ملالہ یوسفزئی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
(ملالہ یوسف زئی سے رجوع مکرر)
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
ملالہ یوسفزئی
ملاله یوسفزۍ
پیدائش 1997 (عمر 17 برس)
مینگورہ، خیبر پختونخوا، پاکستان
قومیت پاکستانی
اسمائے دیگر گل مکئی
شہریت پشتون
وجہِ شہرت حقوق نسواں فعالیت، تعلیم
مذہب اسلام
والدین ضیاء الدین یوسف زئی
اعزازات

نوبل امن انعام (2014)
عالمی اعزاز امن برائے اطفال (دوسرا درجہ، 2011)

پاکستان قومی اعزاز برائے امن (2011)

ملالہ یوسفزئی (پیدائش 12 جنوری 1997) پاکستان میں پیدا ہونے والی خواتین کی تعلیم کی سرگرم رکن ہے اور اسے کسی بھی شعبے میں نوبل انعام وصول کرنے والے سب سے کم سن فرد ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔ اس کی وجہ شہرت اپنے آبائی علاقے سوات اور خیبر پختونخواہ میں انسانی حقوق، تعلیم اور حقوق نسواں کے حق میں کام کرنا ہے جب مقامی طالبان کے لڑکیوں کو سکول جانے سے روک دیا تھا۔ اب ملالہ کی تحریک بین الاقوامی درجہ اختیار کر چکی ہے۔

علاقے میں سکولوں کا ایک سلسلہ ملالہ کے خاندان کی ملکیت ہے۔ 2009 کی ابتداء میں گیارہ یا بارہ سالہ ملالہ نے "گل مکئی" کے قلمی نام سے بی بی سی کے لئے ایک بلاگ لکھا جس میں اس نے طالبان کی طرف سے وادی پر قبضے کے خلاف لکھا تھا اور اپنی رائے دی تھی کہ علاقے میں لڑکیوں کی تعلیم پر توجہ دی جانی چاہیئے۔اگلی گرمیوں میں جب پاکستانی فوج نے سوات کی دوسری جنگ میں اس علاقے سے طالبان کا خاتمہ کیا تو نیویارک ٹائمز کے صحافی ایڈم بی ایلک نے ملالہ کی زندگی کے بارے ڈاکومنٹری بنائی۔ ملالہ مشہور ہو گئی اور اس کے انٹرویو اخبارات اور ٹی وی کی زینت بننے لگے۔ اس کا نام بین الاقوامی امن ایوارڈ برائے اطفال کے لئے جنوبی افریقہ کے ڈیسمنڈ ٹوٹو نے پیش کیا۔ 9 اکتوبر 2012 کو ملالہ سکول جانے کے لئے بس پر سوار ہوئی۔ ایک مسلح شخص نے بس روک کر اس کا نام پوچھا اور اس پر پستول تان کر تین گولیاں چلائیں۔ ایک گولی اس کے ماتھے کے بائیں جانب لگی اورکھوپڑی کی ہڈی کے ساتھ ساتھ کھال کے نیچے سے حرکت کرتی ہوئی اس کے کندھے میں جا گھسی۔ حملے کے کئی روز تک ملالہ بے ہوش رہی اور اس کی حالت نازک تھی۔ تاہم جب اس کی حالت کچھ بہتر ہوئی تو اسے برمنگھم کے کوئین الزبتھ ہسپتال کو بھیج دیا گیا تاکہ اس کی صحت بحال ہو۔ 12 اکتوبر کو پاکستانی 50 مذہبی علماء ملالہ کے قتل کی کوشش کے خلاف فتویٰ دیا۔ تاہم کئی پاکستانی ابھی تک یہ سمجھتے ہیں کہ یہ حملہ سی آئی اے نے کرایا تھا اور اس بارے سازشی نظریات پائے جاتے ہیں۔

اس قاتلانہ حملے کی وجہ سے قومی اور بین الاقوامی طور پر ملالہ کی حمایت میں اچانک اضافہ ہوا۔ ڈوئچے ویلے نے جنوری 2013 میں ملالہ کے بارے لکھا کہ وہ دنیا کی مشہور ترین کم عمر بچی بن گئی ہے۔ اقوام متحدہ کے عالمی تعلیم کے نمائندے گورڈن براؤن نے اقوامِ متحدہ کی ایک پٹیشن بنام "میں ملالہ ہوں" جاری کی اور مطالبہ کیا کہ دنیا بھر کے تمام بچوں کو 2015 کے اواخر تک سکول بھیجا جائے۔ اس کے نتیجے میں پاکستان میں پہلی بار تعلیم کے حق کا بل منظور ہوا۔ 29 اپریل 2013 کو ملالہ کو ٹائم میگزین کے اولین صفحے پر جگہ ملی اور اسے دنیا کے 100 با اثر ترین افراد میں سے ایک گردانا گیا۔ ملالہ پاکستان کے پہلے یوتھ پیس پرائز کی وصول کنندہ ہے۔

