مسلم سائنسدانوں کی فہرست

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
مسلم سائنسدان (بترتیب زمانی)
اسمِ سائنسدان زمانہ نمایاں کام
مخففات: ت - تقریباً (Circaء - عیسوی
الحمیاری
Himyari
ساتویں / آٹھویں صدی عرصہ حیات زیرتحقیق، حیان سے پہلے ہونے کا امکان غالب ہے۔ انکا شمار کیمیاء دان جابربن حیان کے معلمین میں کیا جاتا ہے۔
ابراھیم الفزاری
Ibrahim-Fazari
آٹھویں صدی تا 777ء خلافت عباسیہ کے دور میں خلیفہ ہارون الرشید کے تحقیقاتی اداروں سے وابستگی رہی۔ علم فلکیات پر تحقیق و تحریر کیں جن میں اسطرلاب اور سالنامہ کی ترتیب بھی شامل ہیں۔ ہارون الرشید کے کہنے پر یعقوب بن طارق کی شراکت میں ہندوستانی فلکیاتی تحریروں کا عربی میں ترجمہ کیا، یہ کتاب 750ء میں بیت الحکمہ بغداد میں الزیج علی سنی العرب کے نام سے تکمیل کو پہنچی[1]۔ انکے بیٹے کا نام بھی مماثلت کے ساتھ محمد الفزاری تھا، جو خود بھی اپنی جگہ ایک فلکیات داں تھے۔ ابراھیم الفزاری کا انتقال 777ء میں ہوا۔
جابر بن حیان
Geber
721ء ت تا 815ء ت کیمیاءدان (باباۓ کیمیاء کا لقب دیا گیا [2]طبیعیات میں کام؛ علم الادویہ میں تحقیق؛ علم الہیت میں تحقیق (چاند پر موجود حفرہ کی منسوبیت ، حفرۂ جابر / Geber crater کہا جاتا ہے [3])۔ امام جعفر الصادق علیہ السلام اور الحمیاری جیسے معلمین سے استفادہ اور علم حاصل کیا۔ معلومہ کتب؛ کتاب الکیمیاء، کتاب الزہرہ۔
محمد الفزاری
Al-Fazari
پیدائش؟ تا
796ء (806ء)؟ ت
مسلم ریاضی دان، فلکیات دان اور فلسفی۔ ان کے والد کا نام ابراھیم الفزاری تھا جو خود بھی ایک سائنسدان تھے۔ یعقوب بن طارق کے ساتھ مل کر براہماگپتا کے ہندوستانی فلکیاتی کام بنام سندھانتا (brahmasphutasiddhanta) کا عربی ترجمہ کیا۔
یعقوب بن طارق
Yazub ibn Tariq
پیدائش؟ تا 796ء ت مسلم ریاضی دان، فلکیات دان اور فلسفی۔ محمد الفزاری کے ساتھ سنسکرت کے فلکیاتی کام کو عربی میں ترجمہ کیا۔ سندھانتا سے ماخوذ اور اضافوں کے ساتھ کتاب بنام الزیج المحلول من السندھند لدرجات الدراجہ تحریر کی۔
اِبن‌ِ ترک
Ibn Turk
830ء ت ریاضیات میں تحقیق۔ الجبرا پر کام کیا جس کا آج چکوری مساواتوں (quadratic equations) سے متعلق صرف ایک باب دستیاب ہے۔ کہا جاتا ہے کہ ان کا کام الخوارزمی کے کام سے بہت مماثل تھا اور اس کی اشاعت کا زمانہ بھی الخوارزمی کی کتاب الكتاب المختصر فی حساب الجبر والمقابلہ کی اشاعت کا عہد ہی بیان کیا جاتا ہے۔
الاصمعی
Al-Asmai
739ء تا 831ء حیوانیات و نباتیات پر تحقیق و تحریر۔ معلومہ کتب؛ کتاب الخلیل ، کتاب خلق الانسان (جو انسانی تشریح سے متعلق ہے)۔عباسی خلیفہ مامون الرشید کے استاذ اور بہت بڑے عالم دین ، عربی لغت میں درجہ امامت پر فائز ہیں ۔
الخوارزمی
الخوارزمی, Algorizm
