معاشی قاتل کے اعترافات

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
معاشی قاتل کے اعترافات
Confessions of an Economic Hit Man  
مصنف جان پرکنز
زبان انگریزی
ناشر Berrett-Koehler Publishers
تاریخ اشاعت 2004
صفحات 250ص
بین الاقوامی معیاری کتابی عدد 0-452-28708-1
او سی ایل سی 55138900


معاشی قاتل کے اعترافات (Confessions of an Economic Hitman) ایک کتاب کا نام ہے جو John Perkins نے لکھی ہے۔ یہ 2004 میں چھپی تھی۔ کتاب کے سرورق پر جو تصویر بنی ہے اس میں ایک گدھ دکھایا گیا ہے جس نے پوری دنیا کو اپنے پنجوں میں جکڑ رکھا ہے اور پس منظر میں امریکی جھنڈا ہے۔
جان پرکنز بوسٹن میں Chas. T. Main نامی کنسلٹنگ کمپنی میں کام کیا کرتا تھا۔ اس کمپنی میں ملازمت سے پہلے جان پرکنز کا نیشنل سیکیورٹی ایجنسی (NSA) نے انٹرویو لیا تھا جو سی آئی اے طرز کی ایک اور امریکی ایجنسی ہے۔
کہا جاتا ہے کہ اسامہ بن لادن نے اپنے ایک ویڈیو ٹیپ میں اس کتاب کا ذکر کیا تھا۔

پرکنز کا کہنا ہے کہ اس نے یہ کتاب 1980 کی دہائی میں لکھنا شروع کی تھی مگر دھمکیوں اور رشوت کی وجہ سے کام بند کرنا پڑتا تھا۔

اس کتاب کے مطابق پرکنز کا کام یہ تھا کہ ترقی پذیر ممالک کے سیاسی اور معاشی رہنماوں کو جھانسہ یا رشوت دے کر ترقیاتی کاموں کے لیے عالمی بینک اور یو ایس ایڈ سے بڑے بڑے قرضے لینے پر آمادہ کرے۔ اور جب یہ ممالک قرضے واپس کرنے کے قابل نہیں رہتے تھے تو انہیں مختلف ملکی امور میں مجبوراً امریکی سیاسی دباو قبول کرنا پڑتا تھا۔

پرکنز کے مطابق قرضہ لینے والے ان ممالک میں غربت بڑھ جاتی تھی اور اقتصادیات مفلوج ہو جاتی تھی۔

ہٹ مین (hit man) کرائے کے قاتل کو کہتے ہیں۔ پرکنز اپنے آپ کو Economic Hitman کہتا ہے۔ وہ بتاتا ہے کہ ہم جیسے لوگوں کی تنخواہ بہت زیادہ ہوتی تھی اور ہم ساری دنیا کے ممالک کو دھوکہ دے کر کھربوں ڈالر کا کاروبار کرتے تھے۔ ورلڈ بینک اور یو ایس ایڈ کے نام پر پیسہ چند امیر ترین خاندانوں کے پاس چلا جاتا تھا جو ساری دنیا کے قدرتی وسائل کے مالک ہیں۔ یہ لوگ اپنے مقاصد کے لیے غلط اقتصادی جائزے، فریبی مالیاتی رپورٹیں، ملکی انتخابات میں دھاندلی، طوائفیں، رشوت اور دھمکی جیسے ہتھیار استعمال کرتے تھے اور ضرورت پڑنے پر قتل بھی کروا دیتے تھے۔

اپنے ایک انٹرویو میں پرکنز نے بتایا کہ پہلا معاشی کرائے کا قاتل Kermit Roosevelt, Jr تھا جو چھبیسویں امریکی صدر روزویلٹ کا پوتا تھا۔ اس نے 1953 میں ایران میں محمد مصدق کی حکومت کا تختہ پلٹوایا تھا، جبکہ مصدق قانونی طریقے سے انتخابات جیت کر صدر منتخب ہوا تھا۔ مصدق کا جرم یہ تھا کہ اس نے برٹش پیٹرولیم کمپنی کو قومی ملکیت میں لے لیا تھا جو پورے ایران میں تیل کی پیداوار کو کنٹرول کرتی تھی۔ برطانوی M16 اور امریکی CIA نے مصدق کی جگہ ایرانی جنرل فضل اللہ زاہدی کو شاہ ایران بنا دیا۔ اس منصوبے کی کامیابی سے ثابت ہوا کہ معاشی کرائے کے قاتل سے کام کروانے کا خیال کتنا درست ہے۔

