مظاہر علوم سہارنپور

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
جامعہ مظاہر علوم سہارنپور
دار الحدیث مطاہر علوم
سنہ تاسیس رجب ۱۲۸۲ھ نومبر ۱۸۶۶
مذہبی الحاق دارالعلوم دیوبند
محل وقوع سهارنپور, اتر پردیش, بھارت
ویب سائٹ مظاہر علوم قدیم مظاہر علوم جدید

تحریک دیوبند
Jameah Darul Uloom Deoband.jpg

اہم شخصیات

مولانا محمد قاسم نانوتوی · مولانا رشید احمد گنگوہی
مولانا حسین احمد مدنی ·
مولانا محمود حسن
مولانا شبیر احمد عثمانی ·
مولانا اشرف علی تھانوی
مولانا انور شاہ کشمیری ·
مولانا محمد الیاس کاندھلوی
مولانا عبید اللہ سندھی ·
محمد تقی عثمانی

اہم ادارے

دارالعلوم دیوبند, بھارت
مظاہر علوم سہارنپور, بھارت
دار العلوم معین الاسلام, بنگلہ دیش
دار العلوم ندوۃ العلماء, بھارت
دار العلوم کراچی, پاکستان
جامعہ علوم اسلامیہ, پاکستان
جامعہ دار العلوم زاہدان, ایران
دار العلوم لندن, انگلینڈ
دار العلوم نیویارک, ریاستہائے متحدہ
دار العلوم کیناڈا
مدرسہ انعامیہ, شمالی افریقہ

تحریکیں

تبلیغی جماعت
جمعیت علمائے ہند
جمعیت علمائے اسلام
تحریک ختم نبوت
سپاہ صحابہ
لشکر جھنگوی
طالبان

مظاہر علوم سہارنپور بھارت کے صوبہ اتر پردیش کے ضلع سهارنپور میں رجب ۱۲۸۲ھ نومبر ۱۸۶۶ کو دارالعلوم دیوبند کے قیام کے محض چند ماہ بعد قائم ہوا۔ مدرسہ کی ابتدا مکتب کی صورت میں محلہ چوک بازداران کی مسجد سے ہوئی۔ اور بہت جلد ہی عالم اسلام میں جامعہ مظاہر علوم کا شمار اپنی دینی، علمی، تعلیمی، تہذیبی و ثقافتی خدمات کی بنا پر دیوبندی مکتبہ فکر کے کلیدی اداروں میں ہونے لگا۔

پس منظر[ترمیم]

شہر سہارنپورہندوستان کے ان شہروں میں ہے جو اپنے عظیم الشان علمی وعرفانی قومی اورملی کارناموں کے باعث نہایت ہی ممتاز ومعروف ہیں یہ شہر اپنے دور تاسیس کے آغازسے لے کر آج تک علوم وفنون اورایمان وعرفان کا مرکز رہا ہے ۔ حضرت شاہ ہارون چشتی رحمۃ اللہ علیہ (متوفی ۸۱۲ھ)اس کے مؤسس وبانی ہیں اورانہیں کی نسبت سے اس کا نام پہلے شاہ ہارون پورہوا تھا جو بعد میں کثر ت استعمال سے سہارنپورہوگیا ،۷۲۶ھ میں بعہدشاہ محمد بن تغلق یہ شہر آباد ہوا ،اس دورمیں علوم وفنون کی طلب کا ایک مخصوص ماحول تھا اورہر صغیر وکبیر اپنے دل میں جذبۂ طالب علمی مستوررکھتا تھا خود بادشاہِ وقت عالم وفاضل تھا ،معقولات میں اس کو خصوصی دستر س حاصل تھی ، اہل عل اوراہل کمال کا نہایت دلدادہ اورقدردان تھا ،چارچارلاکھ روپیہ بمدانعام اہل علم کو دے دینا اس کے لئے معمولی بات تھی عرب سیاحوںکے بیان کے مطابق صرف دہلی میں ایک ہزار مدرسے تھے اورمشہورعلماء اورشعراء اس کے دربارمیں موجود تھے جن کی علمی کاوشوں نے اس دور کو بڑی رونق بخشی تھی۔

مولانا معین الدین عمرانی مولانا ضیاء الدین بخشی (متوفی ۷۵۱ھ)مولانا احمد تھانیسری (متوفی ۸۲۰ھ) مرید حضرت چراغ دہلوی (متوفی ۷۵۷ھ)مولانا خواجگی (متوفی ۸۱۹ھ )مولانا علیم الدین مصاحب خاص اسی دورکے مشہور اہل علم اورناموراہل تصنیف ہیں مورخین میں مولانا ضیاء الدین برنی (متوفی ۷۳۸ھ ) عصامی اورشعراء میں مطہریوسف گدا چشتی (متوفی ۷۴۶ھ )وغیرہ امتیازی شان کے مالک تھے ۔

اسی زمانہ میں ممالک اسلامیہ سے علماء ومشائخ بکثرت ہندوستان آئے ،امام مجد الدین فیروزآبادی مصنف قاموس اورامام عبد العزیزاردبیلی کی تشریف آوری اسی دورمیں ہوئی اورمؤخرالذکرنے دربارشاہی میں احادیث نبوی بھی بیان کیں۔ انہیں ایام میںحضرت شاہ ہارون چشتی کے علاوہ قصبہ اوچ (بلقان)سے حضرت شاہ ولایت سید شاہ اسحق سہروردی (متوفی ۸۶۰ھ)جو اپنے ماموں سید راجوقتال (متوفی ۸۲۷ھ)کے خلیفہ تھے سرزمین سہارنپورمیں تشریف لائے اوریہاں آکر انہوں نے سلوک وتصوف اوردرس وتدریس کا ایک عظیم ترین حلقہ قائم فرماکر باشندگان سہارنپورکو علمی وروحانی طورپر فیضیاب فرمایا یہ حلقہ یہاں کا سب سے پہلا اوربنیادی حلقہ ہے جس سے سہارنپورکی علمی وروحانی تاریخ کا آغاز ہوتا ہے بعد کے دوسرے تعلیمی حلقے اورروحانی سلسلے اسی حلقہ کے خوشہ چین اوراسی کی مبارک علمی وروحانی سرگرمیوں کی پیداوار ہیں اس حلقہ کے عظیم الشان اہم اورممتاز ومعیاری ملی ودینی کارنامے تاریخ کے زریں ابواب ہیں۔ اس حلقہ سے نہایت جلیل القدر علماء ومشائخ وصوفیہ اوردیگر اہل کمال کی بڑی جماعت تیار ہوئی جس نے نہ صرف سہارنپورمیںبلکہ اس کے اطراف وجوانب میں علوم وفنون اورروحانیت کی شمعیںفروزاںکرکے سیکڑوںنفوس انسانی کے چراغوںکو روشن کیا اوران کے دلوں کے ٹوٹے رشتہ کو معبود حقیقی سے جوڑدیا،حضرت خواجہ سالار انصاری (متوفی ۸۶۶ھ )حضرت مولانا عبد الکریم قدسی (۹۰۹ھ)حضرت مولانا عبد الرزاق (متوفی ۹۲۴ھ)حضرت مولانا عبد العزیزصاحب (متوفی۹۱۶ھ )حضرت مولانا خواجہ عبدالباقی حضرت مولانا عبد الغنی صاحب قدس سرہٗ اسی جماعت کے ارباب تقدس میں سے چند مثالی افراد ہیں جو اپنے زمانہ میں علوم وفنون کے ماہر وامام اورسلوک وتصوف کے بڑے ممتاز ونامورمشائخ تھے جن کی تعلیم وتربیت حضرت شاہ ولایت سید اسحاق صاحب قدس سرہٗ کے علمی وروحانی آغوش میں ر ہ کر علم وعرفان کے اسی تاریخی حلقہ میں ہوئی تھی ۔ ان ہی حضرات کے فیض صحبت اورمساعی جمیلہ سے بعد کو سہارنپورمیں علمی وروحانی عروج وارتقاء ہوا جس کے نتیجہ میں یہاں قرناً بعد قرنٍ مسلسل بڑے بڑے اہل کمال اوراہل فضل پیدا ہوئے اوراس طرح یہ سر زمین ہمیشہ علماء مشائخ صوفیہ محدثین فقہاء مفسرین شعراء ادباء حفاظ وقراء کے وجود باجود سے آباد ومعموررہی،چنانچہ بعد کے علماء ومشائخ میں حضرت شیخ عبد الستارانصاری خلیفہ حضرت شاہ عبد القدوس گنگوہی (متوفی ۹۴۴ ھ یا ۹۴۵ھ) حضرت شیخ مصطفیٰ (متوفی ۱۰۰۰ھ)خلیفہ حضرت شیخ رکن الدین گنگوہی (متوفی ۹۸۳ھ) حضرت شاہ عبدالسبحان صبحی (متوفی ۱۰۸۹ھ)خلیفہ حضرت صادق گنگوہی (متوفی ۱۰۳۶ھ یا ۱۰۵۸ھ )سراج الہند حضرت مولانا شاہ بدیع الدین (متوفی ۱۰۴۲ھ )خلیفہ حضرت مجدداحمد سرہندی (متوفی ۱۰۳۴ھ)حضرت مولانا جمیل الدین نقشبندی (متوفی ۱۰۵۵ھ)خلیفہ حضرت شیخ بدیع الدین سہارنپوری حضرت بایزیدنقشبندی (متوفی ۱۰۰۱ھ) خلیفہ حضرت خواجہ معصوم سرہندی (متوفی ۱۰۷۹ھ)شیخ نورمحمد (متوفی ۱۰۹۱ھ)خلیفہ حضرت شاہ عزیز اللہ بن مولانا رکن الدین گنگوہی اورمحدثین میں حضرت شیخ رفیع الدین شطاری تلمیذمولانا عیسیٰ بن قاسم سندھی (متوفی ۱۰۳۱ھ) حضرت مولانا شیخ محمد بن عبد الرحمن تلمیذحضرت شیخ حیات سندھی مولانا وجیہہ الدین صدیقی، حضرت مولانا احمدعلی محدث مورخین میں مولانا محمد رضا مولانا محمد بقاء (متوفی ۱۶۸۰ئ)مؤلف ’’مرآۃ جہاںنما ‘‘ فقہاء میں مولانا قاضی عصمت اللہ (متوفی ۱۰۳۹ھ )مؤلف حاشیہ شرح وقایہ وصاحب تصانیف مختلفہ مولانا محمد غوث صاحب مولاناحسام الدین مولف مرافض الروافض حفاظ وقراء میں حضرت مولانا عبد الخالق چشتی (متوفی ۱۰۲۰ھ ) حضرت مولانا منورصاحب چشتی (متوفی ۱۰۱۷ھ )تلامذہ حضرت مولانا رکن الدین گنگوہی قدس سرہم ادباء وشعراء میں مولانا عبد الکریم (متوفی ۱۰۲۴ھ )صاحب دیوانِ فارسی ،مولانامقیم الدین صاحب ’’نشتر غم ‘‘مولانا حبیب الدین سوزاں تلمیذجناب غالب، حضرت مولانا فیض الحسن صاحب (متوفی ۱۳۰۴ھ )فیض ادیب سہارنپور، صاحب تصنیف کثیرہ خصوصیت کے ساتھ قابل ذکر ہیں جن کی علمی کاوشوں اورروحانی سرگرمیو ں کو سہارنپورکے علمی وروحانی ماحول میں بڑا دخل ہے ۔ پیش کش :مفتی ناصرالدین مظاہری

قیام[ترمیم]

جب زمین پیاسی ہوتی ہے تو رب السمٰوات والارض پانی برساتاہے ،جب خشک سالی کے آثارچھاجاتے ہیں توآسمان پررحمت کی بدلیاں پھیل جاتی ہیں،یہ وہ انتظام الہیٰ ہے جوپروردگارعالم نے انسان کے جسم کی غذاکیلئے کیاہے ،وہ خداکہ اس کی محبت زمین کی مٹی کو خشک نہیں دیکھ سکتی اوروہ درخت کی ٹہنیوں کو سبزپتیوں اورسرخ پھولوں کی زیبائش سے محروم نہیں رکھتا،کیاوہ روح ِ انسان کوہلاکت وبربادی کے لئے چھوڑ دے گا؟ہرگزنہیں بلکہ رَبُّنَاالَّذِیْ اَعْطیٰ کُلَّ شَئیٍ خَلَقَہ‘ ثُمَّ ہَدٰی ،ہمارا رب وہ ہے جس نے کائنات کی ہر چیزکو اس کی خلقی ضروریات بخشیں پھر اس کے بعدان کی ہدایت کا سامان فراہم کیا۔ اسی طرح جب درخت مرجھاجاتاہے ،نیکی کی کھیتیاں سوکھ جاتی ہیں ،عدالت کا باغ ویران ہوجاتاہے اور خداکے کلمۂ حق وصداقت کا شجرٔ طیبہ بے برگ وبارنظرآنے لگتاہے تو خداروح ِ انسانی کو ہلاکت سے بچانے کے لئے موقع کے مناسب انتظام فرماتاہے ۔ جب ہندوستان میں ۱۸۵۷ء کے حوادث وقتیہ اورانقلابات زمانہ سے علمی شمعیں بجھنے لگیں،علوم نبوت کے ضیاع کا خطرہ پید اہوگیااورمحسوس کیاجانے لگاکہ اب اسلام اوراسلامیات کی بہاریں اورتسکین ِ روح وقلب کے اسباب ناپیدہوجائیں گے تو اللہ جل شانہ کی رحیم ذات کو رحم آیااوراس نے اعلاء کلمۃ اللہ،اسلامی تعلیمات اورمسلمانوں کی ذہنی وروحانی استقامت کی طرف متوجہ فرمایا،چنانچہ انہوں نے ان ناگزیر حالات میں مدارس دینیہ کاجال بجھایا۔

فقیہ العصرحضرت اقدس مولانا سعادت علی (متوفی ۱۲۸۶ھ)صاحب قدس سرہٗ کی ذات گرامی تیرہویں صدی کے علماء میں اپنے تبحر علمی اورگوناگوںمحاسن واوصاف کی بناء پر ممتاز وفائق اوریگانہ روزگارتھی علوم وفنون میں ان کو کامل دسترس اورفقہ وافتاء میں خصوصی کمال حاصل تھا ۔

حضرت سید احمد شہید (۱۲۴۶ھ)بریلوی قدس سرہٗ جیسے مجاہد جلیل سے ان کو خاص تعلق وربط تھا اوران کی جماعت کے اہم اورمخصوص لوگوں میں سے تھے ان کی ذات سے جو بے پناہ علمی فیضان ہوا وہ نہایت ہی اہم ومثالی اورہندوستان کی علمی تاریخ کا ایک شاندارباب ہے ،خود مولانا کا تعلیمی حلقہ اپنے دولت کدہ پر قائم تھا ،جس سے خلق خدا فیضیاب ہورہی تھی ایک زمانہ کے بعد مختلف حالات وشئون سے گذر کر وہ علوم وفنون کا بڑا مرکزبنا اور مظاہر علوم کے نام سے مشہورہوا جس کی دینی ومذہبی علمی عرفانی اصلاحی اورتبلیغی خدمات آج مستغنی عن التعارف ہیں۔تاریخی طورپریہ حقیقت وواقعہ ہے کہ ہندوستان کے موجودہ بنیادی اورکلیدی مراکزاوردینی مدارس کا بیشتر سلسلہ مولانا ہی کے علمی خانوادہ کے افراد سے وابستہ ہے ،یہی وجہ ہے کہ ہندوستان کے اکثر علماء کبائراورفضلائے عظام مولانا کے سلسلۂ تلمذمیں داخل نظر آتے ہیں جس سے مولانا کی عظمت شان اورمرجعیت کا پتہ چلتا ہے ۔(تفصیلی حالات ’کے لئے ’بانیان مظاہرعلوم‘‘ پرکلک کریں) مظاہرعلوم کے اصل بانی حضرت مولاناسعادت علی صاحب انصاری سہارنپوری ہیںجوفقیہ شہر سے مشہورتھے ،آپ نے یکم رجب۱۲۸۳ھ مطابق ۹؍نومبر ۱۸۶۶ء کواس مدرسہ کی مکتب کی صورت میںاپنے محلہ چوک بازداران کی مسجدمیںبنیادرکھی، اطراف وجوانب ،معتقدین اوراہل ثروت کواس کاعلم ہواتوبڑی فراخدلی کے ساتھ اس کی مالی امدادکیلئے ہاتھ بڑھایابالخصوص عالی جناب شیخ الٰہی بخش صاحب لال کرتی رئیس میرٹھ نے جومولاناسے گہری عقیدت رکھتے تھے، بڑی دریادلی سے اعانت فرمائی اوراس کیلئے آڑے وقت میںکام آتے رہے،قیام مدرسہ سے قبل مولاناموصوف اپنے مکان پرقدیم رواج کے مطابق شائقین طلبہ کوپڑھایاکرتے تھے ، مولاناعنایت الٰہی ؒصاحب مہتمم مدرسہ ہٰذ ا اورمولاناحافظ الحاج قمرالدین ؒخطیب جامع مسجدسہارنپوروخلیفہ حضرت مولاناخلیل احمدؒ صاحب سہارنپوری آپ کے انہیںمخصوص طلبہ میںہیں جواس وقت زیرتعلیم تھے اور بعدمیں انہوں نے مدرسہ میں تکمیل کی، قیام مدرسہ کے بعدسب سے پہلے مدرس مولاناسخاوت علی انبہٹوی مقرر ہوئے آپ چوک بازداران کی مسجد میں اسباق پڑھاتے اورکچھ اسباق مولاناسخاوت علی صاحب پڑھاتے ،باقی وقت مدرسہ کی توسیع ونظم ونسق میںصرف فرماتے تھے ،آپ کے مخلص معاون قاضی فضل الرحمن صاحب رئیس شہر سہارنپورتھے ۔جن کی سرگرم کوششوں کامدرسہ کے وجودواستحکام میںایک نمایاںحصہ ہے ۔ قیام مدرسہ کے چار سال بعد۱۲۸۶ھ میںحضرت مولاناسعادت علی صاحبؒ کے سایہ سے مدرسہ کومحروم ہونا پڑالیکن حضرت مولانارشیداحمدصاحب گنگوہی اورمولانامحمداحسن صاحب نانوتوی کے مشورہ سے حضرت مولانامظہر نانوتوی خلیفہ حضرت گنگوہی کوبعد شوال ۱۲۸۶ھ کومدرس اعلیٰ بنادیاگیا۔ حضرت موصوف صدرمدرس اورمولاناسخاوت علی صاحب مدرس دوم مقررہوگئے ،حضرت موصوف کے علمی تبحراورانتظامی قابلیتوں نے اس مکتب کو مدرسہ کی صورت میںتبدیل کردیاچنانچہ طلبہ کی کثرت اورمالیات کے سبب مولانانے قاضی صاحب کے مشورہ سے مولوی عبدالرزاق صاحب کومہتمم اورمولاناسعادت حسین صاحب بہاری خادم خاص وتلمیذجناب نواب قطب الدین کومدرس اول اورجناب الحاج فضل حسن صاحب ساکن محلہ چوبفروشان کوخزانچی مقررکیااورمدرسہ بھی مسجدسے متصل ایک کرایہ کے مکان میںمنتقل کرناپڑا،اس وقت تک یہ مدرسہ ’’مدرسہ عربی سہارنپور‘‘سے مشہورتھا۔ تعلیمی وانتظامی ارتقاء

