موسٰی بن نصیر

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش

افریقہ کے عظیم اموی گورنراور سپہ سالار

ابتدائی زندگی[ترمیم]

موسٰی بن نصیر کا آبائی خاندان عیسائی تھا۔ اور عین التمر میں مقیم تھا۔ شام و ایران کی سرحد پر واقع یہ شہر اہم تجارتی مرکز تھا۔ خالد بن ولید نے عین التمر فتح کیا تو آپ کے والد نصیر کو گرفتار کرکے مدینہ بھیج دیا دستور کے مطابق وہ غلام تھا۔ لیکن قبول اسلام کے بعد اس کے مالک عبدالعزیز بن مروان نے آزاد کرکے (موالی) دوست بنا لیا ۔موسی کی پیدائش عہد فاروقی 19 ہجری میں ہوئی۔ آپ کی تعلیم و تربیت اسی ماحول میں ہوئی جس میں عمر بن عبدالعزیز مجدد الف اول پرورش پا رہے تھے۔

عبدالملک نے موسٰی کو بصرہ میں خراج وصول کرنے کا افسر مقرر کیا۔ لیکن جلد ہی موسٰی پر بددیانتی کا الزام لگا تاہم آپ اپنے مربی عبدالعزیز کی سفارش پر سزا سے بچ گئے ۔ عبدالعزیز نے موسی پر عاید کردہ جرمانہ اپنی جیب سے ادا کیا عبدالعزیز نے انہیں اپنے پاس مصر میں بلایا وہ موسٰی کی دیانت و ذہانت سے آگاہ تھے اور جانتے تھے کہ انہیں عظیم کام سونپے جا سکتے ہیں۔ چنانچہ انہیں افریقہ کے گورنر کا منصب سونپا گیا۔

افریقہ کی گورنری[ترمیم]

موسٰی بن نصیر اچھے جرنیل ہی نہیں بہت اچھے منتظم بھی تھے اور اس سے بڑھ کر یہ کہ وہ مبلغ اور مصلح تھے۔ بربر قبائل کو جو مسلسل بغاوتوں کے عادی تھے اور سخت سے سخت گورنروں کے مظالم برداشت کرنے کے سبب مسلمانوں سے متنفر ہو رہے تھے۔ ایک ایسے ہی مصلح کی ضرورت تھی جو ان کے نظریات کی تطہیر کر سکے۔ اسلامی اقدار کو ان کے دلوں میں بٹھا سکے اور انہیں اسلام کے مبلغ بنا دے۔ موسٰی بن نصیر افریقہ پہنچے تو انہوں نے قبائل میں گھل مل کر انہیں یقین دلایا کہ مسلمان کی حیثیت سے ان میں اور موسٰی میں کوئی فرق نہیں اور وہ انہیں میں سے ہیں۔ اس نئے انداز پر بربر قبائل کو خوشگوار حیرت ہوئی موسٰی کے فوجی کمانڈر طارق بن زیاد خود بربر تھے اور قوت ایمانی اور جذبہ جہاد سے معمور دل رکھتے تھے۔ طارق بن زیاد نے سات ہزار بربر فوج کی دینی و فوجی تربیت کرکے اسے کسی بھی بڑی مہم کے لیے تیار کیا۔ غرض بربر قبائل کو اعتماد میں لے کر انہیں متحد کرکے ان کی تربیت کرکے اور ان میں جذبہ جہاد پیدا کرکے فتح اندلس کا پہلا مرحلہ مکمل کیا گیا

فتح اندلس[ترمیم]

دیکھیے مکمل مضمون فتح اندلس

کاونٹ جولین کی طرف سے اندلس پر حملہ کی دعوت ملنے پر وہ وقت آگیا جس کا مسلمانوں کو انتظار تھا۔ راڈرک کا ظلم واضح ہو چکا تھا۔ اس کی بدکرداری سامنے آگئی تھی۔ اندلس میں نہ صرف یہودی مظلومیت کی زندگی بسر کر رہے تھے بلکہ گاتھ قوم کے عوام بھی تنگ تھے۔ امراء بھی بادشاہ سے تنگ آئے بیٹھے تھے۔ معاشرہ ہر لحاظ سے گل سڑ گیا تھا اور ایک نئے انقلاب کا متقاضی تھا۔ طارق بن زیاد نے اپنے ابتدائی خطاب میں ہی مظلوم کی حمایت میں جنگ اور خدا کا پیغام پہنچانے کے جذبات ابھارے اور مجاہدین سر دھڑ کی بازی لگانے پر آمادہ ہوگئے