پرکنز کے مطابق اس بات میں کوئی شبہ نہیں کہ عالمی بینک بھی معاشی کرائے کے قاتلوں کا ایک آلہ ہے۔ وہ لکھتا ہے کہ میرے کاموں میں سے ایک یہ بھی تھا کہ ایسے ممالک کو تلاش کروں جہاں قدرتی وسائل موجود ہوں مثلاً تیل۔ اور پھر ان ممالک کے لیے عالمی بینک اور اسکی ساتھی کمپنیوں سے بڑے بڑے قرضوں کا بندوبست کروں۔ لیکن قرض کی یہ رقم کبھی بھی ان ممالک تک نہیں پہنچتی تھی بلکہ یہ ہماری ہی دوسری کارپوریشنوں کو ادا کی جاتی تھی جو ان ممالک میں انفراسٹرکچر بنانے کا کام کرتی تھیں مثلاً پاور پلانٹ لگانا اور انڈسٹریل پارک بنانا۔ ساری رقم اور سود چند مٹھی بھر خاندانوں میں واپس چلی جاتی تھی جبکہ اس ملک کے عوام پر قرضوں کا ایسا انبار رہ جاتا تھا جو وہ کبھی ادا نہیں کر سکتے تھے۔ ایسے موقعوں پر ہم پھر واپس آتے تھے اور کہتے تھے کہ چونکہ تم قرض ادا نہیں کر سکے ہو اس لیے تمہارا قرض "ری اسٹرکچر" کرنا پڑے گا۔ اب IMF کو گھسنے کا موقع ملتا تھا۔ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (IMF) ان سے کہتا تھا کہ ہم تمہارا قرض ری اسٹرکچر کرنے میں تمہاری مدد کریں گے لیکن تمہیں اپنا تیل اور دوسرے ذخائر ہماری کمپنیوں کو کم قیمت پر بیچنا پڑے گا اور وہ بھی بغیر کسی پابندی کے۔ یا پھر وہ مطالبہ کرتے تھے کہ اپنے بجلی اور پانی کے ذرایع ہماری کارپوریشن کے کنٹرول میں دے دیے جائیں یا ہمیں فوجی اڈہ بنانے کی اجازت دی جائے یا ایسی ہی کوئی اور شرط۔ حتیٰ کہ وہ اسکولوں اور جیلوں تک کا کنٹرول اپنے ہاتھ میں لینے کا مطالبہ کرتے تھے۔ [1]

بین الاقوامی قرض کی کہانی[ترمیم]

28 جنوری 2005 کو بی بی سی اردو ڈاٹ کام،لندن پر راشد اشرف صاحب لکھتے ہیں:
ترقی یافتہ ملکوں کے گروپ پیرس کلب نے فیصلہ کیا ہے کہ سونامی کی تباہی والے ملکوں کے قرض کی ادائیگی کو منجمد کردیا جائے یعنی وہ فی الحال قسطوں کی ادائیگی روک دیں۔

عالمی بینک اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے جائزے کے بعد قسطوں کی ادائیگی دوبارہ شروع کی جائے گی۔ انڈونیشیا، سری لنکا اور سیشیلز نے اب تک اس میں دلچسپی کا اظہار کیا ہے۔

عالمی بینک کے اعداد و شمار کے مطابق متاثرہ ملکوں پر تقریباً 357 بلین ڈالر کا قرض ہے جس میں انڈونیشیا پر ایک سو بتیس اعشاریہ دو بلین ڈالر میں سے پیرس کلب کے ملکوں کا قرض اڑتالیس بلین ڈالر ہے۔ موجودہ سال کے دوران اسے اصل اور سود ملا کر چار اعشاریہ ایک بلین ڈالر ادا کرنے ہیں۔

دنیا کے غریب ملک سالانہ ڈھائی سو بلین ڈالر کے قریب قسطوں کی ادائیگی کرتے ہیں جس میں تھوڑا سا اصل باقی سود ہوتا ہے۔تین سال پہلے کے تخمینوں کے مطابق غریب ملک پینتالیس ہزار بلین ڈالر کے مقروض ہیں۔

ایسا بے حساب قرض کیسے اکٹھا ہو گیا۔ یہ کہانی سننے والی ہے۔

ہم میں سے کچھ لوگوں کو انیس سو ستر کی دہائی کے دن یاد ہونگے جب تیل کا بھاؤ بہت اونچا چلاگیا تھا اور تیل پیدا کرنے والے ملکوں کے پاس بے اندازہ دولت آ گئی تھی۔اس دولت کو جہاں جانا تھا وہیں گئی یعنی یورپی بینکوں میں۔پیسہ پیسے کو کھینچتا ہے۔ بینکوں نے اسے آگے سود پہ دینا چاہا۔ امیر ملک اس زمانے میں کساد بازاری کا شکار تھے۔ وہاں مشکل ہی سے کوئی تھا جو سرمایہ کاری پر تیار ہوتا۔

