نستعلیق

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
نستعلیق (شکستہ)؛ بسم اللہ اور سورت الکوثر۔
(خطاط، کاﻛﻪ یی حسین کے اجازہ کے ساتھ)
نستعلیق (عمومی)؛ بسم اللہ اور سورت الکوثر۔

نستعلیق (nastaleeq یا nastaliq)، اِسلامی خطاطی کا ایک انداز ہے۔ یہ عمومی طور پر اُردو زبان کے لئے اسعمال ہوتا ہے۔ یہ ایران میں چودھویں اور پندرھویں صدی عیسیوی میں پروان چڑھا، اس خطاطی انداز کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس کے بانی ایران کے مشہور خطاط میرعلی تبریزی تھے۔ یہ خط نسخ کے علاوہ، بعض اوقات عربی متن لکھنے کے لئے بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ نستعلیق خوش نویسی کا زیادہ تر استعمال ایران، پاکستان ، افغانستان اور بھارت میں کیا جاتا ہے۔ نستعلیق کا ایک نسخہ فارسی، پشتو، کھوار اور اُردو لکھنے کے لئے ترجیحی بنیادوں پر استعمال ہوتا ہے۔

وجۂ تسمیہ[ترمیم]

اسلام کی ایران آمد کے بعد، ایرانیوں نے فارسی-عربی رسم الخط اپنایا۔ اِس طرح عربی خوش نویسی ایران اور ساتھ ہی دوسرے اسلامی ممالک میں عروج پاگئی۔ عربی میں متعدد انداز خطاطی جیسے ثلث، رقعہ، دیوانی اور نسخ میں سے خط نسخ عام طور پر قرآن کی خطاطی میں بکثرت استعمال ہوتا تھا جبکہ قرآن کے صفحات پر اصل متن کے چہار جانب وضاحتی عبارت (تفسیر) لکھنے کا رواج تھا اور اس وضاحت کے انداز خطاطی کو قرآن کے متن سے الگ انداز میں لکھا جاتا تھا جس کو حاشیوں معلق ہونے کی وجہ سے عربی لفظ علق سے تعلیق کہتے تھے، خط تعلیق موجودہ دور میں یا تو کم و پیش معدوم ہو چکا ہے یا بہت ہی کم اختیار کیا جاتا ہے۔ میر علی تبریزی نے 14 ہویں صدی عیسوی میں ان دو رسم الخطوط نسخ اور تعلیق کی خصوصیات کو آپس میں یکجا کر کہ ایک نیا خط بنایا جسے نسخ-تعلیق (نسختعلیق) کا نام دیا گیا جو بعد میں مختصر ہو کر نستعلیق بنا۔

ہنس و نستعیلق[ترمیم]

ملف:عجمpersian.jpg
فارسی نستعلیق خطاطی

میرعلی تبریزی کے بارے میں یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ایک رات انہوں نے خواب میں ہنسوں کو اڑتے ہوئے دیکھا اور دورانِ پرواز ان کے لچکدار جسم اور ان کے پروں کی خوبصورت حرکت سے متاثر ہوکر بیدار ہونے پر عبارت کے الفاظ کو تعلیق کی خمداری اور نسخ کی ہندساتی خصوصیات آپس میں امتزاج کر کہ نستعلیق خط کو ایجاد کیا[1]۔ جس طرح ہنس کے پروں کی طوالت اور خوبصورتی دیکھنے والے اور ہنس کی محو پرواز حرکات پر مختلف ہوا کرتی ہیں اسی طرح نستعلیق میں بھی ایک ہی حرف کو متعدد سیاق و سباق کے لحاظ سے مختلف انداز دیا جاتا ہے۔

تاریخ[ترمیم]

نستعلیق رفتہ رفتہ فروغ پایا اور کئی نامور خوش نویسوں نے اِس کی تابناکی اور خوبصورتی میں اپنا حصہ ڈالا۔ یہ خیال کیا جاتا ہے کہ میر عماد نے اپنے فن سے نستعلیق کو عمدگی اور شائستگی کی چوٹی تک پہنچایا۔ تاہم، آجکل نستعلیق کا استعمال مرزا رضا کلہور کے طریقے پر کیا جاتا ہے۔ کلہور نے نستعلیق خطاطی کی اِصلاح کی تاکہ یہ چھپائی مشینوں میں آسانی سے استعمال ہوسکے۔ اُس نے نستعلیق خطاطی کو سکھانے کے طریقے اور اِس کے قوانین بھی مرتب کئے۔

