مولانا محمد شہاب الدين ندوى

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
محمد شہاب الدين ندوى
ادیب
ولادت 1931ء بنگلور
وفات 18 اپريل، 2002ء
اصناف ادب علم كلام، تفسير، فقہ، قرآن اور سائنس
تعداد تصانیف 100 سے زائد
تصنیف اول چاند کى تسخير قرآن کى نظر ميں
تصنیف آخر ميرى علمى زندگى کى داستان عبرت
معروف تصانیف جديد علم کلام، قرآن حکيم اور علم نباتات، جديد علم کلام کيا ہے: ايک تعارف، سفرنامہء مصر اور فرعونيات پر ايک نظر


بيسويں صدى کے مفسر، متکلم اور مفکر جنہوں نے جديد علم کلام پر کئى اہم اور معرکہ آراء کتابيں تصنيف کيں۔ آپ کے کام کى نوعيت اور اہميت کى پيش نظر بعض علماء نے آپ کو مجدد کہا ہے۔ (حوالہ: مجدد ملت حضرت علامہ محمد شہاب الدين ندوى، مرتب: جميل الرحمن ندوى، فرقانيہ اکيڈمى ٹرسٹ، بنگلور، ISBN 81-88497-17-7)

مولانا محمد شہاب الدين ندوى (١٩٣١-٢٠٠٢) کى ولادت بروز جمعرات يکم رجب المرجب ١٣٥٠ھ مطابق ١٢ /نومبر ١٩٣١ء کو جنوبى ہند کے شہر بنگلور دارالسرور کے ايک دينى گھرانے ميں ہوئى۔ آپ ابتداء پيشے سے تاجر تھے ۔ ليکن عين جوانى کے عالم ميں ايک معاصر کى کتاب نے آپ کو کچھ اس طرح جھنجھوڑا کہ آپ اپنى کامياب تجارت کو خير باد کہہ کر تحصيل علم کے لیے دار العلوم ندوۃ العلماء لکھنو کى راہ لى۔ اور انتہائى مختصر عرصہ ميں امتيازى طور پرعا لميت کى سند حاصل کى (١٩٦٢م)۔ پھر آپ ايک عرصہ تک انگريزى اور سائنسى علوم کى تحصيل ميں مستغرق ہوگئے اور ان ميں کمال حاصل کيا۔

مولانا کا موضوع[ترمیم]

مولانا محمد شہاب الدين ندوى کا موضوعِ خاص تفسيراور کلاميات تھا۔ اس سلسلہ ميں آپ کا کارنامہ قرآن، حديث اور جديد سائنس ميں مطابقت پيدا کرنا اور جديد سائنس کی مادى افکار ونظريات سے تطہير تھا۔ بقول مولانا سيد ابو الحسن على ندوى

’’اس ميدان ميں امام غزالى اور علامہ ابن تيميہ کے بعد مولانا محمد شہاب الدين ندوى ايک ايسے عالم تھے جنہوں نے اس ميدان ميں بڑى خدمات انجام ديں‘‘۔

تصنيفات[ترمیم]

مولانا مرحوم نے قرآن اور جديد سائنس يا جديد کلاميات پر کم وبيش سو کتابيں تصنيف کيں۔ يہ تمام کتابيں فرقانيہ اکيڈمى بنگلور سے شائع ہوئيں۔ آپ کى کتب کے کئى ممالک سے بين الاقوامى ايڈيشن بھى شائع ہوکر کافى مقبول ہوئے ہيں۔ آپ کى تصنيف کردہ بعض کتابيں حسب ذيل ہيں:

کلاميات:

1. چاند کى تسخير قرآن کى نظر ميں

2. اسلام کى نشاۃ ثانيہ قرآن کى نظر ميں

3. قرآن عظيم کا نظام دلائل اور ملت اسلاميہ کى نشاۃ ثانيہ

4. قرآن حکيم اور علم نباتات

5. تخليق آدم اور نظريہء ارتقاء

6. اسلام اور عصر حاضر

7. جديد علم کلام

8. ذات بارئ تعالى پر ايک نظر

9. قرآن کا نظريہء علم

10. قرآن کا فلسفہء کائنات

11. اسلام اور جديد سائنس

12. قرآن مجيد اور دنيائے حيات

13. قرآن، سائنس اور مسلمان

14. اسلام ميں علم کا مقام و مرتبہ

15. قرآن اور نظام فطرت

16. عالم ربوبيت ميں توحيد شہودى کے جلوے

17. ميرى علمى زندگى کى داستان عبرت

18. تفسير سورئہ تکوير

19. سورج کى موت اور قيامت

20. حيات ثانى کے عقيدہ پر کلوننگ کى شہادت

21. اکيسويں صدى کا جہاد قرآن عظيم کے ذريعہ

22. عالم اسلام کا احياء قرآن کے سايہ ميں (عربى﴾

23. علم آدم اور جديد سائنس (عربى﴾

24. معاد ثانى جديد سائنسى دلائل کى روشنى ميں (عربى﴾

25. عالم اسلام کى نشاۃ ثانيہ کے لیے جہاد کى اہميت (عربى﴾

26. سائنس اور ٹکنالوجى کى ضرورت و اہميت اسلامى نقطئہ نظر سے (عربى﴾

27. علم کيميا اور طبيعيات کى اہميت (عربى﴾

28. بيالوجى قرآن کى نظر ميں

29. فطرت و شريعت ميں مشابہت

30. جديد علم کلام کيا ہے: ايک تعارف

31. اسلام اور جديد عالمى نظام

32. چاند اور قيامت

33. قرآن عظيم کا نيا معجزہ اور علماء کى ذمہ دارياں

34. خلافت ارض کے لیے علم کيميا اور طبيعيات کى اہميت

35. سائنسى ميدان ميں مسلمانوں کا عروج و زوال

36. قرآن کى حجت عالم انسانى پر

37. قرآن کا پيغام

38. خلافت ارض کے لیے سائنس اور ٹکنالوجى کى اہميت

39. قرآن اور سائنس ميں کيا تعلق ہے؟

40. نظريہء اشتراکيت

شرعى و معاشرتى مسائل:

1. شريعت علم اور عقل کى ميزان ميں

2. رؤيت ہلال کے لیے فلکياتى حساب معتبر ہے يا نہيں؟

3. شريعت کى معقوليت اور اس پر تحقيقى کام کى ضرورت

4. عورت اور اسلام

5. اسلام کا قانون نکاح

6. اسلام کا قانون طلاق

7. اسلام ميں زکاۃ کا نظام

8. زکاۃ کے مستحق کون ہيں؟ (تين حصے﴾

9. زکاۃ کے اجتماعى نظام کى اہميت

10. ہمارے تعليمى مسائل

11. زکاۃ اور مصالح عامہ

12. شريعت اسلاميہ کى جنگ: نفقہء مطلقہ کى روشنى ميں

13. سپريم کورٹ کا فيصلہ: حقائق و واقعات کى روشنى ميں (شاہ بانو کيس﴾

14. تين طلاق کا ثبوت

15. زکاۃ کے آٹھ مصارف اور فى سبيل اللہ

16. تعدد ازدواج پر ايک نظر

17. بيع مرابحہ اور اسلامى بنک کارى

18. نکاح کتنا آسان اور کتنا مشکل

19. جہيز ايک غير اسلامى تصور

20. ہندستان ميں ايک شريعت ہاؤس کى ضرورت و اہميت

21. سفرنامہء مصر اور فرعونيات پر ايک نظر

22. اسلامى سياست کے چند اصول

وفات[ترمیم]

آپ کا انتقال بروز جمعرات ٤/ صفر المظفر ١٤٢٣ھ مطابق ١٨، اپريل ٢٠٠٢ء کو بنگلور ميں ہوا۔ آپ نے انتقال سے ايک دن قبل اپنى آپ بيتى مکمل کى تھى۔ اس آب بيتى کا اختتام آپ نے ان الفاظ پر کيا ہے: ’’بس مجھے جو کچھ کہنا تھا وہ کہہ چکا ہوں۔ لہذا اب اجازت چاہتا ہوں۔ خدا حافظ۔ ع ساغر کو ميرے ہاتھ سے لينا کہ چلا ميں‘‘