12 جولائی 2013 کو ملالہ نے اقوامِ متحدہ کے صدر دفتر میں خطاب کیا اور مطالبہ کیا کہ دنیا بھر میں تعلیم تک رسائی دی جائے۔ ستمبر 2013 میں ملالہ نے برمنگھم کی لائبریری کا باضابطہ افتتاح کیا۔ ملالہ کو 2013 کا سخاروو انعام بھی ملا۔ 16 اکتوبر 2013 کو حکومتِ کینیڈا نے اعلان کیا کہ کینیڈا کی پارلیمان ملالہ کو کینیڈا کی اعزازی شہریت دینے کے بارے بحث کر رہی ہے۔ فروری 2014 کو سوئیڈن میں ملالہ کو ورلڈ چلڈرن پرائز کے لئے نامزد کیا گیا۔ 15 مئی 2014 کو ملالہ کو یونیورسٹی آف کنگز کالج، ہیلی فیکس کی جانب سے اعزازی ڈاکٹریٹ دی گئی۔

10 اکتوبر 2014 کو ملالہ کو بچوں اور کم عمر افراد کی آزادی اور تمام بچوں کو تعلیم کے حق کے بارے جدوجہد کرنے پر 2014 کے نوبل امن انعام دیا گیا جس میں ان کے ساتھ انڈیا کے کیلاش ستیارتھی شامل ہیں۔ ڈاکٹر عبدالسلام کو 1979 میں طبعیات کے نوبل انعام کے بعد ملالہ نوبل انعام پانے والی دوسری پاکستانی بن گئی ہے۔

ملالہ اوول آفس میں امریکی صدر اوبامہ کے ساتھ، اکتوبر 2013ء

ابتدائی زندگی

بچپن

ملالہ 12 جولائی 1997 کو پاکستان کے شمال مغربی صوبے خیبر پختونخواہ کے ضلع سوات میں پیدا ہوئی۔ ملالہ کا تعلق سنی مسلم خاندان سے ہے جو پشتون نسل سے تعلق رکھتے ہیں۔ اس کا نام ملالہ رکھا گیا جو ملال سے نکلا ہے، اور وجہ تسمیہ میوند کی ملالہ تھی جو جنوبی افغانستان کی ایک مشہور پشتون شاعرہ اور جنگجو خاتون تھی۔ یوسفزئی اس کے قبیلے کو ظاہر کرتا ہے۔ ملالہ اپنے شہر مینگورہ میں اپنے دو چھوٹے بھائیوں، والدین ضیاء الدین اور تور پکئی اور دو پالتو مرغیوں کے ساتھ رہتی تھی۔ سوات مشہور سیاحتی علاقہ ہے اور ایک بار ملکہ الزبتھ دوئم نے یہاں کی سیر کی تھی اور اسے مشرق کا سوئٹزرلینڈ قرار دیا تھا۔

ملالہ کو پشتو، انگریزی اور اردو پر عبور حاصل ہے اور اس نے زیادہ تر تعلیم اپنے والد سے پائی ہے۔ ضیاء الدین یوسفزئی جو کہ ایک شاعر ہونے کے ساتھ ساتھ سکولوں کا ایک سلسلہ یعنی چین آف سکولز بھی چلاتے ہیں۔ ملالہ نے ایک بار ڈاکٹر بننے کی خواہش ظاہر کی تھی تاہم پھر اپنے والد کی رہنمائی میں سیاست دان بننے کو ترجیح دی ہے۔ ملالہ کے والد نے اپنی بیٹی کو خصوصی توجہ دی ہے اور جب دیگر بچے سو جاتے تھے تو ملالہ کو رات گئے تک جانے کی اجازت ہوتی تھی اور وہ لوگ سیاست پر بات کرتے تھے۔

ملالہ نے ستمبر 2008 سے تعلیمی حقوق کے بارے بات کرنا شروع کی تھی جب اس کے والد اسے پہلی بار پشاور پریس کلب سے خطاب کرنے لے گئے تھے۔ ملالہ نے اپنی تقریر میں یہ بات کہی کہ "طالبان کی جرات کیسے ہوئی کہ وہ میرے تعلیم کے حق کی راہ میں رکاوٹ بنیں"۔

بطور بی بی سی بلاگر

2008 کے اواخر میں بی بی سی اردو کے عامر احمد خان اور رفقاء نے وادئ سوات میں طالبان کے بڑھتے ہوئے اثرات کے بارے کام کرنے کا سوچا۔ انہوں نے سوچا کہ کیوں نہ وادئ سوات سے کوئی لڑکی اپنی شناخت چھپا کر واقعات کے بارے لکھنا شروع کر دے۔ پشاور میں ان کا نمائندہ عبدالحئی کاکڑ مقامی سکول ٹیچر ضیاء الدین یوسفزئی سے رابطے میں تھا۔ تاہم بچیوں کے والدین نے ہمیشہ یہ کہہ کر انکار کر دیا کہ اس سے ان کے خاندان کو سخت خطرات لاحق ہو جاتے۔ آخرکار ضیاء الدین نے اپنی گیارہ سالہ بیٹی کا نام پیش کیا۔ اس وقت تک طالبان مولانا فضل اللہ کی قیادت میں وادئ سوات پر قبضہ شروع کر چکے تھے اور ٹیلی ویژن، موسیقی اور لڑکیوں کے سکول زبردستی بند کرائے جا رہے تھے اور خواتین کو خریداری کے لئے نکلنے سے روکا جا رہا تھا۔ پولیس اہلکاروں کی سر بریدہ لاشیں چوکوں پر لٹکی ملتی تھیں۔ پہلے پہل ایک لڑکی عائشہ نے ڈائری لکھنے کی حامی بھری لیکن پھر اس کے والدین نے طالبان سے لاحق خطرات کے پیشِ نظر اسے روک دیا۔ اس طرح اس سے چار سال چھوٹی اور ساتویں جماعت کی بچی ملالہ نے اس کام کا ذمہ لیا۔ بی بی سی کے ایڈیٹروں نے اسے فوراً منظور کر لیا۔

