معیار طلا

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
Under a gold standard, paper notes are convertible into pre-set, fixed quantities of gold.

معیار طلا یا سونا کا معیار نظام پیسہ ہے جس میں اقتصادیات کی اکائی سونا کی متعین کمیت ہے۔

طلائی معیار مالیاتی نظام کی ایک قسم تھی جس میں ایک کاغذی روپیہ،(یا ڈالر، پاونڈ وغیرہ) سونے کی ایک مخصوص مقدار کی نمائندگی کیا کرتا تھا۔[1] طلائی معیار کا قانون مرکزی بینکوں کی جانب سے ان سونے کے سکّوں کی بجائے کاغذی سکّہ رائج الوقت کا استعمال زیادہ سے زیادہ قابل قبول بنانے کی غالباً پہلی اور بڑی حد تک کامیاب کوشش تھی۔ لوگ یہ سمجھ کر کاغذی سکّہ رائج الوقت قبول کرنے لگے کہ اسکے بدلے جب چاہیں بینک سے سونے کے سکّے حاصل کر سکتے ہیں۔

طلائی معیار کی اقسام[ترمیم]

  • طلائی نقدی معیار: اسے کلاسییکی طلائی معیار بھی کہتے ہیں۔ اس میں ایک کاغذی روپیہ ایک چاندی کے روپے کے برابر ہوتا تھا اور 15 چاندی کے روپے ایک سونے کے سکّے (طلائی مہر یا اشرفی) کے برابر تھے۔ یہ وہ زمانہ تھا جب برطانوی ہندوستان میں صرف سونے چاندی تانبے وغیرہ کے سکّے چلتے تھے اور انگریز حکومت کاغذی سکّہ رائج الوقت کا رواج شروع کر رہی تھی۔ کاغذی سکّہ رائج الوقت پہ اعتبار بڑھانے کے لیے شروع شروع میں تو لوگوں کو بینک سے کاغذی روپیہ کے بدلے سونا یا چاندی دے دی جاتی تھی مگر رفتہ رفتہ یہ مشکل تر ہوتا چلا گیا۔ یہ نظام 1821 سے پہلی جنگ عظیم (اگست 1914) تک چلا۔ ہندوستان میں قانون تو طلائی معیار کا بنا تھا لیکن چند سالوں بعد ہی عملی طور پر "طلائی تبدل معیار" رواج دے دیا گیا اور حقیقی طلائی معیار کے تقاضے کبھی بھی پورے نہ ہو سکے۔ برطانیہ میں طلائی معیار کا قانون 1816 میں بنا تھا جس کے بعد اگلے سال سونے کا سکہ "سوورین" جاری کیا گیا جو 22 قیراط سونے سے بنا تھا اور اس میں 7.3 گرام خالص سونا ہوتا تھا۔ یہ ایک پاونڈ یعنی 20 چاندی کے شلنگ کے برابر تھا۔ نومبر 1864 میں اسکی قیمت 10 ہندوستانی روپے کے مساوی قرار دی گئی تھی۔
  • طلائی تبدل معیار: اس نظام میں سونے چاندی کے سکّے گردش میں نہیں ہوتے تھے اور حکومت اس بات کی ضمانت دیتی تھی کہ کاغذی روپیہ کے بدلے ایک مقررہ مقدار میں سونا دیا جائے گا جو حکومت (یا مرکزی بینک) کے پاس محفوظ رکھا ہوتا تھا۔ اس زمانے میں لوگوں کا بینک سے کاغذی روپیہ کے بدلے سونا یا چاندی حاصل کرنا بہت مشکل بنا دیا گیا تھا۔ تاریخ گواہ ہے کہ اس ضمانت کی آڑ میں دنیا بھر میں حکومتوں اور مَرکزی بینکوں نے عوام کا سونا بڑی مقدار میں ہڑپ کر لیا۔ ہندوستان کی برطانوی حکومت نے اس دوران بڑی مقدار میں سونا ہندوستان سے انگلستان بھیجا اور اس طرح ہندوستان میں سونے کی قلّت پیدا ہو گئی تھی جس کو چھپانے کے لیئے اصلی سکّوں کی جگہ کاغذی سکّہ رائج الوقت کو ہی قانونی سکّہ رائج الوقت قرار دیا گیا۔ اس نظام کو لانے کی وجہ یہ تھی کہ پہلی جنگ عظیم کے بعد برطانیہ پہ 85 کروڑ پاونڈ کا قرضہ چڑھ چکا تھا اور حکومت کے اخراجات کا 40 فیصد سود ادا کرنے پر خرچ ہوتا تھا۔ (سو سال بعد آج برطانیہ پہ 31 ارب پاونڈ کا قرضہ ہے)۔ یہ نظام 1925 سے 1931 تک چل سکا۔ مئی 1931 میں آسٹریا کے سب سے بڑے بینک میں بینک دوڑ ہوا اور وہ بینک ناکام ہو گیا۔ یہ بینک دوڑ اسی سال جرمنی اور برطانیہ تک پہنچ گیا۔ 19 ستمبر 1931 میں برطانیہ نے یہ نظام ختم کر دیا جس سے برطانوی پاونڈ کی قیمت بڑی تیزی سے گری۔ چونکہ ہندوستانی روپیہ پاونڈ سے منسلک تھا اس لیئے روپے کی قدر بھی بہت کم ہو گئی۔ صرف تین چار مہینوں میں ہندوستان میں سونے کی قیمت 45 فیصد اضافہ کے بعد لگ بھگ 32 روپے تولہ ہو گئی۔ یہ سب مرکزی بینکوں کی جانب سے ذخیرہ شدہ سونے کی مالیت سے کہیں زیادہ نوٹ چھاپنے کا نتیجہ تھا۔ اس سارے بحران میں مرکزی بینکوں نے خوب خوب کمایا۔
  • طلائی سلاخ معیار: اس نظام میں عام آدمی کے لیئے کاغذی سکّہ رائج الوقت کے بدلے بینک سے سونے کا سکہ لینے کا حق ختم کر دیا گیا۔ صرف چند امیر لوگوں کے پاس یہ حق باقی رہ گیا جو دوسرے ممالک سے تجارت کرتے تھے اور یک مشت 400 اونس (لگ بھگ ساڑھے بارہ کلو) کی سونے کی اینٹ خرید سکتے تھے۔ ریزرو بینک آف انڈیا کے گورنر سر چنتا من راو دیشمکھ نے ہندوستان میں برطانوی حکومت کی پالیسیوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ "ایسی اصلاحات کے بعد انڈیا آفس اس طرح کا نا ممکن کاروبار ہو سکنے کے بارے میں اندھا ہے اور بے چارے مالیاتی حکام کو اسمبلی میں کھڑے ہو کر اُن پالیسیوں کا دفاع کرنا پڑتا ہے جنہیں وہ خود بھی غلط سمجھتے ہیں اور جنکے نقصانات بڑے واضح ہوتے ہیں"۔ ہندوستان کے لوگوں کو بینکاری کی عادت ڈالنے کے لیئے ایسٹ انڈیا کمپنی کے زمانے سے ہی ڈاک خانوں میں پوسٹل سیونگ بینک بنائے گئے جن سے متوسط اور نچلے طبقے کے پاس محفوظ سونا چاندی بٹورنا ممکن ہو گیا۔ 1879 میں ان پوسٹل سیونگ بینکوں کی جانب سے 4 فیصد سے زیادہ سود دیا جاتا تھا جو بعد میں کم ہوتا چلا گیا۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 1932 سے مارچ 1941 تک ہندوستان کی برطانوی حکومت نے 1337.5 ٹن سونا برطانیہ بھیجا جسکی مالیت 375 کروڑ روپے تھی۔ اس وقت اس سونے کی اوسط قیمت 33 روپے فی تولہ سے بھی کم تھی۔ اس سونے سے بینک آف انگلینڈ کو سونے کا ذخیرہ بنانے میں بڑی مدد ملی۔[2]