مغلیہ سلطنت نے برّصغیر پاک و ہند پر اپنی حکومت کے دوران فارسی کو عدالتی زبان کے طور پر استعمال کیا۔ اِس دوران نستعلیق جنوبی ایشیائی ممالک جیسے پاکستان، بھارت اور بنگلہ دیش میں عام ہوگیا۔ وہی رسُوخ ابھی تک باقی ہے۔ پاکستان میں اُردو کی تقریباً تمام تحاریر و تصانیف اِسی رسم الخط میں لکھی جاتی ہیں۔ اور دُنیا بھر میں نستعلیق رسم الخط کا سب سے زیادہ استعمال پاکستان میں کیا جاتا ہے۔ حیدرآباد، لکھنؤ اور بھارت کے دوسرے شہر جہاں اُردو بولنے والوں کی تعداد زیادہ ہے، وہاں نستعلیق استعمال کیا جاتا ہے۔

اندازہائے نستعلیق[ترمیم]

نستعلیق کے متعدد انداز؛ یہاں نام محض مضمون میں الگ شناخت کے لیے اختیار کیئے گئے ہیں اور ان کا زبانوں سے کوئی تعلق نہیں بلکہ کسی بھی زبان کو کسی بھی انداز میں لکھا جاسکتا ہے۔ الفاظ کی جسامت کو شمارندے میں ایک ہی رکھا گیا ہے اور اس میں آنے والا فرق اصل میں نظام النقاط سے تعلق رکھتا ہے۔

نستعلیق خطاطی (نویسہ) کے وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ متعدد انداز میں تجربات کیئے گئے اور ان تمام انداز میں حروف کی پیمائشوں اور ان کی آپس میں نسبت کو اصل نستعلیق میں متعین شدہ اصولوں کے مطابق رکھا گیا۔ سترھویں صدی کے عہد میں نستعلیق خط میں ایک جدت دیکھنے میں آئی کہ اس کے خمدار خطوط کو مزید طویل اور خمدار کرنے پر ایک نیا انداز اختیار کیا گیا جس کو اس کی خوبصورتی کے باعث خطِ نستعلیقِ برجستہ کہا گیا۔

خطِ نستعلیقِ شکستہ[ترمیم]

خطِ نستعلیقِ شکستہ کو اردو میں خطِ شکستہ یا محض شکستہ بھی کہا جاتا ہے جبکہ اس کی مہارت اور اعلی معیار کی وجہ سے اس کو خط برجستہ بھی کہا جاتا ہے۔ نستعلیق کے اس انداز کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اسے سترھویں صدی میں استادانِ خطاطی، مرتضی قلی خان شاملو اور محمد شفیع ھروی نے ایجاد کیا تھا۔ اس خط نستعلیق میں انتہائی مہارت و قواعدی نسبتوں کے ساتھ الفاظ کو کچھ خمدار اور لچکدار طریقے سے طول دیا جاتا ہے؛ قرآنی آیات، حمد و نعت اور شاعری کے دوران خط نستعلیق شکستہ میں ایک اور جدت یہ پیدا کی گئی کے طوالت شدہ الفاظ کے حصوں پر اوپر کی جانب بھی عبارت درج کی جانے لگی۔ اس خط برجستہ یا شکستہ کی ایجاد کے کوئی ایک صدی بعد درویش عبدالمجید طالقانی نے اس میں مزید خوبصورت تجربات کیئے اور اس کو مزید ترقی دے کر موجودہ حالت پر پہنچایا۔

فارسی نستعلیق[ترمیم]

فارسی نستعلیق گو ایک قدیم ترین انداز نستعلیق ہے لیکن اس کا یہ مفہوم نا لیا جانا چاہیے کہ فارسی ہمیشہ فارسی نستعلیق کے انداز میں ہی لکھی جاتی ہے؛ یہ نام محض ایک انداز کو الگ بیان کرنے کی خاطر اس مضمون میں اختیار کیا جا رہا ہے۔ اس نستعلیق میں عام طور پر حروف کے عمودی حصوں اور الفاظ میں زیریں نسبت بالائی لحاظ سے دائیں جانب جھکاؤ سا محسوس ہوتا ہے۔ مزید یہ کہ حروف و الفاظ کے الف نما عمودی حصے ہندو پاک میں لکھی جانے والی نستعلیق سے کچھ طویل ہوسکتے ہیں۔ ک اور گ کے مرکز یا گوشے نسبتاً کھینچ کر لکھے جاتے ہیں۔ جب کہ ب نما حروف کے جسم کا مرتفع اپنے آغاز پر عام طور پر 30 درجے کا زاویہ رکھتا ہے اور خمدار و غیرمحسوس انداز میں مرتفع کے جسم سے ملتا ہے۔ متعدد استادان خطاطی کے خط میں ان میں ایک یا کئی باتیں غیر موجود بھی ہوسکتی ہیں؛ یعنی یہ تمام علامات ناقابل تحریف و ترمیم نہیں ہیں۔

دہلوی (اردو) نستعلیق[ترمیم]

