مہدی حسن

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
شہنشاہ غزل
مہدی حسن خان
ملف:Mehdi-Hassan.jpg
پیدائش 18 جولائی 1927 (1927-07-18)
راجستھان, برطانوی راج
وفات 13 جون 2012 (عمر 84 سال)
کراچی, پاکستان
قومیت پاکستانی
پیشہ غزل گلوکار، پس پردہ گلوکار
وجہِ شہرت غزل، کلاسیکی موسیقی
مذہب اسلام
اعزازات ہلال پاکستان
صدارتی تمغا حسن کارکردگی

بر صغیر پاک و ہند میں مہدی حسن کا نام اور ان کی آواز کسی تعارف کی محتاج نہیں۔ مہدی حسن کی گائیگی بھارت اور پاکستان میں یکساں مقبول ہے اور بھارت کی ممتاز گلوکارہ لتا منگیشکر نے ایک بار مہدی حسن کی گائیگی کو ’بھگوان کی آواز‘ سے منسوب کیا تھا۔ مہدی حسن ایک سادہ طبیعت انسان تھے اوربعض اوقات بات سیدھی منہ پر کردیا کرتے تھے ۔فلمی موسیقی کے زرخیز دور میں مہدی حسن کو احمد رشدی کے بعد دوسرے پسندیدہ گلوکار کا درجہ حاصل رہا۔

ابتدائی ایام[ترمیم]

مہدی حسن 1927 میں راجستھان کے ایک گاؤں لُونا میں پیدا ہوئے۔ اُن کے والد اور چچا دُھرپد گائیکی کے ماہر تھے اور مہدی حسن کی ابتدائی تربیت گھر ہی میں ہوئی۔ خود اُن کے بقول وہ کلاونت گھرانے کی سولھویں پیڑھی سے تعلق رکھتے تھے۔ 1947 میں بیس سالہ مہدی حسن اہلِ خانہ کے ساتھ نقلِ وطن کر کے پاکستان آ گئے اور محنت مزدوری کے طور پر سائیکلیں مرمت کرنے کا کام شروع کیا

انھوں نے مکینک کے کام میں مہارت حاصل کی اور پہلے موٹر مکینک اور اسکے بعد ٹریکٹر کے مکینک بن گئے، لیکن رہینِ ستم ہائے روزگار رہنے کے باوجود وہ موسیقی کے خیال سے غافل نہیں رہے اور ہر حال میں اپنا ریاض جاری رکھا [1]

آغاز فن[ترمیم]

انہوں نے موسیقی کی تربیت اپنے والد استاد عظیم خان اور اپنے چچا استاد اسماعیل خان سے حاصل کی، جو کلاسیکل موسیقار تھے۔ مہدی حسن نے کلاسیکی موسیقی میں اپنے آپ کو متعارف کروایا، جب آٹھ سال کے تھے۔اور پچپن سے ہی گلوکاری کے اسرار و رموُز سے آشنا ہیں مگر اس سفر کا باقاعدہ آغاز 1952ء میں ریڈیو پاکستان کے کراچی سٹوڈیو سے ہوا اس وقت سے لیکرآج تک وہ پچیس ہزار سے زیادہ فلمی غیر فلمی گیت اور غزلیں گا چکے ہیں۔ [حوالہ درکار]گویا سرُ کے سفر کی داستان کئی دہائیوں پر محیط ہے۔۔

بر صغیر کی اصناف موسیقی
Dhrupad 2.jpg
اقسام موسیقی
اقسام موسیقی

دور عروج[ترمیم]

سنہ انیس سو ساٹھ اور ستر کی دہائی میں ان کا شمار عوام کے پسندیدہ ترین فلمی گلوکاروں میں ہوتا تھا۔اور سنتوش کمار، درپن، وحید مراد اور محمد علی سے لیکر ندیم اور شاہد تک ہر ہیرو نے مہدی حسن کے گائے ہوئے گیتوں پر لب ہلائے۔ سنجیدہ حلقوں میں اُن کی حیثیت ایک غزل گائیک کے طور پر مستحکم رہی۔ اسی حیثیت میں انھوں نے برِصغیر کے ملکوں کا کئی بار دورہ کیا۔

