بادشاہ سے بیاہ دی۔ آپ اکبر کی تیسری اہلیہ تھیں۔ اس سے قبل اکبر بے اولاد رقیہ بیگم سے پہلی اور اپنے جرنیل بیرم خان کی بیوہ سلیمہ سلطان سے عقد کر چکے تھے۔ شادی کے بعد ہیرا کنواری کو مریم الزمانی کا خطاب دیا گیا۔

مریم زمانی مسجد[ترمیم]

اصل مضمون: مریم زمانی مسجد

آپ کے اعزاز میں آپ کے صاحبزادے نور الدین جہانگیر نے شہر لاہور میں ایک مسجد بھی تعمیر کی جو مریم زمانی مسجد کہلاتی ہے اور آج بھی موجود ہے۔

جودھا بائی[ترمیم]

فتح پور سیکری میں مریم زمانی کا محل

یہ بات غلط طور پر پھیلی ہوئی ہے کہ اکبر کی راجپوت بیوی اور جہانگیر کی ماں "جودھا بائی" کے طور پر مشہور تھی[1]۔ جودھا بائی کے ذکر سے جہانگیر کی آپ بیتی "تزک جہانگیری " اور اکبر کی لکھوائی گئی خود نوشت "اکبرنامہ" بھی اس سے خالی ہے۔ [2]۔

علی گڑھ مسلم جامعہ کی تاریخ دان پروفیسر شیریں موسوی کہتی ہیں کہ "جودھا بائی" کا نام پہلی بار 18 ویں اور 19 ویں صدی کی تاریخی تصانیف میں ملتا ہے۔ پٹنہ کے خدا بخش کتب خانے کے ڈائریکٹر و مؤرخ امتیاز احمد کے مطابق اکبر کی بیوی کے لیے "جودھا" کا نام پہلی بار لیفٹیننٹ کرنل جیمز ٹوڈ نے اپنی کتاب Annals and Antiquities of Rajasthan میں استعمال کیا[3]۔

الہ آباد وسطی جامعہ کے پروفیسر این آر فاروقی کے مطابق جودھا بائی اکبر کی راجپوت ملکہ کا نام نہیں تھا؛ بلکہ یہ جہانگیر کی راجپوت بیوی مانمتی جودھپوری کو کہا جاتا تھا جس کا اصل نام جگت گوسین تھا۔

انتقال[ترمیم]

مریم زمانی کا انتقال 1622ء میں ہوا اور آپ کو آگرہ میں پہلے سے بنائے گئے مزار میں مسلم عقائد کے تحت دفن کیا گیا۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ اٹل سیٹھی (24 جون 2007ء)، "'Trade, not invasion brought Islam to India' [حملہ نہیں بلکہ تجارت ہندوستان میں اسلام لائی]" (انگریزی میں)، ٹائمز آف انڈیا، http://timesofindia.indiatimes.com/India/Trade_not_invasion_brought_Islam_to_India/articleshow/2144414.cms 
  2. ^ ایشلے ڈی میلو (10 دسمبر 2005ء)، "Fact, myth blend in re-look at Akbar-Jodha Bai" (انگریزی میں)، ٹائمز آف انڈیا، http://timesofindia.indiatimes.com/articleshow/1326242.cms 
  3. ^ سید فردوس اشرف (5 فروری 2008ء)، "Did Jodhabai really exist?" (انگریزی میں)، ریڈف ڈاٹ کام، http://www.rediff.com/movies/2008/feb/06jodha.htm