معروف کرخی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش

حضرت معروف کرخی: آپ آٹھويں امام(امام علی رضا علیہ السلام)کے خاص صحابی تھے۔

حضرتِ سیِّدُنا شیخ معروف کرخی علیہ رحمۃ اللہ القوی حضرت ِسیِّدُناشیخ معروف کرخی علیہ رحمۃ اللہ القوی کی وِلادت مقامِ کرخ میں ہوئی ۔آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کا نام اسد الدین ہے لیکن معروف کرخی کے نام سے مشہور ہیں ۔آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی کنیت ابومحفوظ ہے۔آپ کے والدِ ماجد کا نام فیروز ہے ۔ قبولِ اسلام کا واقعہ ابتداء میں حضرت معروف کرخی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ غیر مسلم تھے مگر بچپن ہی سے آپ کے قلب وجگر میں اسلام کی تڑپ اور جوش و عقیدت موجود تھی۔ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ مسلمان بچوں کے ساتھ نماز پڑھتے اور ماں باپ کو اسلام کی ترغیب دیتے رہتے ۔ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے والدین نے ایک عیسائی معلم کے پاس آپ کو تعلیم حاصل کرنے کے لئے بیٹھا دیا ۔اس معلم نے پہلے آپ سے سوال کیا کہ بچے! یہ بتاؤ کہ تمہارے گھر میں کتنے افراد ہیں؟ آپ نے کہا :"میں ، میرے والد اور میری والدہ کل تین افراد ہیں ۔" وہ کہنے لگا: "تو تم کہو" ثَالِثُ ثَلَا ثَۃٍ " یعنی عیسیٰ تین خداؤں میں تیسرا ہے ۔" آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں : "میری غیرت نے یہ گوارہ نہ کیا کہ ایک کے سوا دوسرے کو رب مانوں، اس لئے میں نے فوراً انکار کر دیا۔ اس پر معلم نے مجھ کو مارنا شروع کیا۔ وہ جس شدت سے مارتا میں اسی جرأت سے انکار کرتا ۔آخر عاجز ہو کر اس نے میرے والدین سے کہا کہ اس کو قید کر دو۔تین روز تک قید میں رہا اور ہر روز ایک روٹی ملتی تھی مگر میں نے اس کو چھوا تک نہیں ۔ جب مجھے وہاں سے نکالا گیا تو میں بھاگ گیا ۔چونکہ میں والدین کا ایک ہی بیٹا تھا اس لئے میری جدائی سے انہیں سخت قلق ہوا ۔ وہ کہنے لگے : "ہمارا بیٹا جہاں بھی گیاہے ہمارے پاس لوٹ توآئے ، وہ جس مذہب کو چاہے اختیار کرے ہم بھی اسی کے ساتھ اپنا دین تبدیل کردیں گے۔" جب میں حضرت سیدنا امام علی رضا رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے دست مبارک پر داخلِ اسلام ہو کر ایمان کی انمول دولت کو اپنے سینے سے لگائے گھر واپس ہوا ، میرے اسلام قبول کرنے کی وجہ سے الحمد للّٰہ عَزَّوَجَلَّ میرے والدین بھی مسلمان ہو گئے۔ صَلُّو ا عَلَی الحَبِیب صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے مکمل تعلیم وتربیت حضرت سیدنا امام علی رضا رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے زیرِ سایہ پائی اور فقہ حنفی کے عظیم پیشوا حضرت سیِّدُنا امام اعظم ابوحنیفہ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سے بھی علمِ دین حاصل کیا اور علمِ طریقت کے لئے حضرت سیِّدُنا حبیب راعی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے سامنے زانوئے تلمذطے کئے ۔ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ عارفِ اسرارِ معرفت، قطبِ وقت اور بدرِ طریقت تھے۔ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کا وصال شریف ٢محرم الحرام ٢٠٠ہجری کو ہوا ۔آپ کا مزار شریف بغدادِ معلی میں زیارت گاہِ خلائق ہے ۔حضرت سیدنا خطیب بغدادی علیہ رحمۃ اللہ الھادی فرماتے ہیں : "آپ کی قبرمبارک حاجتیں اور ضرورتیں پوری ہونے کے لئے مجرّب (یعنی آزمودہ)ہے۔" اللّٰہ عَزّوَجَلَّ کی اِن پر رحمت ہو اور اِن کے صد قے ہماری مغفِرت ہو صَلُّو ا عَلَی الحَبِیب صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد چہرے کا نشان ایک شخص کا بیان ہے کہ میں حضرت سیِّدُنا ابو محفوظ معروف کرخی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خدمت میں حاضر تھا ۔ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے میرے لئے دعا فرمائی اور میں واپس گھر آ گیا ۔ دوسرے دن پھر آپ کی خدمت میں حاضر ہوا تو دیکھا کہ آپ کے چہرہ پر نشان بنا ہوا ہے جیسے کوئی چوٹ لگی ہو ۔کسی نے آپ سے پوچھا : "اے ابو محفوظ! ہم کل آپ کے پاس سارا دن رہے ، آپ کے چہرہ پر کوئی نشان نہ تھا ، یہ کیا نشان ہے اور کیسے ہوا؟" آپ نے فرمایا : "اپنے مطلب کی بات کرو اسے چھوڑ یہ تمہارے مطلب کا سوال نہیں ہے ۔" اس شخص نے عرض کیا ، آپ کو اپنے معبود کی قسم ! آپ اس بارے میں کچھ بتائیں! اس پر آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ارشاد فرمایا : " میں نے گزشتہ رات یہاں نماز ادا کی اور خواہش ہوئی کہ بیت اللہ کا طواف کر لوں پس میں مکہ شریف چلا گیا ، طواف کیا پھر زمزم کی طرف چل پڑا، تاکہ اس کا پانی بھی پی لوں تومیں دروازہ پر پھسل گیا ، گرنے کی وجہ سے میرے چہرہ پر جو تم دیکھ رہے ہو چوٹ آ گئی ۔ (جامع کرامات اولیاء ،ج ٢،ص٤٩١)