خان صاحب مہدی حسن نے کل 441 فلموں کے لیے گانے گائے اور گیتوں کی تعداد 626 ہے ۔ فلموں میں سے اردو فلموں کی تعداد 366 جن میں 541 گیت گائے۔ جب کہ 74 پنجابی فلموں میں 82 گیت گائے ۔ انہوں نے 1962 سے 1989 تک 28 تک مسلسل فلموں کے لیے گائیکی کی تھی ۔

فلمی گیتوں میں ان کے سو سے زیادہ گانے اداکار محمد علی پر فلمائے گئے ۔ اس کے علاوہ مہدی حسن خان صاحب ایک فلم شریک حیات 1968 میں پردہ سیمیں پر بھی نظر آئے ۔

1956 میں ایک طویل جدو جہد کے بعد مہدی حسن کو فلمی گلوکار بننے کا موقع ملا ۔ اس کے لیے انہيں کراچی جانا پڑا تھا جہاں ان کے بڑے بھائی پنڈت غلام قادر کراچی ریڈیو سے بہ طور موسیقار منسلک تھے ۔ اور انہی کی سفارش پر انہیں ریڈیو پر غزلیں گانے کا موقع ملا تھا ۔ ان کی پہلی غزل جو ریڈیو پر مشہور ہوئی وہ کلاسک شاعر میر تقی میر کی مشہور زمانہ غزل تھی ۔ ~ دیکھ تو دل کہ جان سے اٹھتا ہے

گانے[ترمیم]

