میرپور،آزاد کشمیر

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
میر پور
میر پور
Mirpur
متناسقات: 33°9′4″N 73°44′10″E / 33.15111°N 73.73611°E / 33.15111; 73.73611متناسقات: 33°9′4″N 73°44′10″E / 33.15111°N 73.73611°E / 33.15111; 73.73611
ملک پاکستان
علاقہ آزاد کشمیر
ضلع ضلع میر پور
حکومت
 - ناظم الحاج عبدالقیوم قمر
رقبہ
 - کُل 1,010 کلومیٹر2 (390 میل2)
بلندی 459 میٹر (1,506 فٹ)
آبادی (1998)
 - کُل 96,000
 کثافتِ آبادی 375/کلومیٹر2 (971.2/میل2)
منطقۂ وقت پاکستان کا معیاری وقت (یو ٹی سی+5)
کالنگ کوڈ 05827
قصبوں کی تعداد 3
یونین کونسلوں کی تعداد 21

میرپور (انگریزی: Mirpur) آزاد کشمیر کا سب سے بڑا شہر ہے، اور ضلع میر پور کا مرکز بھی ہے۔ میرپور آزاد کشمیر کے انتہائی جنوب میں واقع ہے اور سطح سمندر سے اس کی اونچائی تقریباً 459 میٹر ہے۔ یہ پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد سے تقریباً 125 کلومیٹر جنوب مشرق میں واقع ہے۔ پاکستان کا دوسر بڑا ڈیم منگلہ ڈیم اسی ضلع میں ہے۔ 1960 کی دہاءی میں تقریبا 50،000 لوگوں نے اس ڈیم کی وجہ سے دوسرے علاقوں جیساکہ نیو میر پور ، پاکستان کے دوسروں علاقوں میں ہجرت کی.

میر پور شہر[ترمیم]

میر پور شہر کی بلندی سطح سمندر سے 459 میٹر ہے۔ تحصیل دینہ کے ذریعے یہ لاہور پشاور مرکزی شاہراہ سے منسلک ہے۔ یہ میرپور ضلع کا صدر مقام ہے جو کہ تین سب ڈویژنوں میرپور، ڈھڈیال اور چک سواری پر مشتمل ہے۔میر پور کا نیا شہر منگلا جھیل کے کنارے واقع ہے۔ پرانی بستی ڈیم کی تعمیر کے وقت دوسری جگہوں پر منتقل ہو گئے ۔ سردیوں کے دنوں میں جب منگلا جھیل کے پانی کی سطح کم ہو تودرباراور مندر، باولی اور پرانے کھنڈرات نذر آتے ہیں۔

گردونواح[ترمیم]

منگلا بند[ترمیم]

منگلا[ترمیم]

کھڑی شریف[ترمیم]

