مصباح الحق

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
مصباح الحق
پاکستان.svg.png پاکستان
ذاتی معلومات
اصل نام مصباح الحق خان نیازی
تاریخ پیدائش 28 مئی 1974 (1974-05-28) ‏(40)
میانوالی, پاکستان
کردار بلے باز
طریقہ بلےبازی دائيں ہاتھ سے
طریقہ گیندبازی دائيں سپنر
بین الاقوامی کرکٹ
پہلا ٹیسٹ (کیپ 166) 8 مارچ 2001: بمقابلہ نیوزی لینڈ
آخری ٹیسٹ 3 فروری 2012: بمقابلہ انگلستان
پہلا ایک روزہ (کیپ 142) 27 اپریل 2002: بمقابلہ نیوزی لینڈ
آخری ایک روزہ 15 مارچ 2012:  v سری لنکا
کیریئر شماریات
فرسٹ کلاس ايک روزہ ٹيسٹ 20/ٹوئنٹي
کل میچ 171 96 34 39
کل دوڑیں 12422 2746 2173 788
اوسط بلے بازی 51,11 42,90 45,27 37,52
50/100 33 / 65 0 / 19 3 / 16 0 / 3
بہترین اسکور 284 *93 *161 *87
کل گیند کرائے 318 24
وکٹ 3 0
اوسط گیند بازی 80,66 --
5 وکٹ 0 -- --
10 وکٹ 0 -- --
بہترین گیند بازی 1/2 --
کیچ/سٹمپ 170 / -- 48 / -- -- / 35 14 / --

آخری ترمیم 16 مارچ, 2012
حوالہ: [1]

مصباح الحق پاکستان کا کرکٹر ہے۔ اس کا پورا نام مصباح الحق خان نیازیہے جو 28 مئی، 1974ء کو پنجاب کے چھوٹے سے قصبے میانوالی میں پیدا ہوا۔ مصباح نے لاہور میں واقع یونیورسٹی آف مینجمنٹ اینڈ ٹیکنالوجی سے ایم بی اے کیا ہوا ہے۔

کرکٹ کیرئیر[ترمیم]

مصباح نے کرکٹ کا آغاز 8 مارچ، 2001ء میں نیوزی لینڈ کرکٹ ٹیم کے خلاف ٹیسٹ کرکٹ سے کیا۔ وہ شروع میں زیادہ کامیاب نہ ہو سکا اور آسٹریلیا کے خلاف تین ٹیسٹ میچوں میں بیس سے زیادہ اسکور نہ کر سکا۔ جس کی بنا پر اسے ٹیم سے نکال دیا گیا۔

پاکستان کرکٹ ٹیم کے کپتان انضمام الحق کی ریٹائرمنٹ کے بعد پاکستان کو کسی ذمہ دار بلے باز کی تلاش تھی جو اننگز کی درمیان میں بلے بازی کر سکے۔ اس لیے پاکستان کرکٹ بورڈ نے مصباح الحق کو دوبارہ آزمانے کا فیصلہ کیا۔ اسے ٹوئنٹی/20 عالمی کپ 2007 میں محمد یوسف کی جگہ پر ٹیم میں شامل کیا گیا۔

ٹوئنٹی/20 کرکٹ عالمی کپ 2007[ترمیم]

یہ ٹورنامنٹ اس کے کیرئیر کا بہترین ٹورنامنٹ ہونے کے ساتھ ساتھ سال 2007ء اس کا کامیاب ترین سال ثابت ہوا۔ ٹوئنٹی/20 کپ میں پاکستان نے مصباح کی جارحانہ بلے بازی کے باعث فائنل تک رسائی حاصل کی اور فائنل میں بھارت کو ہرانے کے قریب پہنچ گیا۔

اس سے پہلے اس نے آخری مرتبہ پاکستان کے لیے 2004ء میں کھیلا تھا۔ اس دوران وہ پاکستان کی مقامی ٹیموں کے لیے کھیلتا رہا۔ اس ٹورنامنٹ میں مصباح نے 7 میچوں میں 55،50 کی اوسط سے 218 رنز اسکور کیے اور ٹورنامنٹ کا تیسرا سب سے زیادہ اسکور کرنے والا کھلاڑی رہا۔

ٹورنامنٹ کے فائنل میں جب پاکستان کو واضح شکست کا سامنا تھا اس وقت مصباح نے پاکستانی ٹیم کو سنبھالہ دیا اور ٹیم کو جیت کے بہت قریب پہنچا دیا۔ لیکن میچ کے آخری لمحات میں قسمت نے اس کا ساتھ نہیں دیا۔ اس وقت جب پاکستان کو 4 گیندوں پر صرف 6 رنز درکار تھے تو مصباح چھکہ مارنے کی کوشش میں کیچ آؤٹ ہوا۔

2008ء کا سال مصباح کے لیے مزید خوشیاں لے کر آیا جب اسے نا صرف ٹیم کا نائب کپتان مقرر کیا گیا بلکہ اسے پہلے درجے کا کانٹریکٹ ملا۔

2011ء کا سال مصباح کے لئے بہت اچھا ثابت ہوا۔ اس سال اس نے پاکستان کی ٹیم کو بحثیت کپتان بہیت میچ جتوائے اور خود کو ٹیسٹ کرکٹ کا ایک مستند بلے باز اور ٹھنڈے دماغ کھلاڑی کی حثیت سے منوایا۔ اس پر اکثر سست روی سے بلے بازی کرنے کی وجہ سے تنقید ہوتی ہے، مگر اس کا یہی انداز اننگ کے درمیان میں کافی کارآمد ہوتا ہے۔