مہدی حسن خان صاحب کے گانے
نغمہ فلم سنہ نغمہ نگار موسیقار سنگت -
دیکھ تو دل کہ جان سے اٹھتا ہے (ریڈیو پاکستان) 1956 میر تقی میر - - -
آنکھوں میں چلے آؤ کنواری بیوہ 1956 طفیل ہوشیار پوری - - -
کوئی صورت نہیں اے دل کنواری بیوہ 1956 طفیل ہوشیار پوری - - -
تم ملے زندگی مسکرانے لگی کنواری بیوہ 1956 طفیل ہوشیار پوری - - -
محبت کر لے ۔ ۔ کسی پہ مرلے ۔ نہيں تو پچھتائے گا مس 56 1956 - بابا جی اے چشتی نذیر بیگم -
نظر ملتے ہی دل کی بات کا چرچا نہ ہو جائے شکار 1956 حفیظ جالندھری اصغر حسین اور محمد حسین - -
میرے خواب و خیال کی دنیا شکار 1956 حفیظ جالندھری اصغر حسین اور محمد حسین - -
یہ چاندنی ۔ ۔ یہ سائے ۔ پہلو میں تم آئے ۔ مس 56 1956 - بابا جی اے چشتی نذیر بیگم -
تو کیسا خدا ہے جو مسکہ پالش 1957 فدا یزدانی دیبو بھٹاچاریہ - -
چوری کیا تو نے غریب 1958 - نذیر شیلے انیقہ بانو -
اک دیوانے کا اس دل نے کہا مان لیا قیدی 1962 - رشید عطرے نور جہاں -
جس نے میرے دل کو درد دیا سسرال 1962 - حسن لطیف - -
مجھ کو آواز دے تو کہاں ہے گھونگھٹ 1962 - خواجہ خورشید انور - -
اے ماہ جبیں ناز آفرین دوشیزہ 1962 - عنایت حسین - -
الہی ۔ ۔ آنسو بھر زندگی کسی کو نہ دے ۔ ۔ ہمیں بھی جینے دو 1963 - سی فیض - -
اے روشنیوں کے شہر بتا چنگاری 1964 - خواجہ خورشید انور - -
گلوں میں رنگ بھرے فرنگی 1964 فیض احمد فیض رشید عطرے - -
اپنی جاں نذر کروں اپنی وفا پیش کروں (جنگی ترانہ) 1965 صوفی تبسم - - -
آکے دے جاوخایاں نی ہیر سیال 1965 - بخشی وزیر نسیم بیگم -
آنکھوں سے ملی آنکھیں ۔ دل دل سے جو ٹکرایا ہزار داستان 1965 - رشید عطرے - -
سنگیت نجانے اور کب تک ساز و زآواز 1965 - حسن لطیف - -
شکوہ نہ کر گلہ کر ۔ یہ دنیا ہے پیارے زمین 1965 - وزیر افضل - -
کیسے کیسے لوگ ہمارے دل کو جلانے تیرے شہر میں 1965 - حسن لطیف - -
ہیر وارث شاہ ہیر سیال 1965 - بخشی وزیر - -
اب اور پریشان ۔ دل ناشاد نہ کر ماں بہو اور بیٹا 1966 - حسن لطیف - -
اے جان وفا دل میں تیری یاد رہے گي تصویر 1966 - خلیل احمد - -
چاند تو جب بھی مسکراتا ہے سرحد 1966  ? خورشید انور نور جہاں -
خداوندا ۔ یہ کیسی آگ سی جلتی ہے سینے میں لوری 1966 - خلیل احمد - -
دل ویراں ہے تیری یاد ہے ۔ آئینہ 1966 - منظور اشرف - -
دنیا کسی کے پیار میں جنت سے کم نہیں جاگ اٹھا انسان 1966 - لال محمد اقبال - -
رات کی بے سکوں خاموشی میں سوال 1966 - رشید عطرے - -
لاگی رے ۔ لاگی لگن موہے دل میں جلوہ 1966 - ناشاد - -
میرے دل کے تار ۔ ۔ بجیں بار بار پائل کی جھنکار 1966 - رشید عطرے - -
نظاروں نے بھریں آہیں نغمہ صحرا 1966 - صفدر حسین - -
دکھ نہ لبّے تے نہ آوے مہندی 1967 - وزیر علی - -
جدوں تیری دنیا توں پیار ٹر جائے سسی پنوں 1968 احمد راہی رحمان ورما نور جہاں -
(بنگالی گانا) - 1969 - دیبو بھٹاچاریہ - -
اس چاند پہ رہنے دو ہلکی سی چودھویں صدی 1969  ? اعظم بیگ نور جہاں -
آپ کو بھول جائیں ہم اتنے تو تم ملے پیار ملا 1969  ? نشید نور جہاں -
آج تسی گئے مل ساڈا اک سونا اک مٹی 1970  ? ایم جاوید نور جہاں -
تو جہاں کہیں بھی جائے انسان اور آدمی 1970  ? ایم اشرف نور جہاں -
رس گئے سارے سکھ ٹکا متھے دا 1970  ? جے اے چشتی نور جہاں -
گھونگھٹ لاء کنور (سندھی گانا) - 1970 - - - -
(دوگانا) دل دیا درد لیا 1971 - - رونا لیلی -
چل چلیے دنیا دے اس نکڑ دنیا پیسے دی 1971  ? عبداللہ نور جہاں -
