ملالہ میوند

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
ملالہ میوند
ملالہ افغان پرچم تھامے میوند کے میدان جنگ میں. جولائی 27, 1880
پیدائش 1861
خیگ, صوبہ قندھار, افغانستان
وفات جولائی 1880 (عمر 18–19)
میوند, صوبہ قندھار, افغانستان
قومیت افغان
اسمائے دیگر دوشیزہ میوند, ملالہ اور ملالہ میوند
شہریت پشتون
وجہِ شہرت جنگ میوند

ملالہ میوند یا ملالہ انا ایک افغان قومی خاتون ہے جنہوں نے پسپا ہوتے ہوئی افغان افواج کو اشعار پڑھ کر جوش دلایا اور جنگ میوند میں فتحیاب ہوئیں

یہ آج سے ٹھیک ایک سو تینتس سال قبل ۲۷جولائی ۱۸۸۰ء کا واقعہ ہے۔ افغانستان کے موجودہ صوبہ قندھار کے قریب علاقہ میوند کے میدان میں برطانوی فوج کے خلاف پختونوں کا لشکر اس وقت کے کمانڈر ایوب خان کی قیادت میں برسرپیکار تھا۔ فضا بندوقوں کی آواز اور تلواروں کی جنھکار سے گونج رہی تھی۔ گولا بارود کی بارش برس رہی تھی۔ دوران جنگ ایک موقع ایسا بھی آیا کہ پختونوں کے حوصلے پست نظر آنے لگے اور عین ممکن تھا کہ وہ میدان جنگ چھوڑ کر بھاگ جاتے اور اپنی شکست تسلیم کرلیتے۔ کہ ایک خوب صورت پختون دوشیزہ ’’ملالئی‘‘ اچانک جنگ کے میدان میں نمودار ہوئی، اپنے دوپٹے سے جنھڈا بنا کر لہرایا اور یہ تاریخی پشتو اشعار گاۓ

کہ پہ میوند کے شہید نہ شوے گرانہ لالیہ بے ننگے لہ دے ساتینہ

( میرے محبوب اگر تم آج میوند کے میدان میں شہید نہ ہوئے، تو ساری زندگی لوگ تمہیں بے غیرتی کا طعنہ دیں گے) ملالئی کی یہ آواز جب پختون مجاہدین کے کانوں تک پہنچی، تو ان میں لڑنے کا ایک نیا جوش وجذبہ اور ولولہ پیدا ہوا اور وہ برطانوی فوج پر شیروں کی طرح ٹوٹ پڑے، جس کی وجہ سے برطانوی فوج شکست کھا کر میدان جنگ سے بھاگنے پر مجبور ہوگئی اور پختون جنگ میوند میں فاتح ٹھہرے، اور ملالئی کے مذکورہ ’’اشعار‘‘ اور اس کا نام اور کارنامہ پختون تاریخ میں جرأت کا باب اور جنگ کے خلاف مزاحمت کی ایک نئی آواز بن گیا۔ جس کی گونج آج بھی سنائی دے رہی ہے۔ ملالئی میومند کے قریب خیگ نامی گائوں میں ایک گڈریے کے ہاں ۱۸۶۱ء میں پیدا ہوئی تھی۔ جنگِ میوند کے موقع پر اس کی عمر انیس سال تھی، جس جنگ کو جیتنے کا سہرا ملالئی کے سرجاتا ہے، اس میں ان کا باپ اور منگیتر بھی شریک تھے اور ان دونوں نے اس معرکے میں جام شہادت نوش کیا۔ برطانوی فوج کے اس وقت کے جرنیل کا کہنا تھا کہ ہم نے ملالئی کی وجہ سے شکست کھائی، اگر وہ میدانِ جنگ میں اپنا دوپٹہ نہ لہراتی اور ٹپہ نہ گاتی تو ہم یہ جنگ جیتنے ہی والے تھے۔۔