ناصر الدین شاہ قاجار

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
(ناصر الدین قاچار سے رجوع مکرر)
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
ناصر الدین قاچار

ناصر الدین شاہ قاچار، ایران میں عہد قاچار کے چوتھے بادشاہ تھے۔ ان کا عہد 17 ستمبر 1848ء سے یکم مئی 1896ء تک محیط ہے۔ وہ ایران میں ساسانی عہد کے شاپور دوم اور صفوی عہد کے طہماسپ اول کے بعد سب سے زیادہ طویل حکومت کرنے والے بادشاہ تھے۔ ان کا لقب سلطان صاحبقران ہے، قتل ہونے کے بعد سے انہیں شاہ شہید کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔

حالات زندگی[ترمیم]

شاہ 1831ء میں پیدا ہوئے۔ 1848ء میں، جب وہ تبریز میں تھے، انہوں نے اپنے والد کی وفات کی خبر سنی اور امیر کبیر کی مدد سے تاج ایران پہنا۔ تخت نشینی کے بعد انہوں نے مشرقی فارس، بالخصوص ہرات(اب افغانستان میں) جوکہ اس وقت تاج برطانیہ کا حصہ تھا، کو بازیاب کروانے کے لیے فوج کشی کر دی۔ لیکن برطانیہ کے بوشہر پر حملہ کرنے کے بعد انہیں پس قدمی اختیار کرنا پڑی۔ جس کے نتیجہ میں انہیں اعلان پیرس پر دستخط کر کے ان سابقہ ایرانی مقبوضات سے دستبردار ہو کر افغانستان کے حوالے کرنا پڑا۔

انہوں نے ایران میں مختلف مذہبی بغاوتوں کو کچلنے میں بہت اہم کردار ادا کیا۔ بہائی اور بابی یوروشوں کی سرکوبی میں ان کا کردار بہت اہم رہا ہے۔ بالخصوص 1852ء میں جب ایک بابی نے ان پر ایک قاتلانہ حملہ کیا۔

تحریک تمباکو[ترمیم]

1890ء میں انہوں نے برطانوی سرمایہ کار جیرالڈ ٹالبوٹ سے ملاقات کی اور ایرانی تمباکو کی صنعت کو برطانوی کمپنی کے حوالے کرنے کا معاہدہ دستخط کیا۔

ایرانی قوم نے اپنی صنعت کو برطانوی سرمایہ کاری کے حوالے کرنے سے انکار کر دیا۔ نامور مسلم رہنما سید جمال الدین اسد آبادی (معروف جمال الدین افغانی) نے ایران کے آیۃ اللہ الغظمی میرزا حسن شیرازی کو خط لکھا کہ تہران میں تعمیر ہونے والی اس کمپنی کے ہیڈ کوارٹر کی دس میٹر چوڑی دیوار اور اس پر توپ کے چبوتروں سے ایرانی قوم کو کیا تاثر دینے کی کوشش کی جارہی ہے۔ یہ برطانوی سرمایہ دار کا وہی ہتھکنڈا تھا جو انہوں نے تین صدیاں قبل ہندوستان پر چلا کر یہاں پر قبضہ کیا تھا۔ ملا میرزا رضا شیرازی نے فتوی دیا کہ بایں حالت جو شخص اس کمپنی کا تمباکو پیے گا، وہ امام مہدی سے جنگ کرنے کے برابر تصور ہو گا۔

تمباکو کو حرام قرار دیے جانے کے فتوے کے ساتھ‍ ہی ایران کے عوام نے ہر شہر میں ٹنوں کے حساب سے تمباکو چوکوں پر رکھ‍ کر نذر آتش کر دیا۔ یہاں تک کہ شاہی دربار میں موجود خواتین نے اپنی چلمیں توڑ دیں۔ اور یوں برطانوی کمپنی کو ایران سے اپنا بوریا گول کرنا پڑا۔

اصلاحات[ترمیم]

انہوں نے جدید زمانے سے ہم آہنگ متعدد اصلاحات نافذ کیں۔ جن میں ڈاک کے نظام، ریلوے نظام، بینکاری اور صحافت کے نظام میں قابل قدر اصلاحات کیں۔

وفات[ترمیم]

یکم مئی 1848ء کو تہران میں شاہ عظیم کے مزار پر حاضری دیتے ہوئے جمال الدین افغانی کے ایک مرید میرزا رضا کرمانی نے ان پر قاتلانہ حملہ کیا جو کہ ان کی موت پر منتج ہوا۔ اس وقت ان کی عمر 68 برس تھی۔

انہیں رے شہر، تہران میں دفن کیا گیا۔

اولاد[ترمیم]

صاحبزادے

  • شاہزادہ معین الدین میرزا
  • شہزادہ محمد قاسم میرزا
  • شہزادہ مسعود میرزا ظل سلطان
  • شہزادہ کامران نائب السلطنہ
  • شہزادہ میرزا رضا رکن السلطنہ
  • شہزادہ حسین علی میرزا یمین الدولہ
  • شہزادہ احمد مرزا ازد السلطنہ

صاحبزادیاں

  • شہزادی فخر الملک
  • شاہزادی افتخار الدولہ
  • شاہزادی عصمت الدولہ
  • شہزادی تومن خانم فخر الدولہ
  • شہزادی توران خانم فروغ الدولہ
  • شہزادی زہرا خانم افتخار السلطنہ
  • شہزادی زہرا خانم تاج السلطنہ
  • شہزادی خدیجہ خانم عزالسلطنہ

مزید مطالعات[ترمیم]

ایران

جمال الدین افغانی

بابی مذہب

ہرات

اینگلو فارسی جنگیں