ملالہ یوسفزئی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
(ملالہ یوسف زئی سے رجوع مکرر)
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
ملالہ یوسفزئی
ملاله یوسفزۍ
پیدائش 1997 (عمر 17 برس)
مینگورہ، خیبر پختونخوا، پاکستان
قومیت پاکستانی
اسمائے دیگر گل مکئی
شہریت پشتون
وجہِ شہرت حقوق نسواں فعالیت، تعلیم
مذہب اسلام
والدین ضیاء الدین یوسف زئی
اعزازات نوبل امن انعام (2014)

عالمی اعزاز امن برائے اطفال (دوسرا درجہ، 2011)

پاکستان قومی اعزاز برائے امن (2011)

ملالہ یوسفزئی (پیدائش 12 جنوری 1997) پاکستان میں پیدا ہونے والی خواتین کی تعلیم کی سرگرم رکن ہے اور اسے کسی بھی شعبے میں نوبل انعام وصول کرنے والے سب سے کم سن فرد ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔ اس کی وجہ شہرت اپنے آبائی علاقے شوات اور خیبر پختونخواہ میں انسانی حقوق، تعلیم اور حقوق نسواں کے حق میں کام کرنا ہے جب مقامی طالبان کے لڑکیوں کو سکول جانے سے روک دیا تھا۔ اب ملالہ کی تحریک بین الاقوامی درجہ اختیار کر چکی ہے۔

علاقے میں سکولوں کا ایک سلسلہ ملالہ کے خاندان کی ملکیت ہے۔ 2009 کی ابتداء میں گیارہ یا بارہ سالہ ملالہ نے "گل مکئی" کے قلمی نام سے بی بی سی کے لئے ایک بلاگ لکھا جس میں اس نے طالبان کی طرف سے وادی پر قبضے کے خلاف لکھا تھا اور اپنی رائے دی تھی کہ علاقے میں لڑکیوں کی تعلیم پر توجہ دی جانی چاہیئے۔اگلی گرمیوں میں جب پاکستانی فوج نے سوات کی دوسری جنگ میں اس علاقے سے طالبان کا خاتمہ کیا تو نیویارک ٹائمز کے صحافی ایڈم بی ایلک نے ملالہ کی زندگی کے بارے ڈاکومنٹری بنائی۔ ملالہ مشہور ہو گئی اور اس کے انٹرویو اخبارات اور ٹی وی کی زینت بننے لگے۔ اس کا نام بین الاقوامی امن ایوارڈ برائے اطفال کے لئے جنوبی افریقہ کے ڈیسمنڈ ٹوٹو نے پیش کیا۔ 9 اکتوبر 2012 کو ملالہ سکول جانے کے لئے بس پر سوار ہوئی۔ ایک مسلح شخص نے بس روک کر اس کا نام پوچھا اور اس پر پستول تان کر تین گولیاں چلائیں۔ ایک گولی اس کے ماتھے کے بائیں جانب لگی اورکھوپڑی کی ہڈی کے ساتھ ساتھ کھال کے نیچے سے حرکت کرتی ہوئی اس کے کندھے میں جا گھسی۔ حملے کے کئی روز تک ملالہ بے ہوش رہی اور اس کی حالت نازک تھی۔ تاہم جب اس کی حالت کچھ بہتر ہوئی تو اسے برمنگھم کے کوئین الزبتھ ہسپتال کو بھیج دیا گیا تاکہ اس کی صحت بحال ہو۔ 12 اکتوبر کو پاکستانی 50 مذہبی علماء ملالہ کے قتل کی کوشش کے خلاف فتویٰ دیا۔ تاہم کئی پاکستانی ابھی تک یہ سمجھتے ہیں کہ یہ حملہ سی آئی اے نے کرایا تھا اور اس بارے سازشی نظریات پائے جاتے ہیں۔

