مریم نمازی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
مریم نمازی( 2007ء میں آئس لینڈ کے دارالحکومت ریکیاوک میں منعقدہ کانفرنس میں)

مریم نمازی انسانی حقوق کی علمبردار، تبصرہ نگار اور ایک براڈکاسٹر ہیں۔ انہوں نے خواتین اور پناہ گزینوں کے حقوق کے لئے اور مغربی ممالک میں مسلما نوں کے اندر موجود شدت پسند گروہوں اورانکےانتہا پسندانہ نظریات اور رویّوں کے خلاف آواز بلند کی۔ وہ " حزب کمونیست کارگری ایران" ( ورکرز کمیونسٹ پارٹی آف ایران ) کی مرکزی کمیٹی رکن ہیں۔ اور ایران کی موجودہ مزہبی قیادت کی شدید مخالف اور نقاد ہیں ۔[1] وہ ایران میں خواتین کیلئے مساوی حقوق، برطانیہ میں متوازی شرعی قانون کے نفاذ کے مخالف تنظیم اور " ایکس مسلم آف برٹن " کی ترجمان ہیں۔ انہیں 2005ء میں نیشنل سیکولر سوسائٹی نے سال کے بہترین سیکولر کا انعام دیا تھا۔[2]

تعارف[ترمیم]

مریم نمازی 1963ء میں ایران کے دارالحکومت تہران میں پیدا ہوئیں۔ لیکن 1980 ء میں اسلامی انقلاب کے وقت وہ اپنے خاندان کے ساتھ اپنے ملک سے ہجرت کر گئیں۔ وہاں سے وہ پہلے بھارت پھر برطانیہ اور آخر میں امریکہ منتقل ہو گئیں۔ وہاں انہوں نے 17 سال کی عمر میں یونیورسٹی میں اپنی تعلیم کا آغاز کیا۔ گریجوئیشن کے بعد انہوں نے سوڈان میں مقیم ایتھوپیا کے پناہ گزینوں کے ساتھ کام کرنے کیلئے سوڈان کا رخ کیا۔ مریم کے سوڈان کے قیام کے دوران اسلامی انقلاب کے نام پر فوج نے اقتدار پر قبضہ کر لیا۔ تو انسانی حقوق کیلئے کام کرنے والی انکی خفیہ تنظیم کے کا سراغ ملنے پر جان سے مار دینے کی دھمکیاں ملنی شروع ہو کئیں۔ نتیجتاً وہ امریکہ واپس آ کئیں۔

امریکہ واپسی کے بعد مریم نے انسانی حقوق اور پناہ گزینوں کی تنظیموں کیلئے کام کیا۔ 1991ء میں انہوں نے ایرانی پناہ گزینوں کی مدد کیلئے ایک کمیٹی قائم کی۔ 1994ء میں وہ ترکی گئیں اور وہاں ایرانی پناہ گزینوں کی حالت زار پر ایک دستاویزی فلم بنائی۔


ترکی سے واپسی کے فوراً بعد مریم کو ایرانی پناہ گزینوں کی عالمی تنظیم کا منتظم اعلٰی بنایا گیا۔ اس تنظیم کی دنیا کے 20 ملکوں میں 60 شاخیں ہیں۔ تنظیم کے سربراہ کی حیثیت سےانہیں مغربی ممالک میں ایرانی پناہ گزینوں کی مدد کے سلسلہ میں کئی کامیابیاں ملیں۔ جن میں نیدرلینڈز سے ایک ہزار ایرانیوں کے اخراج کو روکنا نہایت نمایاں ہے۔

مریم نے کئی اور تحریکوں میں بھی کام کیا ہے۔ وہ اسلامی ممالک میں خواتین کے استحصال، سنگ زنی کی سزا اور سزائے موت کی بہت بڑی نقاد ہیں۔ [3] انہوں نے کینیڈا میں اسلامی شرعی عدالت کے قیام کے خلاف انتہائی کامیابی سے مہم چلائی۔ وہ شرعی یا دیگرمذہبی قوانین کی انتہائی مخالف ہیں۔[4] اور اسکولوں اور دیگر عوامی مقامات پر اسلامی یا دیگرمذاہب کے خصوصی نشانات یا ملبوسات (حجاب، پگڑی ) کے استعمال پابندی لگائے جانے کے حق میں ہیں۔

مریم ایرانی یک جہتی تحریک کی منتظم ہیں۔ جو 2009ء میں ایرانی عوام کے حکومت کے خلاف اٹھنے پر ان کی مدد کیلئے قائم کی گئی تھی ۔ وہ " دی تھرڈ کیمپ " کی پرجوش حامی ہیں۔ جس کا مقصد امریکہ کی جنگجویانہ اور مسلمان گرہوں کی دہشت گردی کی روک تھام کیلئے کام کرنا ہے۔ [5]


اس وقت مریم "نیو چینل ٹی وی" کےایک ہفتہ وار پروگرام کی میزبان ہیں۔ اس چینل کے پروگرام مشرق وسطی اور یورپ میں سیٹلائٹ کی مدد سے دیکھے جا سکتے ہیں۔ انٹرنیشنل ٹی وی مشرق وسطی سے متعلقہ مسائل کو بائیں بازو کے ترقی پسندانہ نقطہ نظر سے پیش کرتا ہے۔ مریم کے پیش کردہ پروگرام سیکولر ازم اور اس جیسی دیگر قدروں کے فروغ کا ایک اہم ذریعہ ہیں اور یورپ، مشرق وسطی اور ایران میں بہت پسندیدگی کی نگاہوں سے دیکھے جاتے ہیں


حوالہ جات[ترمیم]