 ۱۲۸۴میںمعیارتعلیم اتنابلندہواکہ انتہائی تعلیم کی جماعتیںبھی تعلیم پانے لگیںچنانچہ بیضاوی میں مولا نا عبدالحقؒ،مولوی نورالحسنؒ،مولوی امیربازخاں سہارنپوریؒ اورمشکوۃ میں مولاناعنایت الٰہیؒ، حضرت سہارنپوریؒ وغیرہ حضرات شریک ہوئے اورمولانامحمدمظہرصاحبؒ کے فیوض وبرکات سے نظام مدرسہ وسعت پذیر ہوتا رہا حتیٰ کہ ۱۳۰۲ھ کے ختم پرحضرت مرحوم کے سایہ سے بھی محروم ہوگیاجس سے مدرسہ کی روزافزوںترقی پراثرپڑا، بالآخرحضرت گنگوہی ؒکے ارشادپر۱۳۰۴؍میںحضرت مولاناخلیل احمدسہارنپوریؒ جو مظاہرعلوم ہی سے فارغ ہوئے تھے، مظاہرعلوم کی صدرمدرسی پرتشریف لائے اور۳۰؍سال تک مدرسہ میںقیام فرمایا،یہ دوراپنی گوناگوں علمی وعرفانی رفعتوں کیلئے مایۂ نازوصدافتخاراورتاریخ مدرسہ کازرّیںباب ہے ۔

دارالطلبہ قدیم ،دارالحدیث ،مسجدکلثومیہ وغیرہ حضرت موصوف ہی کی مساعی جمیلہ کے ثمرات ہیں ، فخرالمحدثین مولانااحمدعلی صاحب محدث سہارنپوری، قطب العالم مولانارشیداحمدصاحب گنگوہی،شیخ الہند مولانا محمودالحسن صاحب دیوبندی ،حضرت مولاناشاہ عبدالرحیم صاحب رائے پوری، حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی صاحب تھانوی، حضرت مولاناشاہ عبدالقادرصاحب رائے پوری جیسی مشہورعالم بابرکت قوی النسبت ہستیاںاپنے اپنے دورمیںمظاہرعلوم کے سرپرست کی حیثیت سے جلوہ گررہی ہیںاوریہ سب ہی حضرات مدرسہ کی جانب اپنی گہری دلچسپی اورخصوصی توجہ مبذول فرماتے رہے ۔ حضرت مولانا خلیل احمدسہارنپوری ؒنے شوال ۱۳۴۴ھ میںسفرحجازپیش آنے پرحضرت مولاناعبداللطیف صاحب کوناظم مدرسہ مقرر کیا انہوںنے نہ صرف اس منصب کی جملہ ذمہ داریوںکوانتہائی کامیابی کے ساتھ انجام کوپہنچایابلکہ مختلف علمی اورتعمیری ترقیات مدرسہ کودیں،چنانچہ طلبہ کی کثرت کی بناء پردارالطلبہ قدیم کے ناکافی ہوجانے پر دارالطلبہ کی بنیاد ڈالی اوراس کی وسیع مسجداورمتعددحجرے تعمیرکرائے، کتب خانہ ناکافی ہونے پراس کی عمارت کووسعت دی۔

حضرت موصوف کی وفات پرمنصب نظامت مولانااسعداللہ صاحبؒ کوتفویض ہوا جو پہلے نائب ناظم کے عہدے پرتھے پھروہ ناظم ہوگئے اورنائب ناظم یکم رمضان۱۳۸۵؍سے حضرت مولانامفتی مظفرحسین صاحب ؒجومدرسہ کے صدرمفتی بھی تھے اوریہیںسے فارغ التحصیل تھے،مقررہوئے۔

۱۳۹۹ھ میں حضرت مولانامحمداسعداللہؒکا انتقال ہوگیاتوحضرت مولانامفتی مظفرحسینؒ دوسال تک قائم مقام ناظم رہے اور ۱۴۰۱ھ مظاہرعلوم کے ناظم ومتولی مقررہوئے۔ مظاہرعلوم سہارنپور بحمداللہ اِن اکابرواعیان علم کی زیرنگرانی شاہراہِ ترقی پرگامزن رہا ،اس کی اعلیٰ تبلیغی وتعلیمی ٹھوس خدمات جاری رہیں،اوریہ ادارہ عالم اسلامی کے ان گنے چنے اداروںمیںشمارکیاجانے لگا جن کے ساتھ علوم وفنون کی بقاء ، تعلیم قرآن وسنت کی اشاعت اوردین کے تحفظ وارتقاء کی شاندارتاریخ وابستہ ہے۔

اس ادارہ کے ہزاروںفضلاء مکہ معظمہ، مدینہ منورہ، ہندوستان ،پاکستان،برما،افغانستان ،بخارا،ترکستان وغیرہ میںاخلاص ونیک نامی کے ساتھ اسلامی علوم وفنون کی اشاعت اورتبلیغ احکام دین کررہے ہیں۔

۲۸؍رمضان المبارک ۱۴۲۴ھ کوفقیہ الاسلام حضرت مفتی مظفرحسینؒ کے انتقال پرملال کے بعدحضرت مولانامحمدسعیدی مظاہری مدظلہ مظاہرعلوم کے ناظم ومتولی اورجانشین فقیہ الاسلام مقررہوئے ۔ آج یہ عظیم الشان ادارہ حضرت مولانامحمدسعیدی صاحب کی دوررس،بالغ نظراورفکروتدبرسے شاہ راہ ترقیات پر گامزن ہے۔فللّٰہ الحمد (نوٹ) مظاہرعلوم کی جملہ معلومات کے لئے ویٹ سائٹ’’www.mazahiruloom.orgپرلاگ آن کریں۔

خدمات[ترمیم]

خدمت حدیث شریف

مدرسہ میںابتداء ہی سے تصنیف وتالیف کا سلسلہ شروع ہوگیاتھا اور اب تک یہ سلسلہ جاری وساری ہے مختلف علوم وفنون کی عربی وفارسی اوراردو میں بے شمار تصانیف وجودمیں آئیںجن کااحصاء اس مختصرمقالہ میں دشوار ہے لیکن فن حدیث کی تصانیف کے ذریعہ جو خدمت ہوئی وہ خدمات مدرسہ کا ایک شانداراورزریں باب ہے ۔ خدمت حدیث کا دائرہ نہایت وسیع ہے اگرمدرسہ کی خدمات حدیث کے تحت مقالہ لکھاجائے تو ایک مبسوط رسالہ بن جائے گا لیکن اجمال واختصارکے پیش نظرصرف چنداشارات پر اکتفاء کیا جاتا ہے ۔ حضرت مولانا احمد علی صاحب ؒبانی وسرپرست نے بخاری ،مسلم ،ترمذی اورمشکوۃ المصابیح کے تحشیہ وطباعت سے حدیث نبوی کی ایک گرانقدرخدمت انجام دی ،ہندوپاک میں جس قدر حدیث کی کتب شائع ہورہی ہیں وہ حضرت ممدوح ہی کا فیض ہے ۔ مدرسہ کے ممبرونگراں ادیب الہندحضرت مولانا فیض الحسن صاحب علیہ الرحمہ ادیب سہارنپور نے مختلف علوم وفنون کی تصانیف کے علاوہ حدیث ام زرع کی بھی شرح لکھی جو’’تحفہ ‘ صدیقیہ ‘‘کے نام سے موسوم ہے ۔ حضرت مولانا محمدمظہرصاحب علیہ الرحمہ نانوتویؒ نے احیاء العلوم کے حاشیہ کی طرح مجمع بحارالانوارکاایک مختصرحاشیہ تحریرفرمایا۔ حضرت مولاناحبیب الرحمن صاحب علیہ الرحمہ سہارنپور مدرسہ نے حدیث کی معروف کتاب مسنداحمدکااردو زبان کا ترجمہ فرماکرمسلمانانِ ہندپراحسان عظیم فرمایا ۔ حضرت مولاناخلیل احمد صاحب علیہ الرحمہ سابق ناظم مدرسہ نے ابوداؤ د کی بے نظیرشرح ’’بذل المجہود‘‘ تحریرفرمائی جو لکھنؤ سے 20؍ضخیم جلدوںمیں اوربیروت سے ۱۴جلدوں میں شائع ہوچکی ہے ،اس کتاب سے مصرکے مشہور عالم محدث محمودخطاب سبکی نے اپنی شرح ’’المنھل العذب المورود‘‘میں استفادہ کیا اوربعض جگہ اس کا حوالہ بھی دیا ہے ۔ حضرت مولانا محمد ادریس صاحب علیہ الرحمہ کا ندھلوی نے جو اسی مدرسہ کے فارغ التحصیل ہیں مشکوٰۃ شریف کی شرح ’’التعلیق الصبیح ‘‘ تصنیف فرمائی جو تقریباً آٹھ جلدوں پر مشتمل ہے ۔ مولانا بد ر عالم صاحب ؒ میرٹھی فاضل مدرسہ نے حضرت علامہ انور شاہ کشمیریؒ کی تقریربخاری ضبط فرمائی جو فیض الباری کے نام سے تقریباً چار ضخیم جلدوں میں شائع ہوچکی ہیں۔ حضرت مولانا ظفراحمدصاحب تھانویؒ جو مدرسہ کے تلمیذاورایک عرصہ تک مدرس بھی رہے ہیں انہوں نے ’’اعلاء السنن ‘‘۲۰ضخیم جلدوں میں تالیف فرمائی جو ہندوپاک میں چھپ چکی ہیں،اس کتاب کی وقیع حیثیت اوراہمیت کا مصر کے ایک مشہور عالم علامہ زاہد کوثری نے اپنے بعض مضامین میں بڑی فراخدلی سے اعتراف فرماتے ہوئے لکھا ہے کہ

’’در اصل یہ کام ایک جماعت کے کرنے کا تھا جو تنہا فردِواحد نے انجام دیا ہے اورامت پر یہ ایک ہزار سال سے قر ض تھا جو تنہا اس شخص نے ادا کیا ‘‘۔

حضرت مولانا محمدیحییٰ علیہ الرحمہ نے حضرت گنگوہی علیہ الرحمہ کی تقاریرضبط فرمائیںجن میں سے ’’الکوکب الدری ‘‘ اور’’لامع الدراری ‘‘شائع ہوچکی ہیں بقیہ مسودات کی شکل میں ہیں ۔ شیخ الحدیث حضرت مولانامحمد زکریانے مؤطاامام مالکؒ کی شرح ’’اوجزالمسالک ‘‘کے نام سے چھ جلدوں میں تصنیف فرمائی جو اہل علم سے خراج تحسین حاصل کرچکی ہے اسی طرح شمائل ترمذی کی اردو شرح اور’’کوکب الدری لامع الدراری ‘‘پر ایک محققانہ حاشیہ تالیف فرمایا ،اس کے علاوہ حدیث شریف کا ایک معتدبہ ذخیرہ آپ نے اردومیں منتقل فرمایاجو فضائل کے نام سے مختلف موضوعات پر متعدد زبانوں میں شائع ہوچکا ہے ۔ حضرت مولانا محمد یوسف صاحب علیہ الرحمہ نے طحاوی شریف کی شرح ’’امانی الاحبار‘‘تصنیف فرمائی جو مدرسہ مظاہر علوم وقف ہی کے ایک فاضل تھے ۔ طحاوی شریف سے متعلق اشکالات وجوابات کا ایک مفیدونافع مجموعہ قاری سعید الرحمن صاحب کامل پوری ؒ کی ترتیب کے بعد پاکستان سے شائع ہوا ہے یہ بھی مدرسہ کے ارباب حل وعقداستاذ الکل حضرت مولاناسید عبد اللطیف پورقاضوی ؒ اورحضرت مولاناعبدالرحمن کامل پوریؒ ،حضرت شیخ الحدیث مولانا محمدزکریاصاحبؒ، حضرت مولانا محمد اسعد اللہ صاحب اورحضرت مولانا مفتی قاری سعیداحمد صاحب اجراڑوی کے قلمی تبرکات ہیں جن کی اصل مظاہر علوم وقف کے تاریخی کتب خانہ میں محفوظ ہے ۔ حضرت مولانا محمد اسعد اللہ صاحب ؒ نے طحاوی شریف پر قلم اٹھایا اورایک حاشیہ کی صورت مرتب ہوگئی ۔ حضرت مولانا اشفاق الرحمن صاحب ؒ کاندھلوی جو مدرسہ کے مفتی رہے ہیں انہوں نے الطیب الشذی حاشیہ نسائی ، حاشیہ مؤطاامام مالک اورترمذی شریف کے ابتدائی حصہ کی شرح لکھی ہے ۔ حضرت الحاج مولانامفتی قاری سعید احمدصاحب ؒ نے بھی ترمذی کے مختصرحاشیہ کے علاوہ اس کے ابتدائی اجزاء کی شرح بھی تالیف فرمائی جو اب تک طبع نہیں ہوسکی ۔ حضرت مولانا محمد حیات سنبھلیؒمظاہری نے فن حدیث میںتعلیقات علی سنن ابی داؤ د،تعطیرالمشام ترجمہ بلوغ المرام اور معانی الآثار کا ترجمہ تحریرکرنے کے علاوہ متعدد کتب احادیث کی شروحات قلم بند فرمائیں۔ حضرت مولاناقاری سید صدیق صاحب باندویؒ نے دیگر علوم وفنون کی شروحات کے ساتھ بخاری شریف کی مختصرجامع شرح سپردقلم فرمائی جو ’’اسعادالباری المعروف بہ تسہیل الباری ‘‘سے موسوم ہے اورحال ہی میںبمبئی اورباندہ سے طبع ہوئی ہے ۔ فقیہ الاسلام حضرت مولانا شاہ مفتی مظفرحسین رحمۃ اللہ علیہ جن کو کم وبیش ۱ ۴؍سال کتب احادیث پڑھانے کا شرف حاصل ہوا اورترمذی شریف جیسی معرکۃ الآراء کتاب ۳۳بار پڑھائی اوراس دوران ۴۷سال تک آپ اس عالمی دینی مرکز کے نہ صرف صدرمفتی رہے بلکہ ۳۹سال تک مظاہر علوم کی انتظامی مسندپہ جلوہ افروز رہے ۔حضرت مفتی مظفرحسینؒ کی درس ترمذی کودروس مظفری کے نام سے مجلس خیرسورت گجرات نے شائع کرنا شروع کردیا ہے جس کے مقدمہ کے علاوہ پہلی جلد تقریباً ۷۰۰صفحات پرمشتمل منظرعام پرآچکی ہے۔ حضرت مولاناعلامہ محمد عثمان غنی مدظلہ العالی شیخ الحدیث حال مظاہر علوم وقف سہارنپورکی معرکۃ الآراء تصنیف نصرالباری جوبخاری شریف کی اردو زبان میںلاجواب علمی شرح ہے اوراردو زبان میںہمارے علم کے مطابق اب تک کوئی مکمل شرح منظرعام پر نہیں آئی تھی ،اللہ کافضل وکرم ہے کہ بخاری شریف کی یہ عظیم الشان خدمت بھی مظاہر علوم( وقف) کے حصہ میںآئی ۔فللّٰہ الحمد۔ سلوک تصوف تصوف وسلوک اورتزکیہ ٔ باطن جو عامۃً خانقاہی نظام کے ساتھ مخصوص سمجھا جاتا ہے، یہ خدمت بھی مدرسہ میں ابتدائی زمانہ سے جاری ہے ،ہردور میںمدرسہ کے جلیل القدرعلماء مشائخ معتدبہ جمعیت کے ساتھ تزکیہ ٔ باطن اوراصلاح قلوب کی خدمت میں مصروف رہے اوراس طرح سیکڑوںنفوس انسانی علم ظاہری کی دولت سے مشرف ہونے کے ساتھ ہی ان بزرگان دین کی خدمت میں رہ کر باطنی دولت اورروحانی فیض سے مستفیض اوروصول حق کی اعلیٰ منزل تک پہنچ کر بے شمار گمراہ انسانوں کیلئے رشد وہدایت کا ذریعہ بنے ۔ حضرت مولانا محمد مظہر ؒ ،حضرت مولاناخلیل احمدؒ،حضرت مولانامحمدالیاس ؒ ، حضرت مولانابدرعالم مہاجرمدنیؒ، حضرت مولانا عبد الرحمن ؒ ،حضرت مولانا محمدزکریا ؒ ،حضرت مولانا محمدا سعد ا للہ ؒاورحضرت مولانا مفتی محمودالحسن گنگوہی ؒ اورفقیہ الاسلام حضرت مولانا شاہ مفتی مظفر حسین ؒ کے نام اس سلسلہ میں قابل ذکرہیں جن کے زیر سایہ بڑ ی خدمت اس باب کی وجود میں آئی ۔ دعوت وتبلیغ تعلیم وتعلم کا اصل مقصد دین حنیف کی اشاعت وتبلیغ ہے اورانبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کے بعد اب یہ کام امت محمدیہ کا اہم فریضہ ہے اس لئے حضرت مولاناعنایت الٰہی ناظم مدرسہ نے ایک مستقل انجمن قائم کی یہ انجمن حضرت مولانارشید احمدگنگوہی ؒ کے نام نامی کی مناسبت سے ’’ہدایت الرشید‘‘کے نام سے موسوم ہے اور عرصہ دراز سے دین کی تبلیغ اوراسکی اشاعت وحفاظت میں مصروف ہے ۔ یہ تاریخی حقیقت بھی خالی ازدلچسپی نہ ہوگی کہ اس انجمن کو شیخ المشائخ حضرت مولاناشاہ عبدالرحیم رائپوریؒ، شیخ الہندحضرت مولانامحمودالحسن دیوبندیؒ اورحکیم الامت حضرت مولانااشرف علی تھانویؒنے قائم فرمایااور تاحیات اس کی سرپرستی واعانت فرمائی،اس کے خصوصی اجتماع اورپروگراموں میں شریک ہوکرخلق خداکو وعظ وتبلیغ فرماتے رہے ،چنانچہ فقیہ الاسلام حضرت مولانامفتی مظفرحسین ؒکی تحریک اورہدایت پرحضرت حکیم الامتؒ کے اُن مواعظ کامجموعہ جو آپ نے مظاہرعلوم( وقف )میں فرمائے تھے،انھیں یکجاکرلیاگیاہے جوکئی سوصفحات پرمشتمل ہیں۔ اس انجمن کے ارکان نے اپنی پرخلوص کوشش ومحنت اورجفاکشی سے ہمیشہ باطل کی طاغوتی طاقتوںکو زیر کیاآریہ اور دیگرفرق باطلہ کی وعظ وتقریراورمناظرہ کے ذریعہ مخالفت کی باطل فرقوں کے عقائد ونظریات کی نہ صرف پرزور تردیدکی بلکہ مختلف رسالے وقتاً فوقتاًاس سلسلے میں شائع کئے ۔ اس انجمن کے ذریعہ طالبان علم کو وعظ وتقریر، مناظرہ،خوش خطی اور مضمون نگاری وغیرہ کی مشق کرائی جاتی ہے،الحمدللہ سیکڑوں مناظراور مبلغ، صاحبان قلم اور بلندپایہ خطیب ومقرراس انجمن نے پیداکئے ہیں،جن میں حضرت مولانا اسعداللہؒ، حضرت مولانانورمحمدٹانڈویؒ، حضرت مولانامحمدزکریاقدوسیؒ،حضرت مولانااحمدعلی اغوان پوریؒ،حضرت مولاناامیراحمد کاندھلویؒ، حضرت مولانامفتی سعیداحمد اجراڑویؒ، حضرت مولاناظریف احمد پورقاضوی،ؒحضرت مولانامفتی عبدالقدوس رومی مدظلہ،حضرت مولانامفتی حبیب الرحمن خیرآبادی مدظلہٗ اور حضرت مولانانسیم احمدغاز ی وغیرہ کے اسماء گرامی خصوصیت سے قابل ذکرہیں۔ تبلیغی تحریک بھی الحمدللہ مدرسہ کے فیوض وبرکات اور اس کے اکابرکے شاندارکارناموں میں سے ہے،اس تحریک کے جومبارک اور جلی اثرات ونقوش دنیامیں ظاہرہورہے ہیں اور اس سے مسلمانوں کے حالات میں جو دینی انقلاب ظہورپذیرہے وہ مخفی نہیں ہے؟ عالمگیر فائدہ اور عظیم ترین نفع اس تحریک سے اسلام اور مسلمانوں کو ہورہاہے۔