780ء ت تا 850ء ت ریاضی، فلکیات، علم النجوم اور جغرافیہ کے شعبہ جات میں تحقیق و تحاریر۔ باباۓ الجبرا کا لقب حاصل (یا شراکت) ہے [4] ۔ معلومہ کتب؛ کتاب الجبر و المقابلہ، کتاب الجمع و التفریق بی حساب الہند[5] ، کتاب صورۃ الارض۔
الجاحظ
AlJahiz
776ء ت تا 868ء ت تاریخ، الہایات، حیوانیات اور فلسفہ میں تحقیق و تحاریر۔ دیگر تاریخی دستاویزات سے انکی قریباً دو سو کتب کا اندازہ لگایا گیا ہے جن میں سے تیس کے قریب ہی دستیاب ہو سکی ہیں۔ ان میں کتاب الحیوان، کتاب البخلاء، كتاب البیان والتبیین وغیرہ شامل ہیں۔
الکندی
Alkindus
801ء ت تا 873ء ت ریاضی دان، فلسفی، طبیعیات دان اور موسیقی سے لگاؤ(علاج بالموسیقی یعنی music therapy میں تجربات [6]خلافت عباسیہ کے بغداد میں بیت الحکمہ کی ایک اہم ترین شخصیت۔ باباۓ Cryptanalysis یا صفری تجزیہ کا اعزاز حاصل [7]۔ اطباء کیلیۓ ادویات کی طاقت ناپنے کا صیغہ (فارمولا) تشکیل دیا [8]۔ چند معلومہ کتب: کتاب فی الاستعمال الاعداد الہند ، On Deciphering Cryptographic Messages یعنی ، تخطیط صفری پیغامات کی کشف صفری [9]
ابن فرناس
عباس ابن فرناس
810ء ت تا 887ء ت طبیعیات اور علم الہیت میں تحقیق و تجربات۔ ساعت الماء (آبی گھڑی) کی تخلیق۔ انہوں نے Wright Brothers سے 1000 ہزار سال قبل 875ء اپنا glider تخلیق کر کہ پہلی انسانی پرواز کا تجربہ کیا [10] ۔ اس سے قبل 852ء میں مسلم اسپین ہی کے آرمین فرمان نے اسی قسم کا تجربہ کیا تھا اور وہ ہوائی چھتری کے زریعے کیا گیا تھا، اسی وجہ سے Philip Hitti کے مطابق ؛ ابن فرناس تاریخ میں پہلے شخص تھے جنہوں نے سائنسی طریقے سے پرواز کی کوشش کی [11]
علی ابن ربان الطبری
Altabari
838ء ت تا 870ء ت طب میں تحقیق و تحریر۔ انہوں نے دنیا کا سب سے پہلا طبی دائرہ المعارف مرتب کیا۔ مشہور مسلم سائنسدان الرازی کے معلم بھی تھے۔ معلومہ کتب؛ فردوس الحکمہ ، تحفات الملوک ، حفظ الصحت وغیرہ
جابر بن سنان البتانی
جابر بن سنان البتانی
850ء ت تا 923ء ت انکے نام میں الصابی شامل ہونے کیوجہ سے غیر مسلم ثابت کرنے کی کوششیں بھی کی گئی ہیں لیکن اگر نام ہی کی بات کی جاۓ تو انکا مکمل نام تو ، ابو عبد اللہ محمد بن جابر بن سنان الحرانی الصابی البتانی ہے۔ ریاضی اور بالخصوص مثلثیات (trigonometry) میں اہم تحقیقات۔ شمسی سال کے 365 دن ، 5 گھنٹے 46 دقیقے اور 24 ثانیے ہونے کا تخمینہ لگایا۔ معلومہ کتب؛ کتاب الزیج۔
الفرغانی
Alfraganus
860ء ت اجرام فلکی کی حرکات پر تحقیق و تحریر۔ المامون کی زیرسرپرستی (813ء تا 833ء) بغداد میں ہونے والے زمین کے قطر کی پیمائش کے منصوبے میں شامل رہے۔ بغداد سے مصر واپس آکر 856ء میں اسطرلاب پر ایک تحقیقی شرح لکھی۔ 861ء کے دوران بناۓ گئے نیل پیما کی اپنی زیرنگرانی تعمیر کروائی۔ چاند پر موجود حفرہ الفرغانی (Alfraganus crater) انہی کے نام سے منسوب ہے [12]
