نجم الدین اربکان

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
نجم الدین اربکان

اتحاد بین المسلمین کے داعی اور سابق ترک وزیر اعظم نجم الدین اربکان 29 اکتوبر 1926 کو شمالی ترکی کے سینوپ نامی علاقے میں پیدا ہوئے جو بحرہ اسود کے ساحل پر واقع ہے.آپ کے والد کا نام محمت صابری تھا.۔ آپ ان کی دوسری بیوی کے بطن سے تھے.

تعلیمی پس منظر[ترمیم]

ثانوی تعلیم مکمل کرنے کے بعد آپ نے استنبول ٹیکنیکل یونیورسٹی سےمیکینیکل انجینئرنگ میں ڈگری حاصل کی۔بعد ازاں آپ نے جرمنی کی ایک معروف جامعہ میں داخلہ لیا اور یہاں سے پی ایچ ڈی کی سند حاصل کی ۔ آپ کے تفصیلی مقالے کا موضوع ڈیزل انجن تھا. جرمنی میں آپ نے مشہور زمانہ جرمن ٹینک لیپرڈ اے ون کی ڈیزائننگ ٹیم کے چیف انجینئر کی حیثیت سے اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا. ترکی واپسی پر آپ استنبول ٹیکنیکل یونی ورسٹی میں لیکچرار مقرر ہوئے جہاں آپ کو 1965 میں پروفیسر کے عہدے پر تعینات کیا گیا.ان اہم ذمہ داریوں کو بخوبی انجام دینے کے بعد آپ نے ملکی سیاست میں حصہ لینے کا قصد کیا.

میدان سیاست میں[ترمیم]

1969 سے اربکان نے سیاست میں عملی حصہ لینا شروع کیا.آپ نے اپنی پہلی سیاسی جماعت نیشنل وائس پارٹی تشکیل دی جو اسلامی طرزسیاست کی حامل تھی. سیکولر تنگ نظر حکومت نے اس پر 1971 میں پابندی عائد کردی.آپ نے 1972 میں نیشنل سالویشن پارٹی قائم کی اور 1973 کے انتخابات میں حصہ لے کر 48 نشستیں حاصل کرکے سیکولرپسندوں کی نیندیں اڑادیں.1974 میں آپ نائب وزیراعظم بھی منتخب ہوئے. 1977 کے انتخابات میں آپ کی جماعت نیشنل سالویشن پارٹی ملک کی تیسری بڑی طاقت بن کر ابھری.مگر تین سال بعد ہی ترک فوج کے سیکولر پسندوں نے آپ کی جماعت کو کالعدم قرار دے کر آپ کو پابند سلاسل کردیا.یہ ظالمانہ پابندی 1987 تک رہی جو ایک ریفرنڈم کے نتیجے میں ختم ہوئی.آپ نے رفاء پارٹی تخلیق کی اور 1990 کے انتخابات میں 40 نشستیں حاصل کیں.یہی وہ انتخابات تھے جس کے بعد ترک سیاست میں اسلامی عنصر کو ایک اہم رکن شمار کیا جانے لگا.

وزارت عظمی[ترمیم]

1995 میں ہونے والے انتخابات میں رفاء پارٹی نے ملک کے 21 فیصد ووٹ حاصل کرلئے اور ایک دوسری جماعت کے ساتھ شراکت میں حکومت قائم کرلی.ترکی کے ایوان نمائندگان نے آپ کو اپنا قائد ایوان منتخب کرلیا. عدنان یندریس شہید کے بعد ترکی کے ایوان اقتدار میں پہلا اسلام پسند مرد جری داخل ہوا . آپ نے ترک عوام کو معیار زندگی بلند کرنے کی خاطر اہم کثیر الجہتی اقدامات کئے.آپ کی معتدل مزاجی اور فراست کا کرشمہ یہ ہے کہ آپ نے ترک سیاست کا محور سیکولرازم سے اسلام میں تبدیل کردیا.

خارجہ پالیسی[ترمیم]

بحثیت وزیراعظم آپ کی خارجہ پالیسی دو مرکزی نکات پر مشتمل تھی۔اور یہ کہ آپ اسلامی ممالک کے ساتھ قریبی تعلقات کو نہایت اہمیت دیتے تھے اس ضمن مین آپ نے ڈی ایٹ نامی تنظیم قائم کی جو اسلامی ممالک کے معاشی مسائل کے حل کے لئے کوشاں ہے.دوم یہ کہ آپ صیہونیت کے سخت ناقد تھے اور اس کے اسلامی ممالک میں بڑھتی ہوئی ریشہ دوانیوں کے سدباب کس لئے ٹھوس اقدامات کرنے کے متمنی تھے.

معزولی[ترمیم]

ترک فوج کے سیکولر پسندوں کو آپ کی بلکہ دوسرے الفاظ میں اسلامی طرز حکمرانی کی تیزی سے بڑھتی ہوئی مقبولیت کہاں گوارہ ہوسکتی تھی. انہوں نے صرف ایک سال بعد ہی اپنے خبث باطن کامظاہرہ کرتے ہوئے آپ کی حکومت ختم کردی.اس بار آپ کے عملی سیاست میں حصہ لینے پر بھی پابندی عائد کردی گئی.

