نستعلیق

وکیپیڈیا سے

:چھلانگ بطرف رہنمائی, تلاش
نستعلیق خوشخطی

نستعلیق (Nastaleeq / Nastaliq)، اِسلامی خطاطی کا ایک انداز ہے۔ یہ ایران میں چودھویں اور پندرھویں صدی عیسیوی میں پروان چڑھا۔ تاہم، یہ بعض اوقات عربی متن لکھنے کے لئے بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ نستعلیق خوش نویسی کا زیادہ تر استعمال ایران، پاکستان اور افغانستان میں کیا جاتا ہے۔ نستعلیق کا ایک نسخہ فارسی اور اُردو لکھنے کے لئے ترجیحی بنیادوں پر استعمال ہوتا ہے۔

فہرست

[ترمیم] تاریخ

اسلام کی ایران آمد کے بعد، ایرانیوں نے فارسی-عربی رسم الخط اپنایا۔ اِس طرح عربی خوش نویسی ایران اور ساتھ ہی دوسرے اسلامی ممالک میں عروج پاگئی۔ اصل میں، میر علی تبریزی نے 14 ہویں صدی عیسوی میں دو رسم الخطوط نسخ اور تعلیق کو ملانے سے نستعلیق بنایا۔ اِسی وجہ سے یہ پہلے پہل نسختعلیق کہلایا۔

نستعلیق خطاطی کے قوانین کی ایک مثال

نستعلیق رفتہ رفتہ فروغ پایا اور کئی نامور خوش نویسوں نے اِس کی تابناکی اور خوبصورتی میں اپنا حصہ ڈالا۔ یہ خیال کیا جاتا ہے کہ میر عماد نے اپنے فن سے نستعلیق کو عمدگی اور شائستگی کی چوٹی تک پہنچایا۔ تاہم، آجکل نستعلیق کا استعمال مرزا رضا کلہور کے طریقے پر کیا جاتا ہے۔ کلہور نے نستعلیق خطاطی کی اِصلاح کی تاکہ یہ چھپائی مشینوں میں آسانی سے استعمال ہوسکے۔ اُس نے نستعلیق خطاطی کو سکھانے کے طریقے اور اِس کے قوانین بھی مرتب کئے۔

مغلیہ سلطنت نے برّصغیر پاک و ہند پر اپنی حکومت کے دوران فارسی کو عدالتی زبان کے طور پر استعمال کیا۔ اِس دوران نستعلیق جنوبی ایشیائی ممالک جیسے پاکستان، بھارت اور بنگلہ دیش میں عام ہوگیا۔ وہی رسُوخ ابھی تک باقی ہے۔ پاکستان میں اُردو کی تقریباً تمام چیزیں اِسی رسم الخط میں لکھی جاتی ہیں۔ اور دُنیا بھر میں نستعلیق رسم الخط کا سب سے زیادہ استعمال پاکستان میں کیا جاتا ہے۔ حیدرآباد، لکھنؤ اور بھارت کے دوسرے شہر جہاں اُردو بولنے والوں کی تعداد زیادہ ہے، وہاں نستعلیق استعمال کیا جاتا ہے۔

[ترمیم] ناقابلِ فراموش خوشنویسانِ نستعلیق

اور دوسرے: مرزا جعفر طبریزی، عبدالرشید دیلامی، سلطان علی مشعدی، میر علی ہیراوی، عماد الکُتاب، غلام رضا اسفہانی اور مرزا رضا کلہور۔

اور ہم عصر فنکار: حسن مرخانی، حسین مرخانی، عباس اخاوین، قولام حسین امرخانی۔

[ترمیم] نستعلیقی طبعہ تخطیط

نستعلیقی طبعہ تخطیط (typography) اُس وقت شروع ہوئی جب اِس خط کے لئے دھاتی طبعہ جات (types) بنانے کی کوشش کی گئی لیکن یہ کوشش ناکام ثابت ہوئی. فورٹ ویلیم دانشگاہ (Fort William College) نے ایک نستعلیق طبعہ بنایا لیکن وہ اصل نستعلیق سے ذرا مختلف تھا، اِسی وجہ سے کسی نے اِس کا اِستعمال نہیں کیا ما سوائے اسی دانشگاہ کے دارالکتب (library) کے. ریاستِ حیدرآباد دکن نے بھی ایک نستعلیق طبعہ نویس (typewriter) بنانے کی کوشش کی لیکن یہ کوشش بھی بُری طرح ناکام ہوئی. اور نتیجہ یہ اخذ کیا گیا کہ: ‘‘کاروباری یا تجارتی مقاصد کیلئے نستعلیقی طبعہ کی تیاری نا ممکن ہے’’. دراصل، نستعلیق طبعہ تیار کرنے کے لئے ہزاروں ٹکڑوں کی ضرورت ہوتی ہے.
جدید نستعلیق طبعہ نگاری نوری نستعلیق کی ایجاد سے شروع ہوئی.

[ترمیم] مزید دیکھئے

[ترمیم] حوالہ جات

  • اسرافیل شرچی، آموزش خط پایہ، روہم ناشران، تہران، 1998ء.


[ترمیم] روابط