موئن جو دڑو

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
موئن جودڑو کے آثار
عالمی ثقافتی ورثہ

موئن جودڑو کے موجودہ آثارسندھ ، پاکستان
ملک پاکستان
قسم ثقافتی
شرائط ii, iii
حوالہ 138
علاقہ** ایشیا بحر الکاہل
متناسقات 27°19′45″N 68°08′20″E / 27.32917°N 68.13889°E / 27.32917; 68.13889متناسقات: 27°19′45″N 68°08′20″E / 27.32917°N 68.13889°E / 27.32917; 68.13889
تاریخِ شمولیت
شمولیت 1980  (4th اجلاس)
* عالمی ثقافتی ورثہ کی فہرست میں مندرج نام
** یونیسکو کا علاقہ
Moenjodaro.jpg

موئن جو دڑو (سندھی:موئن جو دڙو اور اردو میں عموماً موہنجوداڑو بھی) وادی سندھ کی قدیم تہذیب کا ایک مرکز تھا۔ یہ لاڑکانہ سے بیس کلومیٹر دور اور سکھر سے 80 کلومیٹر جنوب مغرب میں واقع ہے۔ یہ وادی سندھ کے ایک اور اہم مرکز ہڑپہ سے 400 میل دور ہے یہ شہر 2600 قبل مسیح موجود تھا اور 1700 قبل مسیح میں نامعلوم وجوہات کی بناء پر ختم ہوگیا۔ تاہم ماہرین کے خیال میں دریائے سندھ کے رخ کی تبدیلی، سیلاب، بیرونی حملہ آور یا زلزلہ اہم وجوہات ہوسکتی ہیں۔

موئن جو دڑو کو 1922ء میں برطانوی ماہر آثار قدیمہ سر جان مارشل نے دریافت کیا اور ان کی گاڑی آج بھی موئن جو دڑو کے عجائب خانے کی زینت ہے۔

لیکن ایک مکتبہ فکر ایسا بھی ہے جو اس تاثر کو غلط سمجھتا ہے اور اس کا کہنا ہے کہ اسے غیر منقسم ہندوستان کے ماہر آثار قدیمہ آر کے بھنڈر نے 1911ء میں دریافت کیا تھا۔ موئن جو دڑو کنزرویشن سیل کے سابق ڈائریکٹر حاکم شاہ بخاری کا کہنا ہے کہ"آر کے بھنڈر نے بدھ مت کے مقامِ مقدس کی حیثیت سے اس جگہ کی تاریخی حیثیت کی جانب توجہ مبذول کروائی، جس کے لگ بھگ ایک عشرے بعد سر جان مارشل یہاں آئے اور انہوں نے اس جگہ کھدائی شروع کروائی۔" [1]

موئن جو دڑو سندھی زبان کا لفظ ہے جس کا مطلب مُردوں کا ٹیلہ ہے۔ یہ شہر بڑی ترتیب سے بسا ہوا تھا۔ اس شہر کی گلیاں کھلی اور سیدھی تھیں اور پانی کی نکاسی کا مناسب انتظام تھا۔ اندازاً اس میں 35000 کے قریب لوگ رہائش پذیر تھے۔ ماہرین کے مطابق یہ شہر 7 مرتبہ اجڑا اور دوبارہ بسایا گیا جس کی اہم ترین وجہ دریائے سندھ کا سیلاب تھا۔ یہ شہر اقوام متحدہ کے ادارہ برائے تعلیم، سائنس و ثقافت یونیسکو کی جانب سے عالمی ورثہ قرار دیے گئے مقامات میں شامل ہے۔

محلِّ وقوع[ترمیم]

تہذیبِ وادیٔ سندھ میں موئن جودڑو کا مقام
پاکستان صوبۂ سندھ میں موئن جودڑو کامقام


حوالہ جات[ترمیم]