یہ حقیقت بہت کم لوگوں کو معلوم ہے کہ اگرچہ حضرت مولانامحمد الیاس کاندھلویؒاس تحریک کے بانی ومؤسس قرارپائے اور انہوں نے خطۂ میوات سے اس تحریک کی ابتدافرمائی لیکن یہ تاریخی حقیقت ہے کہ حضرت مولانا کاندھلویؒ سے پہلے شاہ محمد رمضان(تلمیذشاہ عبدالعزیزؒ) حضرت مولانامحمد محبوب علیؒ،حضرت مولانا محمد فریدؒ، حضرت مولانا محمد حسنؒ،حضرت مولانا نورعلیؒ اورحضرت مولانا عبداللہ خانؒ (شاگردمولانااحمدعلیؒمحدث سہارنپوری) کی تبلیغی اور اصلاحی سرگرمیاں ایک عرصہ تک خطۂ میوات میں جاری رہی ہیں اور حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒکے وہ وفود جو فتنۂ ارتدادکے زمانہ میں مسلسل اس خطہ کی طرف بھیجے گئے اور جس سے حضرت مولانامحمد الیاس صاحبؒ کی وابستگی بھی تحرک سے پہلے برابررہی یہ سب اس تحریک کے لئے سنگ بنیادکی حیثیت رکھتے ہیں ۔

حضرت مولانا محمد الیاس صاحبؒ کاندھلویؒ اسی مدرسہ کے فاضل اورمدرس تھے،ایک عرصہ تک انھوں نے مدرسہ میں تعلیمی خدمت انجام دی پھردہلی منتقل ہوکرپہلے پہلے مکاتب قرآنیہ جاری کئے اور پھرحضرت تھانویؒ کی رہنمائی میں تبلیغ کاکام شروع کیا۔ حضرت مولانا محمد الیاس کاندھلویؒ کے بعدحضرت مولانامحمدیوسف کاندھلویؒ(مصنف حیاۃ الصحابۃ) حضرت مولانا انعام الحسنؒ،حضرت مولاناعبیداللہ بلیاویؒ،حضرت مولانااظہارالحسن کاند ھلو یؒ،حضرت مولانا افتخارالحسن کاندھلوی مدظلہ اور محترم مولانا زبیرالحسن وغیرہ صاحبان بھی الحمدللہ اسی ادارہ کے فارغ وفاضل اور سندیافتہ ہیں۔حضرت مولانا محمدلاٹ صاحب اور حضرت مولانا محمدکاندھلوی خلیفہ ومجازحضرت فقیہ الاسلام مفتی مظفرحسینؒبھی بالواسطہ اسی ادارہ کے فیض یافتگان میں سے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ بزرگوں کے لگائے ہوئے اس باغ کو ہمیشہ تروتازہ رکھے ،حاسدین کے حسداوران کی بدنظری سے محفوظ رکھ کردین اسلام کیلئے اس مدرسہ کی ہمہ جہت خدمات کو قبول فرمائے اور مزیدکام کی توفیق عطافرمائے۔

صحافتی خدمات

فضلاء مظاہر نے اس میدان میںعلمی ادبی اورمذہبی اخبارات ورسائل اورمختلف زبانوںمیںاسلام کی صداقت وحقانیت کیلئے ہروہ رائج طریقے اختیار کئے جس سے مسلمانوں کو صحیح اسلامی سمت اورنہج کی رہنمائی کی جاسکے ۔ سہارنپورکے ہفت روزہ ’’احرار‘‘جو حضرت مولاناسعید احمد دیوبندی مظاہری اورمولانامحمدزکریااسعدی کی ادارت میںشائع ہوتا تھا،یہ اخبار مئی ۱۹۴۰ء سے’’ ہفت روزہ‘‘ کے بجائے ’’سہ روزہ‘‘ کردیا گیا ؛اس اخبار کی تعریف کرتے ہوئے دہلی کے ماہنامہ برہان نے لکھا تھا کہ

’’یہ ایک سنجیدہ اورعلمی اخبارہے اورصحافت کے اس بدنام دورمیںملک وملت کی صحیح اوربہترین خدمات انجام دے رہا ہے ‘‘

اسی طرح غیرمنقسم ہندوستان میںڈیرہ غازی خان سے ہفت روزہ’’ اصلاح ‘‘مولانامسعود علی خان مظاہری کی زیرادارت جاری ہوااورایک مدت تک صحافتی خدمات انجام دینے کے بعد ۱۹۴۶ء میںنامساعد حالات اورملکی اختلافات کے باعث بند ہوگیا۔ سہارنپورہی سے مولاناحکیم مشرف مظاہری نے ایک پندرہ اخبار’’اللہ اکبر‘‘۱۹۷۹ء سے جاری کیا ……اسی طرح آپ ہی کی زیرادارت ہفت روزہ ’’حرم ‘‘۱۹۵۲ء سے جاری ہوا……ہفت روزہ’’محقق ‘‘ جوطبیہ کالج سہارنپورکا ترجمان تھااس کی ادارت کے فرائض بھی آپ نے ایک عرصہ تک انجام دئے ۔ حضرت مفتی جمیل احمد صاحب تھانویؒ کی زیر ادارت سہارنپورسے ماہنامہ ’’المظاہر‘‘جاری ہوا ۔ حکیم الامت حضرت تھانویؒ کے خادم خاص اورپروردہ حضرت مولاناسیدظہورالحسن کسولوی مظاہری کی ادارت میںماہنامہ ’’اشرف العلوم ‘‘ کے نام سے سہارنپورسے۱۹۳۵ء میں جاری ہوا۔ ماہنامہ ’’اشاعت اسلام ‘‘سہارنپورجو حضرت اقدس مولانامحمداسعد اللہ ؒ ناظم مدرسہ کی دعاؤں اورخواہشات کے ساتھ محترم مولانااسلام الحق اسعدی مظاہری (خلیفہ ومجازفقیہ الاسلام حضرت مولانامفتی مظفرحسین رحمۃ اللہ علیہ )کی زیرادارت ۱۹۶۲ء سے جاری ہوا…اسی طرح ۱۹۷۹ء میںمولانااسعدی کی زیر ادارت اورمولاناالیاس مظاہری کی معاونت میں ماہنامہ ’’تحقیقات علمیہ‘‘جاری ہوا۔ نومسلم عالم دین مولانادین محمدصاحب مظاہری کی زیرادارت اورمولاناجمیل الرحمن تھانوی مظاہری کی زیرنگرانی ۱۹۴۹ء سے ماہنامہ ’’دیندار‘‘بھی اسی سرزمین سے جاری ہوا ۔ اس کے علاوہ سہارنپورسے شائع ہونے والے مختلف اخبارات ورسائل میںصحافتی خدمات انجام دینے والے مظاہری علماء کرام الگ ہیںجن کا تذکرہ اس مقالہ کی طوالت کا باعث ہوگا۔ جامعہ مظاہر علوم وقف سہارنپورمیںنظامت کے عہدہ پرسب سے زیادہ طویل عرصہ تک فائزرہ کرعلمی ودینی دعوتی واصلاحی خدمات اورہمہ جہت کارنامے انجام دینے والے فقیہ الاسلام حضرت مولانا مفتی مظفرحسین ؒنے مدرسہ کی ترجمانی اورملک اورملک سے باہرمدرسہ کی آوازاوراس کے پیغام کوپہنچانے کیلئے ۱۹۸۸ء سے ماہنامہ آئینہ ٔ مظاہر علوم جاری کیاجس کے پہلے مدیرحضرت مولاناانعام الرحمن تھانوی مدظلہ تھے یہ ماہنامہ نہایت قیمتی اور فکرانگیزموضوعات پر مشتمل ہوتاہے ، بحمد اللہ پابندی ٔوقت کے ساتھ جاری ہے ۔

حضرت مولاناعاشق الٰہی میرٹھی کی زیرادارت ماہنامہ ’’الرشاد‘‘سہارنپور ۱۹۱۴ء سے جاری ہوا۔

سرزمین دیوبندسے مولاناابوالقاسم رفیق دلاوری کی ادارت میںاورمولاناعتیق احمدمظاہری دیوبندی کی معاونت میں ۱۵؍نومبر ۱۹۲۷ء سے ہفت روزہ ’’الانصار‘‘جاری ہوا ۔ بنگال کی راجدھانی کلکتہ سے ہفت روزہ ’’الاسلام ‘‘جاری ہواجس کے بانی اورمدیرمولانانورمحمدخان ٹانڈوی تھے …اسی طرح ۱۹۳۹ء میں مولاناموصوف نے ہفت روزہ ‘‘الاستقلال ‘‘کے نام سے ایک اخبار شروع کیا جوبرطانوی حکومت کے جبر وتشدد کی تاب نہ لاکر بند ہوگیا۔ تھانہ بھون کی سرزمین سے ماہنامہ ’’الامداد‘‘۱۹۱۵ء میںجاری ہواجو حضرت تھانویؒ کی تعلیمات کا زبردست نقیب اورترجمان تھا ، حضرت مولاناشبیرعلی تھانویؒ اس ماہنامہ کے معاون مدیر تھے ……ایسے ہی ماہنامہ’’ الشیخ‘‘ جوکچھ عرصہ کیلئے تھانہ بھون سے جاری ہواتھا مولانا شبیر علی تھانوی ؒ اس کے مدیر تھے …آپ ہی کی زیرادارت ایک علمی فقہی اورتحقیقی وتاریخی ماہنامہ ’’النور‘‘۱۳۳۹ء سے جاری ہواتھاجواپنے وقت کا مقبول ترین ماہنامہ شمار ہوتا تھا ۔شوال ۱۳۴۵ھ میں آپ کی زیرادارت ایک اور ماہنامہ ’’المبلغ‘‘شائع ہوا۔ ماہنامہ ’’الادب ‘‘کانپور۱۹۳۷ء میںجاری ہواجس کے مرتب مولاناضیاء النبی عباسی فاضل دیوبندتھے اور مولانااحمدعبد الحلیم ،مفتی جمیل احمدتھانوی مظاہری اورجگرمرادآبادی جیسے اہم حضرات اس کی ادارت میںشامل تھے۔ پندرہ روزہ’’پیام سنت‘‘بھی کانپورسے حضرت مولانامفتی منظوراحمد کانپوری اور مولاناانواراحمد جامعی کی ادارت میں جاری ہوا،جولائی ۱۹۷۶ء میں اس کا پہلا پرچہ شائع ہوا۔ ’’منشورمحمدی‘‘کے نام سے ایک پرچہ حضرت مولانامحمدعلی مظاہری مونگیریؒ با نی ندوۃ العلماء لکھنؤنے ۱۹۷۲ء میں جاری کیا۔ اسی طرح ماہنامہ ’’نظام ‘‘جو مولاناعبد القیوم مظاہری کی زیرسرپرستی کانپورسے جاری ہوااور ماہنامہ ’’ہادی‘‘ کانپور وغیرہ نے اپنے زمانے میں ذمہ دارانہ صحافتی خدمات اور اسلامی مطالبات وتقاضوں کو پوراکرنے میں اہم کردارادافرمایاتھا۔ دوسری جنگ عظیم کے بعدسرزمین برماسے اردو اخبارات ورسائل کی اشاعت شروع ہوئی یہ بات خصوصیت کے ساتھ قابل ذکر ہے کہ برماکی دینی اورعلمی فضاء کوبحال کرنے میںاکابر مظاہر علوم کاکلیدی اوربنیادی کرداررہا ہے ،حضرت مولاناعبداللطیف پورقاضویؒ ، حضرت مولانامحمد اسعد اللہ ؒاورماضی قریب میںفقیہ الاسلام حضرت مفتی مظفرحسین علیہ الرحمہ (نظماء مظاہر علوم )دعوتی اورتبلیغی اسفار کرتے رہے ہیںاوربرماکے مسلمانوں کا رجوع بحمد اللہ مظاہر علوم وقف سے قدیم زمانہ سے استوار ہے ۔ ماہنامہ ’’استقلال ‘‘رنگون سے ۱۹۴۵ء میںمولاناابراہیم مظاہری کی صدرمرکزی جمعیۃ علماء برماکی زیرادارت جاری ہوااوربرماکے مظاہری علماء کی ایک معتدبہ تعداد کے مضامین ومقالات وغیرہ شائع ہوتے رہے چنانچہ مولاناعبد الولی مظاہری ،مولانامحمود داؤد یوسف مظاہری ،مولانامحمد ہاشم مظاہری ،مولاناعبد الوہاب مظاہری مولانا ادریس مظاہری ،مولاناحسین احمدمظاہری،مولانامحمد یونس مظاہری ، مولانابد رالزماں مظاہری، مولانانورمحمد مظاہری خصوصیت سے قابل ذکر ہیں ۔ مولانامحمد موسیٰ رنگونی مظاہری کی زیر ادارت برمی زبان میںماہنامہ ’’تہذیب الاسلام ‘‘رنگون سے جاری ہوا…اسی طرح مولاناابراہیم احمد مظاہری اورمولانامحمو د یوسف مامساکی کوششوںسے روزنامہ ’’دورِجدید‘‘رنگون سے جاری ہوا ۔ ماہنامہ ’’المحمود‘‘فروری ۱۹۳۹ء میں رنگون سے جاری ہوا، معروف عالم دین حضرت مولاناامیراحمدمیرٹھی مدظلہ کی زیرادارت شائع ہونا شروع ہوا،اس ماہنامہ میں مولاناحافظ محمد سلیمان مظاہری،مولاناخلیل الرحمن مظاہری،مولانا محمود راندیری مظاہری اورحضرت مولانامحمد اسعداللہ ؒ(ناظم مظاہرعلوم)وغیرہ خصوصی کالم نگاتوں میں سے تھے۔ دہلی سے ۱۹۴۷ء میںماہنامہ ’’آفتابِ نبوت ‘‘جاری ہوا جس کے مدیر مولاناادریس انصاری انبہٹوی تھے ۔ حضرت مولاناظفر احمد تھانوی کی زیر پرستی پنجاب پاکستان سے’ماہنامہ ’اشراف الرحمن ‘‘۱۹۵۰میں جاری ہوا۔ حضرت مولانامفتی اشفاق الرحمن کاندھلوی کی زیرادارت دہلی سے ماہنامہ ’’الحکمۃ ‘‘جاری ہوا جس کا خاص موضوع علم کلام ، تفسیر،حدیث اورفقہ وتاریخ تھا نیزبھوپال سے ۱۹۴۸ء کے اواخرمیں جاری ہونے والے پندرہ روزہ ’’نشانِ منزل ‘‘کاچیف ایڈیٹرآپ کو منتخب کیاگیا ۔ مولانانجم الحسن تھانوی مظاہری کی زیر ادارت اورحضرت مفتی محمد حسن امرتسری کی زیر سرپرستی ۱۹۵۲ء میںجامعہ اشرفیہ لاہورکا علمی دینی ترجمان ’’ماہنامہ انوار العلوم‘‘ جاری ہوا ۔ مفتی ٔ اعظم پاکستان حضرت مولانا مفتی محمد شفیع دیوبندی کی زیر سرپرستی ماہنامہ ’’البلاغ ‘‘۱۹۶۷ء میںکراچی سے جاری ہوا جس کے مدیر اعلیٰ حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی اورمدیرحضرت مولانا خلیل الرحمن نعمانی مظاہری تھے بحمد اللہ یہ ماہنامہ مکمل آب وتاب کے ساتھ جاری ہے ۔ سرزمین لاہور سے غیر منقسم ہندوستان میں’’اخبارزمیندار‘‘جاری ہوا جس کے مدیر اورمالک حضرت مولانا ظفرعلی خان تھے ان کے اس اخبارمیںمظاہر علوم وقف کے سابق استاذحضرت مولانااکبر علی سہارنپوری کا بحیثیت معاون مدیرتعلق تھا۔ جہلم پنجاب(پاکستان )سے ’’سرا ج الاخبار‘‘جاری ہوا جس کے بانی مولانافقیر محمد تھے اورمولانا ابوالفضل کرم الدین دبیر ؔفاضل مظاہر علوم نے اس ترجمان کے ذریعہ قادیانیت کی سرکوبی میںاہم کردار ادا فرمایا ۔ مرادآبادکی سرزمین سے مارچ ۱۹۵۳ء سے ماہنامہ ’’اصلاح‘‘جاری ہوا ،جس کی مجلس ادارت میں مولانافضل الرحمن مظاہری سرساوی نے ایک عرصہ تک خدمت انجام دی۔ الہ آباد سے حضرت مولانامفتی عبدالقدوس رومی مفتی ٔشہرآگرہ نے ’’الاحسان‘‘کے نام سے ۱۹۵۴ء میںماہنامہ جاری کیا،جو خاص طورپر سلوک وتصوف کا اہم ترجمان تھا۔ بنگلہ دیش کی راجدھانی ڈھاکہ سے حضرت مولاناظفراحمد عثمانیؒ کی زیرسرپرستی اور مولاناعمرشہیدعرفانی کی زیرادارت ہفت روزہ ’’منشور‘‘جاری ہوا ،جس نے اہم خدمات انجام دی ہیں۔ لدھیانہ سے ماہنامہ ’’نورعلی نور‘‘حضرت مولانانورمحمدمظاہری لدھیانویؒ(شاگردخاص حضرت مولانااحمد علی محدث سہارنپوریؒ)کی زیرادارت ۱۹۰۳ میںجاری ہوا۔ ٹانڈہ ضلع فیض آباد سے مولانامختار احمد مظاہری کی زیر ادارت ماہنامہ ’’دوام ‘‘ لکھنؤ سے مولانامحمدثانی مظاہری کی زیرادارت ۱۹۵۶ء میںجاری ہونے والاماہنامہ ’’رضوان ‘‘ دیوبند سے مولاناعتیق احمد صدیقی مظاہری کی زیر ادارت ۱۹۳۷ء میںجاری ہونے والا ماہنامہ’’ سلطان العلوم ‘‘ مولاناعبد الرؤف عالی مظاہری کی زیر ادارت دیوبند سے نکلنے والا ماہنامہ’’القاسم ‘‘ مولاناعتیق احمدمظاہری کی زیر ادارت دیوبند سے نکلنے والا ’’قاسم العلوم ‘‘ مولانا غیاث الحسن مظاہری کیرانوی کی زیر ادارت دہلی سے نکلنے والا ماہنامہ ’’سحبان الہند‘‘اور’’دینی مدارس ‘‘ … آپ ہی کی زیر ادارت سہ ماہی ’’کیف ‘‘نئی دہلی ۔ لندن سے مولانامحمد موسیٰ سلیمان کرماڈی مظاہری کی زیر ادارت نکلنے والا ماہنامہ ’’فاران ‘‘ مانچسٹرانگلینڈسے علامہ خالدمحمودکی زیر نگرانی نکلنے والے ماہنامہ ’’الہلال‘‘جو مولانامحمد اقبال رنگونی مظاہری کی زیرادارت ہنوزاشاعت پذیرہے ۔ گلوچسٹرسے ماہنامہ ’’التبلیغ ‘‘اور’’الاسلام ‘‘وغیرہ نے اسلام کی ترویج واشاعت دیارِ غیرمیںجس انداز اور نہج پرکی ہے وہ یقینا لائق تحسین کارنامہ ہے ۔ ماضی قریب میںمظاہر علوم کے فضلاء اورفارغین نے صحافتی ذمہ داریوں کوبخوبی ادا کرنے میںخاطرخواہ دلچسپی کامظاہرہ کیا ہے چنانچہ مولاناایم ودودساجدجنہوں نے’’ اخبارِ نو‘‘نئی دنیااورروزنامہ ’’راشٹریہ سہارا‘‘میںاہم خدمات دی ہیں اوریہ سلسلہ ہنوزجاری ہے ۔ ماہنامہ ’’المصطفیٰ ‘‘لکھنؤجس نے بہت کم مدت میںقابل ذکرکامیابی حاصل کی ہے۔

