نازی جرمنی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
عظیم تر جرمن ریخ
Greater German Reich
Großdeutsches Reich
1933–1945
پرچم نشان
شعار
Ein Volk, ein Reich, ein Führer
"ایک قوم، ایک ریخ، ایک رہنما"
ترانہ
جرمن توسیع کے عروج پر، یورپ, 1941–1942
  •      عظیم تر جرمنی
  •      جرمن اور / یا حلیف قبضے کے تحت علاقے
  •      جرمن اتحادی, شریک], اور کٹھ پتلی ریاست
  •      سوویت اتحاد (اتحادی افواج)
  •      مغربی اتحادی
  •      غیر جانبدار ممالک
دارالحکومت برلن
زبانیں جرمن
حکومت نازی یک جماعتی ریاست
جابر آمریت
صدر / فیوہرر
 - 1933–1934 پال وون ہنڈنبرگ
 - 1934–1945 ایڈولف ہٹلر
 - 1945 کارل ڈونٹز
چانسلر
 - 1933–1945 ایڈولف ہٹلر
 - 1945 جوزف گوئیبلز
مقننہ Reichstag
 - ریاستی کونسل Reichsrat
تاریخی دور بین جنگی دور / دوسری جنگ عظیم
 - Machtergreifung 30 جنوری 1933
 - Gleichschaltung 27 فروری 1933
 - Anschluss 12 مارچ 1938
 - دوسری جنگ عظیم 1 ستمبر 1939
 - ایڈولف ہٹلر کی موت 30 اپریل 1945
 - جرمنی نے ہتھیار ڈال دیے 8 مئی 1945
رقبہ
 - 1941 (Großdeutschland) [lower-alpha 1] 696,265 مربع کلومیٹر (268,829 مربع میل)
آبادی
 - 1941 (Großdeutschland) تخمینہ 90,030,775 
     کثافت 129.3 /مربع کلومیٹر  (334.9 /مربع میل)
سکہ Reichsmark (ℛℳ)
جانشین
پیشرو
جمہوریہ وائمار
سآر (اقوام کی لیگ)
آسٹریا وفاقی ریاست
جمہوریہ چیکوسلوواک اول
کلیپیڈا علاقہ
ڈینزگ آزاد شہر
جمہوریہ پولش دوم
يوکرينی قومی حکومت
مملکت اطالیہ
یوپن-مالمیدی
لکسمبرگ
الساس-لورین
دراوا بینوینا
فلیسبرگ حکومت
اتحادی افواج کا مقبوضہ جرمنی
اتحادی افواج کا مقبوضہ آسٹریا
جمہوریہ چیکوسلوواکیہ سوم
عوامی جمہوریہ پولینڈ
الساس-لورین
یوپن-مالمیدی
لکسمبرگ
مملکت اطالیہ
کیلنن گراڈ اوبلاست
سآر محفوظ ریاست
اشتراکی وفاقی جمہوریہ یوگوسلاویہ
ایلٹن اور سلفکینٹ
موجودہ ممالک
Warning: Value specified for "continent" does not comply
نازی جرمنی بمطابق 1943ء

نازی جرمنی 1933ء سے 1945ء کے دوران کے جرمنی کو کہا جاتا ہے جس کی قیادت ایڈولف ہٹلر اور قومی اشتراکی جرمن مزدور جماعت (NSDAP) کر رہے تھے۔ اس ریاست کے لیے تیسری رائخ (انگریزی: Third Reich) بھی کہا جاتا ہے جو قرون وسطیٰ کی مقدس رومی سلطنت اور 1871ء سے 1918ء تک قائم جرمن سلطنت کی جانشیں تیسری ریاست سمجھی جاتی تھی۔ جرمنی میں ریاست کے لیے 1943ء تک ڈوئچیس رائخ (جرمن رائخ) کی اصطلاح استعمال کی جاتی تھی، بعد ازاں باضابطہ نام عظیم تر جرمن رائخ (جرمن: Großdeutsches Reich) اختیار کیا گیا۔

30 جنوری 1933ء کو ایڈولف ہٹلر کو جرمنی کا چانسلر مقرر کیا گیا۔ حالانکہ ابتدائی طور پر وہ ایک اتحادی حکومت کی قیادت کر رہے تھے تاہم انہوں نے جلد اپنے حکومتی شراکت داروں کو خارج کر دیا۔ اس وقت جرمنی کی سرحدیں بدستور معاہدۂ ورسائے کے مطابق متعین تھیں، جو پہلی جنگ عظیم کے اختتام پر برطانیہ، فرانس، امریکہ، اطالیہ اور جاپان کی اتحادیوں کے درمیان طے پانے والا معاہدہ تھا۔

نازی جرمنی شمال میں بحیرۂ شمال، ڈنمارک اور بحیرۂ بالٹک سے ملتا تھا، مشرق میں اس کا منقسم حصہ لتھووینیا، پولینڈ اور چیکوسلواکیہ سے منسلک تھا، جنوب میں اس کی سرحدیں آسٹریا اور سویٹزرلینڈ سے جبکہ مغرب میں فرانس، لکسمبرگ، بیلجیئم، نیدرلینڈ، رائن لینڈ اور سارلینڈ سے ملتی تھیں۔ جب جرمنی نے رائن لینڈ، سار لینڈ اور میمل لینڈ پر تسلط حاصل کیا اور آسٹریا، سودیتن لینڈ اور بوہیمیا اور موراویا پر قبضہ کیا تو یہ سرحدیں تبدیل ہو گئیں۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد جرمنی عظیم تر جرمنی میں تبدیل ہو گیا، جس کا آغاز 1939ء میں جرمنی کی پولینڈ پر جارحیت سے ہوا تھا، جس کے نتیجے میں برطانیہ اور فرانس نے جرمنی کے خلاف جنگ کا اعلان کر دیا۔

دوسری جنگ عظیم کے دوران جرمنی نے یورپ اور شمالی افریقہ کا بڑا حصہ فتح کر لیا۔ اسی دوران لاکھوں یہودیوں اور اقلیتوں سے تعلق رکھنے والے افراد کو قید خانوں میں ڈال دیا گیا یا موت کے گھاٹ اتار دیا گیا، اس قتل عام کو مرگ انبوہ (انگریزی: Holocaust) کہا جاتا ہے۔ تاہم دیگر اقوام، خصوصاً اطالیہ اور جاپان کے ساتھ، اتحاد کے باوجود جرمنی جنگ ہار گیا اور نازی جرمنی کا خاتمہ ہو گیا۔ جنگ کے بعد سوویت اتحاد، برطانیہ، امریکہ اور فرانس کی فاتح اتحادی قوتوں نے اس پر قبضہ کر لیا۔

حوالہ جات[ترمیم]


مزید دیکھیے[ترمیم]

اطالوی معاشرتی جمہوریہ

ملاحظات[ترمیم]

  1. ^ خطا در حوالہ: غلط <ref> ٹیگ؛ حوالہ بنام statistics کے لیے کوئی متن فراہم نہیں کیا گیا