اس قاتلانہ حملے کی وجہ سے قومی اور بین الاقوامی طور پر ملالہ کی حمایت میں اچانک اضافہ ہوا۔ ڈوئچے ویلے نے جنوری 2013 میں ملالہ کے بارے لکھا کہ وہ دنیا کی مشہور ترین کم عمر بچی بن گئی ہے۔ اقوام متحدہ کے عالمی تعلیم کے نمائندے گورڈن براؤن نے اقوامِ متحدہ کی ایک پٹیشن بنام "میں ملالہ ہوں" جاری کی اور مطالبہ کیا کہ دنیا بھر کے تمام بچوں کو 2015 کے اواخر تک سکول بھیجا جائے۔ اس کے نتیجے میں پاکستان میں پہلی بار تعلیم کے حق کا بل منظور ہوا۔ 29 اپریل 2013 کو ملالہ کو ٹائم میگزین کے اولین صفحے پر جگہ ملی اور اسے دنیا کے 100 با اثر ترین افراد میں سے ایک گردانا گیا۔ ملالہ پاکستان کے پہلے یوتھ پیس پرائز کی وصول کنندہ ہے۔

12 جولائی 2013 کو ملالہ نے اقوامِ متحدہ کے صدر دفتر میں خطاب کیا اور مطالبہ کیا کہ دنیا بھر میں تعلیم تک رسائی دی جائے۔ ستمبر 2013 میں ملالہ نے برمنگھم کی لائبریری کا باضابطہ افتتاح کیا۔ ملالہ کو 2013 کا سخاروو انعام بھی ملا۔ 16 اکتوبر 2013 کو حکومتِ کینیڈا نے اعلان کیا کہ کینیڈا کی پارلیمان ملالہ کو کینیڈا کی اعزازی شہریت دینے کے بارے بحث کر رہی ہے۔ فروری 2014 کو سوئیڈن میں ملالہ کو ورلڈ چلڈرن پرائز کے لئے نامزد کیا گیا۔ 15 مئی 2014 کو ملالہ کو یونیورسٹی آف کنگز کالج، ہیلی فیکس کی جانب سے اعزازی ڈاکٹریٹ دی گئی۔

10 اکتوبر 2014 کو ملالہ کو بچوں اور کم عمر افراد کی آزادی اور تمام بچوں کو تعلیم کے حق کے بارے جدوجہد کرنے پر 2014 کے نوبل امن انعام دیا گیا جس میں ان کے ساتھ انڈیا کے کیلاش ستیارتھی شامل ہیں۔ ڈاکٹر عبدالسلام کو 1979 میں طبعیات کے نوبل انعام کے بعد ملالہ نوبل انعام پانے والی دوسری پاکستانی بن گئی ہے۔

ابتدائی زندگی

بچپن

ملالہ 12 جولائی 1997 کو پاکستان کے شمال مغربی صوبے خیبر پختونخواہ کے ضلع سوات میں پیدا ہوئی۔ ملالہ کا تعلق سنی مسلم خاندان سے ہے جو پشتون نسل سے تعلق رکھتے ہیں۔ اس کا نام ملالہ رکھا گیا جو ملال سے نکلا ہے، اور وجہ تسمیہ میوند کی ملالہ تھی جو جنوبی افغانستان کی ایک مشہور پشتون شاعرہ اور جنگجو خاتون تھی۔ یوسفزئی اس کے قبیلے کو ظاہر کرتا ہے۔ ملالہ اپنے شہر مینگورہ میں اپنے دو چھوٹے بھائیوں، والدین ضیاء الدین اور تور پکئی اور دو پالتو مرغیوں کے ساتھ رہتی تھی۔ سوات مشہور سیاحتی علاقہ ہے اور ایک بار ملکہ الزبتھ دوئم نے یہاں کی سیر کی تھی اور اسے مشرق کا سوئٹزرلینڈ قرار دیا تھا۔

ملالہ کو پشتو، انگریزی اور اردو پر عبور حاصل ہے اور اس نے زیادہ تر تعلیم اپنے والد سے پائی ہے۔ ضیاء الدین یوسفزئی جو کہ ایک شاعر ہونے کے ساتھ ساتھ سکولوں کا ایک سلسلہ یعنی چین آف سکولز بھی چلاتے ہیں۔ ملالہ نے ایک بار ڈاکٹر بننے کی خواہش ظاہر کی تھی تاہم پھر اپنے والد کی رہنمائی میں سیاست دان بننے کو ترجیح دی ہے۔ ملالہ کے والد نے اپنی بیٹی کو خصوصی توجہ دی ہے اور جب دیگر بچے سو جاتے تھے تو ملالہ کو رات گئے تک جانے کی اجازت ہوتی تھی اور وہ لوگ سیاست پر بات کرتے تھے۔