کل رات میں نے فوجی ہیلی کاپٹروں اور طالبان سے متعلق بھیانک خواب دیکھا۔ وادئ سوات میں فوجی آپریشن کے آغاز سے ہی مجھے ایسے خواب آ رہے ہیں۔ امی نے ناشتہ بنایا اور میں کھا کر سکول چلی گئی۔ سکول جاتے ہوئے مجھے ڈر لگ رہا تھا کیونکہ طالبان نے لڑکیوں کے سکول جانے پر پابندی لگائی ہوئی ہے۔

27 میں سے صرف 11 لڑکیاں ہی سکول آئی تھیں کیونکہ انہیں طالبان سے خطرہ تھا۔ میری کئی سہیلیاں اپنے خاندان والوں کے ساتھ پشاور منتقل ہو گئی ہیں۔

ملالہ یوسفزئی، 3 جنوری 2009 بی بی بلاگ اینٹری

بی بی سی اردو کے ایک سابقہ مدیر نے کہا کہ "ہم سوات میں سیاست اور دہشت گردی کے بارے لکھ تو رہے ہیں لیکن ہمیں عام افراد کی رائے کا علم نہیں جو طالبان کے خوف میں جی رہے ہیں۔" چونکہ یہ لوگ ملالہ کی حفاظت کے لئے پریشان تھے، اس لئے انہوں نے قلمی نام پر زور دیا۔ ملالہ کے بلاگ کو "گل مکئی" کا نام دیا گیا اور یہ نام بھی پشتو روایات سے لیا گیا تھا۔

3 جنوری 2009 کو ملالہ نے پہلی انٹری بھیجی۔ طریقہ یہ تھا کہ ملالہ ہاتھ سے لکھ کر رپورٹر کو دیتی جو سکین کر کے اسے آگے ای میل کر دیتا۔ بلاگ سے ملالہ کی سوچ کا پتہ چلتا ہے جو سوات کی پہلی جنگ، لڑکیوں کا کم سکول آنا اور پھر سکول کے بند ہونے کے بارے لکھی گئی تھیں۔

مینگورہ میں طالبان نے اعلان کر دیا تھا کہ 15 جنوری 2009 کے بعد سے کوئی لڑکی سکول نہیں جائے گی۔ اس وقت تک طالبان لڑکیوں کے 100 سے زیادہ سکول تباہ کر چکے تھے۔ اس تاریخ سے ایک رات قبل توپوں کی آواز سے ملالہ کئی بار جاگی۔ اگلے دن ملالہ نے اخبار میں اپنے بلاگ کی پہلی تحریر کے اقتباسات پڑھے۔

سکول سے بے دخلی

پابندی کے بعد طالبان نے لڑکیوں کے سکول تباہ کرنے کا سلسلہ جاری رکھا۔ پانچ روز بعد ملالہ نے اپنے بلاگ میں لکھا کہ "میں ابھی بھی اپنے امتحانات کی تیاری کر رہی ہوں جو تعطیلات کے بعد ہیں، اگر طالبان نے لڑکیوں کو سکول جانے کی اجازت دی تو۔ ہمیں امتحان کے سلسلے میں متعلقہ ابواب کا بتا دیا گیا ہے لیکن میرا دل پڑھنے کو نہیں چاہتا۔ ایسا لگتا ہے کہ درجنوں سکولوں کی تباہی اور سینکڑوں کی بندش کے بعد فوج کو کاروائی کا خیال آیا ہے۔ اگر وہ پہلے کاروائی کرلیتے تو نوبت یہاں تک نہ پہنچتی۔“

ملالہ یوسفزئی 24 جنوری 2009 بی بی سی بلاگ انٹری

فروری 2009 میں لڑکیوں کے سکول بند رہے۔ اظہارِ یکجہتی کے لئے لڑکوں کے سکول بھی 9 فروری تک بند رکھے گئے۔ 7 فروری کو جب ملالہ اور اس کے بھائی واپس مینگورہ لوٹے تو سڑکیں خالی تھیں اور ہر طرف عجیب سی خاموشی چھائی تھی۔ جب بہن بھائی اپنی ماں کے لئے تحفہ خریدنے بازار گئے تو بازار بند تھے۔ حالانکہ یہ بازار عام حالات میں رات گئے تک کھلے رہتے تھے۔ ان کے گھر کو بھی لوٹ لیا گیا تھا اور ان کا ٹی وی بھی چوری ہو چکا تھا۔

لڑکوں کے سکول کھلنے کے بعد طالبان نے لڑکیوں کی تعلیم ان اداروں میں جاری رکھنے کی اجازت دی جہاں مخلوط تعلیم ہوتی تھی۔ تاہم لڑکیوں کے سکول بند رہے۔ ملالہ کے مطابق 700 میں سے محض 70 سکول آئے۔