دہلوی نستعلیق کی اصطلاح یہاں محض انداز خطاطی میں فارسی نستعلیق سے تمیز کو آسان کرنے کی خاطر درج ہے جبکہ اصل میں تمام اقسام کے نستعلیق میں اردو لکھی جاتی رہی ہے؛ یوں بھی کہا جاسکتا ہے کہ دہلوی نستعلیق سے یہاں مراد وہ انداز نستعلیق ہے جو کہ ایران میں بکثرت پائے جانے والے انداز نستعلیق کی نسبت ہندوستان میں عام ہوا۔ اس نستعلیق میں فارسی نستعلیق انداز کے برخلاف حروف اور الفاظ کے عمودی (اور تمام تحریر) کو سیدھا رکھا جاتا ہے یعنی اس میں جھکاؤ نہیں دیا جاتا۔ جبکہ درمیان میں جڑ کر آنے والے الفاظ کے شوشے متوازی عرض پر ہوتے ہیں۔

لاہوری نستعلیق[ترمیم]

لاہوری نستعلیق کے انداز میں متعدد باتیں پاک و ہند کے عمومی نستعلیق کی مانند ہی ہوتی ہیں۔ ایک بات جو اس انداز میں بہت نمایاں ہوتی ہے وہ خمدار جسم رکھنے والے حروف (مثال کے طور پر ق ، ی اور ل وغیرہ) کا فراغ ہے؛ یہ فراغ لاہوری نستعلیق میں بہت واضع اور دوسرے نستعلیق کی نسبت گہرا کر کہ بنایا جاتا ہے اور عام طور پر دیگر نستعلیق کی نسبت اس فراغ کا اختتام زیادہ بلندی تک لے جاکر کیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ اس نستعلیق میں درمیان میں آنے والے الفاظ کے شوشے متوازی عرض کے بجائے دائیں سے بائیں جانب جھکاؤ والے بنائے جاتے ہیں۔ گ کے ابتدائی جوڑ کو فارسی نستعلیق کی نسبت گہرا بھی کیا جاسکتا ہے جبکہ الف کا طول بھی عام دہلوی نستعلیق سے نسبتا بڑا رکھا جاسکتا ہے اور اس میں ایک قوسی رجحان بھی دیا جاتا ہے۔

قلم نستعلیق[ترمیم]

خطاطی کے لیے استعمال ہونے والے قلم عام طور پر اپنی نوکِ قلم پر چوڑے (مختلف جسامت کے) اور چپٹے ہوتے ہیں، گو بعض اوقات اس کام کے لیے موقلم (brush pen) بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ سخت نوک والے قلم عموماً بانس کے پودوں سے حاصل کردہ لکڑی کو تراش کر تیار کیئے جاتے تھے اور ان کی نوک کا زاویہ اور پھر خطاط کے ہاتھ کی حرکت نستعلیق خطاطی میں خوبصورت منقوشات (glyphs) پیدا کرنے والے دو اہم ترین عوامل میں شامل ہیں۔ تاریخی طور پر قلم کو خطاطی میں ایک انتہائی اہم مقام دیا جاتا تھا اور اس بانس یا لکڑی سے قلم کو تراشنے (قط بنانے) کے لیے باقاعدہ مشق و تربیت حاصل کرنا پڑتی تھی اور اس تراش کے عمل کے لیے اختیار کیئے جانے والے دھار والے چاقوؤں کو کسی اور چیز کاٹنے کے لیے استعمال نہیں کیا جاتا تھا۔

قواعدِ نستعلیق[ترمیم]

خطاطی میں استعمال ہونے والے قواعد کی وضاحت؛ الف کو بنیاد بنا کر نظام الدائرہ اور نوک القلم (قط) کو بنیاد بنا کر نظام النقاط وضع کیئے گئے ہیں۔ (مزید تفصیل کے لیے مضمون کا متن ملاحظہ کیجیئے)