اسی طرح مدرسہ مفتاح العلوم جلال آبادکے ترجمان ماہنامہ ’’مفتاح الخیر‘‘جوعزیزی مولوی مفتی محمد نعیم مظاہری کی زیرادارت کامیابی کی منزلوں پر گامزن ہے ۔

بیت العلوم سرائمیراعظم گڑھ کا ماہنامہ ’’فیضانِ اشرف ‘‘مفتی محمد عبد اللہ پھولپوری کی زیرادارت شائع ہورہا ہے۔ اعظم گڑھ ہی سے شائع ہونے والاماہنامہ ’’الشارق ‘‘مولاناتقی الدین مظاہری کی زیرنگرانی اشاعت پذیرہے ۔ ماہنامہ ’’وصیۃ العلوم ‘‘ اور’’وصیۃ العرفان ‘‘جومولانااحمدمکین مظاہری کی زیر ادارت شائع ہورہا ہے ۔ اس کے علاوہ بطورتحدیث نعمت اس حقیقت کااظہار کرنے میںکوئی باک نہیں ہے کہ الحمد للہ ملک اوربیرون ملک میںشائع ہونے والے اخبارات ورسائل میںعلماء مظاہر علوم بلا واسطہ یا بالواسطہ کسی نہ کسی ذریعہ منسلک ہیں۔

تحفظ ختم نبوت

سرکاردوعالم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات گرامی منبع ہدایت اورسرچشمۂ سعادت ہے ،سسکتی انسانیت اوردم توڑتی شرافت کیلئے ایک تریاق ہے ،ضلالت وذلالت کے مسموم حالات میں آپ کی بعثت خدا وند قدوس کا بیکراں انعام ہے لیکن اسلام اورانسان کے ازلی وابدی دشمن ملعون شیطان کو یہ کب گوارا ہوسکتا ہے کہ اسلام کی ابدی صداقتوں اورلافانی حقیقتوں پرصالح انسانیت کی تعمیر ہو،بدی کے شیدائی ،ابلیسی قوتیں اورطاغوتی نظام روز اول سے انسان اوراس کے خدائی مذہب سے متصادم رہا ہے ،صالح فکر اورصالح افراد ہمیشہ شیطانی قوتوں کی نظروں میںخارِ مغیلاںبن کر کھٹکتے ہیں اورموقع کی تاک میں رہتے ہیں کہ کب اسلام کے سفینہ کو ڈبویا اورکب ان کے دینی جذبہ کو دفنایا جاسکے ۔ اللہ تعالیٰ نے نیکوکاروں اوربدکاروںکے دو الگ الگ محاذ قائم کردئے ہیں ،نیکی پر بدی کی حکمرانی کبھی نہیں ہوسکتی ،نیکوکارلوگ ہی کامیاب رہیں گے لیکن اپنے غلط اعمال کی پاداش اوراسلام مخالف تحریکات کے باعث وقتی آزمائشیں اورامتحانات بھی ناگزیر ہیں ،سعادت مندیوں کے بیکراں سمندر میں شقاوت کا وجود ناممکن ہے ،اسلام کے شفاف دامن پر کفر اورطاغوت کی چھینٹیں دیرپانہیں ہوسکتیں،چاند پر تھوکنا اورسورج کو پتھر مارنا دانائی کے خلاف ہے ،حق کا گلا گھونٹ کرباطل کو تخت طاؤس سپرد کردینا صالح طبیعتوں کے خلاف ہے اورصالح وسعید لوگ کفر کے مکراورطاغوت کے فریب میں آجائیںناممکن ہے ،سعادت اورشقاوت تو ہر انسان کی تقدیر سے جڑی ہوئی ہیں ،سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے کتنی صفائی کے ساتھ فرمادیا ہے کہ السعید من سعد فی بطن امہ والشقی من شقی فی بطن امہ اس واضح ارشاد اورلافانی صداقت کے بعد اسلام کے خلاف کفر کی جنگ ،مسلمانوں کے خلاف اسلام دشمن تحریکات کا زور اورقوانین اسلام کے خلاف مغربی میڈیاکا شورباعث فکر توہوسکتا ہے لیکن اسلام کے تعلق سے کسی مایوسی کا شکار نہیں ہواجاسکتا ، اسلام میں کثرت سے زیادہ وحدت پر زوردیا گیا ہے ،تکثیراورہجوم کسی مسئلہ کا حل نہ پہلے تھااورنہ آج ہے، لیکن وحدت ،اتفاق ،اتحاد،منشور،صالح جذبہ ،نیک عزائم ،مستحکم ارادے ،شاہین صفت استقامت اورفولادی ذہنیت (جو ایک زندہ مذہب کا خاصہ ہیں ) کی ہر دورمیں اہمیت رہی ہے ۔ اسلام کی شاندار تعلیمات پر چاہے جتنے اعتراضات کئے جائیں ،شریعت ِ محمدی کا کتنا ہی تمسخراڑایا جائے ، قرآ ن کی تحریف کے کتنے ہی منصوبے بنائے جائیں ،انبیاء سابقین کی شان میںکتنی ہی گستاخیاں کی جائیں ، صالحین اورداعیان اسلام کے دامن شرافت پر الزامات اوراتہامات کے کتنے ہی داغ لگائے جائیں اسلام پر کوئی حرف اورشریعت پر کوئی آنچ نہیں آسکتی کیونکہ یہ تو اسلام کی فطرت اوراس کی سرشت میں شامل ہے کہ اس کو دبانے ،مٹانے اورنابود کرنے کے جتنے جتن کئے جائیں گے اتنا ہی اس میں ابھار پیدا ہوگا کفر کی بمباری کے بعد جب بھی بادل چھٹے ،آب وہوا نے رخ بدلا تو اسلام کا سورج اپنی تمام ترحشر سامانیوں اورنظروں کو خیرہ کردینے والی شعاؤں کے ساتھ طلوع ہوکر ’’اتنا ہی ابھرے گا جتناکہ دباؤ گے ‘ ‘ کا پیغام دیتا ہوا یہ چیلنج بھی دے گیا کہ

’’آساں نہیں مٹانا نام ونشاں ہمارا ‘‘

فکر رسا اورچشم بینا افراد پر یہ حقیقت واضح ہوگی کہ خیر القرون سے ہی اسلام کے خلاف باطل تحریکات اٹھتی ، ابھرتی اورمٹتی رہی ہیں ،چنانچہ خلیفۂ اول حضرت صدیق اکبر کے دورِ مسعود سے آج تک ہزاروں اسلام دشمن سازشیں اٹھیں اورنابود ہوگئیں ،کتنے ہی مسیلمہ کذاب ،اسود عنسی،طلیحہ اسدی،سجاح بنت حارث،،مغیرہ بن سعید،بیان بن سمعان،صالح بن طریف برغواطی،اسحاق اخرس،استادسیس خراسانی،علی بن محمدخارجی،مختاربن عبیدثقفی،حمدان بن اشعث قرمطی،علی بن فضل یمنی،عبدالعزیزباسندی،ابوطیب احمدبن حسین،عبدالحق مری، بایزیدروشن جالندھری،میرمحمدحسین مشہدی،زکرویہ بن ماہر،یحیٰ بن زکرویہ،ابوعلی منصور،نویدکامرانی،اصغربن ابوالحسین،رشیدالدین ابوالحشر،محمدبن عبداللہ تومرت،ابن ابی زکریا،محمودواحدگیلانی،عبدالحق بن سبعین، عبداللہ راعی اورعبدالعزیز طرابلسی جیسے ملعون ،کذاب،مفتری اورمدعیان نبوت پیداہوئے اورزمین کا حصہ بن گئے ،حسن بن صباح اورتاتاری فتنے آئے اورپھر خس وخاشاک کی طرح بہہ گئے ،عیسائی اوریہودی لابیوں نے خرمن اسلام کو ہزاروں بار جلاکر خاکسترکرنے کی کوششیںکیں اورخود ہی بھسم ہوگئے، ان واضح سچائیوں کے بعد اللہ تعالیٰ کی حکمت بالغہ ’’وأنتم الأعلون ان کنتم مؤمنین ‘‘کو د ل ودماغ میں راسخ کرکے غوروفکر کی ضرورت ہے کہ ہم کہاںجارہے ہیں ،کہاں کہاں ٹھوکریں لگی ہیں ، ہمارا سا حل اورہماری منزل کہاں ہے اورسفینہ جس پر ہم سوار ہیں کس سمت رواں دواں ہے ۔ ’’ ختم نبوت ‘‘کا موضوع اسلام کے کلیدی اوربنیادی عقائد میں سے ہے ،ہر مسلمان کیلئے ضروری ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی وحدانیت اوررسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ختم نبوت پر کامل یقین رکھے اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل شدہ صحیفہ ٔ ہدایت قرآن کریم کو خاتم الکتاب، آپ صلی اللہ علیہ وسلمکی مسجدکو خاتم المساجد اورآپصلی اللہ علیہ وسلمکی امت کو خاتم الامم جانے مانے اورزبان ودل سے اس کا اقرار کرے ۔ ختم نبوت کا منکر باتفاق امت کافر ہے ،دنیا میں جن بد دماغوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت ورسالت کے بعد اپنے نبی ورسول یا مہدی ومسیح موعود ہونے کے دعاوی کئے وہ سب شیطانی تحریک کے تانے بانے ہیں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مثال تو اس قصر کی سی ہے جس کو بڑی عمدگی کے ساتھ آراستہ وپیراستہ بنایا گیا لیکن اس کے اندر ایک اینٹ کی جگہ چھوڑدی گئی ،لوگ اس خوبصورت محل کو دیکھ کر کاریگروںکی کاریگری کی تعریف کے دوران یہ بھی کہتے ہیں کہ یہ ایک اینٹ بھی کیوںنہ رکھ دی گئی (تاکہ مکان مکمل محسوس ہوتا ) قصرنبوت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات گرامی سے مکمل ہوا ،اورنبوت کے اس عالیشان قصرکی خشت آخرآپ کی ذات بابرکات قرار پائی ، ان مثلی ومثل الانبیاء من قبلی کمثل رجل بنی بیتاً فاحسنہ واجملہ الاموضع لبنۃ من زاویۃ فجعل الناس یطوفون بہ ویعجبون لہ ویقولون ھلا وضعت ھذی اللبنۃ وانا خاتم النبیین ۔(بخاری ،مسلم ،نسائی ،ترمذی ) کنزالعمال اورابن ابی حاتم نے نیزمسند احمد میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے مندرجہ بالا ارشاد گرامی میں یہ الفاظ بھی موجود ہیں ۔فکنت أنا سددت موضع اللبنۃ وختم بی النبیون وختم بی الرسل ۔ حضورصلی اللہ علیہ وسلم کی ختم نبوت پر احادیث شریفہ کا ایک بڑا دفتر کتب احادیث میں موجود ہے اسی طرح ام الکتاب قرآن کریم کی سیکڑوں آیات بھی واضح الفاظ اورمفہوم کے ساتھ موجود ہیں اس لئے ایک ابدی وسرمدی صداقت سے انحراف یا چشم پوشی اورتاویلات وتلبیسات صرف قصورفہم کا نتیجہ ہیں ۔ یوں تو منکرین ختم نبوت کی ایک مستقل تاریخ ہے( اورجن کو صاحبان علم ودانش کو ہمہ وقت پیش نظر رکھنا چاہیے)لیکن انیسویں صدی کے ابتدائی حصہ میں قادیان سے ایک فتنہ پیدا ہوا جس کو ’’فتنۂ قادیانیت ‘‘کہا جاسکتا ہے ۔

کسی بھی تحریک کے پس پشت ا گر ذاتی ومادی منفعت کار فرماہوگی تو وہ تحریک بٹتی ،مٹتی اورسمٹتی چلی جاتی ہے چنانچہ انگریزوں کی خو شامد ،تملق، چاپلوسی ،اقتدارکی ہوس ،سنہرے سکوں کی چمک اوردولت وثروت کے لالچ میں پیدا ہونے والی یہ جماعت اندرونی خلفشار اورانتشارکا شکار ہوکر کئی دھڑوں میں تقسیم ہوگئی ،’’ لڑاؤ اورحکومت کرو ‘‘کا فارمولہ وضع کرنے والی استعماری قوتیں چاہتی بھی یہی ہیں چنانچہ ظہیرالدین اروپی نے مرزاغلام احمد قادیانی کو صاحب شریعت تشریعی نبی ورسول مان کر الگ جماعت  بنالی تو مرزا محمود نے باصلاحِ خود غیر تشریعی نبی ہونے کا نعرۂ مستانہ لگاکر اپناڈیڑھ اینٹ کامحل الگ قائم کرلیاپھر محمد علی لاہوری مسیح موعود اورمہدی موعود کا لیبل لگاکر جدا ہوگیا ،مقصد اورقدر مشترک سب کا یہی ہے کہ مسلمانوں کو اپنے جال میں پھانسا جائے، اسلام کو بدنام کیا جائے اوردوسروںکو اُلو بناکر اپنا الو سیدھا کیاجائے ۔