15 فروری کو مینگورہ کی سڑکوں سے فائرنگ کی آوازیں آئیں تاہم ملالہ کو اس کے والد نے تسلی دی کہ یہ فائرنگ امن کی بحالی کے لئے ہو رہی ہے۔ اخبار میں خبر تھی کہ حکومت اور دہشت گرد امن معاہدے پر دستخط کرنے لگے ہیں۔ طالبان نے امن معاہدے کا ذکر اپنے ایف ایم ریڈیو پر کیا اور فائرنگ شدت اختیار کر گئی۔ 18 فروری کو "کیپٹل ٹاک" پر ملالہ نے طالبان کے خلاف بات کی۔ تین دن بعد مولانا فضل اللہ نے اپنے ایف ایم ریڈیو چینل پر اعلان کیا کہ 17 مارچ کو ہونے والے امتحانات تک طالبات سکول جا سکتی ہیں لیکن انہیں برقعے اوڑھنے ہوں گے۔

سکول کا دوبارہ کھلنا

25 فروری کو ملالہ نے لکھا کہ "ہم پہلے کی طرح جماعت میں خوب کھیلے اور بڑا مزہ آیا"۔ یکم مارچ کو 27 میں سے 19 طالبات حاضر تھیں۔ تاہم طالبان بھی علاقے میں کافی متحرک دکھائی دے رہے تھے۔ گولہ باری جاری تھی اور عام لوگوں کی مدد کو آنے والی امدادی اشیاء لوٹ لی گئی تھیں۔ دو دن بعد ملالہ نے لکھا کہ فوج اور طالبان کے درمیان جھڑپیں جاری ہیں اور گولہ باری کی آواز سنائی دے دیتی ہے۔ "لوگ ڈرے ہوئے ہیں کہ شاید امن زیادہ دیر برقرار نہ رہ سکے۔ کئی لوگ کہہ رہے ہیں کہ امن معاہدہ عارضی طور پر لڑائی میں وقفہ ہے۔"

9 مارچ کو ملالہ نے اپنے سائنس کے پرچے کا لکھا جو کافی اچھا ہوا تھا۔ اس نے مزید لکھا کہ طالبان اب پہلے کی طرح گاڑیوں کی تلاشی نہیں لیتے۔ 12 مارچ 2009 کو بلاگ ختم ہو گیا۔

بطور بے دخل فرد

بی بی سی کی ڈائری ختم ہونے کے بعد ملالہ اور اس کے والد سے نیو یارک ٹائمز کے رپورٹر ایڈمز بی ایلیک نے ایک ڈاکومنٹری فلمانے کے سلسلے میں رابطہ کیا۔ مئی میں پاکستانی فوج نے سوات کی دوسری جنگ کے دوران علاقے کا انتظام سنبھال لیا۔ مینگورہ کو خالی کرا دیا گیا اور ملالہ کا خاندان الگ الگ ہو گیا۔ والد نے پشاور کا رخ کیا تاکہ احتجاج کر سکیں جبکہ ملالہ دیہات میں اپنے رشتہ داروں کے ہاں چلی گئی۔ ڈاکومنٹری میں ملالہ نے کہا کہ "مجھے بہت بوریت ہو رہی ہے۔ کوئی کتاب بھی نہیں ہے پڑھنے کو۔"

اسی ماہ طالبان کے خلاف بولنے پر طالبان کے ریڈیو پر ملالہ کے والد کو موت کی دھمکی دی گئی۔ ملالہ اپنے والد کے کاموں سے بہت متائثر ہوئی۔ اسی سال موسمِ گرما میں ملالہ نے ڈاکٹر کی بجائے سیاست دان بننے کا سوچا۔

"اب میرا نیا خواب ہے کہ میں اپنے ملک کو بچانے کے لئے سیاست دان بنوں۔ ہمارے ملک کو کئی بحرانوں کا سامنا ہے۔ میں انہیں ختم کرنا چاہتی ہوں۔"

ملالہ یوسفزئی کلاس ڈسمسڈ (ڈاکومنٹری)

جولائی کے اوائل میں مہاجر کیمپ پوری طرح بھر گئے تھے۔ وزیرِ اعظم نے اعلان کیا کہ وادئ سوات اب محفوظ ہے اور لوگ اپنے گھروں کو لوٹ سکتے ہیں۔ پاکستانی فوج نے طالبان کو شہروں سے دور دیہاتوں کو دھکیل دیا ہے۔ ملالہ کا خاندان جمع ہو کر 24 جولائی 2009 کو واپس لوٹ آیا۔ راستے میں وہ اور دیگر کارکن امریکی صدر اوبامہ کے افغانستان اور پاکستان کے لئے خصوصی نمائندے رچرڈ ہالبروک سے ملے۔ ملالہ نے ہالبروک سے درخواست کی کہ "محترم سفیر، اگر آپ تعلیم کے حوالے سے ہماری مدد کر سکیں تو براہ کرم ضرور کریں۔" جب وہ واپس لوٹے تو پتہ چلا کہ ان کا گھر محفوظ ہے لیکن سکول کو معمولی نقصان پہنچا تھا۔