نستعلیق خطاطی میں الفاظ تیار کرنے والے منقوشات تحریر کرنے کے لیے متعین شدہ قواعد اور ان منقوشات کی آپس میں نسبتوں کا خیال رکھا جاتا ہے۔ ان قواعد اور ان کی نسبتوں کی پیمائش کے لیے سب سے اہم کردار قلم کی نوک کی جسامت کا ہوتا ہے اور کسی بھی ایک لفظ کی شکل و صورت آزاد نہیں ہوتی بلکہ اپنے ارد گرد موجود دیگر حروف پر انحصار کرتی ہے۔ خط نسخ میں عام طور پر آپس میں جڑجانے والے عربی یا اردو حروف اپنی سیاقی حساسیت کی وجہ سے چار اقسام کے ربطات (ligatures) رکھتے ہیں 1- آزاد 2- لفظ کی ابتداء میں 3- لفظ کے درمیان میں اور 4- لفظ کے آخر میں آنے کی صورت والے ربطات؛ جبکہ خط نستعلیق میں یہ سیاقی حساسیت مزید بڑھ جاتی ہے اور اس میں بعض اوقات اپنے سیاق و سباق میں آنے والے حروف کی مناسبت سے مذکورہ بالا چار میں سے کسی ایک ہی مقامِ لفظ پر آنے کے باوجود ایک ہی حرف ایک سے زیادہ اشکال کا حامل ہوسکتا ہے؛ مثال کے طور پر نون (ن) کی شکل لفظ کی ابتداء (مذکورہ بالا عدد 2) میں آنے کے باوجود اپنے ساتھ (برابر میں) موجود لفظ کے سیاق کے لحاظ سے کئی اقسام کی ہوسکتی ہے یعنی اگر نون میم کے ساتھ آکر نم بنائے تو نون کی شکل الگ ہوگی نا بنائے تو الگ نی بنائے تو الگ نس بنائے تو الگ حالانکہ نون کا لفظی مقام ایک ہی ہے یعنی لفظ کی ابتداء لیکن اس کی اشکال نستعلیق میں الگ ہو کر الگ ربطات کی طالب ہوتی ہیں جبکہ نسخ میں یہ شکل ایک ربطہ (ligature) سے ادا کی جاسکتی ہے۔

نوک القلم اور نظام النقاط[ترمیم]

ابن مقلہ (886ء تا 940ء) کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس نے سب سے پہلے کوفی انداز تحریر سے ہٹ کر خمدار ثلث خطاطی کی ابتداء کی اور ابن مقلہ ہی نے خطاطی کے وہ بنیادی اصول وضع کیئے جو بعد میں آنے والے نسخ ، تعلیق ، دیوانی اور نستعلیق سمیت تمام خط تحریر میں اختیار کیئے گئے اور آج تک مستعمل ہیں۔ ابن مقلہ نے نوک القلم کو بنیاد بنا کر اس کی چوڑائی سے بننے والے نقاط کو حروف اور الفاظ کی پیمائش اور ان کے آپس میں تناسب کو قائم کرنے کے لیے استعمال کیا اور اسی وجہ سے اس نظام کو نظام النقاط کہا جاتا ہے۔ اس نظام میں نقاط (چوڑائی نوک القلم) کی تعداد سے حروف کے شوشوں اور ان سے بننے والے الفاظ کے ربطات کی جسامت متعین کی جاتی ہے۔ مختلف اقسام کے خطوط کے شوشوں میں آنے والی نقاط کی تعداد مختلف اور مخصوص ہوتی ہے؛ مثال کے طور پر سامنے درج شکل میں خط نسخ اور نستعلیق میں حرف ع کے نقاط کی پیمائش سے حرف کی شکل اس خط کے مطابق ڈھالی گئی ہے۔

الف ابجد اور نظام الدائرہ[ترمیم]

نظام النقاط کے ساتھ ہی ابن مقلہ نے ایک اور پیمائشی طریقۂ کار ابجدیہ حرف الف کو بنیاد مقرر کر کہ اختیار کیا؛ اس طریقۂ کار میں الف ابجد ایک طوالت کو ایک دائرے کا قطر مان کر نظام الدائرہ تیار کیا جاتا ہے۔ چونکہ مختلف اقسام کے خطوط میں الف کی طوالت مختلف ہوا کرتی ہے اسی وجہ سے اس کو بنیاد بنا کر فرض کیئے جانے والے دائروں کی جسامت بھی اسی نسبت سے مختلف آتی ہے اور پھر اس دائرہ نما فرضی جسامت سے حروف کی آپس میں جسامت مقرر کی جاتی ہے۔ مثال کے طور پر خط نسخ میں عام طور پر الف پانچ تا چھہ نقاط طویل آتا ہے اور خط نستعلیق میں یہ طوالت تین یا ساڑھے تین نقاط آتی ہے؛ پھر اس الف کی طوالت سے حاصل ہونے والے دائرے نسخ اور نستعلیق کے حروف کی گولائی کو مقرر کرتے ہیں۔ جیسا کہ سامنے شکل میں نسخ (ع) سے ظاہر ہوتا ہے۔ نظام الدائرہ کا اصول شکستہ نستعلیق اور نستعلیق سے زیادہ نسخ ، ثلث اور دیوانی میں دیکھا جاتا ہے۔

آزاد قلمی اور نظام التشابہ[ترمیم]

نظام التشابہ؛ ان اللہ علی کل شئ قدیر
(خطاط کے اجازہ کے ساتھ)