قادیانیت کی صحیح اورسچی تصویرکوسمجھنے کے لئے قادیانی لٹریچراورقادیانیوں کے تعلقات ومراسم سے بھی واقفیت ضروری ہے،قادیانیوں کا اصل منشاء صرف یہ ہے کہ مادی دولت کے حصول کے لئے اسلام کو’’بلی کابکرابنادیاجائے‘‘چنانچہ صہیونیت کی تعلیم اورصہیونی مقاصدمیں تعاون جس قدرقادیانیوں سے ملا ہے وہ ڈھکی چھپی بات نہیں ہے،دینی فہم رکھنے والوں پربھی یہ بات مخفی نہیں ہے کہ قادیانیت دراصل صہیونیت کاچربہ ہے، پرفیسرخالدشبیرصاحب نے تحریک ختم نبوت کے ترجمان’’نقیب ختم نبوت میں تحریرفرمایاہے کہ ’’اسلامی عقائد میں تحریف اورعیسائیت کی تکذیب کے ساتھ قادیانیوں نے اپنی تحریروں کے ذریعے یہودی مذہبی نظریات کااحیاء کیاہے،قادیانیوں نے یہودیوں کو خوش رکھنے کیلئے جہاں مسلمانوں کی دل آزاری کی ہے وہیں پر انہوں نے یہودیوں کی خوشنودی کی خاطراورصہیونیوں کا قرب حاصل کرنے کیلئے حضرت عیسیٰ علیہ السلام پروہ تمام الزامات عایدکئے جویہودی حضرت عیسیٰ علیہ السلام پرروزاول سے لگاتے چلے آئے ہیں،قادیانیوں نے اس سلسلہ میں حضرت مریم علیہاالسلام کوبھی معاف نہیں کیاجن کے تقدس اوراحترام کی گواہی قرآن کریم سے بھی ملتی ہے،مرزاقادیانی نے یہودیوں کی تقلیدکرتے ہوئے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے مرتبے کو کم کرنے کیلئے ایڑی چوٹی کا زورلگایااوراپنی شان کو حضرت عیسیٰ علیہ اسلام سے بڑھانے کیلئے زمین وآسمان کے قلابے ملادئے،ان تمام جسارتوں کامقصدصرف اورصرف یہ تھا کہ صہیونیت کا قرب حاصل ہو،ان کا اعتمادحاصل کرکے ان کی مالی معاونت سے قادیانیت کے فروغ کی راہیں تلاش کی جائیں اوربلاداسلامیہ میں یہودیوں کی سازشوں کوکامیاب بنانے کیلئے کام کیا جائے۔ علامہ اقبال سمیت عرب دنیاکے اسلامی اسکالروں کا بھی یہی خیال ہے چنانچہ عباس محمودالعقاد،شیخ ابوزہرہ،شیخ محب الدین الخطیب،شیخ محمدالمدنی جیسے بالغ نظرعلماء یہی کہتے ہیں کہ قادیانیت اورصہیونیت ایک ہی سکے کے دورخ ہیں ،یہ تحریک استعماریت کی ایک شاخ ہے‘‘(نقیب ختم نبوت) یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اسلام کو جتنا نقصان مسلمانوں سے پہنچا ہے اتنا شاید کسی قوم سے نہیں پہنچا ، شیطان ملعون نے مسلمانوں کی ایک بڑی جماعت کو مختلف تاویلات وتلبیسات کے ذریعہ راہِ مستقیم سے بہکانے میں پوری طاقت جھونک دی کیونکہ شیطان نے خدا تعالیٰ سے بنی نوع انسان کو بہکانے اورراہِ راست سے ہٹانے کی اجازت لے لی تھی اوراللہ تعالیٰ سے عرض کیا تھا ’’قال رب فانظرنی الی یوم یبعثون‘‘اورشیطان لعین کی اس درخواست پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا تھا ’’فانک من المنظرین الی یوم الوقت المعلوم‘‘ شیطان نے پھر اپنے عزائم اورارادوں کو ظاہر کرتے ہوئے عرض کیا ’’قال فبعزتک لاغوینھم اجمعین، الا عبادک منھم المخلصین ‘‘ پھر اللہ تعالیٰ نے شیطان اوراس کی ذریت کو دھمکی آمیزلہجے میں فرمایا تھا ’’قال فالحق والحق اقول ۔لأملئن جھنم منک وممن تبعک منھم اجمعین ‘‘(پ ۲۳،ص ) مذکورہ قرآنی شہادت کی روشنی میں یہ حقیقت واضح ہوجاتی ہے کہ شیطان تا قیامت اللہ کے نیک بندوں کو بہکاتا،پھسلاتا اورراہِ خدا سے درماندہ کرنے کی کوشش کرتارہے گا اسی طرح یہ بھی معلوم ہوا کہ اللہ کے نیک بندے شیطانی مشن سے محفوظ ومامون رہیںگے اورجو لوگ شیطانی تحریک کا حصہ بن جائیں گے تو ان ہی لوگوں سے جہنم کو بھردیا جائے گا ۔ موجودہ دورکی اسلام دشمن تحریکات ،کفار ویہود کی نت نئی سازشیں،ہنود کی اسلام دشمن سرگرمیاں،عیسائی تخریب کاریاں ،اپنوں کی دل آزاریاں،باطل منصوبہ بندیاں ،مسلمانوں کو اسلام سے بدظن وبرگشتہ کرنے کی حکمت عملی ،محض دولت کے حصول ،اقتدار کے لالچ ،جاہ کے عفریت ،شہرت کے فریب اوراَنا کی وقتی تسکین کیلئے غیرت وحمیت کے جنازے نکالنے کا ایک نہ ختم ہونے والا تسلسل وجود میں آچکا ہے، ذرا ذرا سی بات پر اپنی جماعتیں اورجمعیتیں بنانے کا زور برساتی مینڈکوں کے شورکی طرح بڑھ رہا ہے اسلام کے نام پر اسلام کو ختم کرنے کی لاتعداد جمعیتیںاورتحریکات وجود میں آچکی ہیں ،کچھ لوگ فروعات کو لے کر میدان میں کو د پڑے ہیں ، کچھ نے مسائل کے بازار میں فضائل کی دوکانیں چمکانی شروع کردی ہیں ،وہ اقوام جو ایک دوسرے کی ازلی دشمن تھیں (اوراندرخانہ اب بھی ہیں)لیکن اسلام اورمسلمانوں کو زیر کرنے کیلئے ایک ہوچکی ہیں ،عیسائی کبھی یہودیوں کے خیر خواہ نہیں ہوسکتے ،یہودی ہمیشہ عیسائیوں کے بد خواہ رہیں گے یہ قرآنی شہادتیں ہیں لیکن آج یہ دونوں اقوام سر میں سر ملاکر پرانی رنجشیںپس پشت ڈال کر متحد ہوکر اسلام کے خلاف صف آرا ہیں اورپس پردہ یہ منصوبے بھیبناتی رہی ہیں کہ اسلام کے قلعے میں عقب سے نقب لگانے کے لئے گھر کے بھیدی اورمکان کے مکین سود مند ثابت ہوں گے اس لئے مسلمانوں ہی کے طبقہ سے بعض بے ضمیر افراد اغیارکی سازشوں کا شکار ہوکر اسلام کو نقصان پہنچاتے رہے ہیں ،شاہ فیصلؒمرحوم کے قاتل ،جمال وکمال کے فرسودہ وژولیدہ افکار ،جنرل ضیاء کی موت ،شمالی اتحاد کے سیاہ کارنامے ،کردوں کے باغیانہ تیور،الفتح کے جانبازوں کی درندگیاں، دیریسین کا مقتل ،سقوط قرطبہ وغرناطہ ،افغانستان ،مصر،لبنان ،اردن،سوڈان اورفلسطین میں تباہ کاریاں،جعفروصادق کی ضمیرفروشیاں،مشرقی پاکستان کی مغربی پاکستان سے کشیدگیاں،افریقی ممالک میں اسلامی نسل کے خاتمے کی سازشیںاورمختلف اسلامی ممالک کے حکمرانوں کی عیش پرستیاں روشن دل اورروشن فکر رکھنے والوں پر مخفی نہیں ہیں اورآج اسلام کو حقیقی معنوں میں اپنوں ہی کی بے توجہی وغفلت سے نقصان پہنچ رہا ہے ۔ بر صغیر میں باطل تحریکات کا زیادہ ہی زور ہے ،وجہ یہ ہے کہ اسلام کی اصلی تصویراورسچی شبیہ اگر کسی جگہ مل سکتی ہے تو وہ بر صغیر ہے(۱)باطل اَدیان ومذاہب نہیں چاہتے کہ اسلام اپنے صحیح خد وخال کے ساتھ اُبھر سکے ، اسی لئے ڈالرویورواورسنہرے سکوں کے لالچ دے کر مسلمانوں کی صفوں میں دراڑڈالنے کی مذموم کوششیں یہاں پہلے کی طرح اب بھی نسبۃًجاری ہیں ۔ ختم نبوت کا منکر کوئی بھی ہواورکہیں بھی ہو کافر ہے ،اس پر علماء امت کا اتفاق ہے لیکن محض یہ تصورکرلینا کہ ختم نبوت کے منکرین صرف قادیانی ہیں یہ غلط ہے ،موجود ہ دورمیں قادیانیوں کے علاوہ بھی ایک ایسا طبقہ ہے جو منصوبہ بندی اورپوری رازداری کے ساتھ ختم نبوت کا منکر ہے چنانچہ کتاب ’’الحکومۃ الاسلامیۃ ‘‘میں ہے ۔ ’’ہمارے مذہب کی ضروریات میں داخل ہے کہ کوئی فرشتہ اوررسول ہمارے بارہ اماموں کی عظمت کا مقابلہ نہیں کرسکتا ۔‘‘ ( الحکومۃ الاسلامیۃ ص :۴۰) کتاب حکومت اسلامیہ میں ایک دوسری جگہ لکھا ہے کہ ’’تمام انبیاء بشمول حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم دنیا میں عدل وانصاف کے اصولوں کی تعلیم دینے اور مساوات قائم کرنے میں ناکام رہے ۔ ‘‘ (تعمیرحیات لکھنؤ۱۰؍اگست ۱۹۸۰ء ) مذکورہ دونوں اقتباسات کے قائل شیعہ مذہب کے سرخیل خمینی صاحب ہیں اورذیل میں انہیں کے پیروکارملا باقرمجلسی کی ذہنیت ملاحظہ فرمائیں ۔ ’’جب بارہواں امام ظاہر ہوگا تو سرسے پاؤں تک ننگا ہوگا اوردنیا اس کے ہاتھ پر بیعت کرے گی سب سے پہلے جو شخص اس کے ہاتھ پر بیعت کرے گا وہ محمد رسول اللہ ہوں گے (معاذ اللہ )(حق الیقین ص :۲/۲۰۷) اسی طرح ایک اورشیعہ مصنف محمد بن مسعود عیاشی کے قلم سے یہ غلیظ عبارت نکلتی ہے ۔ ’’حضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ظاہر وباطن میں تضاد تھا ‘‘ (تفسیر عیاشی ۲/۱۰۱)

ایک اور کتاب ’’حیات القلوب ‘‘کی یہ عبارت بھی پڑھتے چلیں ’’جس پیغمبر نے ولایت علی ؓ کے اقرار میں توقف کیا اسے اللہ نے عذاب میں مبتلا کردیا ‘‘ (حیات القلوب مترجم اردو ،۱/۵۶۸) شیعی مصنفین نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات گرامی پر کیچڑ اچھالنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی چنانچہ صرف ایک پیراگراف اتمام حجت کے لئے نقل کرتا ہوں۔ ’’پیغمبر حضرت علی ؓ کے درکے بھکاری ہیں ‘‘۔( خلعت تبرائیہ ،۱/۱۰۲) یہ چند مثالیں تو اسلام کے نام پر مسلمانوں کو دھوکہ دینے والے ایک فرقہ کی ہیں لیکن اگرتحقیق کی جائے تو دیگر فرقوں میں بھی ختم نبوت کے منکرین اورسرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات گرامی پر طعن وتشنیع کرنے والے مل جائیںگے جنہوں نے اپنے چہروں پر اسلام کاماسک اوراپنی پیشانیوں پر ’’مسلمانی ‘‘کا لیبل لگارکھا ہوگا لیکن ا ن کے کردار وگفتار کی تضاد بیانیاں ،ضمیر کی بے حسی ،قلم کی بے بسی اورفکر ونظر کے جمود وتعطل سے صاحبان فکر ودانش حقائق کا ادراک کرسکتے ہیں ،عیاریوں اورمکاریوں کے نقاب اٹھاکر سیاہ کاریوں کے چہرے دیکھ سکتے ہیں اوربآسانی نفاق وریا کی قلعی کھل سکتی ہے ۔ مظاہر علوم سہارنپورجواسلام کا قدیم اورمستحکم قلعہ ہے ،دینی تعلیم کا عظیم مرکز اورسلوک وتصوف کا منبع وسرچشمہ ہے اس آسمان علم وفضل کے بادلوں نے گرجنے سے زیادہ برسنے کو ترجیح دی ہے ،خلوص وللہیت اور استغناء وبے نیازی ان کی گھٹی میں سمائی رہی ، انہوں نے نام سے زیادہ کام پر اپنی توجہات مرکوزکیں اورپوری دنیا ان کے اخلاص کی خوشبو سے معطر ومعنبرہوگئی ۔ سادگی وقناعت پسندی اوراستغنائی شان کو حرز جان بنانے کے ساتھ ساتھ تربیتی ،تعلیمی ،اخلاقی ،روحانی ، دعوتی ،تبلیغی اورہمہ جہت خدمات بھی انجام دیتے رہے ،باطل تحریکات کا مقابلہ بے سروسامانی کے عالم میں کیا اورجب کفروارتدادکی آندھیوں نے زورپکڑلیا ، نت نئی سازشوں نے خطرناک شکلیں اختیار کرلیں ،شدھی سنگھٹن اورآریہ سماج نے اپنی تحریک کے تمام دروازے وا کردئے اورمسلمانوں کی ایک بڑی جماعت ارتداد کی راہوں پر چل پڑی تو دعوتی کام میں تیزی پیدا کرنے کے لئے باقاعدہ انجمن ہدایت الرشید قائم فرمائی،چنانچہ مدرسہ کی سالانہ رودادبابت ۱۳۴۹ھ میں اس وقت کا اسلام دشمن ماحول،کفریہ سازشوں،ملحدانہ ومشرکانہ سرگرمیوں اورعیسائی وشدھی منصوبہ بندیوں کوان الفاظ میں بیان کیاگیاہے۔ ’’ناظرین کرام!دشمنان اسلام کی موجودہ سرگرمیوں نے مسلمانوں کی ایذارسانی میں کوئی دقیقہ باقی نہیں رکھا ہے،اگرایک طرف عیسائیت کا بڑھتاہواسیلاب اورشدھی وغیرہ کی فتنہ خیزآندھی ہے تودوسری طرف مرزائیت وشیعیت ودیگرباطل پرستوں کاشررانگیزسیلاب ہے،تمام مخالفین اسلام کھلم کھلاشب وروزاسی فکرمیں اپنی تمام قوت بے دریغ صرف کررہے ہیں کہ اسلام کوصرف ہندوستان سے نہیں بلکہ صفحۂ دنیاسے نیست ونابودکردیاجائے،چنانچہ اس کام کیلئے عیسائیوں کا عالم گیرمشن ہرشہرمیں قائم ہے،جس نے صدہامسلمانوں کواپنی زرپاشیوں کاسبزباغ دکھاکرآغوش اسلام سے نکال لیاہے،علیٰ ہذالقیاس آریوں بھارتیہ ہندوشدھی سبھاکاہیڈآفس دہلی میں قائم ہے،جس کی شاخیں تمام ہندوستان میں پھیلی ہوئی ہیں،جن کا فرض منصبی یہی ہے کہ مسلمانوں کومرتدبناکراسلام کومٹادیاجائے۔ شدھی سماچاردہلی کے ماہ مئی ۱۹۳۰ء کے پرچہ میں ۱۹۲۹ء کے مرتدین کی جوفہرست درج ہے اس سے معلوم ہوتاہے کہ شدھی سبھا دہلی اوراس کی دیگرشاخوں نے ۴۰۱۷مسلمانوں کومرتدبنایاہے،خداکرے کہ یہ غلط ہو۔اس سلسلہ میں شدھی سبھاکو۱۹۲۹ء میں جوآمدنی ہوئی وہ بائیس ہزارایک سوچون روپے آٹھ آنہ ہے،اگرچہ اس ہوش رباخبرکوسن کرہرمسلمان اپنی غیرت مذہبی سے بے چین نظرآئے گالیکن واقعات بتارہے ہیں کہ مسلمانوں کی عملی حا لت سے جموددورہونے کی امیدکم ہے ،بہرکیف اب ہر مسلمان کا فرض ہے کہ اپنی مذہبی ذمہ داری کو محسوس کرتے ہوئے حسب استطاعت آتشِ ارتداد کو فروکرنے میں اورمسلمانوں کے اخلاقی ومذہبی اصلاح میں مردانہ وار نکل کر علم جدو جہد بلند کرے اورتحریر وتقریر ودیگر وسائل سے ان فتنوں کا سر کچل دے اوراگر آ پ اپنی مجبوریوں سے ایسانہیں کرسکتے ہیں تو ایسی انجمنوں کی مالی امداد آپ پر فرض ہے جو بڑی تندہی سے تبلیغی خدمات کو انجام دے رہی ہیں ۔۔

 انجمن ہدایت الرشیدکے قیام کی غرض وغایت حضرت مولانا نسیم احمد غازی مظاہر ی مدظلہ کے گہربا ر قلم سے آپ بھی پڑھئے ۔

