موطاء امام مالک

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش

بسلسلہ مقالہ جات
حدیث

Mosque02.svg
مشہور و معروف

سنّی صحاح ستہ

  1. صحیح بخاری
  2. صحیح مسلم
  3. سنن نسائی
  4. سنن ابی داؤد
  5. سنن ترمذی
  6. سنن ابن ماجہ

شیعہ اثنا عشری کتب اربعہ

  1. اصول کافی از کلینی
  2. من لا یحضرہ الفقیہ از شیخ صادق
  3. تہذیب الاحکام از شیخ طوسی
  4. الاستبصار از شیخ طوسی

اباضی مجموعات

  1. الجمع الصحیح از الربیع ابن حبیب
  2. ترتیب المسند از الورجلانی
سنّی مجموعات
شیعہ اثنا عشری مجموعات
شیعہ اسماعیلی مجموعات
معتزلی مجموعات

موطاء امام مالکحدیث کی ایک ابتدائی کتاب ہے جو مشہور سنی عالم دین مالک بن انس بن مالک بن عمر (93ھ - 197ھ) نے تصنیف کی۔ انہی کی وجہ سے مسلمانوں کا طبقہ فقہ مالکی کہلاتا ہے جو اہل سنت کے ان چار مسالک میں سے ایک ہے جس کے پیروان آج بھی بڑی تعداد میں ہیں۔

موطا کےمصنف کا پورانام یہ ہے: ابوعبداللہ مالک بن انس بن ابی عامرالاصبحی الحمیری ہے۔(۱) آپ کی تاریخ ولادت میں ۹۰ھ سے ۹۷ھ تک کے مختلف اقوال ہیں۔ امام ذہبی نے یحیی بن کثیرکے قول کو اصح قراردیاہے جس کے مطابق آپ کی ولادت ۹۳ھ میں ہوءی ہے۔ جبکہ آپ کی وفات ربیع؁ الاول؁۱۷۹ھ کومدنیہ منورہ میں ہوءی امام مالک فقہ اورحدیث مین اھل حجاز بلکہ پوری ملت اسلامیہ کے امام ہیں۔ آپ کی کتاب "الموطا" حدیث کے متداول اور معروف مجموعوں میں سب سے قدیم ترین مجموعہ ہے۔موطاسے پہلے بھی احادیث کے کی مجموعے تیار ہوءے اور ان میں سے کءی ایک اج موجود بھی ہیں لیکن وہ مقبول اورمتداول نہیں ہیں۔ موطاکے لفظی معنی ہے، وہ راستہ جس کو لوگوں نے پےدرپے چل کر اتناہموارکردیاہو کہ بعد میں انے والوں کے لیےاسپرچلنااسان ہوگیاہو۔ جمہور علماء نے موطاکو طبقات کتب حدیث میں طبقہ اولی میںشمار کیاہے امام شافعی فرماتے ہیں"ماعلی ظہرالارض کتاب بعد کتاب اللہ اصح من کتاب مالک" کہ میں نے روءے زمین پر موطاامام مالک سے زیادہ کوءی صحیح کتاب (کتاب اللہ کے بعد)نہیں دیکھی ۔ حضرت شاہ ولی اللہ موطاکے بارے میں لکھتے ہیں" فقہ میں موطا امام مالک سےزیادہ کوءی مضبوط کتاب موجود نہیں ہے" موطا میں احادیث کی تعداد کے بارے میں کءی روایات ہیں، اور اس اختلاف کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ امام مالک نے اپنی روایات کی تہذیب اورتنقیح برابر جاری رکھی لہذا مختلف اوفات میں احادیث کی تعداد مختلف رہی۔

Incomplete-document-purple.svg یہ ایک نامکمل مضمون ہے۔ آپ اس میں اضافہ کرکے ویکیپیڈیا کی مدد کر سکتے ہیں۔