ابتدائی سیاسی کردار اور سرگرمیاں

"مجھے یقین ہے کہ سوشلزم ہی واحد حل ہے اور میں اپنے تمام ساتھیوں سے کہتی ہوں کہ اسے کامیابی سے ہمکنار کرائیں۔ اس طرح ہم عدم برداشت اور عدم تحفظ سے نجات پا سکتے ہیں۔" ملالہ یوسفزئی کا پیغام 32ویں پاکستانی اجتماع برائے آئی ایم ٹی

ڈاکومنٹری کے بعد ملالہ کے انٹرویو پشتو زبان کے ٹی وی چینل اے وی ٹی خیبر، اردو روزنامہ آج اور کینیڈا کے ٹورنٹو سٹار میں شائع ہوئے۔ کیپٹل ٹاک میں دوسری بار ملالہ 19 اگست 2009 میں آئی۔ بی بی سی کے بلاگ کے حوالے سے ملالہ کی اصل شناخت دسمبر 2009 تک واضح ہو چکی تھی۔ بعد میں ملالہ ٹیلی ویژن پر خواتین کی تعلیم کے حق میں بیان دینے لگی۔

اکتوبر 2011 میں جنوبی افریقہ سے انسانی حقوق کے کارکن آرچ بشپ ڈیسمنڈ ٹوٹو نے ملالہ کو بچوں کے بین الاقوامی امن اعزاز کے لئے نامزد کیا۔ یہ اعزاز ہالینڈ کی ایک تنطیم دیتی ہے۔ ملالہ اس اعزاز کے لئے نامزد ہونے والی پہلی پاکستانی ہے۔ تاہم یہ اعزاز ملالہ کو نہ مل سکا۔

دو ماہ بعد پاکستان کے پہلے امن انعام برائے نواجوانان پانے کا اعزاز ملالہ کو حاصل ہوا اور اس کی شہرت مزید بڑھ گئی۔ یہ اعزاز اس وقت کے وزیرِ اعظم یوسف رضا گیلانی نے 19 دسمبر 2011 کو دیا۔

قاتلانہ حملہ

جوں جوں ملالہ کی شہرت بڑھتی گئی، اس کی زندگی کو لاحق خطرات بھی زیادہ ہوتے گئے۔ اخباروں میں ملالہ کو قتل کی دھمکیاں چھاپ کر اس کی دہلیز سے گھر کے اندر پھینک دیئے جاتے تھے۔ فیس بک پر بھی ملالہ کو دھمکیاں دی جانے لگیں اور اس کے نام سے فرضی کھاتے بننے لگ گئے۔ جب سب تدبیریں ناکام رہیں تو طالبان نے اعلان کیا کہ وہ راست اقدام پر مجبور ہو گئے ہیں۔ 2012 کی گرمیوں میں ایک اجلاس میں طالبان رہنماؤں نے بیک زبان ملالہ کے قتل کا فیصلہ کیا۔

"جب بھی میں اس منظر کے بارے سوچتی ہوں تو مجھے یہ صاف دکھائی دیتا ہے۔ اگر وہ مجھے قتل کرنے آئے بھی تو میں انہیں بتاؤں گی کہ وہ غلط کام کر رہے ہیں۔ تعلیم ہمارا بنیادی حق ہے۔" ملالہ، طالبان کا سامنا کرنے کے بارے بات کرتے ہوئے

9 اکتوبر 2012 کو جب ملالہ گھر سے سکول امتحان کو جانے کے لئے بس میں سوار ہوئی تو ایک مسلح طالبان نے اس پر حملہ کر دیا۔ نقاب پوش حملہ آور نے پہلے پوچھا کہ "تم میں سے ملالہ کون ہے؟ جلدی بتاؤ ورنہ میں تم سب کو گولی مار دوں گا۔" جب ملالہ نے اپنا تعارف کرایا تو اس شخص نے گولی چلا دی۔ ملالہ کو لگنے والی گولی کھوپڑی کی ہڈی سے ٹکرا کر گردن سے ہوتی ہوئی کندھے میں جا گھسی۔ دیگر دو لڑکیاں بھی اس حملے میں زخمی ہوئیں جن کے نام کائنات ریاض اور شازیہ رمضان ہیں تاہم دونوں کی حالت خطرے سے باہر تھی اور انہوں نے حملے کے بارے رپورٹرز کو بتایا۔

علاج

حملے کے بعد ملالہ کو ہیلی کاپٹر کے ذریعے پشاور کے فوجی ہسپتال لے جایا گیا جہاں ڈاکٹروں کو اس کے دماغ کے بائیں حصے کی سوجن روکنے کے لئے فوری آپریشن کرنا پڑا۔ یہ حصہ گولی لگنے کی وجہ سے متائثر ہوا تھا۔ تین گھنٹے طویل آپریشن کے بعد ڈاکٹروں نے اس کی ریڑھ کی ہڈی کے قریب سے گولی نکالی۔ حملے کے اگلے روز ڈاکٹروں نے اس کی کھوپڑی کی ہڈی کا کچھ حصہ ہٹا دیا تاکہ دماغ کی سوجن کے لئے کچھ جگہ پیدا ہو سکے۔