’’ مظاہرعلوم سہارنپورکا قیام دین کی حفاظت اوربقا ء کیلئے ایسے ہولناک وقت میں ہوا کہ ہندوستان میں انگریزی حکومت اپنے ظلم واستبدادکی پوری قوت کے ساتھ قائم ہوچکی تھی اور اسلام ومسلمین خطرات کی ہلاکت خیزبھنورمیں پھنس چکے تھے ،حکومت کا فرہ کی حمایت وتائیدکے نام سے اسلام اورمسلمانوں کے خلاف مسلسل سازشیںتیار ہورہی تھیں اورہر طرف سے باطل پرست اپنی تقریروں،تحریروںاورتدبیروںسے اسلام پر حملہ آور ہورہے تھے ،اس لئے اکابر مظاہر علوم باطل پرستوں اورہواوہوس کے متوالوں کے مقابلہ میں روزِ اول ہی سے بر سرپیکار ونبر د آزما تھے اورہر قسم کی گمراہیوںکے دفاع کی تیاریاں کرتے رہتے تھے ،یہاں طلبہ ٔ علوم دینیہ کو وعظ وتقریر،دعوت وتبلیغ اورمباحثہ ومناظرہ سکھانے کا خاص اہتمام کیا جاتا رہا ہے۔(حیات اسعد) چنانچہ طلبۂ کرام پورے ذوق وانہماک سے علمی استعدادبہم پہنچانے کے ساتھ ساتھ اہل باطل سے تحریری وتقریری جنگ اورمقابلہ کیلئے خوب تیاریاں کرتے اورموقعہ پراپنی قوت ِ مطالعہ وحسنِ تربیت کے جوہر دکھلاتے تھے ……۱۳۰۴ھ میں سہارنپورمیں ہونے والے ایک مناظرے کی تفصیل مدرسہ کی روداد میں ان الفاظ ذیل کے ساتھ شائع ہوئی کہ ’’اس علم کا نفع اہل شہر سہارنپورکو بخوبی معلوم ہوگیا ہے کیونکہ جو پارسال مباحثہ طلبہ مدرسہ کا معاندین ومخالفین کے مقابلہ میں ہوا تھا ہر فرد بشر کو اظہر من الشمس ہے کہ طلبہ مدرسہ ہذانے کیسے کیسے جو ابات مخالفین کو دندانِ شکن دئے اوربارہا گفتگومیں تمام اہل ادیان باطلہ کو بند کردیا جس کے باعث مخالفین تنگ آئے اوراپنا وعظ موقوف کردیا اوراعتراضاتِ اہل اسلام کو تسلیم کرلیا اورجب کہ حقانیت اسلام واہل اسلام کی اوربطلان مذاہب معاندین کا سب کو ظاہر ہوگیا تو ایک جماعت کی جماعت اسلام سے مشرف ہوئی ،یہ نفع کس قدر سہارنپورکو پہنچا کہ جومقصود علم سے اورمدرسہ سے ہے وہ مقصد اس مدرسہ سے …ہویداہوا ‘‘۔ (رودادمدرسہ ۱۳۰۵ھ ص ۱۱) انجمن کے قیام اورطریق کارپر روشنی ڈالتے ہوئے حضرت مولانانسیم احمدغازی مظاہری رقم طراز ہیں ۔ ’’اس کے بعد روز بروز حالات میں شدت آتی گئی اوراس سلسلہ کی اہمیت میں اضافہ ہوتا گیا ایک عرصہ کے بعد اربابِ مدرسہ نے محسوس کیا کہ اب اسی محنت پر اکتفاء مناسب نہیں جب تک خصوصی نظام کے تحت تربیت ونگہداشت کے ساتھ وعظ ومناظرہ میں مکمل مہارت وبصیرت رکھنے والے افراد وجود میںنہ آئیں گے اس وقت تک نت نئی گمراہیوں کے میدانوں میںنبرد آزمائی اورکامیاب جنگ لڑنا مشکل ہے ،ان عوامل ومحرکات کے باعث ۲۲؍جمادی الاولیٰ ۱۳۳۰ھ مطابق ۱۹۱۳ء میں ’’انجمن ہدایت الرشید‘‘کا قیام عمل میں آیا یہ وہ زمانہ ہے کہ ہندوستان میں ایک زبردست ہنگامہ بپا تھا ،آریہ سماج اورشدھی سنگٹھن کی تحریکیںاہل اسلام کے دین وایمان پر بھرپورحملے کررہی تھیں ،طاقت ،قوت ، دولت اورفریب کاریو ں سے سیدھے سادے مسلمانوں کو کفروارتداد کے غار میں دھکیل رہی تھیں ، دردمندانِ ملت وغیور پرستارانِ توحید اپنی اپنی صلاحیت ووسعت کے مطابق اس کی روک تھام میں مصروف تھے ،علمائے حقانی ومشائخ ربانی مواعظ وتقریرات اورمناظروں سے دفاع کررہے تھے ،دینی ادارے اورمدارس اسلامیہ کے اکابروذمہ دار حضرات علمی اورتحقیقی اندازسے متأثرہ علاقوں میں وفود وجماعتیں بھیج کر اپنی ذمہ داریوں کو بروئے کار لارہے تھے ، جمعیۃ العلماء ہند ودارالعلوم دیوبند وخانقاہِ تھانہ بھون کے اکابرنے اپنی تمام تر مساعی وتوجہات سے اس خطرناک سیلاب کو روکا ، اس موقع پر مظاہر علوم نے بھی اپنے سپوتوںکو میدان میں اتار دیا اورانہوں نے بھرپورمحنت وجدوجہد سے ان فتنوںکا ڈٹ کر مقابلہ کیا ،وعظ وتقریر،دعوت وتبلیغ مباحثوںاورمناظروں کے ذریعہ اورتصنیفات وتالیفات نیز مکاتب ومدارس قائم کرکے ایک نئی انقلابی روح پھونک دی اوران باطل تحریکات کوفنا کے گھاٹ اتاردیا۔ امام ربانی حضرت گنگوہی ؒکے نام نامی سے برکت حاصل کرتے ہوئے اس انجمن کا نام ’’انجمن ہدایت الرشید ‘‘ تجویز کیا گیا ۔ مژدہ اے دل کہ مسیحا نفسے می آید کہ زِنفاس خوشش بوئے کسے می آید شیخ الاسلام حضرت مولانا حافظ سید عبد اللطیف صاحبؒ ناظم اعلیٰ مظاہر علوم سہارنپوراس کے صدر تھے ۔ شیخ المشائخ حضرت مولانا عبد الرحمن صاحب کامل پوریؒ ناظم ،حجۃ الاسلام حضرت مولانا الشاہ محمد اسعد اللہ صاحب ؒ اوررئیس الواعظین حضرت مولانا محمد زکریاصاحب قدوسی گنگوہیؒ نائب ناظم تھے ،تحریری واشاعتی امورکی نگرانی اورسالانہ کوائف کی ترتیب ،رئیس المناظرین حضرت مولانا نورمحمد خاں ؒمناظر مدرسہ کے ذمہ تھی ۔‘‘ (حیات ِ اسعد ص ۲۷۹) وعظ وتقریر میں حضرت مولانا محمد زکریا قدوسی ؒ ،حضرت مولانا احمد علی اغوان پوری ؒ،حضرت مولانا امیر احمد کاندھلویؒ ، حضرت مولانا ظریف احمد پورقاضوی ؒاورمفتی ٔ اعظم حضرت مفتی سعید احمد اجراڑوی ؒ نے ناقابل فراموش کارنامے انجام دئے ۔ اس وقت کی اسلام دشمن سازشوں،کفرکی دندناہٹ،مسلمانوں کے جمودوتعطل،ان کی غفلت شعاری،ان کے ایمانی سوزوسازکی ٹھنڈک اورجہل وجہالت کامختصرنقشہ نیزانجمن ہدایت الرشیدکی خدمات اوراغراض ومقاصدپرمشتمل ایک مختصرکتابچہ میں یوں منظرکشی کی گئی ہے۔ ’’آج کل شدھی وسنگھٹن کی موجودہ سرگرمیاں مسلمانوں کی جان ومال سے گزرکر ان کے ایمان واسلام پر نہایت شرمناک حملے کررہی ہیں اور ارتداد کے عالم گیر فتنہ نے مسلمانوں کے جذبات ملیہ کو ایسا مجروح کیا ہے کہ جس کا اندمال یقیناً ناممکن ہے بالخصوص شررانگیزوگمراہ کن فرقہ آریہ سماج نے شدھی وسنگٹھن کے ماتحت مسلمانوں اور ان کے ہادی برحق صلی اللہ علیہ وسلم پر سینکڑوں بیجاالزامات قائم کرکے سادہ لوح وجاہل مسلمانوں کو نوراسلام سے نکال کر ظلمت کفرمیں ڈالنے کی کوشش کی ،مگرافسوس کہ مسلمانوں کی غفلت شعاری وبے توجہی میں ذرہ برابر فرق نہیں آیا ،ہاں البتہ علماء اسلام کی بار بار چیخ وپکارنے اس قدرضروراحساس پیداکردیا کہ ایک مرتبہ فوری جوش کے ساتھ تمام ملک میں سینکڑوں انجمنیں اورمجلسیں عرصۂ شہودمیں آئیں اورخوب سرگرمیاں دکھلائیںمگرافسوس کہ چندروزبعدوہ بھی تغافل مسلم کی شکارہوگئیں جن میں سے بعض اب تک نیم جاں مسلمانوں کی اولوالعزمی وکرم نوازی کی طرف چشم برراہ ہیں۔ انھیں میں ایک انجمن ’’ہدایت الرشید‘‘متعلقہ مدرسہ مظاہرعلوم ہے جس کے مفیدکارنامے اورتبلیغ اسلام کی بیش بہاخدمات نے اس کو اپنے ابنائے جنس میں ممتازومشہورکررکھاہے،راجپوتانہ کے آتش ارتدادکو فروکرنے کے لئے اس انجمن کی جدوجہد،جانفشانیاںکیسی مقبول بارگاہ ہوئیں کہ اس کفرستان میں سینکڑوں کفارخداندقدوس کومعبودازلی تسلیم کرتے ہوئے سچے اور پکے مسلمان بن گئے اور ان کے بچوں وبچیوں کے لئے اکثر گاؤں میں مدارس ومکاتب اسلام قائم کئے گئے ‘‘۔ (الذکرالسعیدفی احوال الرشیدص ۲) مقاصد اوراصول وقواعد ’’انجمن ہدایت الرشید ‘‘اپنے مقاصد کوبروئے کارلانے کے لئے ان مندرجہ ذیل اصولوں پر عمل کرتی تھی (۱)مذہب اسلام کے پاک اورسچے اصول کو تشنگانِ ہدایت کے سامنے پیش کرنا (۲)مسائل ِ اعتقادی کی صحیح اورسادی شر ح کرنا اورشکوک وشبہات کا تسلی بخش ازالہ کرنا ۔(۳)مذاہب باطلہ کے مسائل واعتقادات جو عقل سلیم وفطرت ِ انسانی کے بالکل خلاف ہیں ،ان کی حقیقت مہذب الفاظ میں واضح کرنا اوربتلانا کہ حقیقی نجات کا حصول صرف اس طرح ممکن ہے کہ مذہب اسلام کو شمع راہ بنایا جائے نیز یہ کہ اسلام کی آغوش ہر طالب حق کے لئے آغوش ِ رحمت ہے ہر مذہب وملت اورہر قوم کا آدمی اس میں داخل ہوکر پچھلے تمام گناہوں سے پاک وصاف ہوجاتا ہے ۔(۴)دین اسلام کی تحریراً وتقریراً اشاعت کرنا (۵)مسلمانوں کے حقوق کی حفاظت وخدمت کرنا اوران کو باہمی اخوت کا پیغام دینا (۶)ملک وملت کیلئے مقررین ومناظرین تیار کرنا ۔(رودادِ مدرسہ بابت ۱۳۴۹ھ ص ۳۰۵ ) انجمن کی خدمات اس مبارک انجمن کی آغوشِ تربیت میں ہزارہا طلبہ وعلماء نے تربیت پاکر وعظ وتقریراورمناظرہ میں کمال حاصل کیا اورانہوں نے ملک کے گوشہ گوشہ کو اپنے مواعظ سے گرمایا ، مناظروںاور مباحثوں کے ذریعہ اہل باطل کے چھکے چھڑاتے رہے ۔یہ انجمن آج بھی زندہ وتابندہ ہے ۔ اس انجمن کے تربیت یافتہ حضرات نے ،آریہ سماج کے کارکنوں ،قادیانیو ں ،رضاخانیوں ،غیر مقلدوں وغیرہ سے بکثرت مناظرے کئے ہیں جن مبلغین ومناظرین کو انجمن کی جانب سے بھیجا گیا ،ان کی کارکردگی کا تفصیلی ریکارڈ مدرسہ میں محفوظ رکھا جاتا تھا اورمناظروں کی رپورٹیںملک کے متعدد اخبارات میں شائع ہوتی تھیں۔ ذیل میںعلمائے مظاہر علوم کے مناظروں کی رودادمیں سے صرف ایک مناظرہ کا تذکرہ بطورنمونہ پیش کیا جارہا ہے تاکہ قارئین کرام ’’لسانی جہاد ‘‘کے اس پہلو سے بھی واقف ہوجائیں ۔ کریم پورضلع جالندھر کامناظرہ :مؤرخہ ۲۶؍۲۷؍ذی الحجہ ۱۳۴۸ھ جب قادیانیوں کو اہل حق کی وجہ سے شہروں اورباخبر حلقوںمیںاپنے مذہب کی اشاعت دشوار تر ہوگئی تو مضافات کو گمراہ کرنا شروع کیا چنانچہ موضع مذکورمیں بھی کوشش کی ،وہاں کے سیدھے سادے مسلمانوںنے حسب استطاعت مدافعت کی لیکن مناظرہ کی شکل پیدا ہوگئی اورمرزائیوں نے ان لوگوں سے ایک ناجائز شرائط نامہ لکھوایا جس کی ایک شرط یہ بھی تھی کہ اسلامی مناظرکو مولوی فاضل ہونا ضروری ہے لیکن الحمد للہ فرقہ ٔ حقہ میں اس کی بھی فراوانی ہے ۔ چنانچہ حسب الطلب مولانا رحمت علی صاحب لدھیانویؒ ،جناب مولانا عبد الرحمن صاحب صدر مدرس مدرسہ ومولانا محمد اسعد اللہ صاحب ؒ(مولوی فاضل )مدرس مدرسہ مظاہر علوم سہارنپورعازم سفرنوا شہر اورمولوی نورمحمد خانصاحب ؒ مبلغ مدرسہ ہذا روانہ ہوئے ۔مضمون مناظرہ دو تجویز ہوئے ۔اول ؔ صدق مرزا ثانی ؔ حیات مسیح ؑ ۔ اول الذکر میں قادیانیوںکے مایہ ناز مناظرمولوی اللہ دتا صاحب جالندھری مدعی اورمولانا محمد اسعد اللہ ؒ مدرس مدرسہ معترض تھے ،مولانا نے مرزا صاحب کے کئی درجن سفید جھوٹ ودیگرآیات قرآنیہ کوپیش کرکے خرمن مرزائیت کو خاکسترکردیا ،اس پر مرزائی مناظر کی پراگندگی قابل دید تھی ۔ دوسرے روز مولانا نے مدعی ہوکر آیاتِ قرآنیہ واحادیث نبویہ کی روشنی میںحیات مسیح علیہ السلام کو کچھ اس انداز سے پیش کیا کہ مرزائی مناظر کی کچھ بنائے نہ بنی ،جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ۱۳؍مرزائیوں نے مجمع عام میں توبہ کی اوربعد میں بھی یہ سلسلہ جاری رہا ۔ (رودادمظاہر علوم سہارنپور ۱۳۴۹ھ ص :۳۱۴) اکابر علماء مظاہر علوم کے مذکورہ کارناموں ،خدمات ،محنت ،لگن اورخلوص واخلاص کے ساتھ بے لوث وبے غرض جذبہ کے باعث اپنی خدمات کی کبھی داد وتحسین وصول نہیں کی جو کام کیا اللہ کی رضا وخوشنودی کے حصول اوردین حنیف کے عروج وفروغ کے جذبہ کے تحت کیا ،انجمن ہدایت الرشید کے ہمہ جہت کاموں سے مطمئن ہوکر نہیں بیٹھے بلکہ مزید خدمت کیلئے غوروفکر اورلائحۂ عمل مرتب کرتے رہے ،تدریس کے ساتھ تحریر اورمناظرہ وتقریرپر اپنی توجہات مبذول کیں ،رجال سازی پر دھیان دے کر افراد وشخصیات کی پوری جماعت تیار کردی ،خود انجمن کے پلیٹ فارم سے الحاد وزندقہ ،کفر وارتداد ،بدعات ورسومات ،شیعیت وغیر مقلدیت ،مودودیت وبریلویت غرض ہر غلط فرقہ ،غلط نظریہ اورغلط طریقے کی مخالفت کی ،تحریر وتقریر،پندو نصائح ،مناظرہ ومباہلہ تمام طریقے اختیار کرکے خر من کفر پر شعلہ جوالہ بن کر گرے اورتمام غلط عقائد ونظریات کی تردید قرآن وسنت کی روشنی میں اس انداز میں کی کہ باطل انگشت بدنداںرہ گیا ،ان تمام خدمات اورکارناموں کو اگر یکجا کیا جائے تو پوری کتاب تیار ہوجائے گی اوران کا احاطہ ان مختصرصفحات میںناممکن ہے لیکن ختم نبوت کے ثبوت اورمنکرین ختم نبوت کے رد میں علماء مظاہر علوم کی چند تصنیفات محض اس لئے لکھی جارہی ہیں تاکہ قارئین کرام سمجھ سکیں کہ قوم کی امانت کو اکابر علماء مظاہرکس اندازمیں صرف کرتے ہیں اوریہا ں خوشہ چینی کرنے والوں کے دلوں میں اسلام کی حفاظت وصیانت کا صالح جذبہ کس طرح فراواں ہوتا ہے ۔ ایک صاحب نے ۱۳۳۶ھ م ۱۹۱۸ء کو مظاہرعلوم سہارنپورکے دارالافتاء سے ایک سوال مرزا غلام احمدقادیانی کے فاسدخیالات،مضحکہ خیزتاویلات، افسوسناک دعاوی اورشیطانی الہاما ت کے متعلق پوچھاتواکابرمظاہرنے پہلی فرصت میں اس سوال درج ذیل جواب تحریرفرمایا: ’’سوال مذکورالصدرمیں اکثرایسے امور ذکرکئے گئے ہیں جومسلمانوں کے نزدیک متفق علیہ ناجائزاورموجب کفروارتدادقائل ہیں،پس جوشخص ایساعقیدہ رکھتاہو اوران اقوال کا مصداق ہوتواس کے کفرمیں کچھ کلام نہیں ،وہ شرعاً مرتدہوگاجس کے ساتھ نکاح جائزنہیںاورجوپہلے سے بعدنکاح قادیانی عقائدہوگیااس کا نکاح فوراً شرعاًباطل ہوجائے گا،قضاء قاضی اورحکم حاکم کی بھی شرعاً اس میں ضرورت نہیں،ارتداحدہما(الزوجین)فسخ عاجل بلاقضائ(شامی جلدثانی ص ۴۲۵)لایجوزان یتزوج مسلمۃ الخ،یحرم ذبیحۃ وصیدہ بالکلب،والبازی والرمی(عالمگیری ص ۸۷۷) حررہ:عنایت الٰہی مہتمم مدرسہ مظاہرالعلوم سہارنپور ۱۹؍اپریل ۱۹۱۸ء قادیانی سلسلہ میں مظاہرعلوم سہارنپورکایہ پہلااجتماعی فتویٰ تھا، حالات کی نزاکت اورقادیانی دجل وفریب کے پیش نظر درج ذیل اکابرمظاہرنے اس پردستخط ثبت فرمائے۔(یہ فتویٰ دارالافتاء کے ریکارڈکے علاوہ ’’القول الصحیح فی مکائد المسیح‘‘’’مباحثہ رنگون‘‘ اور’’قادیانیت کی پہچان‘‘ نامی کتابوں میں بھی دیکھاجاسکتاہے) حضرت مولاناخلیل احمدمحدث سہارنپوریؒ،حضرت مولاناثابت علیؒ،حضرت مولاناعبدالرحمن کامل پوریؒ، حضرت مولاناعبداللطیف پورقاضویؒ،حضرت مولاناعبدالوحیدسنبھلیؒ،حضرت مولاناممتازمیرٹھیؒ،حضرت مولانا منظوراحمدخا ںؒ، حضرت مولانامحمدادریسؒ،حضرت مولانابدرعالم میرٹھیؒ، حضرت مولاناعبدا لکریم نوگانویؒ،حضرت مولانافصیح الدین سہارنپوریؒ،حضرت مولانانورمحمدخانؒ، حضرت مولاناظریف احمدمظفرنگریؒوغیرہ۔