موطا امام مالک اردو مترجم مع شرح مختلف ادوار میں احادیث کی مختلف کتابیں مرتب ومدون کی گئیں لیکن حضرت امام مالک بن انس کا مجموعۂ احادیث بنام ’’مؤطا امام مالک ‘‘ کو سلسلہ تدوین ِحدیث میں اوّلین کتاب ہونے کا اعزاز حاصل ہے ،اور یہی وہ ذخیرہ ٔاحادیث جس کو پہلی مرتبہ فقہی انداز میں مرتب کیا گیا۔ نیز اس مجموعہ احادیث کا ایک خاصہ یہ بھی ہے کہ اس میں صرف صحیح احادیث ہی کو نقل کرنے کی سعی جمیل کی گئی ہے اور اس بات پر حضرت شاہ ولی اللہ محدث دھلوی ؒ نے محدثین کا اتفاق نقل فرمایا ہے۔ اس کتاب کی اسی اہمیت کے پیش ِ نظر ہر دور میں اکابر امت نے اپنے اپنے حلقہ ہائے تدریس میں اس سے استفادہ کیا اور مختلف ادوار ،میں مختلف دول ِ اسلامیہ میں اس کی شروحات و تعلیقات بھی تحریر کی گئیں ۔ مؤطا اور اس کی شروحات چونکہ عربی میں تھیں اس لیے اردو داں طبقہ کے لیے اس سے استفادہ میں مشکلات تھیں اس ہی لیے حضرت مولانا ڈاکٹر ساجد الرحمن صدیقی نے شب و روز کی انتہک محنت سے نہ صرف اسے دور حاضر کے مطابق اردو قالب میں ڈھالا بلکہ ساتھ ساتھ ہر روایت و آثار کے تحت شرح حدیث کے عنوان سے شیخ الحدیث حضرت مولانا زکریا کی کتاب ’’اوجز المسالک‘‘ اور حضرت مولانا اشفاق الرحمن کاندھلوی  کیکتاب ’’ کشف المغطاء ‘‘ کی تلخیص بھی ذکرکردی ۔ دارالاشاعت علم حدیث کے اس بیش قیمت سرمائے کو تخریج وعنوانات اور مصری و ہندی نسخوں کے موازنہ کے ساتھ اپنے روائتی طباعتی معیار کے مطابق شائع کرنے سعادت حاصل کررہا ہے ،دعا ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ اس کاوش کو قبول ومنظور فرماکر امت مسلمہ کے لیے نافع ، مؤلفین ومرتبین اور ہمارے لیے ذخیرہ آخرت و ذریعہ نجات بنائے(آمین)