ملالہ نے ستمبر 2008 سے تعلیمی حقوق کے بارے بات کرنا شروع کی تھی جب اس کے والد اسے پہلی بار پشاور پریس کلب سے خطاب کرنے لے گئے تھے۔ ملالہ نے اپنی تقریر میں یہ بات کہی کہ "طالبان کی جرات کیسے ہوئی کہ وہ میرے تعلیم کے حق کی راہ میں رکاوٹ بنیں"۔

بطور بی بی سی بلاگر

2008 کے اواخر میں بی بی سی اردو کے عامر احمد خان اور رفقاء نے وادئ سوات میں طالبان کے بڑھتے ہوئے اثرات کے بارے کام کرنے کا سوچا۔ انہوں نے سوچا کہ کیوں نہ وادئ سوات سے کوئی لڑکی اپنی شناخت چھپا کر واقعات کے بارے لکھنا شروع کر دے۔ پشاور میں ان کا نمائندہ عبدالحئی کاکڑ مقامی سکول ٹیچر ضیاء الدین یوسفزئی سے رابطے میں تھا۔ تاہم بچیوں کے والدین نے ہمیشہ یہ کہہ کر انکار کر دیا کہ اس سے ان کے خاندان کو سخت خطرات لاحق ہو جاتے۔ آخرکار ضیاء الدین نے اپنی گیارہ سالہ بیٹی کا نام پیش کیا۔ اس وقت تک طالبان مولانا فضل اللہ کی قیادت میں وادئ سوات پر قبضہ شروع کر چکے تھے اور ٹیلی ویژن، موسیقی اور لڑکیوں کے سکول زبردستی بند کرائے جا رہے تھے اور خواتین کو خریداری کے لئے نکلنے سے روکا جا رہا تھا۔ پولیس اہلکاروں کی سر بریدہ لاشیں چوکوں پر لٹکی ملتی تھیں۔ پہلے پہل ایک لڑکی عائشہ نے ڈائری لکھنے کی حامی بھری لیکن پھر اس کے والدین نے طالبان سے لاحق خطرات کے پیشِ نظر اسے روک دیا۔ اس طرح اس سے چار سال چھوٹی اور ساتویں جماعت کی بچی ملالہ نے اس کام کا ذمہ لیا۔ بی بی سی کے ایڈیٹروں نے اسے فوراً منظور کر لیا۔

کل رات میں نے فوجی ہیلی کاپٹروں اور طالبان سے متعلق بھیانک خواب دیکھا۔ وادئ سوات میں فوجی آپریشن کے آغاز سے ہی مجھے ایسے خواب آ رہے ہیں۔ امی نے ناشتہ بنایا اور میں کھا کر سکول چلی گئی۔ سکول جاتے ہوئے مجھے ڈر لگ رہا تھا کیونکہ طالبان نے لڑکیوں کے سکول جانے پر پابندی لگائی ہوئی ہے۔

27 میں سے صرف 11 لڑکیاں ہی سکول آئی تھیں کیونکہ انہیں طالبان سے خطرہ تھا۔ میری کئی سہیلیاں اپنے خاندان والوں کے ساتھ پشاور منتقل ہو گئی ہیں۔

ملالہ یوسفزئی، 3 جنوری 2009 بی بی بلاگ اینٹری

بی بی سی اردو کے ایک سابقہ مدیر نے کہا کہ "ہم سوات میں سیاست اور دہشت گردی کے بارے لکھ تو رہے ہیں لیکن ہمیں عام افراد کی رائے کا علم نہیں جو طالبان کے خوف میں جی رہے ہیں۔" چونکہ یہ لوگ ملالہ کی حفاظت کے لئے پریشان تھے، اس لئے انہوں نے قلمی نام پر زور دیا۔ ملالہ کے بلاگ کو "گل مکئی" کا نام دیا گیا اور یہ نام بھی پشتو روایات سے لیا گیا تھا۔

3 جنوری 2009 کو ملالہ نے پہلی انٹری بھیجی۔ طریقہ یہ تھا کہ ملالہ ہاتھ سے لکھ کر رپورٹر کو دیتی جو سکین کر کے اسے آگے ای میل کر دیتا۔ بلاگ سے ملالہ کی سوچ کا پتہ چلتا ہے جو سوات کی پہلی جنگ، لڑکیوں کا کم سکول آنا اور پھر سکول کے بند ہونے کے بارے لکھی گئی تھیں۔