ابوبکرالرازی
Rhazes
864ء تا 925ء طب ، فلسفہ و کیمیاء میں تحقیق و تحریر۔ کیمیائی مرکب الکحل کی دریافت کا سہرا ان کے سر ہے۔ جبکہ بعض زرائع تیزاب كِبرِيت (sulfuric acid) کی دریافت بھی انہی سے منسوب کرتے ہیں اور دیگر ایسے تاریخی شواہد بھی پیش کیے جاتے ہیں جنکی رو سے اس تیزاب کی دریافت کا سہرا جابر بن حیان کے سر جاتا ہے۔
الفارابی
Pharabius
870ء تا 950ء علم ریاضی ، طب ، فلسفہ اور موسیقی میں تحقیق و تحاریر۔ منطق (logic) کی علمی گروہ بندی کی۔ انکو ارسطو کے بعد دوسرا بڑا فلسفی بھی کہا جاتا ہے۔ علم طبیعیات میں وجود خلاء پر اہم تحقیقات۔ [13]
المسعودی
Almasudi
896ء تا 956ء پہلی بار وسیع پیمانے پر تاریخ اور جغرافیہ کو پیوست کرتے ہوئے کتب تحریر کیں۔ دنیا بھر میں اپنے سفر سے اخذ کردہ تجربات کی بنا پر تخطیط التاریخ (histography)، جغرافیہ اور زمینیات (earth sciences) جیسے موضوعات کا احاطہ کیا۔ کہا جاتا ہے کہ اس عالم کا تعلق معتزلہ گروہ سے تھا۔
احمد بن وحشیہ
Ibn-Wahshiyah
نویں صدی کیمیاء دان، زراعت دان اور ماہر مصریات و مورخ۔ یورپ میں ہونے والے عربی سائنس کے ابتدائی تراجم میں ان کا نام احمد بن ابوبکر بن وحشیہ بھی آتا ہے۔ عربی کتب و مقالات کی مشہور فہرست تیار کرنے والے ابن الندیم کی کتاب بنام کتاب الفہرست میں ابن وحشیہ کی متعدد کتب و مقالات کے نام پائے جاتے ہیں۔
عبدالرحمن الصوفی
Azophi
903ء تا 986ء فلکیات اور ریاضیات کی بے شمار کتب کا عربی میں ترجمہ کیا۔ کواکب اور نجوم کی درجہ بندی کی جو کسی نہ کسی حد تک آج بھی رائج ہے۔ اصطرلاب کے ایک ہزار استعمالات پر کتابچہ تحریر کیا۔ مشہور کتب میں كتاب الكواكب الثابتة (964ء میں شائع ہوئی اور اس کے متعدد نسخے آج بھی موجود ہیں۔ انگریزی میں یہ Book of Fixed Stars کے نام سے مشہور ہے)، صور الكواكب الثمانية والأربعين (اس میں کواکب و نجوم کی درست ترین تصویر کشی کی گئی ہے۔) اور أرجوزة في الكواكب الثابتة شامل ہیں۔ سب سے پہلا تذکرہ جو Andromeda نامی کہکشاں کا ملتا ہے وہ الصوفی ہی نے بعد از ذکر کتاب أرجوزة في الكواكب الثابتة (964ء) میں کیا۔
ابوالقاسم الزھراوی
Albucasis
936ء تا 1013ء  
البوزجانی
ابو الوفا البوزجانی
940ء تا 998ء  
ابن الہیثم
ابن الہیثم
965ء تا 1040ء  
الماوردی
Alboacen
972ء تا 1058ء  
البیرونی
Biruni
973ء تا 1048ء  
ابن سینا
Avicenna
981ء تا 1037ء  
الجزار
Al-Jazzar
دسویں صدی  
الناصبی
Ibn Hawkal
دسویں صدی (920ء ؟)  
الزرقالی
Arzachel
1028ء تا 1087ء  
محمد الازدی
Al-Thahabi
دسویں صدی  
عمر خیام
Omar Khayyám
1048ء تا 1131ء علم نجوم اور ریاضی کے ماہر تھے۔ شمسی کیلنڈر ان کی محنت کا نتیجہ تھا۔