موطا امام مالک اردو مترجم مع شرح مختلف ادوار میں احادیث کی مختلف کتابیں مرتب ومدون کی گئیں لیکن حضرت امام مالک بن انس کا مجموعۂ احادیث بنام ’’مؤطا امام مالک ‘‘ کو سلسلہ تدوین ِحدیث میں اوّلین کتاب ہونے کا اعزاز حاصل ہے ،اور یہی وہ ذخیرہ ٔاحادیث جس کو پہلی مرتبہ فقہی انداز میں مرتب کیا گیا۔ نیز اس مجموعہ احادیث کا ایک خاصہ یہ بھی ہے کہ اس میں صرف صحیح احادیث ہی کو نقل کرنے کی سعی جمیل کی گئی ہے اور اس بات پر حضرت شاہ ولی اللہ محدث دھلوی ؒ نے محدثین کا اتفاق نقل فرمایا ہے۔ اس کتاب کی اسی اہمیت کے پیش ِ نظر ہر دور میں اکابر امت نے اپنے اپنے حلقہ ہائے تدریس میں اس سے استفادہ کیا اور مختلف ادوار ،میں مختلف دول ِ اسلامیہ میں اس کی شروحات و تعلیقات بھی تحریر کی گئیں ۔ مؤطا اور اس کی شروحات چونکہ عربی میں تھیں اس لیے اردو داں طبقہ کے لیے اس سے استفادہ میں مشکلات تھیں اس ہی لیے حضرت مولانا ڈاکٹر ساجد الرحمن صدیقی نے شب و روز کی انتہک محنت سے نہ صرف اسے دور حاضر کے مطابق اردو قالب میں ڈھالا بلکہ ساتھ ساتھ ہر روایت و آثار کے تحت شرح حدیث کے عنوان سے شیخ الحدیث حضرت مولانا زکریا کی کتاب ’’اوجز المسالک‘‘ اور حضرت مولانا اشفاق الرحمن کاندھلوی  کیکتاب ’’ کشف المغطاء ‘‘ کی تلخیص بھی ذکرکردی ۔ دارالاشاعت علم حدیث کے اس بیش قیمت سرمائے کو تخریج وعنوانات اور مصری و ہندی نسخوں کے موازنہ کے ساتھ اپنے روائتی طباعتی معیار کے مطابق شائع کرنے سعادت حاصل کررہا ہے ،دعا ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ اس کاوش کو قبول ومنظور فرماکر امت مسلمہ کے لیے نافع ، مؤلفین ومرتبین اور ہمارے لیے ذخیرہ آخرت و ذریعہ نجات بنائے(آمین) اللہ رب العزت نے مام دارالہجرۃ ،امام الفقہ والحدیث حضرت امام مالک ؒ بن انس ؓ کوفقہ اور حدیث میں جو مرتبہ عطافرمایا ہے وہ کسی سے پوشیدہ نہیں ۔فقہ کے اندر اللہ تعالیٰ نے آپ کو یہ قبولیت عطافرمائی کہ پوری امت ِ محمدیہ میں صرف چار افراد ایسے گذرے ہیں جن کا مستقل فقہی مذہب امت کے اندر مقبول ہوا اور عام طور پر مسلمان انہی چار حضرات میں سے کسی ایک کی تقلید کرتے ہیں امام مالک ؒ ان چار میں سے ایک ہیں ۔امام مالکؒ کی معروف کتاب ’’ المدونۃ الکبریٰ‘‘ فقہی ذخیرہ کا ایک عظیم انسائیکلو پیڈیا ہے جو عالم ِ اسلام کی شرعی رہنمائی کے لیے ایک انتہائی مستند اور معتبر مأخذ کی حیثیت رکھتا ہے۔ اسی طرح حدیث کے اندر آپ کی امامت ِ شان بھی بہت قابل ِ رشک ہے۔ آپ کی تالیف ’’ الموطا‘‘ حدیث کی ایس مستد کتاب ہے کہ ’’ الصحیح للبخاری ‘‘ کی تالیف سے قبل آپ کی’’الموطا ‘‘ کو ہی ’’ اصح الکتب بعد کتاب اللہ ‘‘ کا اعزاز حاصل تھا ۔اور یہ واقعہ تو بہت ہی معروف ہے کہ جب آپ ’’الموطا‘‘ کی تالیف فرمارہے تھے تو آپ کی دیکھا دیکھی اور بعض حضرات نے بھی ’’الموطا‘‘ کے نام سے کتب لکھنا شروع کیں،جب آپ ؒ سے یہ صورتحال ذکر کی گئی تو آپ ؒ نے فرمایا:’’ ما کان للہ یبقی‘‘ یعنی جو (کتاب) اللہ کے لیے لکھی جائے گی وہ باقی رہے گی۔ بلاشبہ! آپؒ کا یہ جملہ نہ صرف آپ کے اخلاص کا آئینہ دار بنا بلکہ رہتی دنیا تک دینی کام کرنے والوں کو یہ پیغام دے گیا کہ دینی عمل میں جان اخلاص سے پیداہوتی ہے۔ آپ کے اسی اخلاص کا یہ اثر ظاہر ہوا کہ آپ کی ’’ الموطا‘‘ آج تک پوری دنیا میں مرجع خلائق بنی ہوئی ہے۔اور ہر دور کے محدثین نے اس کی خدمت اپنا اعزاز سمجھ کر کی ہے ،چونکہ یہ کتاب عربی میں ہے اس لیے ہر دور کے علماء نے اس کی شرح عربی میں لکھنے کو ترجیح دی ،اس طرح عربی میں اس کی متعدد شروحات وجود میں آگئیں ۔البتہ اب کچھ عرصے سے یہ ضرورت محسوس ہورہی تھی کہ اس عظیم کتاب کی مختصر شرح اردو زبان میں بھی آجائے تاکہ اہل علم کے ساتھ ساتھ عوام الناس بھی اس اہم علمی ذخیرے سے فیض یاب ہوسکے ۔ اللہ رب العزت حضرت مولانا ڈاکٹر ساجد الرحمن صدیقی رحمۃ اللہ علیہ کو جزائے خیر عطافرمائے کہ انہوں نے اس مشکل کام کا بیڑہ اٹھایا جس کے نتیجے میں آج یہ قابل قدر کام آپ کے سامنے ہے۔

