میرزا حسن شیرازی
آیۃ اللہ العظمی میرزا حسن شیرازی تاریخ ایران کے عظیم شیعہ عالم تھے۔
[ترمیم] حیات و واقعات
1203 ہجری (1814ء - 1815ء) میں ایران کے شہر شیراز میں پیدا ہوئے۔ 29 سال کی عمر میں شیراز کو چھوڑ کر نجف میں علوم دینیہ کے حصول کے لیے شیخ انصاری کے شاگرد ہو گئے۔
ان کے سیاسی قائدانہ کارناموں میں سب سے معروف کارنامہ ایران کی مشہور سامراج مخالف بغاوت تحریک تمباکو کی قیادت ہے۔ جب ان کے ایک فتوی نے ناصرف اس وقت کے بادشاہ ناصر الدین قاچار کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیا بلکہ برطانوی سرمایہ داروں کے قبضہ گروپ کو بھی ایران سے بھاگنے پر مجبور کر دیا۔
انہوں نے 1281 ہجری (بمطابق 1864ء - 1865ء) میں اپنے استاد شیخ انصاری کی وفات کے بعد ان کی جگہ سنبھالی اور تیس برس تک بطور مرجع تقلید خدمات سر انجام دیں۔
انہوں نے 82 سال کی عمر میں سامراء میں وفات پائی۔ ان کی قبر نجف میں حضرت علی علیہ السلام کے روضے میں واقع ہے۔
[ترمیم] تلامذہ
ان کے شاگردوں میں سیّد محمد کاظم یزدی، ملا محمد کاظم خراسانی، میرزا محمد تقی شیرازی (المعروف میرزا دوم)، شیخ فضل اللہ نوری اور شیخ اسماعیل شیرازی کے نام مشہور ہیں۔