اب کے ہم بچھڑے تو شاید انگارے 1972 احمد فراز - - -
اک بار چلے آؤ اک رات 1972 - - - -
تجھ سے ملی زندگی بدلے گی دنیا ساتھی 1972  ? طافو نور جہاں -
تیرے پیچھے پیچھے آنا نظام 1972  ? عبداللہ نور جہاں -
حسین فضا کا تقاضا دولت اور دنیا 1972 خواجہ پرویز کمال احمد نور جہاں -
رنجش ہی سہی محبت 1972 - - - -
- پردیس 1972 - نذیر علی - -
جان جاں تو جو کہے گاوٴں میں گیت تیرے آنسو 1972 - - - -
- میں اکیلا 1972 - - نسیم بیگم -
- ایثار 1975 - - مہناز بیگم -
یہ دنیا رہے نہ رہے میرے ہمدم میرا نام ہے محبت 1975 - - - -
(پنجابی فلم) سیدھا راستہ 1974 - - - -
(پنجابی فلم) چن پتر 2000 - - - -
(قوالی) - 1976 - - احمد رشدی -
اب کس کو سنائیں گے نیا راستہ 1973  ? نشید نور جہاں -
اک پیار جئی سوہنی صورت عشق میرا ناں 1974  ? نذیر علی نور جہاں -
اک تیرا اک میرا زبیدہ 1976  ? رفیق علی نور جہاں -
اک میں اک تو ، دو دیوانے کلیار 1984  ? وجاہت عطرے نور جہاں -
اک نئے موڑ پہ زندگی آگئی دل کے داغ 1978  ? اے حمید نور جہاں -
اے نئے سورج ہمیں تیرے نیا سورج 1977  ? نثار بزمی نور جہاں -
آپ کیوں پیار کے اظہار وفادار 1978  ? وجاہت عطرے نور جہاں -
آج تو غیر سہی دہلیز 1983 - - - -
آخری بار سینے سے لگ جا انداز -  ?  ? نور جہاں -
بابل تیری میری چھو قسمت 1985  ? عبداللہ نور جہاں -
بھلائی جاتی ہے الفت پروفیسر 1975  ? اے حمید نور جہاں -
تیرا تے میرا ازلاں دا پیار جائز 1982  ? کمال احمد نور جہاں -
تیرے نال لیا دل اسی ہلاکو تے خان 1985  ? وجاہت عطرے نور جہاں -
جانے وہ دن کب آئیں گے معاشرہ 1975  ? اے حمید نور جہاں -
جد نال سجن سوہنی ماہیوال 1976  ? اے حمید نور جہاں -
جیون بھر ساتھ نبھائیں آرزو 1975  ? ایم اشرف نور جہاں -
دل اک شیشہ اللہ رکھا 1987 خواجہ پرویز ایم اشرف نور جہاں -
رت بدلے چاہے موسم نصیب 1982  ? کمال احمد نور جہاں -
رتاں پیار دیاں سکندر 1974  ? دیبو نور جہاں -
زندگی میں تو سب ہی پیار کیا کرتے ہيں عظمت 1973 - - - -
ساتھ ہمارا چھوٹے نہ دل لگی 1974 مشیر کاظمی رفیق علی نور جہاں -
سجنا وے روئے تے سوہنی ماہیوال 1976  ? اے حمید نور جہاں -
ضرورت پے جاندی اے دلدار صدقے 1977  ? نذیر علی نور جہاں -
عشق سدا آباد رہے لیلی مجنوں 1974  ? نثار بزمی نور جہاں -
عشق میرا ناں عشق میرا ناں 1974 حزین قادری نذیر علی نور جہاں -
عشق ہے بے پروا سوہنی ماہیوال 1976  ? اے حمید نور جہاں -
گلشن میں بہاراں بدلےگا انسان 1975  ? عبداللہ نور جہاں -
گلے سے لگ جا گبر سنگھ -  ?  ? نور جہاں -
لاکھ کرو انکار نوکر 1975 - - - -
مکھ تیرے چنا کنّا سیدھا راستہ 1974  ? اختر حسین نور جہاں -
میرے محبوب تیری نرگسی میں بنی دلہن 1974  ? نذیر علی نور جہاں -
میں تینوں پیار کرناواں عشق میرا ناں 1974  ? نذیر علی نور جہاں -
میں نے پہلے ہی کہا تھا بات پہنچی تیری جوانی تک 1974 شیون رضوی نثار بزمی نور جہاں -
میں ہوں وفا تو ہے جینے کی راہ 1977  ? طافو نور جہاں -
یہ رات رات بھر کی بہشت 1974  ? رشید عطرے نور جہاں -
پیار بھرے دو شرمیلے نین چاہت - خواجہ پرویز رابن گھوش - -
اک حسن کی دیوی سے مجھے میری زندگی ہے نغمہ - مشیر کاظمی نثار بزمی - -
قصہ غم میں تیرا نام نہ آنے دیں گے داستان - -- -- - -
مجھے کر دے نا دیوانہ تیرے انداز مستانہ نیا راستہ 1973 -- -- - -
-- -- - -- -- - -