غزالی
Algazel
1058ء تا 1111ء  
عبدالرحمن الخزینی
الخازن
گیارہویں تا بارہویں صدی مرو (Merv) کے تاریخی شہر سے سب سے نمایاں سائنسدان۔ ریاضیات و فلکیات میں نمایاں کارکردگی ، اہم کتب میں سے چند کے نام کتاب میزان الحکمہ اور کتاب فی آلات درج کیے جاسکتے ہیں۔
ابن زھر
Avenzoar
1091ء تا 1161ء  
الادریسی
Dreses
1100ء تا 1165ء  
طفیل القیسی
ابن طفیل
1105ء تا 1185ء  
ابن باجہ
ابن باجہ
1106ء تا 1138ء  
الجزاری
Al-Jazari
1136ء تا 1111ء  
ابن جبیر
Jubayr
1145ء تا 1206ء  
عبدالطیف
Abdallatif
1162ء تا 1231ء  
محمد الفارسی
Al-Farisi
1320ء تا 1260ء  
نصیرالدین طوسی
Tusi
1201ء تا 1274ء  
ابن ابی اصیبعہ
ابن ابی اصیبعہ
1203ء تا 1270ء  
ابن النفیس
Nafis
1213ء تا 1288ء  
المغربی
Magribi
1220ء تا 1283ء  
ابو الفدا
ابوالفداء
1273ء تا 1331ء  
ابن خلدون
Khaldun
1332ء تا 1406ء  
الغ بیگ
Ulugbek
1393ء تا 1449ء  
ابوالحسن
Kalasadi
1412ء تا 1486ء  
احمد بن ماجد
Majid
1430ء تا ؟ عرب جہاز راں ۔ جس نے بحریات و جہاز رانی پر معلوماتی کتابیں تحریر کی ۔
سلیم الزماں صدیقی 1897ء تا 1994ء جامعہ کراچى کے مرکزِ فضيلت برائے اطلاقى کيميا کے سربراہ تھے۔
اختر حمید خان 1914ء تا 1999ء ایک پاکستانی ترقی پسند کارکن اور سائنسدان تھے، جنہیں ترقی پذیر ممالک میں چھوٹے قرضوں، چھوٹی مالیاتی امدادی پروگراموں، کسان کے تعاون کے فروغ اور دیہاتی ترقی کے پروگراموں کا بانی بھی کہا جاتا ہے۔
عبد الکلام 1931ء تا حال بھارت کے ايٹمى پروگرام کے خالق ہيں۔ بعد ازاں بھارت کے صدر بھى رہے۔
عبد القدیر 1936ء تا حال آپ پاکستان کے ایٹمی پروگرام کے خالق ہیں

مزید دیکھیۓ[ترمیم]

تصاویر[ترمیم]

بیرونی مطالعہ[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ E. S. Kennedy, A Survey of Islamic Astronomical Tables, (Transactions of the American Philosophical Society, New Series, 46, 2), Philadelphia, 1956, pp. 2, 7, 12 (zijes no. 2, 28, 71).
  2. ^ باباۓ کیمیاء کے لقب سے متعلق حوالہ
  3. ^ انگریزی ویکیپیڈیا پر حفرۂ جابر کے بارے میں مقالہ
  4. ^ امریکی ریاضیاتی ماہنامہ پر Gandz کی تحریر 1926
  5. ^ Ruska 1917
  6. ^ مسلم موسیقی کے مغرب پر اثرات ، (ایک پی ڈی ایف ملف)
  7. ^ Simon Singh. The Code Book. p. 14-20
  8. ^ Klein-Franke, p172
  9. ^ Cryptanalysis پر اب تک دریافت ہونے والے نسخوں میں سے قدیم ترین نسخے کا عکس
  10. ^ مسلم اسپین کے بارے میں Professor John H. Lienhard کی تحریر
  11. ^ کتاب تاریخ عرب ؛ Philip Hitti
  12. ^ انگریزی ویکیپیڈیا پر حفرہ الفرغانی کی تفصیل
  13. ^ اسٹینفورڈ دائرہ المعارف پر خلاء (void) کے بارے میں ایک حوالہ