میاں محمد بخش ؒ المعروف عارفِ کھڑی شریف میاں محمد بخش ؒ المعروف عارفِ کھڑی شریف سلسلہٴ قادریہ کے مشہور صوفی بزرگ تھے۔ آپ پنجابی، عربی، فارسی روایت کے معروف ترین صوفی شاعر بھی تھے۔ آپ کی ولادت ۱۸۲۴ء میں بمقام کھڑی شریف، میر پور موجودہ آزاد کشمیر میں ہوئی۔ آپ نے علاقے کی مشہور دینی درسگاہ سمر شریف میں تعلیم حاصل کی۔ حافظ غلام حسین ؒ سے علمِ حدیث کی تعلیم حاصل کی۔ اس کے علاوہ حافظ ناصر ؒ سے دینی علوم کے علاوہ شعر و ادب کے رموز سے بھی آشنائی حاصل کی۔ آپ کو عربی اور فارسی زبانوں میں عبور حاصل تھا۔ آپ نے حصولِ علم کے لئے پنجاب بھر کا سفر کیا اور علماء اور مشائخ سے فیض حاصل کیا۔ علمی دورے سے واپس آ کر ضلع میرپور ہی میں سائیں غلام محمد ؒ کی مریدی میں آ گئے۔ آپ کی دانست میں مرشدِ کامل کا اہم وصف محض صاحبِ کرامات ہونا ہی نہیں، بلکہ حسن و اخلاق کی بلندی کو چھونا بھی ہے۔ میاں محمد بخش ؒ حاکمانِ وقت سے ہمیشہ دور دور رہتے تھے۔ اکابرین کی سیرت نے ان کی زندگی میں روحانی انقلاب برپا کر دیا تھا۔ وہ موسیقی کے دقیق رموز پر بھی ماہرانہ نظر رکھتے تھے۔ اسی لئے آپ کی شاعری میں موسیقیت بدرجہ اُتم پائی جاتی ہے۔ آپ نے اٹھارہ کتابیں تصنیف کیں، سوائے ایک کتاب ”تذکرہٴ مقیمیہ“ جو کہ فارسی زبان میں ہے باقی تمام کی تمام کتب پنجابی زبان میں تصنیف ہیں۔ آپ نے جس عہد میں آنکھ کھولی، وہ بڑا پُرآشوب دور تھا۔ ۱۸۵۷ء کی جنگ آزادی، انگریزوں کا کشمیر کو سکھ مہاراجہ کے حوالے کرنا، سکھوں کے پنجاب بھر میں مظالم، یہ تمام واقعات اسی دور میں وقوع پذیر ہوئے۔ آپ کی شاعری، فکر اورمطالعے کے ڈانڈے قرآن و حدیث، فارسی شعراء عطار، رومی، جامی، منصور حلاج اور خواجہ حافظ سے لے کر پنجابی شعراء تک پھیلے ہوئے ہیں۔ آپ نے اپنی شاعری میں تصوّفِ ہندی اور ایرانی روایت کو جذب کر کے ذاتی اور اجتماعی سوز و گداز کے فیضان سے فکر انگیز اور دلکش پیرائے میں ڈھالا ہے۔ ابنِ عربی اور مولانا رومی کی صوفیانہ روایت، پنجابی شاعری کی روایت کے اثر سے دو آتشہ ہو گئی۔ آپ کی تخلیق کردہ مشہور داستان ”سفرالعشق“ جو کہ ”قصہ سیف الملوک“ کے نام سے معروف ہے انہی افکار وتخیلّات کا پرتَو نظر آتی ہے۔ آپ کی شاعری کی تین خصوصیات ہیں، سوز وگداز، پندونصائح کے شائبے کے بغیر لطیف پیرایہٴ اظہار اورتمثیلی انداز۔ ابنِ عربی کے فلسفہٴ وحدت الوجود کی وہ ایسی تعبیر کے حامی ہیں، جو ذرّے ذرّے میں جمالِ حقیقی سے روشناس کرواتی ہے۔ انسان کو تعصّبات اور فخر وغرور سے بچاتی ہے۔ اسی رویے نے آپ کی شاعری میں مزید گہرائی پیدا کی ہے اور فکر کو وسیع اور ہمہ گیر بنایا ہے۔ آپ نے خارجی احوال و کوائف کی ترجمانی کے علاوہ من کی دنیا کی سیاحت بھی کی ہے۔ خارجی اور داخلی زندگی ان کی شاعری میں الگ الگ نہیں بلکہ باہم مربوط نظر آتی ہیں۔ ان کے مطابق جیتے جی مر جانا اور مر کر بھی جیتے رہنا ہی فقر ہے۔ آپ عمل پر بہت زیادہ زور دیتے تھے، کیونکہ عمل کے بغیر کوئی بھی کام پایہٴ تکمیل تک نہیں پہنچتا۔ ان کی تصنیف ”سفرالعشق“ المعروف ”قصہ سیف الملوک “ کی ساری کی ساری فضا عمل پر ہی قائم کی گئی ہے۔ میاں محمد بخش ؒ ۱۹۰۷ء میں اس جہانِ فانی سے رخصت ہوئے مگر آپ کا مزار آج بھی مرجع خاص و عام ہے۔http://alqlm.org/threads/%D9%85%DB%8C%D8%A7%DA%BA-%D9%85%D8%AD%D9%85%D8%AF-%D8%A8%D8%AE%D8%B4-%D8%B9%D8%A7%D8%B1%D9%81-%DA%A9%DA%BE%DA%91%DB%8C.7923/

اسلام گڑھ[ترمیم]

تصاویر[ترمیم]