انجمن ہدایت الرشید کے قیام کے شروع دنوں میں جب ختم نبوت کے اثبات اورقادیانیت کی تردیدمیں انجمن کے فعال ومتحرک علماء شمشیربرہنہ تھے اسی زمانہ میں ’’خدائی فیصلہ ‘‘کے نام سے انجمن ہدایت الرشیدنے ایک اشتہارقادیانی دجل وفریب کے تعلق سے شائع کیا ، یہ اشتہارقادیانیوں کے خرمن پر برق بے اماں بن کر گراتو ایم قاسم علی قادیانی نامی ایک مرزائی نے چونسٹھ صفحات پر مشتمل ایک مستقل کتابچہ’’بلعم ثانی ‘‘کے نام سے ’’خدائی فیصلہ ‘‘کے رد میں شائع کیا ،بلعم ثانی کی زبان اس قدر جارحانہ ، غلیظ اورافسوس ناک ہے کہ اس کو من وعن ’’مغلظات مرزا‘‘میں شامل کیاجانا چاہیے تھا یہ کتاب فروری ۱۹۱۹ء میں شائع ہوئی اس کتاب میںاکابر مظاہر کی شان میں نام بہ نام مغلظات لکھی گئی ہیں ۔

بہر حال قادیانیوں کی زبان اوران کے قلم کی غلاظت کا مکمل ثبوت اس کتاب سے مل جاتا ہے ،یہ کتاب مدرسہ کے مرکزی کتب خانہ میں موجود ہے ،تحقیقی کام کرنے والوںکو اس کتاب کا مطالعہ مفیدثابت ہوگا ۔ فتنۂ قادیانیت کی سرکوبی اوراس کے تعاقب کیلئے تمام دینی مدارس میں مستقل شعبہ ہونا چاہیے اوردار العلوم ، مظاہر علوم اورندوۃ العلماء جیسے مرکزی دینی اداروں میں تو اپنے مسلک ومشرب کی حفاظت وصیانت کے لئے الگ الگ شعبہ جات کا قیام نا گزیر ہوگیا ہے غیر مقلدیت ،شیعیت ،مودودیت ،رضا خانیت اورقادیانیت جیسے فتنو ں کا مقابلہ کرنے کے لئے کوئی ایک شعبہ بھی ناکافی ہوگا ہر فتنہ کے لئے الگ شعبہ ہونا چاہیے ،اسی طرح دینی مدارس میں تاریخ اورمطالعۂ ادیان ومذاہب پر خصوصی توجہ دینا چاہیے اورنشیمن پر نشیمن کی اس قدر تعمیر ہونی چاہیے کہ بجلیاں گر گر کر بیزا ر ہوجائیں ، دین کے مضبوط ومستحکم ایسے قلعے ہونے چاہئیںجن سے ٹکراکر ہوائیں اپنا راستہ اورموجیں اپنی سمت کو تبدیل کرنے پر مجبورہوجائیں۔ اکابر علماء مظاہر علوم نے شروع ہی سے اس پہلو کو مد نظر رکھا ہے چنانچہ انجمن ہدایت الرشید کے قیام واستحکام کے باوجود کام میں مزید تیزی اورخوبی پیدا کرنے کے لئے مستقل شعبہ کے قیام پر زور دیتے رہے چنانچہ مظاہر علوم کی روداد۱۳۴۸ھ میں اس ضرورت کا اظہار ان الفاظ میں کیا گیا ہے ۔ ’’اس شعبہ کے متعلق ہر سال ناظرین کی خدمت میں نہایت زورد ار الفاظ سے عرض کیا جاتا ہے کہ مدارس اسلامیہ کیلئے اس شعبہ کا ہونا نہایت ضروری امر ہے بالخصوص اس زمانہ میں جب کہ عالم اسلام پر چاروں طرف سے مصائب وآلام کے انبارنظر آتے ہیں اورہر طرف سے ایک نئی آندھی چلتی نظر آتی ہے تو اس کی تلافی اورروک تھام کے لئے تمام مدارس اسلامیہ میں اس شعبہ کا ہونا ضروری معلوم ہوتا ہے چنانچہ ایک مدت درازسے یہ شعبہ بحمد اللہ مدرسہ مظاہر علوم میں انجمن ہدایت الرشید کے نام سے جاری ہے ، اس شعبہ میں التزاماً وعظ وتقریر،مناظرہ کی مشق کرائی جاتی ہے اورہر آنے والے اسلام پر حملہ کو روکا جاتا ہے اوراس کا تدارک کافی طورسے کیاجاتا ہے …مگر اس میں آمدنی کی بہت قلت ہے ،اس لئے کہ شب وروزآئے دن قیامت خیزفتنے وشورشیںاورہر وقت کے مناظرے وغیرہ کی وجہ سے اس کاانتظام کا فی طورسے کیا جاتا ہے کیونکہ تحفظ اسلام کے لئے جارحانہ ودافعانہ تدابیرکی سخت ضرورت ہے اورہر ممکن طریقہ سے اس میں سعی کی جاتی ہے کہ اس شعبہ میں ترقی نظرآئے کیونکہ تبلیغ ایک ایسا ذریعہ ہے کہ جس کو صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اورخود بانی ٔ اسلام آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سلسلہ کو وسیع پیمانہ پر چلایا ہے کہ جس کا سلسلہ بحمد اللہ اب تک جاری ہے اوران شاء اللہ جاری رہے گا ۔(روداد مدرسہ بابت ۱۳۴۸ء ص:۲۳) ۱۳۵۱ھ کی رودادمیں پھر اسی ضرورت کا اظہار ان الفاظ میں کیا گیا ۔ ’’اس درجہ کی ضرورت جس قدر ہے اسے قریب قریب تمام ہی اہل اسلام محسوس کررہے ہیں کیونکہ تعلیم کے بعد قومی خدمت صرف اسی درجہ سے ہوسکتی ہے ،ضرورت تو اس کی ہے کہ فارغ التحصیل حضرات کو وظائف دے کر اس شعبہ میں رکھاجائے اوران کو وعظ وتقریرومناظرہ اورتصنیف وتالیف اورضروری علوم وفنون کا ماہر بنایا جائے ۔ (روداد مدرسہ بابت ۱۳۵۱ء ص:۱۶) سرزمین سہارنپورچونکہ دینی علوم اورروحانیت کا عظیم مرکز ہے ،دیوبند، کاندھلہ ،نانوتہ ،جھنجھانہ ،کیرانہ ، رائے پور، پھلت،گنگوہ ،تھانہ بھون،جلال آباد ،شاملی،پوقاضی ،منگلور،انبہٹہ اوربڈھانہ جیسے قدیم علمی وروحانی قصبات ومواضعات اسی علاقے میںہیں اسی وجہ سے باطل تحریکات نے اس علاقہ کو اپنا ہدف بنالیا ہے ،عیسائی مشنریاں ، یہودی سرگرمیاں ، قادیانی ریشہ دوانیاں اورہنود کی فتنہ سامانیاں مسلسل اورمنصوبہ بندی کے ساتھ مصروف ہیں، مسلمانوں کے ایمان ویقین کو مشکوک اوران کے یقین واعتماد کومتزلزل کرنے کیلئے تمام اسلام دشمن طاقتیںپورا زورصرف کررہی ہیںاورسادہ لوح مسلمان ان کے بہکاوے میں آرہے ہیں اس خطرناک اورنازک حالات کی حساسیت کو اربابِ مظاہرعلوم ودارالعلوم نے نہ صرف محسوس کیا بلکہ ان تحریکا ت کو سر اٹھانے سے پہلے دبانے کی حکمت عملی کو اختیار کیا ۔ چنانچہ چند سال قبل جب معلوم ہواکہ شہر سہارنپورمیں قادیانی لٹریچرنہ صرف کھلم کھلا تقسیم ہورہا ہے بلکہ قادیانی لوگ سادہ لوح افراد کو دین اسلام سے بیزار اورمتنفرکرکے قادیانیت میں شامل کررہے ہیں تو حضرت ناظم صاحب مدظلہ نے شہر کے سرکردہ افرادوشخصیات اورپڑھے لکھے حضرات کے ذریعہ جگہ جگہ کارنرمیٹنگیں کرائیں،مفید مشورے کئے گئے ،عوام کو قادیانیت اورقادیانی عقائد سے واقف کرانے کی کوششیں کی گئیں ، مظاہرعلوم وقف کے دفتر اہتمام میںبھی ناظم مدرسہ حضرت مولانامحمدسعیدی صاحب مدظلہ کی زیرصدارت شہر کے معززین نے میٹنگ کرکے رہنمائی حاصل کی اورمتعینہ امورپر قادیانیت کی سرکوبی کیلئے مصروف ہوگئے،اسی طرح عوام وخواص کودین اسلام کی صحیح تعلیمات اوراسلام مخالف فتنوں سے واقف کرانے کے لئے شہرکی مرکزی مساجدمیں ’’تفاسیرقرآن‘‘ کابابرکت سلسلہ بھی شروع کرایااوراس سلسلہ کی مبارک ومسعودکوششیں آج بھی جاری ہیں جس کے بہترین نتائج واثرات مرتب ہورہے ہیں۔دینی جذبے اورصالح طبیعتوں کوہرطرح کے فتنوں سے محفوظ رکھنے کے لئے مختلف علاقوں میں اپنے نمائندوں کے ذریعہ وعظ وتقریرکاالتزام بھی نہایت ہی سودمندثابت ہورہاہے۔ ۳؍شعبان ۱۴۲۹ھ میں ختم بخاری شریف کے موقع پر دسیوںہزار کے مجمع میں قادیانیت کے پروپیگنڈہ اورقادیانی دسیسہ کاریوںسے عوام کو آگاہ کیا گیا اوراتفاق رائے سے درج ذیل تجاویز بھی پاس کی گئیں۔ تجویز(۱) قادیانیوںکے بارے میں پورا عالم اسلام متفق ہے کہ وہ دائرہ ٔ اسلام سے خارج ہیں اوریہودی عیسائی یا دیگر مذاہب وفرقوں کی طرح ایک الگ گروہ ہیں لہٰذاقادیانیوںکو غیر مسلم اقلیت ماناجائے۔اس کیلئے نئے سرے سے قانون سازی کی ضرورت ہوتو ذمہ دار مسلم تنظیموںکے مشورہ سے قانون سازی کی جائے اوراس گروہ کوپابند کیاجائے کہ وہ مسلمانوں سے ملتے جلتے نام نہ رکھیں ،منافقین کی طرح مسلمان ہونے کا جھوٹا دعویٰ نہ کریں،مسجدوں جیسی عبادت گاہیںنہ بنائیں اورمسلم قبرستانوں میں اپنے مردوں کو دفن کرنے کی کوشش نہ کریں۔ تجویز(۲) ان کے نام نہاد رہنماؤں نے خود کو ہمیشہ ملک دشمن انگریزوں کانہ صرف غلام سمجھابلکہ جنگ آزادی کی تحریک کو سبوتاژکرنے کی بھرپورکوشش کی۔ انگریزوںکیلئے مخبری کی۔ان کے خود ساختہ رہنما آج بھی ان ملکوں میں پناہ لئے ہوئے ہیں جہاں سے ہمارے ملک کو غلام بنانے کی سازشوں کے تانے بانے بنے گئے تھے ۔اسلئے ان کی سرگرمیوں پر گہری نگاہ رکھی جائے کہ وہ کہیں ملک دشمن اورتخریب کارانہ کارروائیوںمیں توملوث نہیں ہیں ۔ تجویز(۳) عام مسلمانوں سے یہ اجلاس اپیل کرتا ہے کہ وہ قادیانیوںکی اشتعال انگیزیوں سے متأثر ہوکر ہرگزمشتعل نہ ہو ں اورمکمل طورپرصبر وتحمل سے کام لیں۔قرآن کریم وسنت شریفہ کومشعل راہ بنائیں۔اپنے بزرگوں، مسجدوں، خانقاہوںاوردینی مدارس ومراکزسے رشتہ مضبوط رکھیں۔پیش آمدہ صورت حال میں معتبر علمائے دین سے رجوع کریں ۔ اپنے اوراپنی نئی نسل کے عقائد کے تحفظ کے بارے میں بیدار رہیں ۔ ایسا نہ ہو کہ کوئی قزاق عقائد پر شب خون مارجائے یا مارِ آستین ڈس جائے ۔اورخدا نخواستہ ہماری عاقبت خراب ہوجائے ۔ تجویز(۴) اس ضمن میں یہ وضاحت بھی ضروری ہے کہ جنوبی ہند کے بنگلوروغیرہ علاقوں میں ’’دیندار انجمن‘‘ کے نام سے جو تنظیم قائم ہے یہ در اصل قادیانیت ہی کی ایک بدلی ہوئی صورت ہے ۔اس کے بانی صدیق دیندار چن بسویشور کے نظریات وعقائد سراسر اسلام کے خلاف ہیں اس کے ماننے والے بھی مسلمانوں کے مسلم عقیدۂ ختم نبوت سے منحرف ہیں ۔ اس تنظیم کا مسلمانوں سے کوئی تعلق واسطہ کسی قسم کا نہیں ہے اوراس کی کسی بھی طرح کی سرگرمی وتخریب کاری کی ذمہ داری مسلمانوں پر عائد نہیں ہوتی۔ ناظم صاحب کی طرف سے یہ اعلان بھی کیا گیا کہ جلد ہی طلبہ اورائمہ کے لئے خصوصی تربیتی کیمپ کا انعقاد کرایا جائے گا تاکہ اس فتنہ کی سرکوبی کے لئے مطلوبہ تیاری کا سلسلہ جاری رہے اورموعظت حسنہ کے ذریعہ متاثرہ علاقوں اورلوگوں کو ٹارگیٹ بناکر نتیجہ خیزکوششیںکی جاسکیں ۔ اخیرمیں حکیم الامت حضرت تھانویؒ کی چندحکیمانہ گزارشات جوانہوں نے ارباب مدارس کومخاطب بناکرارشاد فرمائی تھیں محض اس درداورفکرکے ساتھ شامل اداریہ کی جارہی ہیں کہ کاش !اہل مدارس حضرت تھانویؒ کی اِن نصائح پرعمل کرکے اسلام کی حفاظت اورترقی کا ذریعہ بن جائیں۔ حضر ت تھانوی ؒ نے اپنی تحریرات اورتقریرات میں دینی مدارس کے ارباب اہتمام وانتظام کوبطورخاص واعظین اورمبلغین کے باقاعدہ نظم کامشورہ دیاہے،کیونکہ اسلام دشمن تحریکات کاچیلنج قبول کرنے کی طاقت ،ان کے اعتراضات کا مدلل جواب اورکفروطاغوت کے ہروارکامقابلہ بروقت دعوتی اورتبلیغی شعبہ جات ہی کرسکتے ہیں ، چنانچہ مظاہرعلوم سہارنپورکے ایک سالانہ جلسے میںدوران تقریر ارشاد فرمایا کہ (۱)’’میں نے اپنے تعلق کے بعض مدارس کو باربارلکھاکہ جیسے آپ کے یہاں مدرسین کو تنخواہ ملتی ہے اوریہ تعلیم وتدریس گویاخاص تبلیغ ہے اسی طرح مدرسہ سے تبلیغ عام کا بھی انتظام ہوناچاہئے اورمدرسہ کی طرف سے تنخواہ دارمبلغ رکھے جائیں اوران کو اطراف وجوانب میں بھیجاجائے اوران کو یہ تاکید بھی کی جائے کہ چندہ نہ مانگیں صرف احکام پہنچائیں ‘‘۔ (مظاہرالآمال:ملحقہ دین ودنیاص ۵۶۱) انفاس عیسیٰ نامی کتاب میں حضرت تھانویؒ کایہ ارشادگرامی بھی ملاحظہ فرمائیں (۲)’’میری رائے ہے کہ مدارس اسلامیہ جیسے دیوبند،سہارنپورکی طرف سے ہرجگہ مبلغ رہیں تمام ممالک کے ہرحصہ میں مستقل طورپران کاقیام ہو،باضابطہ نظم ہواوردیگرممالک میں مبلغ تیارکرکے بھیجے جائیں‘‘(انفاس عیسیٰ ص۶۲۰؍۲) (۳)’’ہراسلامی مدرسہ وانجمن کم ازکم ایک واعظ بھی مقررکرے اوریہ سمجھے کہ ضرورت تعلیم کے لئے ایک مدرس کا اضافہ کیا،کیونکہ جس طرح مدرسہ کے معلمین طلبہ کے مدرسین ہیں اسی طرح واعظین عوام کے مدرسین ہیں اوراہل انجمن یہ سمجھیں کہ یہ تعلیم عوام کے لئے ان کی انجمن کی ایک شاخ ہے‘‘(تجدیدتعلیم وتبلیغ ص ۱۸۷) (۴)’’میں تمام اہل مدارس دینیہ کو رائے دیتاہوں کہ ہرمدرسہ کی طرف سے کچھ مبلغ بھی ہونے چاہئیں،یہ سنت نبویہ ہے اور پڑھناپڑھانااسی مقصودکامقدمہ ہے صل مقصودتبلیغ ہی ہے‘‘ (اضافات الیومیہ ص۳۸۹؍۶) اسی طرح حالات کی نزاکتوں اورماحول ومعاشرہ کی کثافتوں کواسلامی تعلیمات کے آب زلال سے صاف وشفاف کرنے کے لئے ناظم مدرسہ کے حکم سے مدرسہ کے ماہانہ علمی ترجمان ’’آئینہ مظاہرعلوم‘‘کاخصوصی شمارہ ’’ختم نبوت نمبر‘‘شائع کیاگیااورملک کے مختلف گوشوں ،خطوں اورعلاقوں میں بڑی تعدادمیں پہنچانے کی کوشش کی گئی۔ دینی مدارس میں طلبہ ٔ عزیز کی تعلیم وتربیت اس انداز پر ہونی چاہئے کہ وہ معترضین ومنکرین کو مطمئن کرسکیں،طلبہ کا ذہن ودماغ نمو کا طالب ہے ،ان کے فکر کی کھیتی تشنگی محسوس کررہی ہے اوراگر اس پہلو پر توجہ نہ دی گئی تو نتیجہ وہی ہوگا جو اُن دریاؤ ںکا ہوتا ہے جس سے کھیتیاں سیراب نہیں کی جاتیں وہ دریا کسی جھیل یا سمندر میں جا گر تا ہے یا ریگستان میں جذب ہوکر رہ جاتا ہے ،جن صلاحیتوں کو وقت پر استعمال میں نہیں لایا جاتا وہ صلاحیتیںاپنی سمتیں،فکر کے پیمانے ،سوچ کے دریچے اورغورکی جہتیںبدل دیتی ہیں ،جس طاقت کو بروقت قوم کی تعمیر وتشکیل کے لئے استعمال میں نہیں لایا جاتا اس کو وقت کی گردش ، حالات کے مد وجز راورموسم کے تغیرات تخریب کی طرف مائل کردیتے ہیں اورجس مکان کو مکینوں سے خالی کردیا جائے تو پرندے ان مکانوں میں اپنے گھونسلے بناتے ہیں اورشیاطین ان گھروں کو اپنا مستقر بنالیتے ہیں ۔ ضرورت ہے کہ اسلام کے بہترین دماغ کوبہترین تربیتی سانچے میں ڈھال کر قوم کی تعمیر وترقی کیلئے ناقابل تسخیر قلعہ تعمیر کیا جائے اورایک فعال ومتحرک جماعت اوراس جماعت میں کام کرنے کی ایسی اسپیڈSpeed اوراسپرٹ Spritپیدا کردی جائے کہ زوردار آندھیاں اورخوفناک موجیں ان کے پایۂ ثبات میں لغزش نہ پیدا کرسکیں ۔ علماء مظاہر کی چند تصنیفات بسلسلہ ’’ختم نبوت ‘‘ (۱)اظہار البطلان لدعوی مسیح قادیان حضرت مولانا حبیب احمد کیرانویؒ (۲)آئینۂ کمالات مرزا حضرت مولانا محمد زکریامہاجر مدنیؒ (۳)اسلام اورمرزائیت کا اصولی اختلاف حضرت مولانا محمدادریس کاندھلویؒ (۴)حقیقتِ مرزا ؍؍ ؍؍ ؍؍ (۵)ختم نبوت ؍؍ ؍؍ ؍؍ (۶)دعاوی مرزا ؍؍ ؍؍ ؍؍ (۷)مولانانانوتویؒ پر مرزائیوںکاالزام ؍؍ ؍؍ ؍؍ (۸)مرزائی نبوت کا خاتمہ حضرت مولانا نورمحمد ٹانڈوی ؒ (۹)مغلظات مرزا ؍؍ ؍؍ ؍؍ (۱۰)کرشن قادیانی ؍؍ ؍؍ ؍؍ (۱۱)کفریات ِ مرزا ؍؍ ؍؍ ؍؍ (۱۲)کذباتِ مرزا ؍؍ ؍؍ ؍؍ (۱۳)اختلافاتِ مرزا ؍؍ ؍؍ ؍؍ (۱۴)امراضِ مرزا ؍؍ ؍؍ ؍؍ (۱۵)القادیانیۃما ھی(عربی ) حضرت مولانا عاشق الٰہی بلند شہری (۱۶)ختم نبوت حضرت مولاناحبیب الرحمن خیر آبادی (۱۷)فتنۂ ارتداد اورمسلمانوں کا فرض حضرت مولانامحمداسعداللہؒ (۱۸) رد قادیانیت حضرت مولانامحمد موسیٰ رنگونی (۱۹)متعارضات مرزا ؍؍ ؍؍ ؍؍ (۲۰)ہندوستان کے دو مجددوں کی شیریں کلامی ؍؍ ؍؍ ؍؍ (۲۱) ’’ختم نبوت نمبر‘‘(خصوصی شمارہ آئینہ مظاہرعلوم ) مرتبہ:احقرناصرالدین مظاہری (۲۲)دفع الالحاد عن حکم الارتداد (شائع کردہ انجمن ہدایت الرشید ) ان کتابوں کے علاوہ اوربھی بہت سی کتابیں علماء مظاہر کے قلم سے نکلی ہیں جن کو صفحات کی تنگی کے باعث حذف کیا جارہا ہے ۔ انجمن کے پروردہ وپرداختہ چندمعتبروناموراسماء گرامی حضرت مولاناسیدعبداللطیف پورقاضویؒ حضرت مولاناعبدالرحمن کامل پوریؒ حضرت مولانامنظوراحمدخانؒ سہارنپوریؒ حضرت مولاناقاری مفتی سعیداحمداجراڑویؒ حضرت مولاناعبدالشکورکیمبل پوریؒ حضرت مولاناشاہ محمداسعداللہؒرام پوری حضرت مولانامفتی محمودحسن گنگوہیؒ حضرت مولانامفتی جمیل احمدتھانویؒ حضرت مولانامحمدزکریاقدوسی گنگوہیؒ حضرت مولانانورمحمدٹانڈویؒ رام پوری حضرت مولاناجمیل الرحمن امروہویؒ حضرت مولانااخلاق احمدسہارنپوریؒ حضرت مولاناجوادحسینؒ حضرت مولانارشیداحمدؒ حضرت مولاناالطاف حسینؒ حضرت مولاناعبدالخالق ؒ حضرت مولاناہدایت علی بستویؒ حضرت مولانانذیراحمدسیالکوٹیؒ حضرت مولاناابرارالحق ہردوئیؒ حضرت مولاناانیس الرحمن لدھیانویؒ حضرت مولاناعبیداللہ بلیاویؒ حضرت مولاناعاشق الٰہی بلندشہریؒ حضرت مولانامحمدوجیہ ٹانڈویؒ حضرت مولاناممتازاحمدٹانڈویؒ

