جمہوریہ مہاباد

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
(مھاباد جمہوریہ سے رجوع مکرر)
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
جمہوریہ مہاباد
Republic of Mahabad
کۆماری مەهاباد
Komarî Mehabad

1946–1947
پرچم قومی نشان
ترانہ
Ey Reqîb
اوہ دشمن
جمہوریہ مہاباد کی تقریبا حد.
ایران گہرے سرمئی رنگ میں دکھایا گیا ہے.
دارالحکومت مہاباد
زبانیں کردی
سورانی
کرمانجی
زازاکی
مذہب کوئی نہیں
حکومت اشتمالی ریاست
صدر قاضی محمد
وزیر اعظم حاجی بابا شیخ
تاریخی دور سرد جنگ
 - خود مختاری کا اعلان جنوری 22 1946
 - سوویت واپسی جون 1946
 - ایرانی کنٹرول قائم دسمبر 15, 1946
 - رہنماؤں کو پھانسی مارچ 30 1947
رقبہ
 - 1946 37,437 مربع کلومیٹر (14,455 مربع میل)
سکہ ایرانی قیران
Warning: Value specified for "continent" does not comply

جمہوریہ مہاباد (Republic of Mahabad) ( کردی : کوماری مھاباد ، فارسی : حمہوری مھاباد) سرکاری طور پر جمہوریہ کردستان ، 20ویں صدی کی ایک کم مدتی کرد ریاست تھی ، جو ترکی میں قائم ہوئی کرد ریاست جمہوریہ ارارات کے بعد ایرانی کردستان میں قائم ہوئی ۔ اس کا دارالحکومت شمال مغربی ایران کا شہر مھاباد تھا ۔ جمہوریہ کا قیام ایران کے اندرونی مسائل اور ریاست ہائے متحدہ امریکہ اور سویت اتحاد کے درمیان ایک تنازع کے باعث ہوا جو سرد جنگ کی وجہ بنا ۔


پس منظر[ترمیم]

اگست 1941ء میں ایک بغاوت میں ایرانی کرد علاقوں کا کنٹرول مرکزی ایرانی حکومت سے چھین لیا گیا ۔ کرد اکثرتی شہر مھاباد میں مقامی انتظام ، قبائلی سرداروں کی حمایت سے مڈل کلاس لوگوں کی ایک کمیٹی نے ، سمبھال لیا ۔ ایک سیاسی جماعت "کردستان احیائے نو سوسائٹی" کا قیام عمل میں لایاگیا ۔ قاصی محمد کو پارٹی کا چیئرمین چنا گیا ۔ اگرچہ جمہوریہ کا رسمی اعلان دسمبر 1945ء تک نہیں کیا گیا تھا ، قاضی کی زیر قیادت کمیٹی نے جمہوریہ کے سقوط تک 5 سال تک اس علاقے کا انتظام کامیابی سے چلایا ۔


سویت رویہ[ترمیم]

سویت اور برطانوی فوجوں نے اگست 1941ء کے آخر میں ایران پر قبضہ کیا ، سویتوں کے پاس شمالی علاقے کا کنٹرول تھا ۔ سویت ، کرد انتظامیہ کے ساتھ تعاون میں تھے ۔ انہوں نے ناہی مھاباد کے نزدیک گیریژن کو برقرار رکھا اور ناہی کوئی اختیارات اور اثر رسوخ والا سول ایجینٹ مقرر کیا ۔ انہوں نے قاضی انتظامیہ کی عملی حوصلہ افزائی کی ، جیسے کہ انہوں نے موٹر ٹرانسپورٹ مہیا کی ، ایرانی فوج کو باہر رکھا اور مالی مدد کے لئے ساری کی ساری تمباکو کی فصل خرید لی ۔ دوسری طرف سویتوں نے کرد انتظامیہ کے ڈیموکریٹک جمہوریہ (ایرانی ) آذربائیجان میں شمولیت سے انکار کا بہت برا منایا ۔

انہوں نے علیحدہ آزاد کرد جمہوریہ کے اعلان کی بھی مخالفت کی ۔


جمہوریہ کی بنیاد[ترمیم]

ستمبر 1945ء میں قاضی محمد اور دوسرے کرد رہنماؤں نے نئی جمہوریہ کی حمایت میں سویت رویہ چآنجنے کے لئے تبریز کا دورہ کیا ، ان کو تب باکو ، آذربائیجان سویت خودمختار جمہوریہ بھیج دیا گیا ۔ یہاں انہیں بتایا گیا کہ آذربائیجان ڈیموکریٹک پارٹی ایرانی آذربائیجان کا کنٹرول سمبھالنے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے ۔ 10 دسمبر کو آذوبائیجان ڈیموریٹک پارٹی نے مشرقی آذربائیجان صوبے کا کنٹرول ایرانی حکومتی فوجوں سے لے لیا ۔ قاضی محمد نے بھی ایسا ہی کرنے کا سوچا اور 15 دسمبر کو ، کرد عوامی حکومت کی مھاباد میں بنیاد رکھی گئی ۔ 22 جنوری 1946ء کو قاضی محمد نے جمہوریہ مھاباد کے قیام کا اعلان کیا ۔

