نادر شاہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
نادر شاہ
شہنشاہ فارس
Coat of arms of Persia (16th century - 1907).png
Nadir Shah.jpg
نادر شاہ ایک یورپی مصور کی نظر میں
عہد حکومت 1736–1747
پیشرو عباس (سوم)
جانشین عادل شاہ

نادر شاہ افشار (فارسی:نادر شاہ افشار، نادر قلی بیگ اور طہماسپ علی خان بھی کہا جاتا ہے) (ولادت:22 اکتوبر 1688ء، وفات:19 جون 1747ء) 1736ء سے 1747ء تک ایران کا بادشاہ رہا اور خاندان افشار کی حکومت کا بانی تھا۔ اپنی عسکری صلاحیتوں کے باعث مورخین اسے ایشیا کا نپولین اور سکندر ثانی کہتے ہیں۔

ابتدائی زندگی[ترمیم]

نادر قلی خراسان میں درہ غاز کے مقام پر ایک خانہ بدوش گھرانے میں پیدا ہوا۔ جب جوان ہوا تو مختلف سرداروں سے وابستہ ہوکر کئی جنگوں میں بہادری اور شجاعت کا مظاہرہ کیا اور بالآخر طہماسپ دوم کی ملازمت کرلی۔ نادر نے طہماسپ دوم کے ساتھ مل کر مشہد اور ہرات کو مقامی سرداروں سے چھین لیا۔ جب افغان سردار میر اشرف نے خراسان پر قبضہ کرنے کے لئے حملہ کیا تو نادر نے مہن دوست کے مقام پر 1729ء میں افغانوں کو شکست فاش دی اور اس کے بعد اصفہان اور پھر شیراز پر قبضہ کرکے افغانوں کو ایران سے نکال باہر کیا۔

ابتدائی فتوحات[ترمیم]

افغانوں کے مقابلے میں نادر کی ان کامیابیوں کو دیکھ کر روس نے 1732ء میں گیلان اور ماژندران کے صوبے ایران کو واپس کردیئے لیکن اسی سال طہماسپ نے عثمانی ترکوں سے صلح کرلی جس کے تحت ترکوں نے تبریز، ہمدان اور لورستان کے صوبے خالی کردیئے لیکن گرجستان اور آرمینیا اپنے قبضے میںرکھے۔ نادر نے اس صلاح نامے کو مسترد کردیا اور اصفہان پہنچ کر 1732ء میں طہماسپ کو معزول کرکے اس کے لڑکے عباس سوم کو تخت پر بٹھادیا۔ نادر اگرچہ 4 سال بعد تخت نشین ہوا لیکن اس سال سے وہ حقیقی طور پر خودمختار ہوچکا تھا۔ اس کے بعد نادر عثمانی سلطنت کے علاقوں پر حملہ آور ہوا۔ تین سال تک ترکوں سے لڑائی ہوتی رہی۔ جولائی 1733ء میں بغداد کے قریب ایک لڑائی میں نادر کو شکست ہوئی اور وہ زخمی بھی ہوگیا لیکن اسی سال کرکوک کے مقام پر اور 1735ء میں یریوان کے پاس باغ وند کے مقام پر نادر نے ترکوں کو فیصلہ کن شکستیں دیں اور گرجستان اور آرمینیا پر قبضہ کرلیا۔ باغ وند کی عظیم کامیابی کے بعد نادر سے روس سے باکو اور داغستان کے صوبے خالی کرنے کا مطالبہ کیا اور دھمکی دی کہ اگر یہ صوبے خالی نہ کئے تو وہ عثمانی ترکوں سے مل کر روس کے خلاف کارروائی کرے گا۔ روس نے نادر کی اس دھمکی پر بغیر کسی جنگ کے باکو اور داغستان کو خالی کردیا۔

تخت نشینی[ترمیم]

مشہد میں نادر شاہ کا مقبرہ

ان فتوحات نے نادر کی شہرت کو چار چاند لگادیئے۔ ایرانی اس کو ایران کا نجات دہندہ سمجھتے تھے اور اس کے سامنے تخت ایران پیش کردیا لیکن نادر نے ایرانیوں کے سامنے یہ مطالبہ رکھا کہ جب تک خلفائے راشدین اور اصحاب رسول کے خلاف تبرا اور اہل سنت مسلمانوں کو ستانا بند نہیں کریں گے وہ بادشاہت قبول نہیں کرسکتا۔ [1]۔ ایرانیوں نے اس کا یہ مطالبہ منظور کرلیا اور نادر شاہ نے عباس سوم کو معزول کرکے 1736ء میں اپنی بادشاہت کا اعلان کردیا۔ 17 اکتوبر 1736ء کو ایران اور ترکی کے درمیان صلح نامے پر باضابطہ دستخط ہوگئے۔ ترکوں نے گرجستان اور آرمینیا پر ایران کا قبضہ تسلیم کرلیا اور دونوں سلطنتوں کی حدود وہی قرار پائیں جو سلطان مراد چہارم کے زمانے میں مقرر ہوئی تھیں۔