موسٰی نے اس موقعہ پر نہایت محتاط طرز عمل اختیار کیا۔ پہلے کاونٹ جولین کی وفاداری کا امتحان کیا اور پہلا حملہ اس سے کروایا۔ پھر طارق بن زیاد کو سات ہزار مجاہدین کے ساتھ بھیجا اور پانچ ہزار بطور کمک روانہ کیے۔ اور جوں ہی گاڈ ایسٹ کی فتح کی خبر ملی خود بھی اندلس پہنچے اور فتوحات میں حصہ لیا۔

انجام[ترمیم]

بدقسمتی سے موسٰی کا انجام بھی نہایت اندوہ ناک ہوا۔ ولید بن عبدالملک نے موت سے قبل موسی کو دمشق واپس پہنچنے کے احکامات دئیے تھے۔ موسیٰ بن نصیر غنیمت اور زر و جواہر کے ساتھ پایہ تخت واپسی کے لیے روانہ ہو چکا تھا۔ ولید کے مرض الموت میں مبتلا ہونے کے بعد سلیمان بن عبدالملک کی خواہش تھی کہ موسی کا ورود دمشق میں ولید کی موت کے بعد اور اس کی اپنی تخت نشینی کے وقت ہو لیکن موسیٰ بن نصیر اپنے محسن اور مربی کی خدمت میں جلد از جلد حاضر ہو کر تحفے اور تحائف اور مال غنیمت پیش کرنا چاہتا تھا۔ لہذا سلیمان کی خواہش کے خلاف نہایت سرعت سے پایہ تخت پہنچا۔ ولید کی طرف سے موسیٰ کے بے حد عزت افزائی ہوئی۔ انتقام کی آگ کو ٹھنڈا کرنے کے لیے سلیمان نے تخت نشین ہونے کے بعد موسیٰ کے تمام اعزازات اور مناصب سے یکسر محروم کردیا اور اس کی تمام جائیداد ضبط کر لی۔ یہی نہیں بلکہ جب کسی صاحب اثر شخصیت کے ایماء پر موسی کو قید سے نکالا گیا تو سلیمان نے اس پر کئی لاکھ کا جرمانہ نافذ کر دیا۔ موسی اس قدر کثیر رقم بطور جرمانہ ادا کرنے کے قابل نہ تھا۔ کہاں فاتح سپین کی حیثیت سے شاہانہ تزک و احتشام اور کہاں اب ایک تنگ دست انسان جو دو لقموں کا بھی محتاج ہو۔ سلیمان بن عبدالملک نے نہ

بیٹے کی موت[ترمیم]

سلیمان نے ان کے بیٹے عبدالعزیز بن موسٰی کو جسے وہ اپنا نائب بنا کر آئے تھے ، قتل کردیا اور موسٰی کو کچھ دیر جیل بھی کاٹنی پڑی اور اسی جیل میں ان کے بیٹے کا سر انہیں دکھایا گیا۔ جس پر اسی سالہ بزرگ منتظم و جرنیل کا تبصرہ صرف یہ تھا کہ سلیمان تو نے ایک ایسے جوان کو مارا ہے جو رات کو خدا کی عبادت کرتا تھا اور دن کو روزہ رکھتا تھا۔ یہ صدمہ بظاہر انہوں نے صبر سے برداشت کیا لیکن پیرانہ سالی میں ایک نیک اور باصلاحیت بیٹے کی موت ان کے لیے ناقابل برداشت ثابت ہوئی۔ اور قید سے آزاد ہونے کے بعد نہایت ہی غربت میں ان کا انتقال ہوا۔