[2] [3] [4]

اعزازات[ترمیم]

بھارت میں اُن کے احترام کا جو عالم تھا وہ لتا منگیشکر کے اس خراجِ تحسین سے ظاہر ہوا کہ مہدی حسن کے گلے میں تو بھگوان بولتے ہیں۔ نیپال کے شاہ بریندرا اُن کے احترام میں اُٹھ کے کھڑے ہوجاتے تھے اور فخر سے بتاتے تھے کہ انھیں مہدی حسن کی کئی غزلیں زبانی یاد ہیں۔

حکومت پاکستان ان کی خدمات کے اعتراف میں انہیں تمغۂ امتیازاور تمغۂ حسنِ کارکردگی سے بھی نواز چکی ہے۔ 1979 میں مہدی حسن کو بھارتی سرکار نے اپنے ہاں کا ایک بڑا ’’کے ایل سہگل ایوراڈ‘‘ دیا ۔ ان کے انتقال کے بعد انڈین ایڈمنسٹریٹیو سروس کے ایک عہدیدار نے اعلان کیا کہ "اگلے ماہ راجستھان کے ان کے آبائی گاؤں میں ان کا کانسے کا مجسمہ نصب کیا جائے گا اور ایک سڑک بھی ان کے نام سے منسوب کی جائے گی۔"

مہدی حسن کو بے شمار ایوارڈز اور اعزازات سے نوازا گیا۔ چند اعزازات کا ذکر درج ذیل ہے:

  • سال 1964۔۔۔۔۔۔۔ فلم فرنگی ۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔نگار ایوارڈ
  • سال 1968۔۔۔۔۔۔۔ فلم صائقہ ۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔نگار ایوارڈ
  • سال 1969۔۔۔۔۔۔۔فلم زرقا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔نگار ایوارڈ
  • سال 1972۔۔۔۔۔۔۔فلم میری زندگی ہے نغمہ۔۔۔۔۔۔۔نگار ایوارڈ
  • سال 1973۔۔۔۔۔۔۔فلم نیا راستہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔نگار ایوارڈ
  • سال 1974۔۔۔۔۔۔۔فلم شرافت۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔نگار ایوارڈ
  • سال 1975۔۔۔۔۔۔۔فلم زینت۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔نگار ایوارڈ
  • سال 1976۔۔۔۔۔۔۔فلم شبانہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔نگار ایوارڈ
  • سال 1977۔۔۔۔۔۔۔فلم آئینہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔نگار ایوارڈ

جنرل ایوب خان نے انہیں تمغا امتیاز سے نوازا۔ سال 1979 میں جالندھر (انڈیا) میں سیگل ایوارڈ حاصل کیا۔ سال 1983میں نیپال میں گورکھا دکشینا باہو ایوارڈ حاصل کیا۔ سال 1985 میں جنرل ضیاءالحق نے تمغا حسن کارکردگی سے نوازا۔ جنرل پرویز مشرف نے ہلال امتیاز سے نوازا۔مہدی حسن کو پاکستان ٹیلی وژن کراچی سینٹر نے جولائی 2001 میں لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ دیا . . [5]


تاثرات[ترمیم]

پاکستان کے صدر ایوب، صدر ضیاءالحق اور صدر پرویز مشرف بھی اُن کے مداح تھے اور انھیں اعلیٰ ترین سِول اعزازات سے نواز چُکے تھے، لیکن مہدی حسن کے لیے سب سے بڑا اعزاز وہ بےپناہ مقبولیت اور محبت تھی جو انھیں عوام کے دربار سے ملی۔ پاک و ہند سے باہر بھی جہاں جہاں اُردو بولنے اور سمجھنے والے لوگ آباد ہیں، مہدی حسن کی پذیرائی ہوتی رہی اور سن اسّی کی دہائی میں انھوں نے اپنا بیشتر وقت یورپ اور امریکہ کے دوروں میں گزارا۔

اُن کے شاگردوں میں سب سے پہلے پرویز مہدی نے نام پیدا کیا اور تمام عمر اپنے اُستاد کو خراجِ عقیدت پیش کرتے رہے۔ بعد میں غلام عباس، سلامت علی، آصف جاوید اور طلعت عزیز جیسے ہونہار شاگردوں نے اُن کی طرز گائیکی کو زندہ رکھا

آخری ایام[ترمیم]

کافی عرصہ علالت میں گزارنے کے بعد بالآخر 13 جون 2012ء کو کراچی کے ایک نجی ہسپتال میں جہان فانی سے رخصت ہو گئے۔

حوالہ جات[ترمیم]

بیرونی روابط[ترمیم]