منصور

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش

منصور (938-1002) اندلس کا ایک مدبر سیاستدان اور سپہ سالار تھا۔ ۔اس کا اصلی نام أبو عامر محمد بن عبد الله بن أبي عامر الحاجب المنصور تھا۔ ابن ابى عامر قرطبہ کے ایک وکیل کا بیٹا تھا جس کے لئے دربارميں ایک معمولی عرضى نويس كى ملازمت اس سنہری زينے پرپہلا قدم ثابت ہوا جس کى معراج اسے اندلس كى وزارت اعظمى تک لے گئى ایک دن طالب علمى کے دور میں مسجد قرطبہ کے صحن میں اسے کافی سنجیدہ دیکھ کر اس کے دوستوں نے پوچھا عامر! تم آج اتنا سنجیدہ کیوں ہو؟ اس نے کہا میں اس وقت کے بارے میں سوچ رہا ہوں جب مجھے اندلس كى وزارت اعظمى پر فائز ہونے کے بعداس ملک کے تمام مسائل حل كرنا ہوں گے اس کے تمام دوست بہت زیادہ محظوظ ہوۓ اور ہنسنے لگے عامر نے غصے سے کہا " بہت جلد میں واقعی اندلس کا وزیر اعظم بننے جا رہا ہوں ابھی وقت ہے اپنے لئے جو مانگنا ہے مانگ لو "ان میں سے ایک نے مالقہ كا قاضى بننے كى خواہش كا اظہار كيا دوسرے نے پولیس کے سربراہ كا عہده مانگا تیسرے نے کہا کہ مجھے باغات کا شوق ہے میں قرطبہ کے باغات كا نگران بننا چاہتا ہوں چوتھے نے آگے قدم رکھا اور منصور کے منہ پر چانٹا مارا اور حقارت سے کہا"اگر تمہارى اگلى بارہ نسلوں میں بھی کوئی اندلس كى وزارت اعظمى پر فائز ہوا تو مجھے گدھے پرالٹا سوار كر کے شہر میں گشت كروانا" کچھ برسوں بعد بچوں کے جم غفير کے درمیان یہی طالب علم گدھے پرالٹا سوار اس روزبد كوکوس رہا تھا جب اس نے اپنی رضا مندى سے اس خواہش کا اظہار کیاتھا تاریخ دان لين پول کے مطابق عبدالرحمن سوم نےجس عظیم اندلس کے خواب دیکھے تھے ان كى تعبيرالمنصور کے دور میں ظہور پذير ہوئى اس كى قوت برداشت كا يہ عالم تها كہ ايک مرتبہ اپنے وزرا کے ساته انتظامى امور پر بڑے اطمينان سے محو گفتگو تها كہ يكدم دربار ميں گوشت كے جلنے کی ناگوار بو پھیل گئى معلوم ہوا كہ شاهى جراح المنصور كى ٹانگ پر اَۓ ہوۓ ایک زخم كو گرم لوہے كى سلاخ سے داغ رہا ہے انتظامى امور كے علاوه وه فن حرب ميں بهى باكمال تها ہر سال موسم بہار اور خزاں ميں ایک طے شده پروگرام كے تحت وه باسلونا، پامپلونا،نوارا،ليان اور قشتاليہ كى رياستوں پر حملہ آور ہوتا ليان كے شہر كى فصيليں منہدم كرنا اس كا محبوب مشغلہ تها اپنے چھتيس سالہ دور حكومت ميں ستاون جنگوں ميں حصہ ليا اور ہر دفعہ كامياب لوٹاابن ابى عامر اسى لۓ تاريخ ميں المنصور يعنى فاتح كے نام سے ياد كيا جاتا ہے ہر معركے سے واپسی پروه اپنے لبادے پرجمع شده خاک بڑی احتياط سے جهاڑتا اور اسے ايک ڈبيہ میں محفوظ كر ليتا قشتاليہ کے خلاف ايک مہم سے واپسى پروه مدينہ سلى ميں عليل ہوا اور چنددن بعد اندلس كا يہ جرى فرزند راہى ملک عدم ہوااس كى وصيت كے مطابق چاليس معركو ں میں جمع شده خاک اس كے چہرے پرچهڑكى گئى اور اسے اس كفن میں دفنايا گيا جو اس كے ذاتى كهيت كى روئى سے اس كى اپنى بيٹيوں نے كاتا تها اس كى وفات پر عيسائيوں نے جس طرح اطمينان كا اظہار كيا وه ايک راہبانہ جريدے کے ان الفاظ سے ظاہر ہوتا ہے "1002 میں المنصور مر گيا اور جہنم میں دفن ہوا"

وسطی اسپین میں ایک پہاڑی چوٹی المنظور کا نام اس کے نام پر ھے۔

Incomplete-document-purple.svg یہ ایک نامکمل مضمون ہے۔ آپ اس میں اضافہ کرکے ویکیپیڈیا کی مدد کر سکتے ہیں۔