مہدی سوڈانی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
محمد احمد المعروف مہدی سوڈانی

محمد احمد بن سید عبداللہ (پیدائش: 12 اگست 1845ء، انتقال: 22 جون 1885ء) سوڈان کی ایک معروف شخصیت ہیں جنہیں ملک میں تحریک اسلامی کا بانی تسلیم کیا جاتا ہے۔ وہ انگریزوں اور مصریوں کی جارحیت کے خلاف جہاد اور شریعت اسلامی کے نفاذ کے باعث دنیا بھر میں مشہور ہوئے۔

ابتدائی زندگی[ترمیم]

مصری حکمران محمد علی پاشا نے 1820ء میں نوبیہ اور اگلے سال سنار فتح کرلیا اور سوڈان پر مصری تسلط آہستہ آہستہ بڑھتا گیا یہاں تک کہ 1870ء میں استوائیہ یعنی موجودہ سوڈان کا انتہائی جنوبی حصہ بھی مصری سلطنت میں شامل ہوگیا۔

مصری حکومت نے سوڈانی باشندوں کے ساتھ اچھا سلوک نہیں کیا جس کا سوڈانیوں میں شدید ردعمل ہوا اور 1883ء میں انہوں نے ایک درویش صفت انسان محمد احمد کی رہنمائی میں علم بغاوت بلند کردیا۔ یہی محمد احمد مہدی سوڈانی کہلاتے تھے۔ مہدی سوڈانی کے پیرو "درویشوں" نے دو سال کے اندر اندر تقریباً پورے سوڈان پر قبضہ کرلیا۔ یہ وہ زمانہ تھا کہ مصر پر انگریزوں کا تسلط قائم ہوچکا تھا۔ چنانچہ مصری حکومت نے بغاوت کچلنے کے لئے ایک انگریز فوجی جنرل گورڈن کی خدمات حاصل کیں لیکن جنرل گورڈن کو اس مقصد میں کامیابی حاصل نہیں ہوئی اور وہ مارا گیا۔ اس طرح 26 جنوری 1885ء کو خرطوم پر درویشوں کا قبضہ ہوگیا۔ مہدی سوڈانی اب مصر پر حملے کی تیاریاں کررہے تھے کہ ان کا انتقال ہوگیا

شخصیت[ترمیم]

مہدی کی قائم کردہ حکومت

مہدی سوڈانی تاریخ اسلام کی ممتاز شخصیت ہیں۔ وہ صرف ایک سیاسی رہنما اور ایک حکومت کے بانی ہی نہیں تھے بلکہ ایک مصلح بھی تھے۔ انہوں نے جامع ازہر میں تعلیم پائی اور کہا جاتا ہے کہ وہیں ان کی ملاقات جمال الدین افغانی سے بھی ہوئی۔ مصر سے واپس آنے کے بعد انہوں نے تصوف کی منزلیں طے کیں۔ وہ تمام زندگی احکام اسلام کی سختی سے پابندی کرتے رہے۔

1880ء میں اپنے شیخ کی وفات کے بعد مہدی سلسلہ سمانیہ کے سربراہ ہوگئے۔ انہوں نے کئی سال دریائے نیل کے ایک جزیرے آبا میں رہائش اختیار کی اور یہیں سے اپنی تحریک چلائی۔ یہ تحریک 29 جون 1881ء میں اس وقت شروع ہوئی جب مہدی نے سوڈان کے ممتاز لوگوں کو کتاب و سنت کی بالادستی قائم کرنے کی دعوت دی۔ انہوں نے اس پر زور دیا کہ اس مقصد کے لئے لوگوں کو جان و مال کی قربانی کے لئے تیار رہنا چاہئے اور تمام پیرو جزیرہ آبا ہجرت کرکے آجائیں۔ پس اس کے بعد سوڈان کے مصری حکام اور مہدی کے حامیوں میں جھڑپیں شروع ہوگئیں جو بالآخر مہدی کی فتح پر ختم ہوئیں۔

مہدی نے کامیابی حاصل کرکے نیل کے مغربی کنارے پر خرطوم کے بالمقابل ام درمان کے شہر کو اپنا دارالحکومت بنایا۔ حکومت سنبھالتے ہی انہوں نے اصلاحات نافذ کرنا شروع کردیں۔ نئے سکے ڈھالے گئے اور جن لوگوں کو سابق حکومت نے ناجائز طور پر زمینوں سے بے دخل کردیا تھا انہیں ان کی زمینیں واپس کردی گئی۔ مہدی سوڈانی نے اسلامی تعلیمات کے خلاف پھیلنے والی رسوم کو ختم کرنے کی کوشش کی اور شراب و نشہ آور اشیاء کا استعمال بھی ممنوع قرار دیا۔ عورتوں کو پردے کی ہدایت کی گئی، شادی بیاہ پر فضول اخراجات سے روکا گیا اور جہیز پر پابندیاں عائد کی گغیں۔

ام درمان میں مہدی سوڈانی کا مزار

انگریزوں نے مہدی سوڈانی اور ان کے پیروؤں کو بدنام کرنے کی بڑی کوششیں کی حتی کہ 1900ء میں جب سوڈان پر انگریزی و مصری قبضہ مکمل ہونے کے بعد انگریز سردار لارڈ کچز نے جذبہ انتقام سے مغلوب ہوکر مہدی کی قبر کھدوادی اور اس کی ہڈیاں جلاڈالیں۔

مہدی سوڈانی کو سوڈان کی تحریک بیداری کا پیشرو مانا جاتا ہے۔ ام درمان میں آپ کا مزار آج بھی سوڈانی مسلمانوں کی جائے عقیدت ہے۔