مقداد بن اسود

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش

حضرت مقداد بن اسود الکندی (عربی: المقداد بن الأسود الكندي) حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے اصحاب میں سے تھے۔ ان کا شجرہ یوں ہے: مقداد بن عمرو بن ثعلبہ بن مالک بن ربیعہ بن عامر۔ ان کا تعلق قبیلہ کندہ سے تھا جو نواحِ یمن میں حضرموت میں رہتے تھے۔ حضرت مقداد رضی اللہ عنہ اپنے قبیلہ سے نکل کر مکہ میں رہائش پذیر ہو گئے تھے جہاں اسود نامی شخص کے ساتھ منسلک رہے یا انہیں اسود نامی شخص نے پالا چنانچہ انہیں ابن الاسود کہا جانے لگا۔ حضرت مقداد نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ مکہ و مدینہ میں گذارا۔

قبولِ اسلام[ترمیم]

انہوں نے چوبیس سال کی عمر میں اسلام قبول کیا اور اولین مسلمانوں میں سے تھے۔ آپ ہجرتِ حبشہ کے دوسرے گروہ میں شامل تھے اور بعد میں مکہ سے مدینہ بھی ہجرت فرمائی، اسی لیے انہیں وھاجر الھجرتین بھی کہا جاتا ہے۔ مدینہ میں عقدِ مواخات کے دوران انہیں بعض روایات کے مطابق حضرت عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ اور بعض کے مطابق حضرت جبار بن صخر رضی اللہ عنہ کا بھائی بنایا گیا۔ حضرت مقداد رضی اللہ عنہ کی شادی زبیر بن عبدالمطلب کی بیٹی اور حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کی بہن ضباعہ سے ہوئی جو خود بھی اولین مسلمات سے تھیں۔


غزوات و جنگوں میں شرکت[ترمیم]

آپ غزوہ بدر سمیت تمام اہم غزوات میں شریک تھے۔ غزوہ بدر میں آپ نے حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے فرمایا کہ خدا کی قسم اگر آپ ہمیں آگ میں کودنے یا کانٹوں پر پا برہنہ چلنے کا حکم دیں تو ہم آپ کا حکم دل و جان سے قبول کریں گے اور یہود کی طرح ہرگز آپ سے نہ کہیں گے کہ آپ اپنے خدا کے ساتھ جنگ کریں اور ہم یہاں بیٹھتے ہیں بلکہ آپ کے ہم رکاب جنگ کریں گے۔ یہ سن کر رسولِ خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بہت خوش ہوئے اور حضرت مقداد کو دعا دی کہ خدا تمہیں جزائے خیر عطا کرے۔ غزوہ احد میں آپ ان لوگوں میں شامل تھے جو میدانِ احد سے فرار نہیں ہوئے۔ 25ھ میں آپ فتحِ مصر میں بھی شریک تھے۔

وفات[ترمیم]

بعض روایات کے مطابق آپ ان لوگوں میں شامل تھے جو حضرت علی علیہ السلام کو حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا جانشین سمجھتے تھے لہٰذا آپ مدینہ چھوڑ گئے تھے اور حرف نامی جگہ پر آپ کی وفات 33ھ میں ہوئی۔