ملالہ یوسف زئی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
ملالہ یوسف زئی
ملاله یوسفزۍ
پیدائش 1997 (عمر 15 برس)
مینگورہ، خیبر پختونخوا، پاکستان
قومیت پاکستانی
اسمائے دیگر گل مکئی
شہریت پشتون
وجہِ شہرت حقوق نسواں فعالیت، تعلیم
مذہب اسلام
والدین ضیاء الدین یوسف زئی
اعزازات عالمی اعزاز امن برائے اطفال (دوسرا درجہ، 2011)
پاکستان قومی اعزاز برائے امن (2011)



ملالہ یوسف زئی، پیدائیش 1997ء) مینگورہ، ضلع سوات، خیبر پختونخوا، پاکستان سے تعلق رکھنے والی ایک طالبہ ہے۔ وہ وادی سوات میں تعلیم اور حقوق نسواں کے لئے آواز اٹھانے کی وجہ سے مشہور ہوئی۔ اس علاقے میں تحریک طالبان پاکستان 2009ء میں بچیوں کے سکول جانے پر پابندی عائد کرنے کی کوشش کر رہی تھی۔[1][2] 2009ء میں پاک فوج نے سوات میں زبردست کاروائی کر کے طالبان کی اجارہ داری ختم کر دی اور طالبان کا بدمعاشِ اعظم ملا فضللہ امریکہ کے زیرقبضہ افغانستان فرار ہو گیا۔ لڑکیوں کے مدرسہ دوبارہ کھل گئے۔اس عرصے (2009ء) میں ملالہ نے بی بی سی کے لئے ایک مدونہ تحریر کیا جس میں اس نے بچیوں کی تعلیم اور حقوق نسواں کے لئے آواز بلند کی۔ ملالہ اسی وجہ سے مختلف اعزازت کے لئے نامزد ہوئی اور پاکستان کا پہلا "قومی اعزاز برائے امن" جیتا۔ نیویارک ٹائمز نے اس پر دستاویزی فلم بنائی۔ اس عرصہ میں ملالہ نے کاروائی کرنے والی پاک فوج کے جوانوں کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔

9 اکتوبر 2012ء کو "پاکستانی طالبان" نے کارروائی کرتے ہوئے ملالہ کو سکول جاتے ہوئے گولی مار کر جان سے مارنے کی کوشش کی گولی اس کے سر میں لگی اور اسے نازک حالت میں ہسپتال داخل کرنا پڑا۔ اس حملہ میں دو اور لڑکیاں بھی شدید زخمی ہوئیں۔ حملے کے بعد کئی روز تک ملالہ کو ہوش نہیں آیا تاہم بعد میں حالت مستحکم ہوتے ہی انکو صدر پاکستان آصف علی زرداری کی درخواست پر متحدہ عرب امارات کی حکومت نے خصوصی ہوائی امبولنس بھیجی اور اسکو برطانیہ کے ملکہ الزبتھ اسپتال، برمنگھم میں منتقل کردیا گیا-

ابتدائی زندگی[ترمیم]

ملالہ یوسفزئی جولائی 1997 کو سوات، پاکستان کے ایک پشتون گھرانے میں پیداہوئی- ان کا نام جس کے معنی غمزدہ کے ہیں ملالۂ میوند کے نام پر رکھا گیا جوکہ ایک افغان شاعرہ اور جنگجو تھی-

عالمی سطح پر[ترمیم]

Malala Yousafzai in the Oval Office, 11.10.2013

برطانیہ میں ملالہ کی ذمہ داری مختلف مغربی اداروں نے سنبھال لی، جسے Malala Inc. کا نام دیا گیا۔ ملالہ کی تشہیر کی ذمہ داری ایڈلمان نے لے لی جس کی مدد سے اخباری خبریں تواتر سے مغربی ابلاغ میں شائع ہوتی رہیں۔[3] ایک کتاب بھی ملالہ کے نام سے انگریزی میں شائع کی گئی، جس کا نام میں مالالہ ہوں رکھا گیا۔ امریکہ کے صدر اوبامہ سے ملاقات رہی۔ اقوام متحدہ میں خطاب کیا۔ نوبل امن انعام کے لیے نامزدگی ہوئی مگر کامیابی نہ ہوئی۔

حوالہ جات[ترمیم]


بیرونی روابط[ترمیم]