ہندوستان پر حملہ[ترمیم]

اب نادر نے 80 ہزار فوج کے ساتھ قندھار کا رخ کیا جو ابھی تک افغانوں کے قبضے میں تھا۔ 9 ماہ کے طویل محاصرے کے بعد 1738ء میں قندھار فتح کرلیا گیا۔ افغانوں کی ایک تعداد نے کابل میں میں پناہ حاصل کرلی جو مغلیہ سلطنت کا حصہ تھا۔ نادر نے ان پناہ گزینوں کی واپسی کا مطالبہ کیا لیکن جب اس کو کوئی جواب نہیں ملا تو نادر نے کابل بھی فتح کرلیا۔ مغلیہ سلطنت کا کھوکھلا پن ظاہر ہوچکا تھا اس لئے نادر نے اب دہلی کا رخ کیا۔ وہ درۂ خیبر کے راستے برصغیر کی حدود میں داخل ہوا اور پشاور اور لاہور کو فتح کرتا ہوا کرنال کے مقام تک پہنچ گیا جو دہلی سے صرف 70 میل شمال میں تھا۔ مغلیہ سلطنت کی بد انتظامی اور اندرونی خلفشار کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ نادر تو کابل سے 600 میل کا فاصلہ طے کرکے کرنال پہنچ گیا لیکن محمد شاہ المعروف محمد شاہ رنگیلا اپنی پوری فوج 70 میل دور کرنال تک میں جمع نہ کرسکا اور توپ خانے کے پہنچنے سے پہلے ہی لڑائی شروع ہوگئی۔ نتیجہ ظاہر تھا، نادر کے توپ خانے نے ہزاروں ہندوستانی فوج بھون ڈالے لیکن ایرانی فوج کے گنتی کے چند سپاہی ہلاک ہوئے۔ نادر مارچ 1739ء میں فاتحانہ انداز میں دہلی میں داخل ہوا اور دو ماہ تک دہلی میں قیام پذیر رہا۔

ایران واپسی[ترمیم]

اس دوران دہلی کے اوباشوں نے شہر میں گھومنے پھرنے والے ایرانی فوجیوں پر حملے شروع کردیئے اور ان کی ایک بڑی تعداد کو قتل کردیا۔ نادر کے روکنے کے باوجود حملے بند نہیں ہوئے تو اس نے قتل عام کا حکم دے دیا جس میں تقریبا 20 ہزار افراد مارے گئے۔ نادر شاہ دہلی کو چھوڑ کر اور بادشاہت محمد شاہ کو واپس کرکے واپس تو چلا گیا لیکن 200 سال کی جمع شدہ شاہی محل کی دولت اور شاہجہاں کا مشہور تخت طاؤس بشمول کوہ نور ہیرا اپنے ساتھ ایران لے گیا۔ اس کی واپسی سندھ کے راستے ہوئی۔ دریائے سندھ تک کا سارا علاقہ اس نے اپنی سلطنت میں شامل کرلیا۔ ایران پہنچنے سے پہلے نادر شاہ نے 1740ء میں بخارا اور خیوہ پر بھی قبضہ کرلیا۔ دونوں ریاستوں نے ایران کی بالادستی قبول کرلی۔

آخری ایام[ترمیم]