11 اکتوبر 2012 کو پاکستانی اور برطانوی ڈاکٹروں کے پینل نے فیصلہ کیا کہ ملالہ کو راولپنڈی کے فوجی ادارہ برائے امراض قلب منتقل کیا جائے۔ ایک ڈاکٹر ممتاز خان کے مطابق ملالہ کے بچنے کے امکانات 75 فیصد تھے۔ اس وقت کے وزیرِ داخلہ رحمان ملک نے بتایا کہ جونہی ملالہ کی طبعیت بہتر ہوگی، اسے جرمنی منتقل کر دیا جائے گا تاکہ بہترین طبی سہولیات میسر آ سکیں اور حکومتی اخراجات پر ڈاکٹروں کی ایک ٹیم اس کے ساتھ جائے گی۔ 13 اکتوبر کو ڈاکٹروں نے ملالہ کو سکون آور ادویات کی مقدار کم کر دی اور ملالہ اپنے ہاتھ پیر ہلانے کے قابل ہو گئی۔

دنیا بھر سے ملالہ کے علاج کی پیشکشیں آنے لگیں۔ 15 اکتبور کو ملالہ کو ڈاکٹروں اور اس کے خاندان کی اجازت سے برطانیہ بھیج دیا گیا۔ اس کا جہاز دبئی ایندھن کے لئے رکا اور پھر اسے برمنگھم کے کوئین الزبتھ ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔ اس ہسپتال کی ایک امتیازی خوبی جنگوں میں زخمی ہونے والے فوجیوں کا علاج بھی ہے۔

17 اکتوبر 2012 کو ملالہ ہوش میں آ گئی اور اس کا علاج کارگر ثابت ہونے لگا۔ ڈاکٹروں کے مطابق دماغی چوٹ سے ملالہ کے محفوظ رہنے کے امکانات کافی روشن ہو گئے تھے۔ 20 اور 21 اکتوبر کو بتائی گئی تفصیلات سے واضح ہوا کہ ملالہ کی حالت مستحکم ہے لیکن اسے عفونت یعنی انفیکشن کی وجہ سے مشکلات پیش آ رہی ہیں۔ 8 نومبر کو بستر پر بیٹھی حالت میں اس کی تصویر شائع ہوئی۔

3 جنوری 2013 کو ملالہ کو ہسپتال سے چھٹی مل گئی۔ بحالی کے لئے ملالہ کو اس کے خاندان کے ساتھ ویسٹ مڈلینڈز کے ایک گھر میں رکھا گیا۔ 2 فروری کو 5 گھنٹے طویل آپریشن کے بعد ملالہ کی کھوپڑی کی ہڈی اور اس کی سماعت بحال کر دی گئی۔

مارچ 2013 سے ملالہ برمنگھم میں لڑکیوں کے سکول ایجبسٹن ہائی سکول میں زیرِ تعلیم ہے۔

ردِ عمل

ملالہ پر قاتلانہ حملے سے متعلق تفصیلات دنیا بھر کے اخبارات اور دیگر میڈیا پر ظاہر ہوئیں اور عوام کی ہمدردیاں ملالہ کے ساتھ ہو گئیں۔ پاکستان بھر میں ملالہ پر حملے کی مذمت میں مظاہرے ہوئے۔ تعلیم کے حق کی قرارداد پر 20 لاکھ افراد نے دستخط کئے جس کے بعد پاکستان میں تعلیم کے حق کا پہلا بل منظور ہوا۔ پاکستانی حکام نے ملالہ پر حملہ کرنے والوں کی شناخت اور گرفتاری میں مدد دینے پر 1 کروڑ روپے انعام کا اعلان کیا۔ ملالہ کے والد نے بیان دیا کہ "چاہے ملالہ بچے یا نہ، ہم اپنا ملک نہیں چھوڑیں گے۔ ہمارا نظریہ امن کا ہے۔ طالبان ہر آواز کو گولی سے نہیں دبا سکتے"۔

پاکستان کے صدر آصف علی زرداری نے اس حملے کو مہذب قوم پر حملے سے تشبیہ دی۔ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون، امریکی صدر براک اوبامہ، سیکریٹری آف سٹیٹ ہیلری کلنٹن، برطانوی سیکریٹری خارجہ ولیم ہیگ نے بھی اس حملے کی شدید مذمت کی۔

امریکی گلوکارہ میڈونا نے ملالہ کے نام اپنا ایک گانا منسوب کیا اور انجیلنا جولی نے نے ملالہ پر حملے کے بارے ایک مضمون لکھا اور ملالہ فنڈ کے لئے 2 لاکھ ڈالر بھی دیئے۔ سابقہ امریکی خاتون اول لارا بش نے ملالہ کو مرگِ انبوہ کی ڈائری لکھنے والی این فرینک سے تشبیہ دی۔ انڈین ہدایتکار امجد خان نے ملالہ کی زندگی پر مبنی فلم بنانے کا اعلان کیا۔

پاکستانی طالبان کے ترجمان احسان اللہ احسان نے حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے اعلان کیا کہ ملالہ کفر اور بے شرمی کی علامت ہے۔ یہ بھی کہا گیا کہ اگر ملالہ زندہ بچ جاتی ہے تو اس پر حملے جاری رکھے جائیں گے۔ حملے کے اگلے دن طالبان نے دہرایا کہ ملالہ کے والد نے اس کی برین واشنگ کی ہے۔ یہ بھی کہا گیا کہ ملالہ نے ہماری تنبیہ کے باوجود ہمارے خلاف گندی زبان کا استعمال جاری رکھا جس کی وجہ سے ہمیں اس کے خلاف انتہائی قدم اٹھانا پڑا۔ طالبان نے اپنے اقدام کو قرآن سے درست ثابت کرنے کی کوشش بھی کی کہ اسلام کے خلاف پروپیگنڈا کرنے والے بچوں کا قتل بھی جائز ہے۔