خطاطی میں بکثرت الفاظ کو ان کے معنائی پہلو کے ساتھ ساتھ رعنائی پہلو بھی دیے جاتے ہیں اور اس رعنائی خطاطی کی خاطر استادان خطاطی اور ماہرین خطاطی مذکورہ بالا دو نظام؛ نظام النقاط اور نظام الدائرہ سے نسبتاً اپنے قلم کو آزاد کرتے ہوئے بھی تحریر کرتے ہیں اور ایسا عام طور پر خط نستعلیق میں بہت عام دیکھا جاتا ہے۔ ان دونوں نظاموں سے آزاد قلم کو پھر متوازن تحریر کے دائرۂ عمل میں قید رکھنے کی خاطر ایک اور نظام اختیار کیا جاتا ہے جس کو نظام التشابہ (نظام التشبیہ) کہا جاتا ہے اور اس کی مدد سے تحریر میں توازن اور ہم آہنگی قائم کی جاتی ہے؛ اس نظام میں ایک جیسے اوائل یا ایک جیسے اواخر رکھنے والے حروف کو یکساں انداز میں ایک دوسرے سے تشبیہ دے کر تحریر میں لایا جاتا ہے اور یوں نظام النقاط و الدائرہ سے (کلی یا جزوی طور) آزاد رہنے کے باوجود تحریر کا توازن باقی رہتا ہے۔

قط اور نستعلیق[ترمیم]

قط کا لفظ اصل میں عربی زبان سے اردو میں آیا ہے اور متعدد معنوں میں استعمال ہوتا ہے لیکن خطاطی میں اس سے مراد جن معنوں کی لی جاوے ہے وہ ہیں ، تراش کے معنی، یعنی قلم کو تراشنا یا قلم کی تراشیدہ نوک۔ اپنے ان ہی معنوں کی وجہ سے خطاطی میں یہ لفظ عام طور پر مذکورہ بالا نظام النقاط کی اضافت کے طور پر دیکھا جاسکتا ہے۔ چونکہ ایک نقطہ، اگر خطاط اپنے ہاتھ کی حرکت کو خمیدہ کر کے نقطے کو ایک جانب معقر اور دوسری جانب محدب نا بنائے تو، اپنے ایک کونے سے مخالف کونے تک کی چوڑائی میں ہر نقطہ، قلم کی تراش (یعنی نوک القلم کی چوڑائی) کے عین برابر ہوتا ہے؛ اب چونکہ نقاط سے پیمائش کی نسبت قلم کی نوک کی چوڑائی سے پیمائش یا اندازہ آسان ہوتا ہے اس لیے عام طور پر (خصوصاً نستعلیق میں) اسی تراشیدہ نوک یا قط سے الفاظ کی نسبت متعین کرنے کا رواج پیدا ہوا۔ یہ چوڑائی قلم کی یا قط، مکمل اعداد کے ساتھ ساتھ؛ آدھے، ڈیڑھ اور سوا، کی اکائیوں میں بھی استعمال کی جاتی ہے۔

استادانِ نستعلیق[ترمیم]

نستعلیقی طبعہ تخطیط[ترمیم]

نستعلیقی طبعہ تخطیط (typography) اُس وقت شروع ہوئی جب اِس خط کے لئے دھاتی طبعہ جات (types) بنانے کی کوشش کی گئی لیکن یہ کوشش ناکام ثابت ہوئی. فورٹ ویلیم دانشگاہ (Fort William College) نے ایک نستعلیق طبعہ بنایا لیکن وہ اصل نستعلیق سے ذرا مختلف تھا، اِسی وجہ سے کسی نے اِس کا اِستعمال نہیں کیا ما سوائے اسی دانشگاہ کے دارالکتب (library) کے. ریاستِ حیدرآباد دکن نے بھی ایک نستعلیق طبعہ نویس (typewriter) بنانے کی کوشش کی لیکن یہ کوشش بھی بُری طرح ناکام ہوئی. اور نتیجہ یہ اخذ کیا گیا کہ: ‘‘کاروباری یا تجارتی مقاصد کیلئے نستعلیقی طبعہ کی تیاری نا ممکن ہے’’. دراصل، نستعلیق طبعہ تیار کرنے کے لئے ہزاروں ٹکڑوں کی ضرورت ہوتی ہے. جدید نستعلیق طبعہ نگاری نوری نستعلیق کی ایجاد سے شروع ہوئی۔

شمارندہ ، حبالہ اور نستعلیق[ترمیم]

نستعلیق میں حروف کے ربطات کے سیاقی حساس مظہر کی ایک مثال؛ حرف ب (سرخ) کو استعمال کرتے ہوئے۔

