مظفر وارثی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
مظفر وارثی
مظفر وارثی
مظفر وارثی
ادیب
پیدائشی نام مظفر وارثی
تخلص مظفر
ولادت 20 دسمبر 1933ء میرٹھ، اتر پردیش، برطانوی ہندوستان
ابتدا پاکستان
اصناف ادب شاعری
ذیلی اصناف غزل
نظم
حمد و نعت
گیت
قطعات
تعداد تصانیف 20
تصنیف اول برف کی ناؤ
موقع جال [http://muzaffarwarsi.blogspot.com]


مظفر وارثی موجودہ صدی کی چند گنی چنی آوازوں میں سےایک اور عہد حاضر میں پاکستان کے نمایاں ترین شاعر اور نعت خواں ہیں۔اردو کے عہدسازشاعروں کی اگرغیرجانبداری سے فہرست تیارکی جائے توان کے نام سے بچناناممکن ہے۔

ابتدائی زندگی[ترمیم]

مظفر وارثی (ولادت: 20 دسمبر 1933ء - 28 جنوری 2011ء) کا پیدائشی نام "محمد مظفر الدین احمد صدیقی" تھا۔ وہ برطانوی ہندوستان کے شہر میرٹھ (یو۔ پی) میں صوفی شرف الدین احمدچشتی قادری سہروردی کے ہاں پیدا ہوئے۔ مظفروارثی کانام مظفرہے۔فاتح۔وہ دنیائے سخن کے کئی ملک فتح کرچکے ہیں اورفتح وظفرکایہ سلسلہ جاری ہے۔ان کے مداحوں اورعقیدت مندوں کی تعدادگنناناممکن ہے۔وہ پچھلے پچاس برسوں سے عروس ِ سخن کا بناؤ سنگھار کر رہے ہیں۔لکھتے اس لئے نہیں کہ وہ ایک لکھاری ہیں بلکہ اس لئے کہ ان پرآنے والی نجانے کتنی نسلوں اورصدیوں کی راہ نمائی کاقرض ہے ۔احسان دانش نے کہاتھاکہ اگلازمانہ مظفر وارثی کاہے۔ آپ کااپناایک جداگانہ شعری نظام ہے جوآپ کو دیگر شعرا ممتاز کرتا ہے۔ علم وسخن اپنی ہرشکل،ہرصنف میں آپ کا اوڑھنا بچھونابلکہ آپ کے وجود کا حصہ ہیں۔

اہم تصانیف[ترمیم]

20 شائع شدہ ، دس اشاعت پذیر

اعزازات[ترمیم]

پرائیڈ آف پرفارمنس

مظفروارثی کی شاعری[ترمیم]

آپ اردوشاعری کی تاریخ کا اہم ستون اورعہد حاضر میں اردو نعت کا انتہائی معتبر نام ہیں تاہم آپ نے ہر صنف شعرغزل، نظم، حمد، نعت وسلام، گیت، قطعات اور ہائیکووغیرہ میں طبع آزمائی کی ہے۔ آپ کی شاعری اپنے منفرد اسلوب اور موضوعات کے تنوع کے باعث پیش منظر کے شاعروں کے لیے بڑا چیلنج ہے۔ اردوکےنامورشاعرجناب احسان دانش نےلکھا تھا، "نئی طرز کے لکھنے والوں میں جدید غزل کا معیار مظفر وارثی کی غزل سے قائم ہوتا ہے۔"

ان کی مشہور ترین حمد " اے خدا اے خدا" اور نعت "میرا بیمبر عظیم تر ہے" زبان زد عام ہے۔