بینکوں نے غریب ملکوں کی طرف دیکھاجن کو عالمی بینک کی طرح کے بڑے بڑے دانشمند مغربی مشیر سمجھانے میں لگے تھے کہ اپنی معیشت کو کیسے سنواریں ۔مشیروں نے ناداروں کو مشورہ دیا کہ قرض لینے کا یہ موقع ہاتھ سے نہ جانے دیں، وافر رقم بھی ہے، سود کی شرح بھی کم ہے۔دیکھتے دیکھتے قرض ایسے بڑھنے لگا جیسے آ کاس بیل پھیلتی ہے کہ قابو میں نہیں آتی۔

غریب ملکوں کے سیاستدانوں کو کھل کر کھیلنے کا موقع ملا۔ اسٹاک ہوم کے پیس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کا اندازہ ہے کہ قرض کابیس فیصد ان ملکوں نے ہتھیار اور اسلحہ خریدنے پر خرچ کردیا۔ ڈکٹیٹروں نے اپنے ہی لوگوں کا خون بہانے اور انہیں دہشت زدہ کرنے کے لیے یہ ہتھیار استعمال کئے اور امریکہ، برطانیہ، سوویت یونین، فرانس، مشرقی جرمنی اور چیکوسلاواکیہ جیسے بہت سے ملکوں میں اسلحہ سازوں کی چاندی ہوگئی۔

قرض کا بہت سا پیسہ فضول کے منصوبوں پر نمود نمائش کے لیے لٹایا گیا۔ مثلاً فلپائن کی حکومت نے دو اعشاریہ دو بلین ڈالر باٹان کے جوہری بجلی گھر پر خرچ کرڈالے۔ اس سفید ہاتھی نے کبھی بجلی پیدا نہیں کی لیکن فلپائن کی حکومت دو لاکھ ڈالر یومیہ قرض قسطوں میں ادا کررہی ہے۔

بہت سی رقومات خرد برد بھی ہوئیں۔ فلپائن کے صدر مارکوس اور ان کی اہلیہ، میکسیکو کے لوپیز پورٹیلو، نکارا گوا کے انستازیئو سموزا، نائجیریا کے فوجی جرنیل ، زائیر کے صدر موبوتو یہ سب امیر کبیر لوگوں میں شمار ہونے لگے۔

ان بڑے بڑے لوگوں نے جو کچھ کیا اسے بینکوں اور مالیاتی قانون کی زبان میں سرقہ کہتے ہیں۔مغرب میں بینکاری کے ضابطوں کے مطابق بینک قرض دینے سے پہلے پورا اطمینان کرلیتے ہیں کہ مانگنے والا قابل اعتبار ہے یا نہیں۔ لیکن تیسری دنیا کو بینکوں نے آنکھ بند کرکے قرض دیے۔ صرف اپنے بچاؤ کے لیے بڑے بینکوں کے ذریعہ قرض دیے گئے تاکہ عدم ادائیگی کی صورت میں نقصان کو آپس میں تقسیم کیا جاسکے۔

بینکوں اور مغربی حکومتوں کو فلپائن کے صدر مارکوس کی طرح کے لوگوں کے بارے میں بخوبی معلوم تھا کہ ظالم اور جابر بھی ہیں اور بد عنوان بھی لیکن سرد جنگ نے اخلاق کے جو پیمانے ڈھال دیے تھے ان میں مارکوس اور پینوشے کی طرح کے ظالموں اور جابروں سے تعلقات قائم رکھنے میں مغربی طاقتوں کو کوئی عار نہیں تھا۔

کہانی یہیں ختم نہیں ہو جاتی۔ اس کا ایک اور رخ بھی ہے۔ جب قرض شروع ہوئے تھے تو بہت معمولی سا شرح سود طے ہوا تھا۔ لیکن معاہدوں میں یہ شق بھی تھی کہ سود کی شرح امریکی شرح سود سے ایک فیصد زیادہ رہے گی۔ انیس سو اسی کے آتے آتے مغربی دنیا میں عمومی طور پر اور امریکہ میں خاص طور سے شرح سود اس حد تک بڑھنا شروع ہوئی کہ ایک وقت میں ساڑھے اکیس فیصد تک پہنچ گئی ۔ اب تیسری دنیا پر قرض کا بوجھ ناقابل بیان حد تک بھاری ہو گیا ۔

