مولانا جلال ‌الدین محمد بلخی رومی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
Mawlānā Jalāl ad-Dīn Muḥammad Balkhī
مولانا جلال‌الدین محمد بلخی

جلال الدین محمد رومی
معروفیت Mawlānā[1] (Classical Persian), or Mevlâna (Modern Turkish)
پیدائش 1207
Vakhsh (present-day Tajikistan)[2][3] or بلخ (present-day Afghanistan)[4][5]
وفات 17 December 1273
Konya, سلاجقہ روم (present-day Turkey)
قومیت Persian
علاقہ Khwarazmian Empire (Balkh: –1212 and 1213–17; سمرقند: 1212–13)[6][7]
Seljuk Sultanate of Rum (مالاطیہ: 1217–19; Akşehir: 1219–22; کارامان: 1222–28; Konya: 1228 until his death in 1273 AD.)[6]
مکتبہ فکر حنفی, Sufism; his followers formed the Mevlevi Order
شعبۂ عمل عارفانہ کلام, صوفی رقص, Muraqaba, Dhikr
افکار و نظریات فارسی ادب, Ney and صوفی رقص
کارہائے نمایاں Masnavi, Diwan-e Shams-e Tabrizi, Fihi Ma Fihi
مؤثر شخصیات بہاءالدین زکریا ملتانی, Attār, Sanā'ī, Abu Sa'īd Abulḫayr, Ḫaraqānī, Bayazīd Bistāmī, Šamse Tabrīzī
متاثر شخصیات شاہ عبداللطیف بھٹائی, Kazi Nazrul Islam, عبدالکریم سروش
قونیہ میں مولائے روم کا مزار

محمد جلال الدین رومی (پیدائش:1207ء ، انتقال: 1273ء) مشہور فارسی شاعر تھے۔

پیدائش اور نام و نسب[ترمیم]

اصل نام جلال الدین تھا لیکن مولانا رومی کے نام سے مشہور ہوئے۔ جواہر مضئیہ میں سلسلہ نسب اس طرح بیان کیا ہے : محمد بن محمد بن محمد بن حسین بن احمد بن قاسم بن مسیب بن عبداللہ بن عبدالرحمن بن ابی بکرن الصدیق۔ اس روایت سے حسین بلخی مولانا کے پردادا ہوتے ہیں لیکن سپہ سالار نے انہیں دادا لکھا ہے اور یہی روایت صحیح ہے۔ کیونکہ وہ سلجوقی سلطان کے کہنے پر اناطولیہ چلے گئے تھے جو اس زمانے میں روم کہلاتا تھا۔ ان کے والد بہاؤ الدین بڑے صاحب علم و فضل بزرگ تھے۔ ان کا وطن بلخ تھا اور یہیں مولانا رومی 1207ء بمطابق 604ھ میں پیدا ہوئے۔

ابتدائی تعلیم[ترمیم]

ابتدائی تعلیم کے مراحل شیخ بہاولدین نے طے کرادیے اور پھر اپنے مرید سید برہان الدین کو جو اپنے زمانے کے فاضل علماء میں شمار کیے جاتے تھے مولاناکا معلم اور اتالیق بنادیا۔ اکثر علوم مولانا کو انہی سے حاصل ہوئے۔ اپنے والد کی حیات تک ان ہی کی خدمت میں رہے۔ والد کے انتقال کے بعد 639ھ میں شام کا قصد کیا ۔ ابتدا میں حلب کے مدرسہ حلاویہ میں رہ کر مولاناکمال الدین سے شرف تلمذ حاصل کیا۔

علم و فضل[ترمیم]

مولانا رومی اپنے دور کے اکابر علماء میں سے تھے۔ فقہ اور مذاہب کے بہت بڑے عالم تھے۔ لیکن آپ کی شہرت بطور ایک صوفی شاعر کے ہوئی۔ دیگرعلوم میں بھی آپ کو پوری دستگاہ حاصل تھی۔ دوران طالب علمی میں ہی پیچیدہ مسائل میں علمائے وقت مولانا کی طرف رجوع کرتے تھے۔ شمس تبریز مولانا کے پیر و مرشد تھے۔ مولانا کی شہرت سن کر سلجوقی سلطان نے انھیں اپنے پاس بلوایا۔ مولانا نے درخواست قبول کی اور قونیہ چلے گئے ۔وہ تقریباَ 30 سال تک تعلیم و تربیت میں مشغول رہے۔ جلال الدین رومی ؒ نے 3500 غزلیں 2000 رباعیات اور رزمیہ نظمیں لکھیں۔

اولاد[ترمیم]

مولانا کے دو فرزند تھے ، علاؤ الدین محمد ، سلطان ولد ۔ علاؤ الدین محمد کا نام صرف اس کارنامے سے زندہ ہے کہ انہوں نے شمس تبریز کو شہید کیا تھا۔ سلطان ولد جو فرزند اکبر تھے ، خلف الرشید تھے ، گو مولانا کی شہرت کے آگے ان کا نام روشن نہ ہوسکا لیکن علوم ظاہری و باطنی میں وہ یگانہ روزگار تھے۔ ان کی تصانیف میں سے خاص قابل ذکر ایک مثنوی ہے ، جس میں مولانا کے حالات اور واردات لکھے ہیں اور اس لحاظ سے وہ گویا مولانا کی مختصر سوانح عمری ہے۔

سلسلہ باطنی[ترمیم]