مینگورہ میں طالبان نے اعلان کر دیا تھا کہ 15 جنوری 2009 کے بعد سے کوئی لڑکی سکول نہیں جائے گی۔ اس وقت تک طالبان لڑکیوں کے 100 سے زیادہ سکول تباہ کر چکے تھے۔ اس تاریخ سے ایک رات قبل توپوں کی آواز سے ملالہ کئی بار جاگی۔ اگلے دن ملالہ نے اخبار میں اپنے بلاگ کی پہلی تحریر کے اقتباسات پڑھے۔

سکول سے بے دخلی

پابندی کے بعد طالبان نے لڑکیوں کے سکول تباہ کرنے کا سلسلہ جاری رکھا۔ پانچ روز بعد ملالہ نے اپنے بلاگ میں لکھا کہ "میں ابھی بھی اپنے امتحانات کی تیاری کر رہی ہوں جو تعطیلات کے بعد ہیں، اگر طالبان نے لڑکیوں کو سکول جانے کی اجازت دی تو۔ ہمیں امتحان کے سلسلے میں متعلقہ ابواب کا بتا دیا گیا ہے لیکن میرا دل پڑھنے کو نہیں چاہتا۔ ایسا لگتا ہے کہ درجنوں سکولوں کی تباہی اور سینکڑوں کی بندش کے بعد فوج کو کاروائی کا خیال آیا ہے۔ اگر وہ پہلے کاروائی کرلیتے تو نوبت یہاں تک نہ پہنچتی۔“

ملالہ یوسفزئی 24 جنوری 2009 بی بی سی بلاگ انٹری

فروری 2009 میں لڑکیوں کے سکول بند رہے۔ اظہارِ یکجہتی کے لئے لڑکوں کے سکول بھی 9 فروری تک بند رکھے گئے۔ 7 فروری کو جب ملالہ اور اس کے بھائی واپس مینگورہ لوٹے تو سڑکیں خالی تھیں اور ہر طرف عجیب سی خاموشی چھائی تھی۔ جب بہن بھائی اپنی ماں کے لئے تحفہ خریدنے بازار گئے تو بازار بند تھے۔ حالانکہ یہ بازار عام حالات میں رات گئے تک کھلے رہتے تھے۔ ان کے گھر کو بھی لوٹ لیا گیا تھا اور ان کا ٹی وی بھی چوری ہو چکا تھا۔

لڑکوں کے سکول کھلنے کے بعد طالبان نے لڑکیوں کی تعلیم ان اداروں میں جاری رکھنے کی اجازت دی جہاں مخلوط تعلیم ہوتی تھی۔ تاہم لڑکیوں کے سکول بند رہے۔ ملالہ کے مطابق 700 میں سے محض 70 سکول آئے۔

15 فروری کو مینگورہ کی سڑکوں سے فائرنگ کی آوازیں آئیں تاہم ملالہ کو اس کے والد نے تسلی دی کہ یہ فائرنگ امن کی بحالی کے لئے ہو رہی ہے۔ اخبار میں خبر تھی کہ حکومت اور دہشت گرد امن معاہدے پر دستخط کرنے لگے ہیں۔ طالبان نے امن معاہدے کا ذکر اپنے ایف ایم ریڈیو پر کیا اور فائرنگ شدت اختیار کر گئی۔ 18 فروری کو "کیپٹل ٹاک" پر ملالہ نے طالبان کے خلاف بات کی۔ تین دن بعد مولانا فضل اللہ نے اپنے ایف ایم ریڈیو چینل پر اعلان کیا کہ 17 مارچ کو ہونے والے امتحانات تک طالبات سکول جا سکتی ہیں لیکن انہیں برقعے اوڑھنے ہوں گے۔