12 اکتوبر 2012 کو پچاس علماء نے متفقہ فتویٰ میں طالبان کے اس اقدام کو غیر اسلامی قرار دیا۔ سنی اتحاد کونسل کے رہنما نے عوامی سطح پر طالبان کے موقف کو جھٹلایا۔

اگرچہ پاکستان بھر میں ملالہ پر حملے کی مذمت کی گئی لیکن سازشی نظریات کے حامی کچھ انتہا پسند سیاست دانوں اور رہنماؤں نے اسے بھی ایک سازش ثابت کرنے کی کوشش کی کہ یہ سی آئی اے کی کاروائی تھی تاکہ ڈرون حملوں کو جاری رکھا جا سکے۔ تحریک طالبان پاکستان نے اور اس کی دیگر حامی جماعتوں نے ملالہ کو امریکی جاسوس قرار دیا۔

اقوامِ متحدہ کی پٹیشن

15 اکتوبر 2012 کو اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی برائے عالمی خواندگی اور سابقہ برطانوی وزیرِ اعظم گورڈن براؤن نے ہسپتال میں ملالہ کی عیادت کی اور ملالہ کے حق میں ایک قرارداد شروع کی جس کا عنوان تھا "میں ملالہ ہوں"۔ اہم مطالبہ یہ تھا کہ 2015 تک تمام بچوں کو سکول کی سہولیات تک رسائی دی جائے۔

تحقیقات

حملے کے اگلے روز وزیرِ داخلہ رحمان ملک نے بتایا کہ ملالہ پر حملہ آور کی شناخت ہو گئی ہے۔ پولیس کے مطابق 23 سالہ عطا اللہ خان جو کہ کیمسٹری کا گریجوائٹ ہے، نے حملہ کیا تھا۔ اکتوبر 2014 کو حملہ آور گرفتار کر لیا گیا۔

سرگرمیوں کی بحالی

"روایات آسمان سے نہیں اترتیں اور نہ ہی انہیں خدا بھیجتا ہے۔ ہم ہی ثقافت بناتے ہیں اور ہمیں ہی اسے بدلنے کا حق ہے اور ہمیں ایسی روایات بدلنا ہوں گی۔" ملالہ لندن میں گرلز سمٹ سے خطاب کرتے ہوئے

"ان میں بے گناہ افراد مارے جاتے ہیں جس سے پاکستانی عوام میں بے چینی پھیلتی ہے۔ اگر ہم تعلیم پر کوششیں مرکوز کر دیں تو اس سے بہت بڑا اثر ہوگا۔" ملالہ براک اوبامہ سے ملاقات کے دوران ڈرون حملوں پر رائے دیتے ہوئے

ملالہ نے جولائی 2013 میں اقوامِ متحدہ سے خطاب کیا اور ملکہ برطانیہ سے بکنگھم پیلس میں ملاقات بھی کی۔ ستمبر میں اس نے ہارورڈ یونیورسٹی سے خطاب کیا اور امریکی صدر اور ان کے خاندن سے ملاقات کی اور ڈرون حملوں کی مخالفت کی۔

نمائندگی

کینیڈا کے وزیرِ اعظم سٹیفن ہارپر اس قرارداد پر سب سے پہلے دستخط کرنے والے فرد بنے جس میں ملالہ کو امن کا نوبل انعام دینے کی درخواست کی گئی تھی۔

سابق برطانوی وزیرِ اعظم گورڈن براؤن نے اقوام متحدہ سے ملالہ کے خطاب کے انتظامات کئے۔ اس کے علاوہ گورڈن براؤن نے میکنزی کی مشیر شیزا شاہد سے درخواست کی کہ وہ ملالہ فنڈ کی سربراہی کریں۔ اس فنڈ کو انجیلینا جولی کی حمایت حاصل ہے اور گوگل کے نائب صدر میگن سمتھ بھی فنڈ کے بورڈ میں شامل ہیں۔


ملالہ ڈے

نوبل انعام یافتہ شخصیات کی گیلری میں ملالہ کی تصویر

12 جولائی 2013 کو ملالہ کی سولہویں سالگرہ تھی جب ملالہ نے اقوام متحدہ سے عالمی خواندگی کے بارے خطاب کیا۔ اقوام متحدہ نے اس واقعے کو ملالہ ڈے یعنی یومِ ملالہ قرار دے دیا۔ حملے کے بعد یہ ملالہ کی پہلی تقریر تھی۔

نوبل انعام برائے امن

10 اکتوبر 2014 کو ملالہ کو بچوں اور نوجوانوں کے حقِ تعلیم کے لئے جدوجہد پر نوبل انعام برائے امن دیا گیا۔ 17 سال کی عمر میں ملالہ یہ اعزاز پانے والی دنیا کی سب سے کم عمر فرد ہے۔ اس اعزاز میں ان کے شریک انڈیا سے کیلاش ستیارتھی ہیں جو بچوں کی تعلیم کے بہت بڑے حامی ہیں۔ ڈاکٹر عبدالسلام کے بعد ملالہ نوبل انعام پانے والی دوسری جبکہ نوبل انعام برائے امن پانے والی پہلی پاکستانی بن گئی ہے۔

