مسیلمہ کذاب

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش

حضرت محمد مصطفےٰ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے انتقال کے بعد عرب میں جو نبوت کے دعویدار سامنے آئے ان میں سب سے طاقتور مسیلمہ کذاب تھا۔ جب مسلمان دیگر کذابوں کے خاتمے میں مصروف تھے اس دوران مسیلمہ اپنا دعویٰ نبوت عام کرنے میں مصروف رہا اور اس نے اتنی طاقت حاصل کر لی کہ اس کا چالیس ہزار کا لشکر یمامہ کی وادیوں میں پھیل گیا۔ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے ان کے مقابلے لیے عکرمہ بن ابی جہل کو یمامہ کی طرف روانہ کیا اور عکرمہ کی مدد کے لیے شرجیل کو بھی روانہ کیا۔ شرجیل کے پہنچنے سے قبل ہی عکرمہ نے لڑائی کا آغاز کر دیا لیکن انہیں شکست ہوئی۔ اس عرصے میں شرجیل بھی مدد کو آ پہنچے لیکن دشمن کی قوت بہت بڑھ چکی تھی۔ مسیلمہ کی نبوت کی تائید بنی حنیفہ نے بھی کی اس وقت ان کا بہت زور تھا۔ شرجیل نے بھی پہنچتے ہی دشمن سے مقابلہ شروع کر دیا لیکن کامیابی نہ ہوئی۔ اس عرصے میں حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ دیگر مرتدین سے نمٹ چکے تھے۔ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے انہیں عکرمہ اور شرجیل کی مدد کے لیے یمامہ کی طرف رخ کرنے کا حکم دیا۔

حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ اپنا لشکر لے کر یمامہ کی طرف روانہ ہوئے۔ مسیلمہ بھی خالد کی روانگی کی اطلاع سن کر مقابلے کی تیاریوں میں مصروف ہوا اور یمامہ سے باہر صف آرائی کی۔ مسلمانوں کے لشکر کی تعداد تیرہ ہزار تھی۔ [1]۔ فریقین میں نہایت سخت مقابلہ ہوا۔ پہلا مقابلہ بنو حنیفہ سے ہوا۔ اسلامی لشکر نے اس دلیری سے مقابلہ کیا کہ بنو حنیفہ بد حواس ہو کر بھاگ نکلے اور مسیلمہ کے باقی آدمی ایک ایک کر کے خالد رضی اللہ عنہ کی فوجوں کا نشانہ بنتے رہے۔ جب مسیلمہ نے لڑائی کی یہ صورتحال دیکھی تو اپنی جان بچا کر بھاگ نکلا اور میدان جنگ سے کچھ دور ایک باغ میں پناہ لی لیکن مسلمانوں کو تو اس فتنے کو جڑ سے اکھاڑنا تھا اس لے خالد رضی اللہ عنہ بن ولید نے باغ کا محاصرہ کر لیا۔ محاصرہ سے تنگ آ کر مسیلمہ ایک گروہ کے ساتھ باہر نکل آیا۔ اس کے باہر آتے ہی وحشی نامی ایک مسلمان نے ایسا نیزہ مارا کہ وہ کذاب وہیں ڈھیر ہو گیا۔ اس کے گروہ کے تمام آدمی مارے گئے۔ جنگ کے خاتمے کے بعد خالد رضی اللہ عنہ بن ولید نے اہل یمامہ سے صلح کرلی۔ یہ جنگ جنگ یمامہ کے نام سے جانی جاتی ہے۔

مسیلمہ کذاب اور دیگر مرتدین کے خاتمے سے اسلامی سلطنت کے لیے ایک بہت بڑا خطرے کا خاتمہ ہو گیا جس میں اہم کردار حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کی دینی و سیاسی بصیرت کا تھا۔ اسلام کو انتشار سے بچانے کے لیے یہ آپ کا نہایت اہم کارنامہ ہے۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ ابن خلدون جلد اول صفحہ 245