معاہدۂ ادرنہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
سینٹ پیٹرز برگ کے ماسکو ابواب الفتح، جنہیں ترک روس جنگوں میں فتح کی یاد میں تعمیر کیا گیا تھا

جنگ ناوارینو میں کامیابی اور یونان کی آزادی کے بعد روس نے قسطنطنیہ پر قبضے کی خواہش کو عملی جامہ پہنانے کا منصوبہ بنایا اور اس مقصد کے حصول کے لیے سلطنت عثمانیہ پر چڑھائی کر دی۔ روسی افواج مالدووا اور افلاق (ولاچیا) پر قبضہ کرتی ہوئی آگے بڑھتی رہیں اور بالآخر 1829ء میں ادرنہ تک پہنچ گئیں۔ بالآخر عثمانی سلطان محمود ثانی کو صلح کرنا پڑی اور روس اور سلطنت ‏عثمانیہ کے درمیان اس وقت جو معاہدہ طے پایا اسے معاہدہ ادرنہ (انگریزی:Treaty of Adrianople) کہا جاتا ہے۔

شرائط[ترمیم]

اس معاہدے کی رو سے

  1. روسیوں نے یورپی ترکی کے تمام مقبوضہ مقامات سلطنت عثمانیہ کو واپس کر دیے۔
  2. دریائے ڈینیوب اور مالدووا کا ایک حصہ سلطنت روس میں شامل کر لیا گیا
  3. روس ایشیا میں چند قلعوں کے علاوہ بقیہ فتوحات سے دستبردار ہوگیا۔
  4. افلاق اور مالدووا کے امیروں کا انتخاب تاحیات ہونا قرار پایا۔
  5. افلاق اور مالدووا میں ترک افسران کی مداخلت اور کسی مسلمان کو رہائش اختیار کرنے کا حق ترکوں کو نہیں دیا گیا۔
  6. وہاں رہنے والے مسلمانوں کو جائیدادیں فروخت کرنے کی مہلت دی گئی۔
  7. سلطنت عثمانیہ کی فرمانروائی صرف نام کی رکھی گئی اور سالانہ خراج مقرر ہوا جو دو سال تک معاف قرار پایا۔
  8. سرویا (سربیا) کے لیے بھی اس طرح کی آزادی کا اعلان ہوا اور ان کے معاملات میں سابقہ معاہدے کے مطابق فوری عملدرآمد شروع کرنا قرار پایا۔
  9. بحیرہ اسود، باسفورس اور درہ دانیال روس کے تجارتی جہازوں کے لیے کھول دیا جائیں گے۔
  10. دوران جنگ روس کو پہنچنے والے تجارتی نقصان کو تلافی بطور تاوان دس سالانہ قسطوں میں ادا کرنا مقرر ہوا اور تمام اقساط وصول کرنے تک روس کی فوجیں افلاق اور مالدووا پر قابض رہیں گی۔
  11. صلح کے اس معاہدے کی سب سے بنیادی بات یونان کی آزادی تھی اور اس کی روس سے سلطنت عثمانیہ نے لندن میں طے ہونے والے معاہدے کی شرائط کو بھی تسلیم کیا۔
  12. چند ماہ بعد سلطنت عثمانیہ نے یونان کی خودمختاری کو تسلیم کر لیا اور اس حدود بندی کو بھی قبول کیا جو یورپی طاقتوں کی طرف سے کی گئی تھی۔

معاہدہ ادرنہ میں یونان خود مختار ہوا اور سرویا کو نیم آزادی ملی لیکن یونان کے آئے دن کے جھگڑوں سے یورپ کو پھر مداخلت کرنا پڑی جبکہ مصر کے والی محمد علی پاشا نے بھی سلطنت کی اطاعت سے منہ موڑ لیا تھا اور برطانیہ نے بھی اس سے اپنا رویہ بدلا۔ یونان کا مسئلہ 1832ء میں لندن کانفرنس میں مستقلاً حل ہو گیا جہاں یونان کی آزادی کو برقرار رکھا گیا۔