نانگا پربت

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
نانگا پربت
Nanga-parbat.jpg
نانگا پربت فیری میڈوز سے
بلندی 8,126 میٹر (26,660 فٹ)
درجہ 9واں
امتیاز 4,608 میٹر (15,118 فٹ)
درجہ 14واں
فہرست سازی آٹھ ہزاری
Ultra
مقام
نانگا پربت is located in پاکستان
نانگا پربت
پاکستان
محل وقوع گلگت بلتستان, پاکستان
سلسلہ ہمالیہ
متناسقات 35°14′15″N 74°35′21″E / 35.2375°N 74.58917°E / 35.2375; 74.58917متناسقات: 35°14′15″N 74°35′21″E / 35.2375°N 74.58917°E / 35.2375; 74.58917
Climbing
فرازروی اول 3 جولائی، 1953 از ہرمن بُہل
آسان تر راستہ دیامیر (مغربی رخ)

نانگا پربت دنیا کی نویں اور پاکستان کی دوسری سب سے اونچی چوٹی ہے۔ اس کی اونچائ 8125 میٹر/26658 فٹ ہے۔ اسے دنیا کا قاتل پہاڑ بھی کہا جاتا ہے۔ اس پہ چڑھنے میں سب سے زیادہ لوگ مارے گۓ۔ اسے ایک جرمن آسٹرین ہرمن بہل نے سب سے پہلے 3 جولا‍‍‌‌‎ئ 1953 میں سر کیا۔

فیری میڈو یا پریوں کا میدان نانگا پربت کو دیکھنے کی سب سے خوبصورت جگہ ہے۔ اس جگہ کو یہ نام 1932 کی جرمن امریکی مہم کے سربراہ ولی مرکل نے دیا۔ سیاحوں کی اکثریت فیری میڈو آتی ہے یہ 3300 میٹر / 10827 فٹ بلند ہے۔ یہ نانگا پربت سے شمال کی جانب دریائے سندھ اور شاہراہ ریشم سے چند کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔ تاتو، فنتوری اور تارڑ جھیل راستے میں آتے ہیں۔

تاریخ[ترمیم]

1895 میں البرٹ ممری نے اسے چڑھنے کی کوشش کی اور وہ قریبا 7000 میٹر کی بلندی پر پہنچا تھا کہ اسکے ھو ساتھی گر کر مر گۓ اور اسے واپس آنا پڑا۔ 1930 کی دہائی میں جرمنوں نے چھ بار اسے سر کرنے کی کوشش کی لیکن ناکام رہے۔ ایک جرمن آسٹرین ہرمن بہل 3 جولائی 1953 کو اسے سر کرنے میں کامیاب رہا۔ اسکے چڑھنے تک 31 لوگ اسکے سر کرنے میں مارے جا چکے تھے۔ ہرمن بہل نے اسے آکسیجن کی مدد کے بغیر سر کیا۔ 1962 کو اسے تین جرمنوں نے سر کیا۔ 1970 میں تیسری بار اسے رائنہولڈ میسنر اور اسکا بھائی گنتھر اس پر چڑھے اترتے ہوۓ گنتھر مارا گیا۔ 1978 میں رائنہولڈ میسنر نے اسے اکیلے سر کیا۔

نانگا پربت کے ساتھ بہت جرمن متعلق رہے اسلیۓ اسے جرمن پہاڑ بھی کہتے ہیں۔

نانگا پر بت کی چوٹی پر برف نہیں ٹہرتی یہ ننگی رہتی ہے اسلیۓ اسکا نام ناگا پربت ہے۔

پہنچنے کے راستے[ترمیم]

اسلام آباد کے ساتھ پیرودائی بس اڈے سے شاہراۂ ریشم کے ذریعے گلگت جانے والی بس میں سوار ہوں اور راۓ کوٹ برج پر جو کہ دریائے سندھ پر ہے کے قریب اتر جائیں۔ یہ فاصلہ 402 کلومیٹر سے زیادہ بنتا ہے۔ راۓ کوٹ برج سے پیدل روانہ ہوں یا وہاں سے ایک جیپ لے لیں۔ جیپ تاتو گاؤں تک جاۓ گی تاتو تک دس کلومیٹر کا آنے جانے کا کرایہ کم از کم 1800 روپے ہے۔ وہاں سے پیدل یا گدھوں پر سامان رکھ کر بذریعہ فنتوری یا سیدھے فیری میڈو پہنچ جائیں۔ زندگی کا خوبصورت ترین منظر نانگا پربت کی شکل میں آپکے سامنے ہوگا۔ فیری میڈو میں رات گزارنے کے لیۓ خیمے بھی مل جاتے ہیں اور کھانہ بھی۔

اسلام آباد سے بذریعہ ہوائی جہاز گلگت آئیں اور وہاں سے جیپ یا ویگن لے کر راۓ کوٹ برج تک یا تاتو تک آئیں اور پھر وہاں سے پیدل۔

کتابیں[ترمیم]