جیسا کہ مضمون میں کہیں درج ہوا کہ نستعلیق گو کہ عربی رسم الخط ہی ہے لیکن اس کے باوجود اس میں حروف کی اشکال، جڑنے اور ناجڑنے والے الفاظ اور ان کی لفظ میں آنے والی چار اقسام (آزاد، ابتدائی، درمیانی اور آخری) کے اعتبار سے تبدیل ہونے کے ساتھ ساتھ اپنے سے جڑنے والے حرف کے سیاق و سباق کے اعتبار سے بھی تبدیل ہو جاتی ہیں اور اس وجہ سے اس کے لیے علم شمارندہ میں سیاقی حساس (context sensitive) کا لفظ بھی استعمال ہوتا ہے۔ اپنے نفاست اپنے ربطات (ligatures) میں پوشیدہ رکھنے کی وجہ سے نستعلیق کو کلیدی تختے پر محض ابجدیہ دبا کر تظاہرہ پر درست اور نفیس انداز میں لانے کے لیے کی ایک کثیر تعداد درکار ہوتی ہے؛ یہ تعداد نا صرف یہ کہ رومن حروف سے لکھی جانے والی زبانوں بلکہ عربی نسخ اور ثلث وغیرہ کی نسبت بھی بہت زیادہ ہوتی ہے۔ ایک ہی مقام پر سیاقی حساس ربطات کی ایک مثال ب کے حرف کو استعمال کرتے ہوئے سامنے شکل میں دیکھی جاسکتی ہے۔

پہلا اہم نستعلیق[ترمیم]

1982ء میں پاکستان کا تمغۂ امتیاز حاصل کرنے والے مرزا احمد جمیل کا تیار کردہ نستعلیق گو پہلا آلاتی نستعلیق نہیں لیکن پہلا معیاری اور خوبصورت ترین آلاتی نستعلیق ضرور کہا جاسکتا ہے جس کے تمام تر ربطات بھی خود مرزا جمیل نے تیار کرائے[2] اور اس نویسے، نوری نستعلیق کے نام کا پہلا لفظ ان کے والد مرزا نور احمد کی نسبت پر ہے[3]۔ گو کہ اس نویسے کی دستیابی کے بعد پاکستان کے اخبارات نے پہلی بار آلاتی نستعلیق سے استفادہ شروع کیا لیکن یہ یکطبعہ (monotype) نظام پر امور کا محتاج تھا۔

ہندوستان یا پاکستان؟[ترمیم]

اردو کی پاکستانی زبان کے طور پر دعویداری و گردان کی جاتی ہے لیکن اردو کو معیاری انداز میں شمارندے پر لانے کا کام ہندوستان میں انجام پایا۔ پاکستان کے اخبارات کو اپنا کاروباری ہدف بناتے ہوئے ہندوستان کے ایک ادارے concept software pvt ltd نے 1994ء میں نوری نستعلیق کو استعمال کرتے ہوئے ان پیج نامی مصنع لطیف تیار کیا[4]۔ ان پیج میں استعمال ہونے والا انداز نستعلیق اپنی خطاطی خصوصیات میں لاہوری یا فارسی نستعلیق کے بجائے ہند و پاک کے عمومی (دہلوی نستعلیق) سے قریب ہے۔ بیس پچیس سال سے زیادہ کا عرصہ گذر جانے کے باوجود آج تک کوئی پاکستانی ادارہ ان پیج کے مقابلے کا نستعلیق پیش نا کرسکا اور اس قدر طویل عرصے کے بعد ایک بار پھر اگر کوئی واقعی اہم پیش رفت سامنے آئی تو وہ فیض نستعلیق کی صورت میں ہندوستان ہی کی جانب سے آئی[5]؛ فیض نستعلیق میں مذکورہ بالا انداز نستعلیق بنام لاہوری نستعلیق کو بنیاد بنایا گیا ہے اور اس میں لاہوری نستعلیق کے اصول و قواعد وہی رکھے گئے ہیں[6] جو استاد خطاطی فیض مجدد (1912ء تا 1986ء) نے مرتب کیئے تھے۔ فیض نستعلیق بنانے والوں کے موقع کے مطابق فیض مجدد کی وفات کے بعد ہندوستان میں فیض صاحب کے محض ایک ہی شاگرد اسلم کرتپوری ایسے دستیاب ہوئے جن میں فیض صاحب کے کام کو پرانی کتب سے ہو بہو نقل کر کے شمارندی ربطات (ligatures) بنانے کی صلاحیت موجود تھی[7]۔

نقل بازیاں اور ہمتیں[ترمیم]

دنیا کے اہم عملیاتی نظاموں (ونڈوز، میک وغیرہ) پر اردو امداد کی دستیابی کے بعد متعدد اقسام کی کوششیں انفرادی یا محدود پیمانوں پر کی جاچکی ہیں اور ان میں سے اکثر محض ونڈوز یا میک کی امداد کو استعمال بناتے ہوئے پہلے سے موجود نوری نستعلیق کی نقل ہیں اور ان میں حقوق طبع و نشر کی خلاف ورزیاں (copyright infringement) کی گئی ہیں؛ اس اقسام کے دو اہم ترین اور مشہور ترین نویسات (fonts) میں علوی نستعلیق اور جمیل نوری نستعلیق شامل ہیں[8] جن میں حق طبع و نشر کو پامال ہوا۔

