مستنصر باللہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش

مستنصر باللہ عہد عباسیہ کے آخری خلفاء میں سے ایک تھا جس نے 1226ء سے 1242ء تک خود مختار ریاست پر حکومت کی۔ وہ آخری دور کے عباسی خلفاء میں سب سے زيادہ نیک نام اور مشہور ہے۔ اس نے اپنے باپ الظاہر بامر اللہ کے بعد حکومت سنبھالی اور کل 17 سال حکومت کی اور اس کا دورِ حکومت عباسیوں کے آخری دور کا عہدِ زریں ہے۔ اس کے عہد میں بکثرت مساجد، خانقاہیں، مسافر خانے، سرائے اور شفا خانے تعمیر کیے گئے۔ اس نے بغداد میں ایک ایسا مدرسہ بنایا جس کے آگے نظام الملک طوسی کا مدرسہ نظامیہ بھی ماند پڑ گیا۔ اس مدرسے کا نام خلیفہ کے نام پر مدرسہ مستنصریہ تھا۔ اس مدرسے کی عمارت سات سال میں مکمل ہوئی۔ مدرسے کا کتب خانہ اتنا بڑا تھا کہ اس کے لیے 60 اونٹوں پر کتابیں لد کر آئیں۔ جب یہ مدرسہ کھلا تو اس میں ڈھائی سو طالب علم داخل ہوئے۔ مدرسے کی خاص بات یہاں تمام اشیاء اور ہر طالبعلم کو ماہانہ وظیفے کی فراہمی تھی۔ مدرسہ میں ایک شفا خانہ اور ایک عمدہ حمام بھی تھا۔ اس مدرسے کی عمارت شکستہ حالت میں آج بھی بغداد میں موجود ہے۔ مستنصر نے رفاہ عام کے ان کاموں کے علاوہ سلطنت کو بھی بڑا مضبوط کیا۔ اس کا زمانہ بڑا نازک تھا۔ چنگیز خان کی تاتاری افواج ایران اور ماوراء النہر کو تباہ کر چکی تھیں اور اس کی سرحد عباسی خلافت سے مل گئی تھی۔ مستنصر نے اس خطرے کی روک تھام کے لیے ایک لاکھ سوار فوج تیار کی۔ پیادہ فوج اس کے علاوہ تھے۔ اس کے بعد مستعصم باللہ نے حکومت سنبھالی جو عباسی خلافت کا آخری فرمانروا تھا۔