مصطفی اسماعیل

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش

شیخ مصطفٰی اسماعیل مصر کے مشہور ترین قاریِ قرآن تھے۔ جن کا اپنا ایک الگ انداز تھا اور انہوں نے دنیا کے بے شمار مقامات پر تلاوتِ قرآن کا شرف حاصل کیا۔

حالاتِ زندگی[ترمیم]

مصطفے' اسماعیل 17 جون 1905ء میں مصر کے ایک علاقے طنطا کے قریب ایک گاؤں میں پیدا ہوئے۔ ان کی پرورش ان کے دادا نے کی۔1911ء میں آپ شیخ عبدالرحیم ابوالعینین کے مدرسے میں داخل ہوئے۔ 1913ء میں مدرسہ بدل کر شیخ عبداللہ کے مدرسے میں چلے گئے۔ دس سال کی عمر میں مصطفے' اسماعیل نے قرآن حفظ کر لیا تھا اور ان کی تلاوت کے چرچے شروع ہو چکے تھے۔ 1917ء میں شیخ ادریس فاخر سے تجوید و تلاوت میں مہارت کی سند حاصل کی۔ 1920ء سے 1925ء کے دوران آپ مصر کے دیہات میں بے انتہا مقبول تھے۔ 1943ء میں آپ نے قاہرہ میں قرآن کی تلاوت شروع کی اور جلد ہی مقبولیت حاصل کر لی۔ 1944ء میں ریڈیو پر ان کی تلاوت سن کر مصر کے شاہ فاروق اول بہت متأثر ہوئے اور اس وقت سے ہر رمضان المبارک میں شاہ کے محل سے خصوصی تلاوت کے پروگرام شروع ہو گئے۔[1] اس دوران انہوں نے بے شمار غیر ملکی سفر کیے۔ 1947ء میں ان کو جامعہ الازہر کا قاری مقرر کیا گیا جو ایک اعزاز تھا۔ 1965ء میں جمال عبدالناصر نے انہیں صدارتی ایوارڈ سے نوازا۔ 1977ء میں انہیں مصر کے صدر انور سادات کے ہمراہ اسرائیل اور فلسطین کے دورے کے دوران بیت المقدس میں تلاوت کا شرف حاصل ہوا۔ انہیں مصر اور دیگر ممالک کے بے شمار ایوارڈ ملے۔

انداز[ترمیم]

ان کا انداز اس وقت کے قاریانِ قرآن سے بالکل الگ تھا۔ ان کی تلاوت سن کر لوگوں پر رقت طاری ہو جاتی تھی۔ ایک دفعہ ترکی کے دورے میں دورانِ تلاوت انہوں نے محسوس کیا کہ مصر کے سامعین کے برعکس ترکی کے سامعین خاموش ہیں اور نہ داد دے رہے ہیں نہ ہی ان کا کوئی ردِ عمل ہے۔ اس وقت انہیں کچھ مایوسی ہوئی مگر تھوڑی ہی دیر میں ترکی سامعین پر رقت طاری ہونا شروع ہو گئی اور یکے بعد دیگرے اکثر سامعین ہچکیاں لے کر رونے لگے۔ اس ردِ عمل کے بعد انہیں اندازہ ہوا کہ ترکی کے سامعین کا انداز مختلف ہے اور انہوں نے ترکی سے واپسی پر ایک محفل میں کہا کہ مجھے یوں لگا کہ میرے، ترکی کے سامعین اور قرآنِ کریم کے درمیان کوئی خصوصی رابطہ ہے۔ ان کی تلاوت میں رقت کا مشاہدہ ان کے دیگر غیر ملکی دوروں میں بھی کیا گیا۔

وفات[ترمیم]

22 دسمبر 1978ء کو انہوں نے آخری دفعہ شرفِ تلاوت حاصل کیا اور 26 دسمبر 1978ء کو مصر کا یہ چراغ گل ہو گیا۔


بیرونی روابط[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ http://www.mustafaismail.org/index/index.asp?dil_no=107