ملکہ خیزران

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش

عباسی خلیفہ المہدی کی ملکہ ۔ عباسی خلفاء الہادی اور ہارون الرشید کی والدہ۔ خیزران بنت عطاء یمن کے ایک علاقے جرثیہ کی رہنے والی ایک باندی تھی ۔ایک روایت کے تحت مہدی اور دوسری روایت کے مطابق خود ابوجعفر منصور نے ایک کثیر رقم کے عوض خریدا تھا۔ مہدی نے اپنی پہلی بیوی ریطہ کے بعد خیزران سے دوسری شادی کی۔ اس کے بطن سے موسیٰ الہادی اور ہارون الرشید کی پیدائش ہوئی۔ خیزران بڑی حیسن و جمیل تھی۔ دربار میں آمد اور وہاں کے زندگی بخش ماحول نے اس کے حسن ظاہری و معنوی میں بے حد اضافہ کیا۔ اور جلد ہی اس کی اندرونی صلاحیتیں نکھر کر سامنے آ گئیں۔ خیزران نے جس فطری اور سادہ ماحول میں آنکھ کھولی اس کے زیر اثر وہ محل میں ہر آنے جانے والے چھوٹے بڑے کی دلداری کرتی ۔ محتاجوں اور ضرورت مندوں کی حاجت روائی میں بڑی فراخدلی سے کام لیتی ۔ وہ کسی فرد و بشر پر اپنی برتری یا فقیت نہ جتاتی ۔ وہ سب کے ساتھ مل جل کر رہتی اور ان کے ساتھ خندہ پیشانی سے پیش آتی ۔ اس کا یہ نتیجہ نکلا کہ اس نے ہر طبقہ کے لوگوں میں مقبولیت حاصل کر لی۔ لوگ اس کے ساتھ محبت کرنے لگے اور اس کی مدح و ثنا کرتے نہ تھکتے ۔

المہدی اور خیزران[ترمیم]

مہدی کی پہلی بیوی ملکہ ریطہ اپنے خاندانی پس منظر اور احساس برتری کا شکار ہونے کی وجہ سے لوگوں سے کٹ کر رہ گئی اور ایسی ہر دلعزیزی حاصل کرنے میں ناکام رہی جو خیزران کو حاصل ہوئی تھی۔ ریطہ کو اس تبدیلی ، گھٹن ، اور کمی کا احساس تو تھا لیکن وہ نخوت و پندار کے نشہ میں اپنے اندر لچک پیدا کرنے میں ناکام رہی۔ لہذا بہ امر مجبوری اس نے خیزران کے لیے میدان کھلا چھوڑ دیا نتیجتاً مہدی اس کا بندہ بے دام بنتا چلا گیا اور خیزران آہستہ آہستہ اسے اپنی ترغیبات ، پسند و ناپسند اور خواہشات کی تکمیل پر چلانے لگی۔ حتیٰ کہ وہ مہدی پر پوری طرح حاوی ہوگئی اور امور سلطنت میں اس کا عمل دخل بڑھتا چلا گیا اور اس کی جاہ پرستی کھل کر کام کرنے لگی۔

برامکہ خاندان[ترمیم]

مہدی کے رے میں قیام کے دوران برمک خاندان کے افراد سے یحییٰ برمکی کی خواتین کو خیزران کا تقرب حاصل ہوا اور اس طرح مہدی اور یحییٰ کے درمیان نہ ٹوٹنے والے تعلقات پیدا ہوگئے ۔ یہ خاندان اب بے پایاں شاہی التفات و عنایات کا مرکز بن چکا تھا۔ ہارون الرشید کی ولادت اور کچھ عرصہ بعد مہدی کے خلیفہ بنتے ہی خیزران کا دبدہ اور وقار میں مزید اضافہ ہوگیا اور اس کا زعم بالادستی اور فخر و ناز اپنی انتہائی بلندیوں کو چھونے لگا اور وہ مہدی پر پوری طرح مسلط ہو کر مملک کی واحد صآحب حل و عقد کی حیثیت اختیار کر گئی۔ ہارون الرشید کی پیدائش کے بعد اسے دودھ پلانے کے لیے یحییٰ کی بیوی کے سپرد کر دیا گیا جس کے ہاں فضل برمکی کی پیدائش ہو چکی تھی۔ ملکہ خیزران اپنے ازراہ التفات و مروت اور برامکہ کی تالیف قلب کے لیے کبھی کبھی فضل کو اپنا دودھ پلاتی رہی۔ اس طرح فضل اور ہارون کے درمیان رضاعی بھائی کا رشتہ قائم ہو گیا۔

ہارون سے لگاؤ[ترمیم]

خیرزان اپنے بیٹے موسیٰ الہادی کے مقابلہ میں ہارون الرشید کو اس کی ذہانت اور حسن و جمال کی بنا پر زیادہ چاہتی تھی ۔ اور یہ روش موسی کے دل میں کھٹک اور کسک پیدا کرتی رہتی ۔ چنانچہ موسیٰ الہادی نے منصب خلافت پر فائز ہونے کے بعد بڑی چابکدستی اور دانش مندی کے ساتھ اپنی ماں کو امور سلطنت سے بے دخل کر دیا اور اس کے اختیارات میں کمی کر دی اور حاجت مندوں کو اس کے دروازے سے دور رکھنے کی تاکید کی۔ ملکہ خیزران محبت و نفرت دونوں میں بے حد حساس اور انتہا پسند تھی۔ اگرچہ اسے زر و جواہرات جمع کرنے اور شان و شوکت کے اظہار کا بڑا شوق تھا۔ لیکن دوسری طرف وہ بے حد فیاض اور دولت لٹانے والی خاتون تھی جو کوئی اس کے در پر حاضر ہوتا جو چاہتا پالیتا اور کوئی سوالی اس کے در سے خالی نہیں جاتا۔ مسکینوں ، دکھی اور قسمت کے مارے ہوئے انسانوں کے ساتھ اس کا برتاؤ محبت و شفقت اور رحم پر مبنی تھا۔

عہد ہارون الرشید[ترمیم]

ملکہ کو امور ملکی اور سیاست میں دخل دینے کی بڑی مہارت حاصل تھی۔ اور اگر پردہ اور اسلامی احکامات حائل نہ ہوتے تو وہ کھلم کھلا سیاست میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتی ۔ علم و ادب اور دین کے اصول و مبادی سے وہ بخوبی آگاہ تھی۔ بعض مورخین کے نزدیک وہ اشاعر بھی موزوں کر لیتی الغرض وہ ایک بری ، باکردار ، پاکباز ، دین دار اور ذہین و فطین خاتون تھی اسے دین سے قلبی لگاؤ تھا۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بے پناہ محبت تھی۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی جائے ولادت پر محل تعمیر کرایا۔ ہارون الرشید کے خلافت کے ابتدائی چار سالوں میں خیزران کی حیثیت ایک بار پھر سامنے آئی۔ اور وہ امور سلطنت مکمل طور پر یحییٰ اور مادر ملکہ خیزران کے ہاتھوں میں مرکوز ہو کر رہ گئی۔ 789ء ماہ جمادی الآخر میں وہ وفات پاگئی اور اس کے ساتھ ہی تاریخ کا ایک اہم دور دم توڑ گیا۔