مقلد
| مقالات بہ سلسلۂ مضامین |
| ائمہ فقہ |
| فقہ اربعہ |
| تقسیم بلحاظ تقلید |
| اقسام جائز و ناجائز |
|
فرض <=> حرام |
|
|
مقلد شریعت اسلامی کی ایک اصطلاح ہے۔
اہل سنت وجماعت کے چار ائمہ ہیں:
- امام اعظم ابو حنیفہ رحمۃ اﷲ علیہ (م 150 ھ)
- امام مالک رحمۃ اﷲ علیہ ( م 189 ھ)
- امام شافعی رحمۃ اﷲ علیہ (م 204 ھ)
- امام احمد بن حنبل رحمۃ اﷲ علیہ (م 241 ھ)
ان ائمہ کرام نے اپنی خداد داد علمی و فکری صلاحیتوں اور مجتہدانہ بصیرت کی بناء پر اپنے اپنے دور میں حسب ضرورت قرآن و حدیث سے مسائل فقہ مرتب کئے، یوں ان ائمہ کے زیر اثر چار فقہی مکاتب فکر وجود میں آئے۔
ان چاروں ائمہ کرام میں سے کسی بھی فقہی مکتب فکر کی پیروی کرنے والے کو مقلد کہتے ہیں۔ جیسے امام اعظم کے مقلدین کو حنفی، امام مالک کے مقلدین کو مالکی اور امام شافعی کے مقلدین کو شوافع اور امام احمد بن حنبل کے مقلدین کو حنبلی کہا جاتا ہے۔ اس کے برعکس اگر کوئی شخص ان میں سے کسی کا پیروکار نہ ہو تو وہ غیر مقلد ہے۔
عام مسلمان براہ راست قرآن و حدیث سے احکام شرع کے قواعد و ضوابط کو سمجھ کر مسائل اخذ کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے اس لئے جمہور اہلسنت کا اس بات پر اجماع ہے کہ شرعی احکام و مسائل میں مذکورہ ائمہ میں سے کسی ایک کی تقلید واجب ہے۔
اس کا فائدہ یہ ہے کہ عام مسلمان تفرقہ و انتشار سے بچ جاتا ہے۔ جن ائمہ نے ان مسالک کی بنیاد ڈالی وہ اپنے تقویٰ، زہد و ورع، ثقاہت و دیانت، علم و فکر اور کردار کے حوالے سے اعلیٰ ترین مقام و مرتبہ کی حامل قرون اولیٰ کی معروف ہستیاں ہیں۔ لہٰذا وقت کی سہولت کی خاطر انہوں نے نہایت جانفشانی اور دیانت و لیاقت سے مسائل کو قرآن و سنت کی روشنی میں مرتب کیا۔ شریعت اسلامی کے ایسے اصول و قواعد و ضع کئے جس سے عام مسلمانوں کو دین فہمی اور اس پرعمل پیرا ہونے میں فائدہ ہوا۔