ایک جانب شرح سود بڑھ رہی تھی تو دوسری طرف تیسری دنیا کی پیداوار جسے خام اشیا کہا جاتا ہے اس کی قیمتیں گررہی تھیں کیونکہ یورپ اور امریکہ میں کساد بازاری تھی۔ اس کی ایک مثال یہ دی جاسکتی ہے کہ سیسہ، زنک، ٹین، چینی، کافی، اور چائےان سب کے مجموعی بھاؤ انیس سو چوہتر کے مقابلے میں انیس سو اٹھاسی میں اڑتالیس فی صد کم ہو گئے تھے۔ یعنی مقروض ملک اتنا زرِمبادلہ نہیں کما پارہے تھے کہ قرض کی قسطیں ادا کرسکیں۔

اگست انیس سو بیاسی میں مکسیکو نے دھمکی دی کہ وہ قرض کی ادائیگی نہیں کرسکتا اس لیئے اسے نادہندہ قرار دے دیا جائے۔میکسکو اگر نادہندہ ہو جاتا تو وال اسٹریٹ کے کئی بینکوں کا دیوالیہ نکل جاتا۔عالمی بینک اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ فوراً حرکت میں آ گئے اور تیسری دنیا کے لئے ایک پروگرام طے کیا گیا، ’اقتصادی استحکام اور انتظامات میں رد وبدل کاپروگرام‘۔

سیپس نامی یہ پروگرام بظاہر سادہ اور سمجھ میں آنے والے اصول کو مد نظر رکھ کر بنایا گیا تھا یعنی زیادہ کماؤ ، کم خرچ کرو مگر جب تفصیلات طے کی جاتیں تو تصویر تھوڑی سی بدل جاتی۔ اقتصادی استحکام کے لئے عام طور سے حکم دیا جاتا کہ اپنی کرنسی کی قیمت کم کرو، سرکاری اخراجات کم کرو، ملک میں قیمتوں پر کنٹرول ختم کرو، تنخواہوں میں تخفیف کرو، باہر کی سرمایہ کاری اور درآمدات کے لئے دروازے کھولو، کارخانوں اور کھیتوں میں وہ چیزیں پیدا کرو جو برآمد کرسکتے ہو، سرکاری صنعتوں اور کارخانوں کی نج کاری کرو اور اگر بڑے پیمانے پر بے روزگاری پھیلے تو پرواہ نہ کرو، تعلیم ، صحت اور سماجی بہبود کا بجٹ کم کرو۔

اس طرح کے جو پیکج ترقی پذیر ملکوں میں رائج کیے گئے انہوں نے تباہی پھیر دی۔ اس پروگرام کا اثر یہ ہواکہ ملک جو کچھ کما رہا ہے وہ سب زرِمبادلہ میں بدل دیا جائے اور یہ زرِمبادلہ قرض کی قسط کے طور پر ادا کردیا جائے۔

ان پابندیوں نے غریب ملکوں میں عوام کی کمر توڑ کے رکھ دی۔ خاص طور عورتوں اور بچوں کی بہبود کی ساری تدبیریں الٹ پلٹ ہو گئیں۔بہت شور مچا تو حال میں قرض خواہوں نے سیپس میں ایک اور پروگرام کا اضافہ کرکے اس کے اثرات کو محدود کرنے کی کوشش کی ہے۔ نئے پروگرام کو’ غربت میں کمی کی تدابیر‘ کا نام دیا گیا ہے۔

مطالبہ اب یہ کیا جارہا ہے کہ یہ تمام قرض ختم کردیے جائیں کیونکہ ایک تو غریب ملک کبھی بھی انہیں ادا نہیں کر سکیں گے ۔ دوسرے سود کی شکل میں مقروض ملک اصل سے کہیں زیادہ ادا کرچکے ہیں۔جبکہ پینتالیس ہزار بلین ڈالر امیر ملکوں کے پورٹ فولیو کا صرف پانچ فیصد حصہ ہے اس لیے ان کی صحت پر کوئی خاص اثر نہیں پڑے گا۔

امیر ملکوں میں اس بات پر کئی سال سے سوچ بچار ہو رہا ہے لیکن دوسری جانب کچھ مقروض ملک یہ نہیں چاہتے کہ ان کا قرض معاف کردیا جائے۔ مثال کے طور پر تھائی لینڈ نے جی سیون سے کہا ہے کہ وہ اپنی قسطیں منجمد نہیں کرانا چاہتا۔

کیوں؟ بات یہ ہے کہ بینکاری کے ضوابط کے مطابق معاف شدہ رقم غیر ادا شدہ رقم ہو جاتی ہے اور ایسے شخص، ادارے یا ملک کا شمار نادہندوں میں ہونے لگتا ہے اور اس کے آئندہ قرض لینے میں دشواری ہوتی ہے۔[2]


مزید دیکھیے[ترمیم]


انگریزی ویکی پیڈیا پر[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]