نستعلیق کا حسن اور شمارندہ[ترمیم]

نستعلیق کا حسن ہو یا کسی دوسرے (جیسے نسخ یا times new roam غیرہ) نویسے کا ہو، جب بات شمارندے کی آتی ہے تو حقیقت یہ ہے کہ شمارندہ کسی خط کو حسین بنانے یا بدصورت بنانے کا کام نہیں کرتا اور نا ہی یہ کہا جاسکتا ہے کہ نستعلیق شمارندے پر اچھا نظر نہیں آتا اور نا ہی یہ کہا جاسکتا ہے کہ نسخ شمارندے پر اچھا نظر آتا ہے یا arial نامی نویسہ شمارندے پر اچھا نظر آتا ہے۔ اصل معاملہ اس نویسے کے مصنع لطیف کی لطافت اور نزاکت کا ہوا کرتا ہے؛ اور شمارندہ کچھ بنائے بگاڑے بغیر جو اس کو دیا جائے وہی دکھاتا ہے۔ ایک اچھے شمارندی اور حبالہ نویسے (web font) میں درج ذیل خصوصیات شامل ہونا آج کے معیار کے مطابق ضروری ہیں؛ جن کا تعلق اس خط سے نہیں جس میں وہ تحریر ہو بلکہ اس نویسے کے مصنع لطیف سے ہے۔

خصوصیات النویسۃ الحبالہ اور دستیاب نستعلیق[ترمیم]

خصوصیاتِ نویسۂ حبالہ (characteristics of web font) میں وہ تمام تر خصوصیات شامل ہونا چاہیں جو کہ ہاتھ سے تحریر کی گئی ایک عمومی خطاطی میں ہوا کرتی ہیں اور ان میں سب سے اہم؛ معنائی، رعنائی، اور طبعائی خصوصیات شامل ہیں۔ ان خصوصیات کے علاوہ بھی ایک حبالہ نویسے میں متعدد ایسے خصائص کی ضرورت ہوتی ہے جو کہ اس نویسے کی متصفح حبالہ تک رسائی ممکن بنانے کو لازم ٹہرتی ہیں۔۔۔۔۔

  • تظاہرہ (display) پر آنے کے بعد قرات (پڑھنے) میں آسان ہو۔
    • تبصرہ:- عموماً مواقع حبالہ پر مواد اخباری (اور بعض اوقات کتابی یعنی اخباری سے کچھ بڑی) جسامت میں پیش ہوتا ہے اور توقع یہی ہونی چاہیے کہ صارف یا قاری کو اپنے شمارندے میں کسی ترمیم کے بغیر وہ ایسے ہی درست نظر آئے جیسا کہ اسے دیگر مواقع اور زبانوں کے نویسات نظر آتے ہوں
  • وہ نویسہ (نہ کہ خطاطی انداز) اپنی وسعت میں عالمگیر یا بین الاقوامی حدود پر ہو یا ان حدود کے نزدیک ہو۔
    • تبصرہ:- یہاں مراد اس انداز خطاطی کے بین الاقوامی ہونے سے نہیں بلکہ وہ مخصوص ذیلی مصنع لطیف جس پر وہ نویسہ مشتمل ہو اسے بین الاقوامی حدود پر ہونا چاہیے
  • جسامت: ایک نویسے کی جسامت سے مراد اس کے حروف میں سب سے بالائی مقام سے سب سے نچلے مقام تک کا فاصلہ ہوا کرتا ہے۔
    • تبصرہ1:- کوئی بھی موقع حبالہ تیار کرنے کے لیے متعدد جسامت کے نویسات درکار ہوا کرتے ہیں اور ایک اچھے نویسۂ حبالہ کی اہم خصوصیت یہ ہوتی ہے کہ وہ تمام درکار جسامتوں میں درست نظر آئے اور اس کے لیے صارف یا قاری کو خصوصی طور پر کسی قسم کے استرداف و ضداسترداف (anti-aliasing یا aliasing) کی ضرورت نا پیش آئے۔ اور بالفرض اگر ضداسترداف کی بھی جائے تو نویسہ 8 یا کم از کم 10px کی جسامت تک درست نظر آنا چاہیے۔
    • تبصرہ2:- کم جسامت پر چونکہ عکصر (pixels) بھی کم آتے ہیں اور اس وجہ سے متعدد ناقص نویسات چھوٹی جسامت کرنے پر واضح نظر آنے کے بجائے یا تو مدھم اور دھندلے ہو جاتے ہیں یا پھر اس میں عمودی یا باریک خطوط ناقابلِ دیدنی صورت اختیار کر لیتے ہیں۔ عام طور پر نستعلیق میں یہ مسئلہ بہت زیادہ دیکھنے میں آتا ہے کیونکہ اس کے ربطات اگر نفاست سے نا تیار کیئے گئے ہو تو کم جسامت پر اپنی صورت واضح نہیں رکھ پاتے۔

