ملٹی وائبریٹر
ملٹی وائبریٹر (multivibrator) ایسے الیکٹرانی سرکٹ ہوتے ہیں جن سے دو حالتوں والے سادہ سسٹم (oscillator, timer, flip-flop) بنائے جا سکتے ہیں۔ ان میں دو ٹرانسسٹر استعمال ہوتے ہیں۔ ماضی میں یہ دو vacuum tubes (جنہیں valve بھی کہا جاتا تھا) سے بنائے جاتے تھے۔ ابتدا میں بننے والے ایسے سرکٹ بغیر input کے oscillator کا کام کرتے تھے اور انکی output میں harmonics کی بھرمار ہوتی تھی اس لیئے انکا نام ملٹی وائبریٹر پڑ گیا۔
ملٹی وائبریٹر سرکٹ کی تین قسمیں ہوتی ہیں۔
- غیر مستحکم یعنی astable۔ یہ دونوں حالتوں میں غیر مستحکم رہتے ہیں اور انہیں input کی بھی ضرورت نہیں ہوتی۔ یہ مسلسل ایک حالت سے دوسری حالت میں تبدیل ہوتے رہتے ہیں۔ یہ سرکٹ oscillator بنانے میں استعمال ہوتے ہیں۔ IC7400 میں چار NAND گیٹ ہوتے ہیں ان میں سے صرف دو کو استعمال کرتے ہوئے یہ ملٹی وائبریٹر بنایا جا سکتا ہے۔
- Monostable یا one shot۔ یہ ایک حالت میں تو مستحکم ہوتے ہیں مگر دوسری حالت میں کچھ مدت کے لیئے غیر مستحکم ہوتے ہیں۔ جب ایک انپٹ پلس (input pulse) آتی ہے تو یہ سرکٹ بھی ایک آوٹ پٹ پلس خارج کرتا ہے اور غیر مستحکم حالت میں چلا جاتا ہے اور پھر ایک مقررہ وقت کے بعد دوبارہ مستحکم حالت میں واپس آ جاتا ہے۔ جتنی دیر یہ غیر مستحکم حالت میں رہتا ہے اس دورانیہ میں آنے والی کسی دوسری انپٹ پلس پر یہ کوئی آوٹ پٹ پلس نہیں دیتا۔ اسطرح یہ ایک مخصوص وقفہ پیدا کرنے کے لیئے استعمال ہوتا ہے۔ اسے pulse source کے طور پر بھی استعمال کرتے ہیں اور frequency divider کے طور پر بھی۔
- ذو مستحکم یعنی bistable۔ اسے Flip flop بھی کہتے ہیں۔ یہ سرکٹ دونوں حالتوں میں استحکام رکھتا ہے یعنی ٹرانسسٹر کی on کی حالت میں بھی اور off کی حالت میں بھی۔ اسطرح یہ "ایک" یا "صفر" کی حالت کو یاد رکھ سکتا ہے۔ انپٹ سگنل کی پلس ملتے ہی یہ ایک حالت سے دوسری حالت میں چلا جاتا ہے اور دوسری دفعہ پلس ملنے پر یہ پھر اپنی پرانی حالت میں واپس آ جاتا ہے۔ یہ سرکٹ کمپیوٹر اور موبائل فون کی میموری کی جان ہے۔ ایسا ہر سرکٹ صرف ایک bit کی میموری رکھتا ہے۔ ہر میموری کارڈ یا میموری chip میں ایسے کروڑوں یا اربوں سرکٹ ہوتے ہیں۔
عام ٹرانسسٹر سے بنے ایسے سرکٹ میں میموری صرف اس وقت تک برقرار رہ سکتی ہے جب تک اس سرکٹ پر وولٹیج موجود رہے۔ شروع میں بننے والے کمپیوٹروں کی میموری پاور آف کرتے ہی مٹ جایا کرتی تھی۔ ایسی میموری volatile میموری کہلاتی ہے۔ 1980 کی دھائی میں توشیبا کے لیئے کام کرتے ہوئے ڈاکٹر Fujio Masuoka نے MOSFET ٹرانسسٹر میں کچھ نئی ترمیم کرکے floating gate transistor بنائے جن سے بنے میموری سرکٹ وولٹیج ہٹنے کے بعد بھی میموری برقرار رکھتے ہیں۔ ایسی میموری non volatile میموری کہلاتی ہے۔ اسے فلیش میموری بھی کہتے ہیں کیونکہ اس میں ڈاٹا کا پورا ایک بلاک اکٹھا مٹایا جاتا ہے۔[1]
ایک micro SD کارڈ کا رقبہ صرف 1.5 مربع سنٹی میٹر ہوتا ہے جبکہ موٹائ ایک ملی میٹر سے کم ہوتی ہے اور اسکی گنجائش 64 گیگا بائٹ تک ہوتی ہے۔