مولانا کا سلسلہ اب تک قائم ہے۔ ابن بطوطہ نے اپنے سفرنامے میں لکھا ہے کہ ان کے فرقے کے لوگ جلالیہ کہلاتے ہیں۔ چونکہ مولانا کا لقب جلال الدین تھا اس لیے ان کے انتساب کی وجہ سے یہ نام مشہور ہوا ہوگا ۔ لیکن آج کل ایشیائے کوچک ، شام ، مصر اور قسطنطنیہ میں اس فرقے کو لوگ مولویہ کہتے ہیں۔دوسری جنگ عظیم سے قبل بلقان، افریقہ اور ایشیا میں مولوی طریقت کے پیروکاروں کی تعداد ایک لاکھ سے زائد تھی۔ یہ لوگ نمد کی ٹوپی پہنتے ہیں جس میں جوڑ یا درز نہیں ہوتی ، مشائخ اس ٹوپی پر عمامہ باندھتے ہیں۔ خرقہ یا کرتہ کی بجائے ایک چنٹ دار پاجامہ ہوتاہے۔ ذکر و شغل کا یہ طریقہ ہے کہ حلقہ باندھ کر بیٹھتے ہیں۔ ایک شخص کھڑا ہو کر ایک ہاتھ سینے پر اور ایک ہاتھ پھیلائے ہوئے رقص شروع کرتا ہے۔ رقص میں آگے پیچھے بڑھنا یا ہٹنا نہیں ہوتا بلکہ ایک جگہ جم کر متصل چکر لگاتے ہیں۔ سماع کے وقت دف اور نے بھی بجاتے ہیں۔

وفات[ترمیم]

بقیہ زندگی وہیں گذار کر تقریباَ 66 سال کی عمر میں سن 1273ء بمطابق 672ھ میں انتقال کرگئے۔ قونیہ میں ان کا مزار آج بھی عقیدت مندوں کا مرکز ہے۔

مثنوی رومی[ترمیم]

ان کی سب سے مشہور تصنیف ’’مثنوی مولانا روم‘‘ ہے۔ اس کے علاوہ ان کی ایک مشہور کتاب ’’فیہ مافیہ‘‘ بھی ہے۔

باقی ایں گفتہ آیدبے زباں
درددل ہر کس کہ دارد نورجان

ترجمہ:"جس شخص کی جان میں نورہوگااس مثنوی کابقیہ حصہ اس کے دل میں خودبخود اتر جائیگا"

اقبال اور رومی[ترمیم]

علامہ محمد اقبال مولانا رومی کو اپنا روحانی پیر مانتے تھے۔ کشف اور وجدان کے ذریعے ادراک حقیقت کے بعد صوفی صحیح معنوں میں عاشق ہو جاتا ہے کہ بہ رغبت تمام محبوب حقیقی کے تمام احکام کی پیروی کرتا ہے۔ رومی نے جوہر عشق کی تعریف اور اس کی ماہیت کی طرف معنی خیز اشارے کیے ہیں ۔ صوفی کی ذہنی تکمیل کا مقام کیا ہے اس کے متعلق دو شعر نہایت دل نشیں ہیں۔

آدمی دید است باقی پوست است
دید آں باشد کہ دید دوست است
جملہ تن را در گداز اندر بصر
در نظر رو در نظر رو در نظر

علامہ اقبال نے اس کی یوں تشریح کی ہے


خرد کے پاس خبر کے سوا کچھ اور نہیں
ترا علاج نظر کے سوا کچھ اور نہیں

رومی - بین الاقوامی سال[ترمیم]

ان کے 800 ویں جشن پیدائش پر ترکی کی درخواست پر اقوام متحدہ کے ادارہ برائے تعلیم، ثقافت و سائنس یونیسکو نے 2007ء کو بین الاقوامی سالِ رومی قرار دیا۔ اس موقع پر یونیسکو تمغا بھی جاری کرے گا۔

نگار خانہ[ترمیم]

  1. ^ خطا در حوالہ: غلط <ref> ٹیگ؛ حوالہ بنام EI کے لیے کوئی متن فراہم نہیں کیا گیا
  2. ^ William Harmless, Mystics, (Oxford University Press, 2008), 167.
  3. ^ خطا در حوالہ: غلط <ref> ٹیگ؛ حوالہ بنام Balkh کے لیے کوئی متن فراہم نہیں کیا گیا
  4. ^ خطا در حوالہ: غلط <ref> ٹیگ؛ حوالہ بنام UNESCO کے لیے کوئی متن فراہم نہیں کیا گیا
  5. ^ خطا در حوالہ: غلط <ref> ٹیگ؛ حوالہ بنام UNESDOC کے لیے کوئی متن فراہم نہیں کیا گیا
  6. ^ خطا در حوالہ: غلط <ref> ٹیگ؛ حوالہ بنام encyclopaedia1991 کے لیے کوئی متن فراہم نہیں کیا گیا
  7. ^ C. E. Bosworth, 1988, BALḴ, city and province in northern Afghanistan, Encyclopaedia Iranica: Later, suzerainty over it passed to the Qarā Ḵetāy of Transoxania, until in 594/1198 the Ghurid Bahāʾ-al-Dīn Sām b. Moḥammad of Bāmīān occupied it when its Turkish governor, a vassal of the Qarā Ḵetāy, had died, and incorporated it briefly into the Ghurid empire. Yet within a decade, Balḵ and Termeḏ passed to the Ghurids’ rival, the Ḵᵛārazmšāh ʿAlāʾ-al-Dīn Moḥammad, who seized it in 602/1205-06 and appointed as governor there a Turkish commander, Čaḡri or Jaʿfar. In summer of 617/1220 the Mongols first appeared at Balḵ.