مفتى عميم الاحسا ن

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
Bare Dada.png

حضرت سید محمد عمیم الا حسان بر کتی (বাংলা: মুফতী সাইয়্যেদ মুহাম্মদ আমীমুল ইহসান বারকাতী ) (English :Mufti Amimul Ehasan) عالم اسلام کے وہ روشن چراغ تھے جنکے علم کی روشنی سے تمام عا لم اسلام منور تھا۔ آپ اپنی ذات میں مفتی، محدس، فقیہ اور بیشمار دینی کتابوں کے مصنف کے حیثيت سے مشہورتھے ۔

ولادت[ترمیم]

حضرت مفتی صاحب کی ولادت 1911ع 24 جنوری ، 1329 ھ 22 محرم بروز پیر ہوی۔ اپکے والد سید حکیم عبدالالمنان اور والد ہ ما جدہ سید ہ سا جدہ خاتون۔آپ کو نجیب الطرافین کا سر ف حا صل تھا، اور اپکا نضب نامہ آخری نبی حضرت محمدﷺ تک تھا۔

تعلیم و تربیت[ترمیم]

حضرت مفتی صاحب کی ابتدای تعلیم و تر بیت اپنے والد اور چچا کے پاس ہوئی ۔ اپنے چچا سید عبد الدیان کے زیر نگرانی 5 سال کے عمر میں قرآن ختم کیا۔ کم عمر ی سے اپنے چچا کے ساتھ سید ابو محمد برکت علی شاہ کے محفل میں جا یا کر تے تھے۔ آپ نے دس سال کی عمر میں سید برکت علی شاہ کے ہاتھو ں بیعت ہوے ، اور اپکے نامِ نامی میں برکتی کا اضافا ہوا۔ آپ اپنے چچا کے ذیر نگرانی کلکتہ عالیہ مدرسہ میں داخل ہوے۔ حضرت مفتی صاحب 1933ع میں کامل حدیث میں فرست کلاس فرست ہو ےاور اپنی ا س اعلٰی کار گر دگی کی بنا انہیں گولڈ میدل کے اعزاز سے نوازا گیا۔1934ع میں اپکے استاد مولانا مفتی مشتاق احمد کانپوریؒ سےمفتی ہونے کا اعزاز حاصل کیا۔ اپکے زندگی کا ایک سنہرا اور نادر موقع تھا کے ویست بنگال کی حکو مت نے انہیں 1935 ع میں گراند مفتی کے اعزاز سے نوازا، اسی بنا انہیں مفتی اعظم بھی کہا جاتا ہے۔

دنیاوی ذمہ داری[ترمیم]

1927 میں مفتی صاحب کے والد محترم کا انتقا ل ہوا۔ انتقا ل سے دو ماہ قبل مفتی صا حب کو ا اپنا وارث اور جانشین مقّر ر کیا، اور اپنے تمام تبررُکات سے نوازا۔ اپنے والد کے انتقا ل کے بعد آپ نے والد کی مطب کی زمہ داری سنمبھا لی ، اور اپنے چھوٹے بھای، بہنو ں کی زمہ داری بخبوبی نبھای۔اس کے ساتھ جلیا ٹولی کی مسجد جو کہ حضرت مفتی صاحب کے خاندان کے زیر سایہ تھی ، اس کی امامت اور خطیب کی زمہ داری بھی بخبوبی نبھای۔ 1934 ع میں کلکتہ کی سب سے بڑ ی مسجد - مسجد ناخدا کی امامت اور خطیب کی زمہ داری بھی سنمبھا لی ۔ 1935 ع میں انہیں مسجد ناخدا کی دارول افتا میں مفتی اعظم کی زمہ داری سے بھی نوازا گیا۔ کلکتہ کی مسجد ناخدا کی بطور مفتی انہوں نے بے شمار مشہو ر ومعروف اور نادر فتوے جار ی کئے۔ 1943 ع میں کلکتہ مدرسہ عالیہ میں بطور صدرُالمُدَّرِس آپ نے اعہدا سنمبھالا۔ 1947 ع میں جب کلکتہ مدرسہ عالیہ ڈھاکہ منتقل ہوا تو آپ بھی ڈھاکہ تشریف لے آے۔ 1956 ع میں اپکو ڈھاکہ مدرسہ عالیہ کے ہیڈ مولانا کا اعہدا ملا۔ آپ 1969 ع میں ہیڈ مولانا اعہدسے ریٹایر ہوے۔

ڈھاکہ میں اپکا قیام[ترمیم]

1947 ع میں آپ ڈھاکہ تشریف لا ے ۔ اس کے تقریباً ایک سال بعد اپکے منجھلے بھای سید نعمان برکتی بھی ڈھاکہ تشریف لا ے ۔

مسجد سے وابستگی اور اس کی تعمیر نو[ترمیم]