منشور میں درج ان کے چند مقاصد درج ذیل ہیں ۔

1۔ ایرانی ریاست کے اندر ایرانی کردوں کی خودمختاری ۔

2۔ کرد زبان کا تعلیم اور انتظامیہ کی زبان کے طور پر استعمال ۔

3۔ سماجی اور ریاستی نگرانی کے لئے کردستان کی صوبائی کونسل کے انتخابات ۔

4۔ تمام سرکاری حکام مقامی آبادی سے ہونے چاہئے ۔

5۔ آذربائیجانی (آذری) لوگوں کے ساتھ اتحاد اور اخوت ۔

6۔ عام اور خاص کے لئے ایک ہی قانون کا اجراء ۔


جمہوریہ کا خاتمہ[ترمیم]

26 مارچ 1946ء میں امریکہ اور مغربی طاقتوں کے دباؤ کی وجہ سے سویت اتحاد نے ایرانی حکومت سے وعدہ کیا کہ وہ شمال مغربی ایران سے نکل جائے گا ۔ جون میں ایران نے ایرانی آذربائیجان پر اپنا کنٹرول بحال کر لیا ۔ اس اقدام نے جمہوریہ مھاباد کو تنہا کر دیا ، جو اس کو حاتمے کی طرف لے گیا ۔

اس موڑ پر قاضی محمد کی حمایت میں ، خاص طور پر کرد قبیلوں کے درمیان جنہوں نے شروع میں اس کی حمایت کی تھی ، کمی آ گئی ۔ ان کی فصلیں اور اشیائے ضروریہ کم ہو گئیں ، اور اس تنہائی کی وجہ سے ان کی زندگی مشکل ہو گئی ۔ سویت اتحاد کی طرف سے اقتصادی امداد اور فوجی اعانت بند ہوگئی ، قبائلیوں کو قاضی محمد کی حمایت کرنے کی کوئی وجہ نظر نا آتی تھی ۔ بہت سے قبیلوں نے علاقہ چھوڑنا شروع کر دیا ۔ علاقے میں رکنے والوں نے برزانی کردوں سے آزردگی شروع کردی کیونکہ وہ ان کے وسائل میں ان کے حصہ دار بن گئے تھے ۔ 5 دسمبر کو جنگی کونسل نے قاضی محمد کو بتایا کہ اگر ایرانی فوج نے علاقے میں داخل ہونے کی کوشش ک تو وہ لڑیں گے اور ایرانی فوج کے خلاف مزاحمت کریں گے ۔ 15 دسمبر کو ایرانی فوج داخل ہوئی اور مھاباد کو محفوظ بنا لیا ۔

انہوں نے کرد پرینٹنگ پریس کو بند کر دیا ، کرد زبان کی تعلیم پر پابندی لگا دی اور کرد زبان میں ملنے والی تمام کتابوں کو آگ لگا دی ۔

آخر کار 31 مارچ 1947ء میں قاضی محمد کو بغاوت کے الزام میں پھانسی پر لٹکا دیا گیا ۔


انجام[ترمیم]

عراقی کردستان سے اپنے سپاہیوں کے ساتھ مصطفی برزانی نے جمہوریہ کی فوجوں کی تشکیل کی ۔ جمہوریہ کے انہدام کے بعد ، زیادہ تر سپاہیوں اور عراقی فوج کی چار افسروں نے عراق واپس جانے کا فیصلہ کیا ۔ ان افسروں کو عراق واپس پہنچنے پر سزائے موت کا حکم سنایا گیا ۔ اور آج کل ان کو قاضی محمد کے ساتھ ہیرو مانا جاتا ہے جو نے کردستان کے لئے شہید ہوئے ۔ کئی سو سپاہیوں نے برزانی کے ساتھ رہنے کا فیصلہ کیا ۔ انہوں نے ایرانی فوج کی ، ان کے پانچ ہفتوں کے مارچ میں رکاوٹیں ڈالنے کی ، تمام کوششوں کو ناکام بنا دیا اور سویت آذربائیجان چلے گئے ۔

اکتوبر 1958ء میں مصطفی برزانی شمالی عراق واپس آ گئے اور کردستان ڈیموریٹک پارٹی کے ذریعے آزاد کرد ریاست جدوجہد شروع کی ، اور مھاباد کے جھنڈے کو ہی اپنا جھنڈا بنا لیا ۔

عراقی کردستان کاموجودہ صدر مسعود برزانی ، مھاباد میں پیدا ہوا ، جب اسکا باپ مصطفی برزانی ، ایرانی کردستان میں جمہوریہ مھاباد کی فوج کا سربراہ تھا ۔