دوبارہ صف بندی[ترمیم]

اربکان کی سوچ کوشکست دینا ناممکنات میں سے تھا ۔ آپ نے ساتھیوں نے باطل کے آگے ہتھیار ڈالنا تو سیکھا ہی نہ تھا.1997 میں آپ نےورچو پارٹی قائم کرکے سیکولرپرستوں کوایک بار پھر چیلنج کردیا .حسب سابق ورچو پارٹی بھی 2001 میں سیکولراستداد کی تنگ نظری کا شکار ہوگئی.اب اربکان نے سعادت پارٹی کی شکل میں سیکولرازم کے سامنے چٹان کھڑی کردی. ترکی کے موجودہ صدر اور سابق وزیر خارجہ عبداللہ گل آپ کی حکومت میں وزیر رہے.موجودہ وزیر اعظم رجب طیب اردگان آپ کی رفاء پارٹی کے ٹکٹ پر ہی استنبول کے میئر رہ چکے ہیں.بلاشبہ یہ کہا جاسکتا ہے کہ آج کی موجودہ ترک حکومت نےاربکان کی رفاہ پارٹی سے جنم لیا ہے.

وفات[ترمیم]

عالم اسلام کا یہ قابل فخر سرمایہ 27 فروری 2011 کو انقرہ کے ایک ہسپتال میں حرکت قلب بند ہوجانے کے باعث داعی اجل کو خیرباد کہہ کر اپنے رب کے حضور حاضر ہوگیا.آپ کی وفات سے نا صرف ترکی بلکہ سارا عالم اسلام اپنے ایک عظیم ترین رہنما سے محروم ہوگیا.


سیاسی زندگی پر ایک نظر[ترمیم]

اربکان نے اپنی سیاسی زندگی میں کبھی تصادم کی راہ اختیار نہیں کی.ان کو یکے بادیگرے 5 بار پابندی کا سامنا کرنا پڑا.سیکولرازم کی محافظ فوج اور عدلیہ نے ہمیشہ اربکان کی راہ میں روڑے اٹکائےترک عوام میں اربکان کے سیاسی مقبولیت کا یہ عالم تھا کہ اربکان نے جب بھی بکھرے تنکوں سے شیرازہ بندی کی تو عوام نے ہر بار پہلے سے بھی زیادہ جوش خروش سے اربکان کی پذیرائی کی. اربکان نے کبھی عوام کو خالی خولی کھوکھلے نعروں سے نہیں بہلایا.سیکولر ازم کی مسلسل مخالفت کے باوجود آپ نےکبھی خودساختہ جلاوطنی کا عذرلنگ لے کر ترکی سے فرار ہونے کی کوشش نہیں کی۔ بین الاقوامی گریٹ گیم کا حصہ بن کر اقتدار کی سیڑھیاں چڑھنے سے ہمیشہ اجتناب کیا. پارٹی کو پرائیوٹ لمیٹیڈ بنانے ، ریموٹ کنڑول سے چلانے جیسے داغوں سے اپنا دامن ہمیشہ محفوظ رکھا.آپ نے کبھی ایوان اقتدارمیں براجمان مخالفین کو بزور قوت نکالنے کی بات نہیں کی .نظام سے بغاوت، سول نافرمانی جیسی بیساکھیوں پر کھڑے ہونے کی کبھی کوشش نہیں کی.لوٹا کریسی،ہارس ٹریڈنگ، دھونس دھاندلی جیسے الفاظ سے اپنی لغت کو آلودہ نہیں کیا.اربکان نے کبھی اپنے عوام کو اپنی فوج سے لڑانے کی راہ اختیار نہیں کی. آپ نے ہر حکومت وقت کے ہر مظالم کا جواب نہایت تحمل مزاجی اور دانشمندی سے دیا.دوراندیشی سے عوام کی سوچیں بدلیں.ان کو اسلام کی حقیقت سے روشناس کرایا.مستقل مزاجی، سخت محنت ، مقصد کی جانب سفر اربکان کی سیاست کے اہم استعارے تھے.ان ہی کوششوں کا ثمر ہے کہ آج اتاترک کے جدید ترکی میں سیکولرازم لرزہ براندام ہے. اسلامی راسخ العقیدہ سیاسی عنصر اس حد تک طاقتور ہو چکا ہے کہ اس کو شکست دینے میں ترک فوج کے بھی پر جلتے نظر آتے ہیں۔ 1997 میں اربکان کی حکومت پر شبخون مارنے والے تمام افسران آج عدالتی کٹہروں میں کھڑے ہیں.ترک فوج کے بے شمار اعلی افسران نے آپ کے سفرآخرت میں شرکت کی.چشم فلک نے یہ بھی منظر دیکھا کہ آپ کی سیاست کی سب سے بڑی مخالف ترک فوج کا سربراہ آپ کو سلام پیش کررہا تھا.اسی اربکان کے شاگردوں عبداللہ گل اور رجب طیب اردگان نے آج سیکولرازم کو ایسی نکیل ڈالی ہے کہ ماضی میں ترک حکومتوں کو کنٹرول کرنے والی سیکولر فوج اور عدلیہ آج ترک حکومت کے کنٹرول میں ہیں.یہ کنٹرول اسلام پسندوں نے قوت سے نہیں بلکہ عوام کے ووٹ کی طاقت سے حاصل کیا ہے.