اردوادب کی تاریخ میں مظفر وارثی جتنے مستند اور معتبر نعت گو شاعر گردانے جاتے ہیں اس سے کہیں بڑے غزل گوشاعرہیں مگرتنگ نظر ماڈرن شاعروں اور متعصب نقادوں کے سبب غزل کے حوالے سے کہیں بھی ان کاذکرنہیں ملتا۔گزرے پچاس سالوں میں اب تک ان کی غزلوں پرمشتمل ضخیم نمبرشائع ہوچکے ہیں مگران کاتذکرہ کسی بھی نمبرمیں نہیں ملتا۔مکمل طورپرنظر اندازکیاجاتارہاہے۔یہی وجہ ہے کہ عام قارئین کوان کی غزل گوئی کے اوصاف کاپوری طرح علم ہی نہیں ہے ۔وہ توصرف یہی سمجھتے ہیں کہ وہ صرف ٹی وی پرکبھی کبھارنعت پڑھتے ہیں۔ مظفروارثی اپنی انفرادی زندگی میں ایک بہادراورنڈر،بے باک انسان ہیں۔ان کی رگوں میں خون صدیق ؓ اوراسلام کاجذبہ انڈرکرنٹ کی طرح دوڑتادکھائی دیتاہے۔۔ انفرادی ہویااجتماعی زندگی انہوں نے ہرطرح خیرکاپرچارکیاہے اوردیانتدارانہ رائے میں وطن اوراہل وطن کوبہت کچھ دیاہے۔اچھی نظمیں ،نعتیں،غزلیں اورگیت ۔خلوص اورمحبت جوآج نایاب ہے۔


مظفروارثی شاعروں اورادیبوں کی نظرمیں[ترمیم]

ظ -انصاری(بھارت): جس دورمیں ہم جی رہے ہیں‘اس میں آرٹ ہویاسائنس ‘ سیلزمین شپ بڑی اہمیت ختیارکرگئی ہے ۔ دیکھایہ جاتاہے کہ پیکنگ کیسی ہے ۔اگرکہواندرلہسن کی گانٹھ ہے توقیمت اکنی اورکہوکہ اس کانام لہسوناہے اورکمپنی کانام انٹرنیشنل ٹریڈنگ کارپوریشن ہے توپیکنگ کی قیمت باقی پندرہ آنے ۔یہی ادب میں ہورہاہے اوربہت عرصے سے ہورہاہے ‘لیکن ہمارے معززمہمان جناب مظفروارثی ‘جن کے اعزازمیں یہ محفل برپاہے اورجنہیں سننے کے لئے میں حاضرہوا۔ ان کے کلام سے انسپائریشن ملا۔ پہلے توان سے میری ملاقات نہیں ہے ۔ پڑھتارہتاہوں۔ ان کانام آتاہے توغورسے پڑھتاہوں لیکن تعافرف صحیح آج ہوا۔مجھے ایسامحسوس ہوتاہے کہ شاعری وہ ‘ جس میں شاعرکوجھانکاجاسکیے ۔مظفروارثی کے شعروں میں خاص طورپرغزلوں میں کرب ‘انا‘سچائی ‘دھوپ چھاؤں ‘روپ رنگ ‘لمحوں کارنگ ‘یہ سب کیفیات موجودہیں یعنی شاعرپوئٹ دی پرسن غزل کے استعاروں میں سے جھانک رہاہے ۔

مشہور کلام[ترمیم]

'فلم ہمراہی کیلئے مظفر وارثی کے سات گیت جو مسعود رانا نے گائے:

'کیا کہوں اے دنیا والو, کیا کہوں میں' (فلم: 'ہمراہی': 1966, کلام: مظفر وارثی, موسیقی: تصدق)

'کرم کی اک نظر ہم پر...یا رسول اللہ'۔

'ہو گئی زندگی مجھے پیاری'۔

'نقشہ تیری جدائی کا اب تک میری نظر میں ہے'۔

'مجھے چھوڑ کر اکیلا, کہیں دور جانے والے'۔

'قدم قدم پہ نئے دکھ'۔

'یاد کرتا ہے زمانہ انہی انسانوں کو'۔

'پکارا ہے مدد کو بے کسوں نے, ہاتھ خالی ہے...بچا لو ڈوبنے سے اسے ...یا رسول اللہ' یہ ایک نہ بھلایا جانے والا مشہور کلام ہے۔

مزید دیکھیے[ترمیم]

انتقال[ترمیم]

مظفر وارثی کو رعشے کا مرض تھا۔ کافی عرصہ علیل رہنے کے بعد 28 جنوری 2011ء کو 77 برس کی عمر میں لاہور میں انتقال کر گئے۔

بیرونی روابط[ترمیم]