سکول کا دوبارہ کھلنا

25 فروری کو ملالہ نے لکھا کہ "ہم پہلے کی طرح جماعت میں خوب کھیلے اور بڑا مزہ آیا"۔ یکم مارچ کو 27 میں سے 19 طالبات حاضر تھیں۔ تاہم طالبان بھی علاقے میں کافی متحرک دکھائی دے رہے تھے۔ گولہ باری جاری تھی اور عام لوگوں کی مدد کو آنے والی امدادی اشیاء لوٹ لی گئی تھیں۔ دو دن بعد ملالہ نے لکھا کہ فوج اور طالبان کے درمیان جھڑپیں جاری ہیں اور گولہ باری کی آواز سنائی دے دیتی ہے۔ "لوگ ڈرے ہوئے ہیں کہ شاید امن زیادہ دیر برقرار نہ رہ سکے۔ کئی لوگ کہہ رہے ہیں کہ امن معاہدہ عارضی طور پر لڑائی میں وقفہ ہے۔"

9 مارچ کو ملالہ نے اپنے سائنس کے پرچے کا لکھا جو کافی اچھا ہوا تھا۔ اس نے مزید لکھا کہ طالبان اب پہلے کی طرح گاڑیوں کی تلاشی نہیں لیتے۔ 12 مارچ 2009 کو بلاگ ختم ہو گیا۔

بطور بے دخل فرد

بی بی سی کی ڈائری ختم ہونے کے بعد ملالہ اور اس کے والد سے نیو یارک ٹائمز کے رپورٹر ایڈمز بی ایلیک نے ایک ڈاکومنٹری فلمانے کے سلسلے میں رابطہ کیا۔ مئی میں پاکستانی فوج نے سوات کی دوسری جنگ کے دوران علاقے کا انتظام سنبھال لیا۔ مینگورہ کو خالی کرا دیا گیا اور ملالہ کا خاندان الگ الگ ہو گیا۔ والد نے پشاور کا رخ کیا تاکہ احتجاج کر سکیں جبکہ ملالہ دیہات میں اپنے رشتہ داروں کے ہاں چلی گئی۔ ڈاکومنٹری میں ملالہ نے کہا کہ "مجھے بہت بوریت ہو رہی ہے۔ کوئی کتاب بھی نہیں ہے پڑھنے کو۔"

اسی ماہ طالبان کے خلاف بولنے پر طالبان کے ریڈیو پر ملالہ کے والد کو موت کی دھمکی دی گئی۔ ملالہ اپنے والد کے کاموں سے بہت متائثر ہوئی۔ اسی سال موسمِ گرما میں ملالہ نے ڈاکٹر کی بجائے سیاست دان بننے کا سوچا۔

"اب میرا نیا خواب ہے کہ میں اپنے ملک کو بچانے کے لئے سیاست دان بنوں۔ ہمارے ملک کو کئی بحرانوں کا سامنا ہے۔ میں انہیں ختم کرنا چاہتی ہوں۔"

ملالہ یوسفزئی کلاس ڈسمسڈ (ڈاکومنٹری)

جولائی کے اوائل میں مہاجر کیمپ پوری طرح بھر گئے تھے۔ وزیرِ اعظم نے اعلان کیا کہ وادئ سوات اب محفوظ ہے اور لوگ اپنے گھروں کو لوٹ سکتے ہیں۔ پاکستانی فوج نے طالبان کو شہروں سے دور دیہاتوں کو دھکیل دیا ہے۔ ملالہ کا خاندان جمع ہو کر 24 جولائی 2009 کو واپس لوٹ آیا۔ راستے میں وہ اور دیگر کارکن امریکی صدر اوبامہ کے افغانستان اور پاکستان کے لئے خصوصی نمائندے رچرڈ ہالبروک سے ملے۔ ملالہ نے ہالبروک سے درخواست کی کہ "محترم سفیر، اگر آپ تعلیم کے حوالے سے ہماری مدد کر سکیں تو براہ کرم ضرور کریں۔" جب وہ واپس لوٹے تو پتہ چلا کہ ان کا گھر محفوظ ہے لیکن سکول کو معمولی نقصان پہنچا تھا۔

ابتدائی سیاسی کردار اور سرگرمیاں

قاتلانہ حملہ

علاج

ردِ عمل

اقوامِ متحدہ کی پٹیشن

تحقیقات

سرگرمیوں کی بحالی

نمائندگی

ملالہ ڈے

نوبل انعام برائے امن

پاکستان میں خیر مقدم

ایوارڈ اور اعزازات

تصنیف

ایک کتاب بھی ملالہ کے نام سے انگریزی میں شائع کی گئی، جس کا نام میں ملالہ ہوں رکھا گیا۔