49- 1948 ع میں جناب نعمان برکتی کے ایک واقف کار نے کولوٹولہ ڈھاکہ کے اس تاریخی مسجد کے بارے میں بتایا، جو کہ تبا ہ شدہ حال میں تھا اور اس مسجد میں نماز کا بھی کوی انتظام نہین تھا۔ جناب نعمان برکتی نے اپنے بڑ ے بھای مفتی عمیم الا حسان بر کتی کو مسجد کے اس زبوں حالی سے آگا ہ کیا۔ آپ دونو ں بھای نے ایک دن دوپہر کو اس مسجد میں تشریف لا ے اور جناب نعمان برکتی نے اپنے ہاتھوں سے مسجد کے صحن کو صاف کیا ۔ اس صفای کے دوران ایک پتھر ملا جس میں یہ لکھا تھا ایہ مسجد 1232ھ کی ہے۔ نہ جانے کتنے برسوں بعد اس مسجد میں سید نعمان برکتی نے اعزان دیا اور حضرت مفتی صاحب کے امامتی میں ظہر کی نماز ادا کی گئی۔ اس تاریخی مسجد کے دوبارہ اباد ہوتے ہی حضرت مفتی صاحب نے اس مسجد کے امامت اور خطیب کی زمہ داری ادا کی۔ وقتہً فوقتہً جب کہ حضرت مفتی صاحب ڈھاکہ میں موجود نہیں ہوتے یا حج میں ہوتے تو جناب سید نعمان برکتی یہ زمہ داری ادا کرتے۔ 1964 ع میں آپ مفتی صاحب بیت المکّرم ڈھاکہ مسجد کے خطیب مقرّر ہوے تو آپنے کولوٹولہ کے اس تاریخی مسجد کے خطیب کی زمہ داری اپنے بھای جناب سید نعمان برکتی کو دیا۔ 82 -1981 ع میں جناب سید نعمان برکتی نے یہ زمہ داری اپنے چھوٹے صاحبزادے مولانا سیدصفوان نعمانی کو سونپا۔ 94 -1993 ع میں کولوٹولہ کے اس تاریخی مسجد کے مزید تعمیر نو کے بعد اہل اعلاقہ کے مشورے سے اس مسجد کا نام مفتی صاحب سے منسوب کر کے مسجد مفتی اعظم رکھا گیااور یہ ڈھاکہ کی یہ واحد مسجد ہے جسنے 10 محرم 1432 ھ، 17 دسمبر 2010 ع میں اپنا دوسو سالہ دور ا یک بارونق واعظ اور میلا محفل کے زریع منایا۔

بیت المُکّرم مسجد ڈھاکہ[ترمیم]

1964 ع میں جو کہ بیت المکّرم کا ابتدائی دور تھا اُسوقت مسجد کمیٹی کے چند معزز ارکان – جناب یحیٰ بوانی، لطیف بوانی اور جناب مدنی صاحب نے حضرت مفتی صاحب کو بیت المکّرم مسجد کے خطیب کی زمہ داری کے لے آمادہ کیا۔ اپکا خطبہ کا انداز بیاں ، نماز و دُعا اسقدر پر اشر ہو تا کہ لوگ محوؤ ہو جاياكرتے ۔

دونوں بنگال کے دارول حکومت کے عید گاہ کی امامت کا شرف[ترمیم]

حضرت مفتی صاحب نے کلکتہ کے سب سے بڑ ی عید گاہ اور ڈھاکہ کے اس دورکا سب سے بڑی عید گاہ اور دونو ں جگہ کے سب سے بڑ ی مسجد میں امامت کا شرف حاصل ہوا۔ حضرت مفتی صاحب کے ساتھ ایک خوشگوار واقعہ یوں تھا کہ 1978 ع میں اسو قت کہ ڈھاکہ کے عید گاہ جو کہ پڑانا پلٹن میں ہوا کر تا تھا آپکے منجھلے بھای جناب سید نعمان برکتی کو یہاں امامتی کا شرف حاصل ہوا۔ اسو قت کہ بنگلادیش کے صدر مملکت شہید ضیاالر حمان، وزیر اعظم شاہ عز یز الر حمان ،دیگر وزرا اور مسلم ممالک کے سفرا بھی شرکاۓ نماز تھے۔یہ ایک نایاب اور نادر موقع تھا کہ ایک ہی عید گاہ میں دو سگے بای ئیو ں کو امامت کا شرف حاصل ہوا ۔

اپکا علمی فیظ[ترمیم]