اب سلطنت ایران پورے عروج پر پہنچ چکی تھی اس کی حدود شاہ عباس کے زمانے سے بھی زیادہ وسیع ہوگئی تھیں۔ 1741ء اور 1743ء کے درمیان نادر شاہ داغستان کے پہاڑوں میں بغاوت کچلنے میں مصروف رہا لیکن اس میں اس کو ناکامی ہوئی۔ 1745ء میں ایک لاکھ 40 ہزار سپاہیوں پر مشتمل عثمانی ترکوں کی ایک فوج کو پھر شکست دی جو اس کی آخری شاندار فتح تھی۔ کہا جاتا ہے کہ داغستان کی شورش کو دبانے میں ناکامی نے نادر کو چڑچڑا بنادیا تھا۔ اب وہ شکی اور بد مزاج ہوگیا تھا اور اپنے لائق بیٹے اور ولی عہد رضا قلی کو محض اس بے بنیاد شک کی بنیاد پر کہ وہ باپ کو تخت سے اتارنا چاہتا ہے، اندھا کردیا۔ اس کے بعد ایران میں جگہ جگہ بغاوتیں پھوٹنے لگیں۔ ان بغاوتوں کو جب نادر نے سختی سے کچلا تو اس کی مخالفت عام ہوگئی۔ شیعہ خاص طور پر اس کے مخالف ہوگئے۔ آخر کار 1747ء میں اس کے محافظ دستے کے سپاہیوں نے ایک رات اس کے خیمےمیں داخل ہوکر اسے سوتے میں قتل کردیا۔

ایشیا کا نپولین[ترمیم]

نادر کو بجا طور پر ایشیا کا آخری فاتح کہا جاسکتا ہے۔ ایک ماہر سپہ سالار کی حیثيت سے اس کی جنگی صلاحیت بے مثال تھی اور اس میدان میں اسلامی دنیا میں اس کے بعد ابراہیم پاشا مصری اور مصطفی کمال کے علاوہ کوئی دوسرا شخص اس کا مد مقابل پیدا نہیں ہوا۔ اپنی جنگی صلاحیت اور فتوحات کی وسعت کے لحاظ سے اس کو بجا طور پر ایشیا کا نپولین کہا جاسکتا ہے۔

نادر شاہ نے شیعہ سنی اتحاد کے لئے قابل تعریف کوششیں کی۔ اس نے ایرانی شیعوں کو تبرا سے روک کر فقہ جعفریہ کو اہل سنت و الجماعت کے پانچویں مذہب کی حیثیت سے تسلیم کرانے کی کوشش کی لیکن عثمانی ترکوں کے سخت موقف کی وجہ سے اس کو اس میں کامیابی نہیں ہوئی۔

جانشیں[ترمیم]

نادر شاہ جس میں فوجی صلاحیت غیر معمولی تھی انتظامی صلاحیت اس پائے کی نہیں تھی۔ دہلی کے قتل عام کا تو اس پر زیادہ الزام نہيں آتا لیکن آخر میں وہ بہت ظالم ہوگیا تھا۔ مورخین کہتے ہیں کہ اگر نادر شاہ بخارا اور خیوہ کی فتح کے بعد مرجاتا تو ایران کا انتہائی نیک نام حکمران ہوتا۔ نادر شاہ کے بعد ایران ایک بار پھر انتشار اور طوائف الملوکی کا شکار ہوگیا۔ نادرا کے بعد اس کا بھتیجا علی قلی، عادل شاہ کے نام سے خراسان میں تخت نشین ہوا لیکن ایک سال حکومت کرپایا تھا کہ نادر کے اندھے لڑکے رضا قلی کا بیٹا شاہ رخ 15 سال کی عمر میں 1748ء میں مشہد میں تخت نشین ہوگیا لیکن ایک شیعہ سردار نے اس کو معزول کرکے اندھا کردیا۔ نادر کے ایک افغان سردار احمد شاہ ابدالی نے افغانستان میں اپنی خود مختار حکومت قائم کرلی اور شاہ رخ کو 1749ء میں دوبارہ تخت دلادیا اور اس کو اپنی حمایت میں لے لیا۔ افشار خاندان کی یہ حکومت افغانوں کی زیر سرپرستی 1796ء تک قائم رہی۔

بال جبریل میں ذکر[ترمیم]

حکیم الامت علامہ محمد اقبال نے اپنی مجموعۂ کلام بال جبریل میں نادر شاہ کا ذکر مندرجہ ذیل الفاظ میں کیا ہے۔ اس نظم کا عنون نادر شاہ افغان ہے

حضور حق سے چلا لے کے لولوئے لالا

وہ ابر جس سے رگ گل ہے مثل تار نفس

بہشت راہ ميں ديکھا تو ہو گيا بيتاب

عجب مقام ہے ، جی چاہتا ہے جاؤں برس

صدا بہشت سے آئی کہ منتظر ہے ترا

ہرات و کابل و غزنی کا سبزۂ نورس

سرشک ديدہ نادر بہ داغ لالہ فشاں

چناں کہ آتش او را دگر فرونہ نشاں!

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ ملت اسلامیہ کی مختصر تاریخ از ثروت صولت، اسلامک پبلیکیشنز لاہور، پاکستان