اس شرح میںہونے والے کام کی نوعیت

اس مختصر اور جامع شرح میں حضرت مولانا ڈاکٹر ساجدالرحمن صدیقی ؒ نے جس انداز میں کام کیا اس کا مختصر تعارف درج ذیل ہے: ۱)…یہ کتاب بنیادی طور موطا امام مالک ؒ کی دو شروح ’’ اوجز المسالک (شیخ الحدیث حضرت مولانا زکریاصاحب ؒ) اور کشف المغطّاء (مولانا اشفاق الرحمن کاندہلویؒ) کی تلخیص ہے ،لہذا اس میں موجود مواد کا بڑا حصہ مذکورہ بالا دوشروحات میںموجود ہے۔ ۲)… اس شرح کی تبویب مکمل اوجز المسالک کے مطابق ہے اور اس میں ابواب و احادیث کے نمبرات بھی اوجز المسالک کے مطابق ہی ہیں ، اس میں پوری امت کا اتفاق ہے کہ احادیث نبویہ میں قیامت تک کے انسانوں کے لیے رہنمائی موجود ہیاور ہر زمانے کے محدثین اپنے اپنے زمانے اور حالات کے اعتبار سے احادیث سے حاصل ہونے والی ہدایات کا تذکرہ کرتے رہے ہیں ،انہی کے نقش ِ قدم پر چلتے ہوئے مؤلف ؒ نے بھی احادیث سے حاصل ہونے والی اہل ہدایات کا بھی تذکرہ فرمایا ہے جن سے عصر حاضر کے مسائل حل کرنے میں رہنمائی لی جاسکتی ہے۔ حضرت رحمۃ اللہ علیہ بڑی محنت اور اخلاص سے یہ کام فرمارہے تھے۔دلی جذبہ تو یہی تھاکہ اس کام کو پایۂ تکمیل تک پہنچائیں ٭لیکن رب ذوالجلال کو شاید یہ منظور تھا کہ یہ کام آپ کی زندگی میں ختم نہ ہو بلکہ آپ کی زندگی اس عظیم اور مبارک کام کو انجام دیتے دیتے دنیا سے رخصت ہوں ،چنانچہ آپ اپنی زندگی کے آخری روز اسی شرح پر کام کر رہے تھے کہ جمعہ کا وقت ہونے لگا ،آپ غسل ِ جمعہ کے لیے اٹھے ،غسل سے فارغ ہوتے ہی داعی اجل کولبیک کہا اور یوں اس شرح پر ہونے کا کام آپ کی زندگی کا آخری عمل ثابت ہوا۔ آپ ؒ نے اپنی حیات میں اس شرح کا تقریباً ستّر (۷۰) فیصد یعنی شروع سے کتاب العقول تک کا کام مکمل فرمایا ۔ آپ کی رحلت کے بعد جامعہ دارالعلوم کراچی کے ہونہار فاضل مولانا محمد عابد قریشی مدظلہم نے اس کام کا آگے بڑھایا ۔الحمدللہ اب یہ کام پایۂ تکمیل تک پہنچ چکا ہے۔ ۷)…مولانامحمد عابد قریشی صاحب نے اس میں اس اسلوب کو برقرار رکھنے کی قدرے کوشش بھی کی ہے جو مؤلف ؒ کا تھا البتہ چند کام مزید کئے ہیں :جن میں درض ذٰل بطور خاص قابل ِ ذکر ہیں: الف:… حضرت مولٰنا ڈاکٹر ساجد الرحمن صاحب ؒ نے عربی متن کو ذکر نہیں فرمایا تھا مولانا عابد صاحب نے اوجز المسالک کے نسخہ کو بنیاد بناتے ہوئے’’ موطا امام مالک ‘‘عربی متن ذکر فرمایا۔جیساکہ معلوم ہو چکاہے کہ’’ موطا امام مالک ‘‘کے کئی نسخے ہیں ،لیکن ہمارے ہاں دو نسخے زیادہ معروف ہیں ایک مصری اور دوسرا ہندی ،چونکہ ان دونوں نسخوں میں بھی قدرے تفاوت ہے ، اس تفاوت کو حاشیہ میں ذکر کردیاگیا جیسے کتاب الاعتکاف حدیث نمبر ۱۰۶۹ میں مصری نسخے کے الفاظ یہ ہیں: ’’کان یتزود صفیف الظباء وھو محرم ‘‘ جب کہ ہندی نسخے میں ’’ وھو محرم ‘‘ کے بجائے ’’ فی الاحرام ‘‘ کے الفاظ ہیں ۔اس تفاوت کی حاشیہ میں وضاحت کردی گئی ہے۔ ب:…شرح کے دوران ڈاکٹر صاحب ؒ نے جن احادیث کا ذکر کیا ان کی تخریج حاشیہ میں ذکر کی ۔ واضح رہے کی یہ کام حضرت ڈاکٹر صاحب ؒ کی اجازت ہی سے ان کی حیات میں شروع کیا گیاتھا ،اور ان ہی کے ایماء پر تخریج میں فصل اور ابواب کا ذکر کیا گیاہے کتاب کا صفحہ نمبر وغیرہ ذکر نہیں کیاگیا۔ اس طرح اس کتاب کی افادیت میں خاطر خواہ اضافہ ہوگیاہے ۔ دلی دعا ہے اللہ رب العزت موطا امام مالک کے مؤلف اور اسکے تمام شارحین کو اپنی شایان ِ شان جزاء ِ خیر عطا فرمائے اور انہیں اور ہم سب مسلمانوں کو کامل مغفرت سے نوازے (آمین ثم آمین)