Fiqus Sunan Wal Asar
Ershadat Wa Mamulat
Mizanul Akbar
Tareke Hajj

حضرت مفتی صاحب اپنے زیادہ تر اوقات مطالع میں صرف کیا کر تے تھے۔ اپکےپاس تقر یباً ساڑ ہے تین ہزار سے زایدہ نادر اور انمول کتابو ں کا ایک زخیرا ہواکرتا تھا، جس سے نہ صرف حضرت مفتی صاحب با فیض ہوا کر تے تھے، بلکہ اس دور کہ اکثر و بیشتر علما حضرات بھی فیض یافتہ ہو اکر تے تھے۔ حضرت مفتی صاحب کئ ایک مشہور و معروف دینی کتابوں کے مصنف بھی تھے۔ انہوں نے اپنی حیات میں لا تعد اد کتابوں کی تصنیف کی۔ خاص طور پہ میں انکے چھوٹے بھای جنا ب سید غفران برکتی نے تعاون کیا۔ انکے چند مشہور و معروف کتابیں یوں ہیں۔ اتحف الأشرف بحاشىة الكثاف ,الا حسان السارى بتج صحيح البخا رى ,التنوير فى أصول اتفصير ,التبشير فى شرح التنبور فى أصول اتفسير ,الفقه السنن والا شار,من هج اسعداء,عمدة المجا نى بتخريج احديث مكا تيب الأم الر با نى الأربعن فى الصلوة,الأربعن فى المواقيت,الأربعن فى الصلوة على النبى صلى الله عليه و سلم,جامع جوامع الكلم,فهر ست كنزالعمال,مقدمه سنن ابى داؤد,مقدمه مر سيل ابى داؤد,عمل اليل والنهار,ميزان الأخبار,معير الأثار ,حواشى السعدى,تحقة الأ خير,تعليقات البركتى,تخليص المراسيل,اسماء امدلسين والمخطلطين,كتا ب الو ضين,منةالبرى,فتوى بر كتيه,طريقه حج,القرة ,ى الكرة,هدية امصلين,التنبه للفقيه,لب الا صول,ملا بد للفقيه,التعرفات اللفقهيه,أصول الكر خى,أصول المسا ىل الخلا فية,القواعد الفقهية,آدب المفتى,حقة البر كتيه بشر ح آدب المفتى,أو جز السير فى سيرة خيرالبشر,انفع السير ,سيرت بيب اله,رسلئہ حیات عبد السلام,رسلئہ طرقیت,التشرف لأ داب التصوف,تا ريخ اسلام,توريخ انبياء,تا ريخ علم حديث .تا ريخ علم فقه ,الحوى فى ذکر الطحاوی ,تعریفات الفنون وحالات مصنفین, نفع عمیم, مقدمة النحو ,,نحو فارسی ,مجموعه خطبات,مجموعه وعظ وظیفه سعد بر كتيه,شجرہ شریفہ, ,سراجا منيرا ور ميلاد نامه, اداب اردو, شرح شکوہ جواب شکوہ,,مز یل الغفة ىن سمت القبلة, معلم الميقا يت, نظا م الأو قات, دہوپ گڑی, وصيت نامه الحمدُ للہِ ،فلحمدُ للہِ حضرت مفتی صاحب کے گراں قدردینی کتابوں کے مزید اشاعت کے لیےن انکے بھتیجے جناب صفوان نعمانی نے مفتی عمیم الاحسان اکیڈمی 1990 ع میں قائم کیا، جسکا اولیّن مقصد مفتی صاحب کے نادر کتابوں کے اشاعت اور دینی کامو ں کا احتما م کر نا۔

وفات[ترمیم]

حکم خدائ ہے کہ كُلُّ نَفْسٍ ذَائِقَةُ الْمَوْتِ ہر شہ کو موت کا مزہ چکھنا پڑیگا۔ 27 اکتوبر 1974 ع میں 1395 ھ 10 شوال بروز اتوار صبح صادق کے واقت آپ اللہ پاک کے دعوت اجل کو قبول فرماتے ہوے اس فانی دنیا سے رِحلت فرمائے إِنَّا لِلّٰهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ اپکی وفات ایک معمُوملی انسان کی وفات نہیں بلکہ ایک بحرالعلوم کا انتقال تھا۔ اس لئے کہا جا تا ہے کہ موت العالِمِ موت العالَمُ اپکا جنازہ بعداز زہر بیت المکّرم مسجد میں اپکے عز یز ناریندا کے مرحوم پیر صاحب سید نذر امام محمد کے امامتی میں ادا ہوئی۔ اپکے جنازہ میں لوگوں کا ایک سمندر تھا ۔ سبھو ں کی آنکھیں اشکبار تھیں۔ اپکی تدفین کولوٹولہ کے اس تاریخی مسجد کے جنوبی گوشہ میں ہوئی۔ اپکے مزار کے گیٹ پر فارسی کا یہ درج ز یل اشعار ہے هرگز نميرِ دانكه دل اذزنده شدبه عشق ثبت است برجريده عالم دوام ما اسلام کی خد مات اور دینی کتابو ں کی تدریس جیسی نمایاں خدمات کی بنا 1984 ع میں اسلامک فاوندیشن بنگلا دیش نے انہیں بعداز مرگ سند اور گولڈ میڈل سے نوازا۔ اللہ پاک ہم سبھو ں کو ایسے عالم دین کی زندگی سے رہ نما ئ حاصل کرنے کی تو فیق عطا فرما۔ آمین یا ربُّ العالمين ۔