پاکستان میں ردِ عمل

ملالہ کے اعزاز کے بارے پاکستان میں قدرے مختلف ردِ عمل سامنے آیا۔ مثال کے طور پر ڈان کی کالم نگار ہما یوسف نے ملالہ پر تین اعتراضات اٹھائے کہ پہلے تو یہ کہ ملالہ پاکستان کے سب سے منفی پہلو یعنی عسکریت پسندی کو سامنے لائی ہے، دوسرا یہ کہ ملالہ کی تعلیم کی مہم مغرب کا ایجنڈا ہے، تیسرا یہ کہ اس سے معصوم شہری پس پردہ چلے جاتے ہیں جو امریکی ڈرون حملوں سے متائثر ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ ملالہ کو سی آئی اے کا ایجنٹ بھی قرار دیا گیا۔

تصنیف

ایک کتاب بھی ملالہ کے نام سے انگریزی میں شائع کی گئی، جس کا نام میں ملالہ ہوں رکھا گیا۔

اعزازات

سال اعزاز/انعام کیفیت ملک
2011ء بچوں کا عالمی امن انعام نامزد امیدوار [1]
2011ء قومی نوجوانان امن انعام ملا Flag of Pakistan.svg پاکستان[2]
اکتوبر 2012ء ستارہ جرات پاکستان کا تیسرا بڑا شہری اعزاز برائے بہادری Flag of Pakistan.svg پاکستان[3]
نومبر 2012ء فارن پالیسی دنیا کے سو بہترین مفکرین کی فہرست میں شامل کیا Flag of the United States.svg ریاستہائے متحدہ امریکہ[4]
نومبر 2012ء مدر ٹریسا یادگاری انعام برائے سماجی انصاف Flag of India.svg بھارت[5][زیریں-الفا 1]
دسمبر 2012ء ٹائم میگزین سال (2012) کی شخصیت، کے لیے نام پیش کیا Flag of the United States.svg ریاستہائے متحدہ امریکہ[7]
2013ء بچوں کا عالمی امن انعام ملا
2013ء نوبل انعام امن نامزد امیدوار Flag of Sweden.svg سویڈن
2014ء نوبل انعام امن دنیا کا سب سے بڑا امن انعام Flag of Sweden.svg سویڈن[8]
2014ء تمغا آزادی
(لبرٹی میڈل)
ہر سال ایسے شخص کو دیا جاتا ہے جو آزادی کی نعمت کی حفاظت کے لیے بے حد کوشش کرتا ہے۔ Flag of the United States.svg ریاستہائے متحدہ امریکہ[9]

بیرونی روابط

حوالہ جات

  1. ^ خطا در حوالہ: غلط <ref> ٹیگ؛ حوالہ بنام Tutu کے لیے کوئی متن فراہم نہیں کیا گیا
  2. ^ خطا در حوالہ: غلط <ref> ٹیگ؛ حوالہ بنام new_yorker کے لیے کوئی متن فراہم نہیں کیا گیا
  3. ^ "Malala Yousufzai to be given Pak's highest civilian bravery award". The Indian Express. 16 October 2012. http://www.indianexpress.com/news/malala-yousufzai-to-be-given-paks-highest-civilian-bravery-award/1017557/. Retrieved 16 October 2012.
  4. ^ "The FP Top 100 Global Thinkers". Foreign Policy. 26 November 2012. Archived on 28 November 2012. خطا: حوالہ جاتی سانچہ کے استعمال کے دوران If you specify |archivedate=, you must also specify |archiveurl= . http://www.webcitation.org/6CViUyRpk. Retrieved 28 November 2012.
  5. ^ "Teresa awards given away". The Indian Express. 29 November 2012. http://www.indianexpress.com/news/teresa-awards-given-away/1037866. Retrieved 9 December 2012.
  6. ^ "How Malala Yousafzai got a Mumbai award". Indo-Asian News Service. 9 December 2012. http://www.ndtv.com/article/india/how-malala-yousafzai-got-a-mumbai-award-303123.
  7. ^ Carbone, Nick (18 December 2012). "TIME Reveals Its Short List for Person of the Year 2012". Time. http://newsfeed.time.com/2012/12/18/time-reveals-its-shortlist-for-person-of-the-year-2012/. Retrieved 20 December 2012.
  8. ^ خطا در حوالہ: غلط <ref> ٹیگ؛ حوالہ بنام nobel-2014 کے لیے کوئی متن فراہم نہیں کیا گیا
  9. ^ http://www.bbc.co.uk/urdu/world/2014/10/141022_liberty_medal_for_malala_mb

نوٹ

ملالہ کے خاندان کو حکومت پاکستان نے حفاظتی خدشات کی بنا پر، بھارت جانے سے منع کر دیا، جس پر یا اعزاز ان کے پاکستانی نژاد برطانوی فلم میکر دادا نےسوہا علی نے وصول کیا۔



خطا در حوالہ: <ref> tags exist for a group named "زیریں-الفا", but no corresponding <references group="زیریں-الفا"/> tag was found, or a closing </ref> is missing