متن، زیبائشی ترسیمے، حبالہ نویسہ[ترمیم]

زیبائشی یا یوں کہہ لیں کہ خطاطانہ خصوصیات عام طور پر مضامین و تحریر کے متن (text) میں گو نہیں لائی جاتیں اور ان کا استعمال فن خطاطی کے نمونوں یا باتصویر کتب یا کسی حد تک سرخیوں وغیرہ میں دیکھا جاتا ہے۔ لیکن اس کے باوجود چند ایسے زیبائشی حروف یا خطوط یا اسلوب بھی ہیں جو کہ متن میں بعض اوقات درکار ہوتے ہیں۔ اور ایک اچھے حبالہ نویسے میں ان زیبائشی ترسیموں کی موجودگی اردو متن میں لازمی ہے۔

  1. زیرسطر: یہ ایک قسم کی افقی لکیر ہوا کرتی ہے جو کہ کوئی حرف نہیں بلکہ ایک زیبا ہے اور اس کا استعمال کسی تحریر کے کسی حصے پر زور دینے کے لیے بکثرت کیا جاتا ہے۔ اردو کی پرانی کتب میں عام طور پر یہ اسلوب زیرسطر (underline) نہیں بلکہ زبرسطر (upperline) کے طور پر پایا جاتا تھا لیکن انگریزی کے سیلاب اور شمارندی علوم میں اردو والوں کی ناکارہ کارکردگی کی وجہ سے یہ زبرسطر کا اسلوب کم از کم شمارندی نویسات سے ناپید ہو چکا ہے۔
  2. مائلہ: تحریر یا حروف مائلہ (italic) کا رواج بھی اردو نستعلیق میں ہی نہیں بلکہ اردو خطاطی میں کم یا غیرحاضر ہی رہا ہے جبکہ اردو عبارت میں اس قسم سے تحریر کو دیگر متن کی تحریر سے الگ کرنے کا کام حروف مائلہ کے بجائے شکستہ نستعلیق نما شکل اختیار کر کہ کیا جاتا تھا اور عام طور پر اس مقصد کے لیے ایک زیبائشی خط بنام تطویل (elongation) استعمال میں لایا جاتا تھا۔
  3. تطویل: تطویل کوئی حرف نہیں بلکہ ایک ربطہ کی مانند ایسا ترسیمہ ہے جو رومن ابجد کے متن میں اہم ہو یا نا ہو اردو کے متن میں ایک بنیادی حیثیت رکھتا ہے بلکہ کسی اچھی تحریر یا کتاب کو لکھنے کے لیے تطویل کشیدہ کی اہمیت ایک حرف ہی کے جیسی ہوتی ہے۔ اردو تحریر میں متعدد مقامات پر تطویل کی ضرورت ایسے ہی پیش آتی ہے جیسے کہ انگریزی یا رومن عبارتوں میں مائلہ کی ہوتی ہے۔ اس تطویل کی ایک مثال عبارت میں آجانے والا کوئی شعر ہے جہاں اس کے مصروں کو یکساں طول دینے کی خاطر تطویل استعمال ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ بھی اچھی نستعلیق کی لکھی کتب میں متن کی تحریر کو حاشیوں تک ہم آہنگ بنانے کے لیے بھی تطویل کا استعمال کیا جاتا ہے۔ انگریزی (یا آج کل شمارندوں پر) اس کام کو حروف و الفاظ کے مابین فضاء کم زیادہ کر کہ لیا جاتا ہے لیکن اردو کی عبارت پر موافق نہیں اور تطویل ہی مستعمل دیکھی جاتی ہے۔
  4. مذکورہ بالا ترسیموں کے علاوہ بھی متعدد غیرحرفی ترسیمے اردو کی تحریر میں بکثرت درکار ہوتے ہیں جن کی ایک اچھے شمارندی یا حبالہ نویسے میں دستیابی لازم آتی ہے۔ ان میں سے چند عام طور پر ملنے والی اشکال یا مثالوں میں؛ سن (تاریخ) علامت Sannuqta.png یا Sanhamza.png، عدد علامت ADAD.PNG، تخلص علامت Takhallus.png، شعر علامت Sheyralamat.png، صفحہ عدد علامت Safhaadad.png، اور مصرع علامت Misra.png وغیرہ شامل ہیں۔ مذکورہ بالا عام مثالوں کے علاوہ بھی خصوصی ترسیمے اردو تحریر میں لازم آتے ہیں جن کی چند اور مثالوں کے لیے خصوصی محارف کا صفحہ دیکھا جاسکتا ہے۔

مزید دیکھئے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  • اسرافیل شرچی، آموزش خط پایہ، روہم ناشران، تہران، 1998ء.

روابط[ترمیم]