اعزازات

سال اعزاز/انعام کیفیت ملک
2011ء بچوں کا عالمی امن انعام نامزد امیدوار [1]
2011ء قومی نوجوانان امن انعام ملا Flag of Pakistan.svg پاکستان[2]
اکتوبر 2012ء ستارہ جرات پاکستان کا تیسرا بڑا شہری اعزاز برائے بہادری Flag of Pakistan.svg پاکستان[3]
نومبر 2012ء فارن پالیسی دنیا کے سو بہترین مفکرین کی فہرست میں شامل کیا Flag of the United States.svg ریاستہائے متحدہ امریکہ[4]
نومبر 2012ء مدر ٹریسا یادگاری انعام برائے سماجی انصاف Flag of India.svg بھارت[5][زیریں-الفا 1]
دسمبر 2012ء ٹائم میگزین سال (2012) کی شخصیت، کے لیے نام پیش کیا Flag of the United States.svg ریاستہائے متحدہ امریکہ[7]
2013ء بچوں کا عالمی امن انعام ملا
2013ء نوبل انعام امن نامزد امیدوار Flag of Sweden.svg سویڈن
2014ء نوبل انعام امن دنیا کا سب سے بڑا امن انعام Flag of Sweden.svg سویڈن[8]
2014ء تمغا آزادی
(لبرٹی میڈل)
ہر سال ایسے شخص کو دیا جاتا ہے جو آزادی کی نعمت کی حفاظت کے لیے بے حد کوشش کرتا ہے۔ Flag of the United States.svg ریاستہائے متحدہ امریکہ[9]

بیرونی روابط

حوالہ جات

  1. ^ خطا در حوالہ: غلط <ref> ٹیگ؛ حوالہ بنام Tutu کے لیے کوئی متن فراہم نہیں کیا گیا
  2. ^ خطا در حوالہ: غلط <ref> ٹیگ؛ حوالہ بنام new_yorker کے لیے کوئی متن فراہم نہیں کیا گیا
  3. ^ "Malala Yousufzai to be given Pak's highest civilian bravery award". The Indian Express. 16 October 2012. http://www.indianexpress.com/news/malala-yousufzai-to-be-given-paks-highest-civilian-bravery-award/1017557/. Retrieved 16 October 2012. 
  4. ^ "The FP Top 100 Global Thinkers". Foreign Policy. 26 November 2012. Archived on 28 November 2012. خطا: حوالہ جاتی سانچہ کے استعمال کے دوران If you specify |archivedate=, you must also specify |archiveurl= . http://www.webcitation.org/6CViUyRpk. Retrieved 28 November 2012. 
  5. ^ "Teresa awards given away". The Indian Express. 29 November 2012. http://www.indianexpress.com/news/teresa-awards-given-away/1037866. Retrieved 9 December 2012. 
  6. ^ "How Malala Yousafzai got a Mumbai award". Indo-Asian News Service. 9 December 2012. http://www.ndtv.com/article/india/how-malala-yousafzai-got-a-mumbai-award-303123. 
  7. ^ Carbone, Nick (18 December 2012). "TIME Reveals Its Short List for Person of the Year 2012". Time. http://newsfeed.time.com/2012/12/18/time-reveals-its-shortlist-for-person-of-the-year-2012/. Retrieved 20 December 2012. 
  8. ^ خطا در حوالہ: غلط <ref> ٹیگ؛ حوالہ بنام nobel-2014 کے لیے کوئی متن فراہم نہیں کیا گیا
  9. ^ http://www.bbc.co.uk/urdu/world/2014/10/141022_liberty_medal_for_malala_mb

نوٹ

ملالہ کے خاندان کو حکومت پاکستان نے حفاظتی خدشات کی بنا پر، بھارت جانے سے منع کر دیا، جس پر یا اعزاز ان کے پاکستانی نژاد برطانوی فلم میکر دادا نےسوہا علی نے وصول کیا۔



خطا در حوالہ: <ref> tags exist for a group named "زیریں-الفا", but no corresponding <references group="زیریں-الفا"/> tag was found, or a closing </ref> is missing