ممتاز فضلائے جامعہ[ترمیم]

ممتاز فضلائے مظاہرعلوم

اسمائے گرامی سن فراغت حضرت مولانا عنایت الٰہی سہارنپوریؒ مہتمم مظاہرعلوم سہارنپور ۱۲۸۷ھ حضرت مولانا خلیل احمد مہاجر مدنی ؒ محدث مظاہرعلوم سہارنپور ۱۲۸۸ھ حضرت مولانا محمد علی مونگیریؒ بانی ندوۃ العلماء لکھنؤ ـ۱۲۹۳ھ حضرت مولانا عبد القدیر دیوبندیؒ نائب مہتمم دارالعلوم دیوبند ۱۲۹۳ھ حضرت مولانامفتی عبد اللہ ٹونکیؒ پروفیسر اورنٹل کالج لاہور ۱۲۹۳ھ حضرت مولانا منصور علی خاں مرادآبادیؒ استاذ مدرسہ طبیہ حید رآباد دکن ۱۲۹۳ھ حضرت مولانا ناظر حسن دیوبندی ؒرئیس الاساتذہ مدرسہ عربیہ چھتاری بلند شہر ۱۲۹۵ھ حضرت مولانا نور محمد لدھیانویؒ (مرتب نورانی قاعدہ) ۱۲۹۸ھ حضرت مولانا جان محمد پنجابی ؒقاضی ریاست ٹونک ۱۳۰۱ھ حضرت مولانا محمد اسماعیل عرف حکیم اجمیری گنگوہی ؒرکن مجلس شوریٰ دارالعلوم دیوبند ۱۳۰۱ھ حضرت مولانا منظور النبی ؒسہارنپوری ’’بابائے سہارنپور‘‘ ۱۳۱۹ھ حضرت مولانامحمد مبین ؒدیوبندی معاون خصوصی حضرت شیخ الہند در تحریک آزادیٔ ہند ۱۳۲۵ھ حضرت مولانا ظہور محمد خانؒ سہارنپوری رئیس الاساتذہ مدرسہ رحمانیہ رڑکی وسرگرم رکن تحریک آزادیٔ ہند ۱۳۲۶ھ حضرت مولانا ظفر احمد تھانوی عثمانیؒ شیخ الحدیث دارالعلوم الاسلامیہ ٹنڈوالہ یار پاکستان ۱۳۲۷ھ حضرت مولانا اشفاق الرحمن کاندھلویؒ شیخ الحدیث جامعہ احمدیہ بھوپال ۱۳۲۸ھ حضرت مولانا عبد الرحمن کامل پوریؒ رئیس الاساتذہ مظاہرعلوم سہارنپور ۱۳۳۱ھ حضرت مولانا شبیر علی تھانویؒ مہتمم مدرسہ امدادالعلوم تھانہ بھون (رکن شوریٰ دارالعلوم دیوبند ومظاہر علوم سہارنپور) ۱۳۳۱ھ حضرت مولانا حیات سنبھلی ؒ بانی وناظم وشیخ الحدیث جامعہ عربیہ حیات العلوم مرادآباد ۱۳۳۱ھ حضرت مولانا محمد زکریا مہاجر مدنیؒ شیخ الحدیث مظاہرعلوم سہارنپور ۱۳۳۴ھ حضرت مولانا محمد اسعد اللہ رام پوریؒ ناظم مظاہرعلوم سہارنپور ۱۳۳۴ھ حضرت مولانا خیر محمد مظفر گڑھیؒ استاذ حدیث مدرسہ صولتیہ مکہ مکرمہ ۱۳۳۴ھ حضرت مولانا عبد الغنی رسول پوریؒ ناظم اعلیٰ مدرسہ مدینۃ العلوم رسولی ،بارہ بنکی ۱۳۳۵ھ حضرت مولانا ادریس کاندھلویؒ شیخ التفسیر دارالعلوم دیوبند ۱۳۳۶ھ حضرت مولانا بد رعالم میرٹھی ؒ مہاجر مدنی استاذ مظاہر علوم سہارنپور ۱۳۳۶ھ حضرت مولانا مفتی عبد الکریم گمتھلوی ؒ استاذ حدیث مدرسہ علوم شرعیہ مدینہ منورہ ۱۳۳۹ھ حضرت مولانا مفتی جمیل احمد تھانویؒ نائب شیخ الادب مدرسہ نظامیہ حید رآباد دکن ۱۳۴۲ھ حضرت مولانا علامہ نور محمد ٹانڈوی ؒ مناظر مظاہر علوم سہارنپور ۱۳۴۳ھ حضرت مولاناعبد الواحد دیوبندیؒ ناظم شعبۂ اوقاف دارالعلوم دیوبند ۱۳۴۳ھ حضرت مولانا اعجاز الحق قدوسی گنگوہیؒ رکن محکمہ امور مذہبی ریاست حید رآباد ۱۳۴۴ھ حضرت مولانا شیخ عبد الحق نقشبندی مدنیؒ استاذ حدیث مدرسہ علوم شرعیہ مدینہ منورہ ۱۳۴۴ھ حضرت مولانا عبد الحلیم فیض آبادیؒ بانی مدرسہ ریاض العلوم جونپور ورکن مجلس شوریٰ دارالعلوم دیوبند ۱۳۴۶ھ حضرت مولانا اکبر علی سہارنپوریؒ شیخ الحدیث دارالعلوم کراچی پاکستان ۱۳۴۸ھ حضرت مولانا عبد الستار اعظمیؒ شیخ الحدیث دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ ۱۳۴۸ھ حضرت مولانا محمد اسمٰعیل برمی مہاجر مدنیؒ بانی مدرسہ امدادالاسلام برما ۱۳۴۸ھ حضرت مولانا عبد الجبار اعظمی ؒ شیخ الحدیث جامعہ قاسمیہ مدرسہ شاہی مرادآباد ۱۳۴۹ھ حضرت مولانا محمد یامین کاندھلوی مہاجر مکیؒ ناظم کتب خانہ مدرسہ صولتیہ مکہ مکرمہ ۱۳۴۹ھ حضرت مولانا محمد عمران مدنی ؒ استاذ حدیث مدرسہ علوم شرعیہ مدینہ منورہ ۱۳۵۰ھ حضرت مولانا منور حسین ؒ شیخ الحدیث دارالعلوم لطیفی کٹیہار(بہار) ۱۳۵۰ھ حضرت مولانا عمر احمد تھانویؒ پرفیسر گورنمنٹ کالج ناظم آباد کراچی پاکستان ۱۳۵۰ھ حضرت مولانامفتی محمود الحسن گنگوہیؒ مفتی مظاہرعلوم سہارنپور ۱۳۵۱ھ حضرت مولانا بشیر اللہ رنگونی ؒ شیخ الحدیث وناظم اعلیٰ دارالعلوم تانبوے رنگون برما ۱۳۵۱ھ حضرت مولانا یوسف کاندھلویؒ امیر جماعت تبلیغ انڈیا وسرپرست مدرسہ مظاہرعلو م سہارنپور ۱۳۵۴ھ حضرت مولانا محمد انعام الحسن کاندھلویؒ شیخ الحدیث مدرسہ کاشف العلوم دہلی وامیر جماعت تبلیغ انڈیا ۱۳۵۴ھ حضرت مولانا قاضی مظہرالدین بلگرامیؒ صدر شعبۂ دینیات مسلم یونیورسٹی علی گڑھ ۱۳۵۴ھ حضرت مولانا قاری محمود دائودیوسف برمیؒ بانی وناظم دارالعلوم تانبوے رنگون برما ۱۳۵۴ھ حضرت مولانا محمد ادریس انصاری انبہٹویؒ شیخ الحدیث جامعہ عربیہ صادق آبادبھاولپورپاکستان ۱۳۵۵ھ حضرت مولانا ابرارالحق حقی ؒ ناظم مدرسہ اشرف المدارس ہردوئی ۱۳۵۶ھ حضرت مولانا سجاد احمد جونپوریؒ مفتی اعظم مدرسہ بیت العلوم سرائے میر اعظم گڑھ ۱۳۵۷ھ حضرت مولانامحمد ابراہیم رنگونیؒ صدر جمعیۃ العلماء برما ۱۳۵۸ھ حضرت مولانا انیس الرحمن لدھیانویؒ ناظم مدرسہ تجوید القرآن خالصہ کالج لائل پورپاکستان ۱۳۶۰ھ حضرت مولانا نذیر احمد سیال کوٹی ؒ بانی ومہتمم مدرسہ اشرف العلوم رحیم یار خان پاکستان ۱۳۶۰ھ حضرت مولانا عبد الحکیم برمیؒ شیخ الحدیث مدرسہ مظاہرعلوم رنگون برما ۱۳۶۰ھ حضرت مولاناعبید اللہ بلیاوی ؒ استاذ حدیث وتفسیر مدرسہ کاشف العلوم دہلی ۱۳۶۰ھ حضرت مولانا قاری سید صدیق احمد باندویؒ ناظم مدرسہ عربیہ ہتھورہ باندہ ۱۳۶۳ھ حضرت مولانا عاشق الٰہی بلند شہری ؒ استا ذ حدیث وتفسیر دارالعلوم کراچی پاکستان ۱۳۶۳ھ حضرت مولانا مفتی وجیہہ احمد ٹانڈوی ؒشیخ الحدیث ومفتی دارالعلوم الاسلامیہ ٹنڈوالہ یار ضلع حید رآباد سندھ ۱۳۶۳ھ حضرت مولانا محمد ابراہیم پالنپوری ؒ شیخ الحدیث جامعہ عربیہ تعلیم الاسلام آنند گجرات ۱۳۶۳ھ حضرت مولانا مفتی عبد القدوس ؒرومی الہ آبادی قاضی شہر آگرہ ۱۳۶۴ھ حضرت مولانا صدرالدین عامر انصاری ؒشیخ التفسیر مدرسہ احمدیہ بھوپال ۱۳۶۵ھ حضرت مولانا قاری اظہار احمد تھانویؒ صدر شعبہ تجوید وقرأت مدرسہ تجوید القرأت موتی بازار لاہور ۱۳۶۶ھ حضرت مولانا حبیب الرحمن خیر آبادی مفتی دارالعلوم دیوبند ۱۳۷۲ھ حضرت مولانا محمد نسیم احمد غازی شیخ الحدیث دارالعلوم جامع الہدی مرادآباد ورکن شوری مظاہرعلوم سہارنپور ۱۳۷۷ھ حضرت مولانا مفتی محمد اسمٰعیل کچھولوی استاذ حدیث جامعہ اسلامیہ تعلیم الدین ڈابھیل گجرات ۱۳۸۴ھ حضرت مولانا محمد ہاشم جوگواڑی رئیس الاساتذہ دارالعلوم العربیہ الاسلامیہ بولٹن لندن انگلینڈ ۱۳۸۵ھ حضرت مولانا یوسف متالا ناظم اعلیٰ دارالعلوم العربیہ الاسلامیہ بولٹن لندن انگلینڈ ۱۳۸۷ھ حضرت مولانا عبد الحفیظ مکی ؒ استاذ حدیث دارالعلوم حرم مکہ مکرمہ ۱۳۸۸ھ حضرت مولانامفتی ناصرالدین مظاہری مدیرماہنامہ آئینہ مظاہرعلوم سہارن پور ۱۴۱۵

بیرونی روابط[ترمیم]

مزید دیکھیے[ترمیم]