نجوم

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش

علم نجوم (عربی: نجم کی جمع نجوم)، اجرام و نقاط فلکی (گرہوں) بشمول کواکب کی بروج اور بیوت میں حالت و حرکات کا مطالعہ اور ان سے پیش گوئی کے لئے ممکنہ نتائج کا استخراج ہے۔ نجوم کی علمی بنیادوں سے لا علم افراد بسا اوقات اسے توہم پرستی، شگون، اور قیاسی آرائی کا نام دیتے ہیں۔ تاہم نجوم کا تعلق تاریخ انسانی کے قدیم ترین علوم سے ہے ۔یہ علم صدیوں تک علم ہیئت، طب، ریاضی اور فلسفہ کا لازمی جزو رہا ہے اور دنیا کے جید فلاسفہ، حکیم، شاعر اور سائنسدان اس کے طالب علم رہے ہیں

مبادیات[ترمیم]

ہماری یہ زمین نظام شمسی کا حصہ ہے اور اس یہ ممکن نہیں کہ زمین اور اس پر بسنے والے افراد شمس، قمر اور دیگر کواکب کی موجودگی اور حرکات سے غیر مرئی طور پر متاثر نہ ہوں۔ علم نجوم کی مبادیات 7 کواکب، 12 بروج، 12 بیوت، 2 عقدتین اور دیگر ثانوی اصول ہیں۔ دراصل زائچہ یا کنڈلی (Horoscope) مخصوص وقت اور مقام پر انہیں سیارگان ، بروج و بیوت کا علامتی نقشہ ہوتا ہے۔ کلاسیکی نجوم میں ان ہفت سیارگان یا سبعہ کواکب کا مطالعہ کیا جاتا ہے۔

سن 2003 میں زمین سے مریخ کا مشاہدہ۔ بظاہر مریخ تھوڑی دیر کے لیئے الٹا چلتے ہوئے نظر آ رہا ہے جبکہ حقیقتاً مریخ کا الٹا چلنا نا ممکن ہے۔


یہاں واضح رہے کہ شمس سیارہ نہیں بلکہ ستارہ ہے اسی طرح قمر بذات خود سیارہ نہیں بلکہ سیارہ زمین کا ذیلی ہے۔ اس کے باوجود علم نجوم میں سہولت و یکسانیت کی خاطر انہیں سیارہ یا کوکب تصور کیا جاتا ہے۔ جدید مکتب نجوم میں حالیہ دریافت شدہ درجہ ذیل بعید ترین کواکب بھی شامل کئے جاتے ہیں۔

مذکورہ بالا کواکب کے علاوہ نجوم میں عقدتین (چھایاگرہ) کو خاص حیثیت حاصل ہے۔ جو بذات خود نہ تو سیارے ہیں اور نہ ستارے بلکہ یہ زمین کے گرد قمری مدار پر دو مقابل قاطع نقاط ہیں۔ انہیں سنسکرت میں راہو اور کیتو جبکہ عربی میں راس اور ذنب کہتے ہیں۔

12 بروج کی تفصیل یوں ہے۔

علم نجوم کے حصص[ترمیم]

عرب اور مغربی ماہرین نجوم اس علم کو درجہ ذیل دو حصوں میں تقسیم کرتے ہیں۔

  • حصہ آثار (تخمین)
  • حصہ اخبار (نتائج)

جبکہ قدیمی ہند کے ماہرین جیوتش اسے 3 بھاگوں میں بانٹتے ہیں۔

  • سدھانت (علم ہیئت)
  • سمھیتا (دنیاوی و ملکی امور)
  • ہورا (انفرادی امور)

@ this site is so good www.espncricinfo.com/ci/engine/match/scores/live.html

نجوم کی مختصر تاریخ[ترمیم]

نجوم کی سائنسی بنیادیں[ترمیم]

نجوم کی عقلی بنیادیں[ترمیم]

نجوم کے ادبی حوالے[ترمیم]

نجوم کے مذہبی صحائف میں حوالے[ترمیم]

www.espncricinfo.com/ci/engine/match/scores/live.html

‘‘http://ur.wikipedia.org/w/index.php?title=نجوم&oldid=907708’’ مستعادہ منجانب