من لا يحضره الفقيہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش

من لایحضرہ الفقیہ ، اہل تشیع کی کتب احادیث میں سے ایک اہم بنیادی حدیث کی کتاب ہے۔ اسے ابوجعفر محمد بن علی بن حسن بن موسی بن بابویہ قمی ، معروف بہ شیخ صدوق (306 تا 381 ق) نے ترتیب دیا۔ شیخ صدوق کا چوتھی صدی میں ایران، خراسان، عراق اورشام کے بہترین علماء میں شمار ہوتا تھا ۔ اس کتاب کو اصول اربعہ میں موجود معتبر روایات اور تین سو سے زاہد روایان سے روایت کیا گيا ہے۔یا تمام رواوی شیخ صدوق کے استاد شمار ہوتے ہیں۔
اس کتاب میں تقریبا چھ ہزار احادیث مسائل اور فقہی مباحث کے متعلق موجود ہیں، یہ کتاب بھی کتاب کافی کی طرح اپنی تالیف کے زمانہ سے لے کر آج تک شعیہ علماء کے نزدیک مستند رہی ہے اور شروع سے ہی اس کی شروحات لکھی جاتی رہی ہیں۔اور اس اسے درس و تدریس کے لیے استعمال کیا جاتا رہا ہے۔ من لایحضرہ الفقیہ اور اس کے مصنف کوعلمائے اہل سنت نے بھی سراہا ہے ۔[حوالہ درکار]

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]