نصیر الدین محمد ہمایوں

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
نصیرالدین ہمایوں
مغل شہنشاہ
Emperor Humayun.JPG
عہد حکومت 26 دسمبر ، 1530 - 17 مئی ، 1540
22 فروری ، 1555 - 27 جنوری ، 1556
تاج پوشی 30 دسمبر ، 1530 بمقام آگرہ
پورا نام ابوالمظفر نصیرالدین محمد ہمایوں
پیدائش 17 مارچ 1508 (1508-03-17)
جائے پیدائش کابل
وفات 27 جنوری ، 1556
جائے وفات دہلی
مدفن مقبرۂ ہمایوں
پیشرو ظہیرالدین بابر
جانشین جلال الدین اکبر
اولاد جلال الدین اکبر ، مرزا محمد حکیم

عقیقہ بیگم ، بخشی بانو بیگم

بخت النساء بیگم
شاہی گھرانہ خاندانِ تیمور
خاندان خاندان مغلیہ
والد ظہیرالدین بابر
والدہ ماہم بیگم
مذہب سنی اسلام
ہمایوں کا مقبرہ

1535ء تا 1540ء اور پھر 1550ء تا 1556ء مغلیہ سلطنت کا حکمران۔ بانئ سلطنت ظہیر الدین بابر کا بیٹا تھا۔ اس کے تین اور بھائی کامران، عسکری اور ہندالی تھے۔ 4 مارچ 1508ء میں کابل میں پیدا ہوا۔ اس کی والدہ کا نام ماہم بیگم تھا۔ ہمایوں نے ترک، فارسی اور عربی کی تعلیم حاصل کی۔ اسے حساب، فلسفہ، علم نجوم اور علم فلکیات سے خصوصی دلچسپی تھی۔ سپہ گری اور نظم و نسق کی اعلیٰ تربیت حاصل کی اور صرف 20 سال کی عمر میں بدخشاں کا گورنر مقرر ہوا۔ اس نے پانی پت اور کنواہہ کی لڑائیوں میں شمولیت اختیار کی۔ اس کی خدمات کے صلے میں اسے حصار فیروزہ کا علاقہ دے دیا گیا ۔ 1527ء کے بعد اسے دوبارہ بدخشاں بھیج دیا گیا۔ 1529ء جب وہ آگرہ واپس لوٹا تو اسے سنبھل کی جاگیر کے انتظامات سونپے گئے۔

تخت نشینی[ترمیم]

بابر کی وفات کے بعد نصیر الدین ہمایوں 29 دسمبر 1530ء کو تخت نشین ہوا۔ بابر کی آخری علالت کے دوران وزیراعظم نظام الدین خلیفہ نے سازش کی کہ مہدی خواجہ، جو ہمایوں کا بہنوئی اور تجربہ کار سپہ سالار تھا، کو تخت پر بٹھادیا جائے لیکن یہ سازش ناکام رہی اور بابر نے پہلے ہی امراء کو وصیت کی کہ وہ ہمایوں کو تخت نشین کریں اور اس سے وفاداری نبھائیں۔ اس طرح بابر کی وفات پر ہمایوں تخت نشین ہوا۔

ہمایوں کی مشکلات[ترمیم]

ورثے میں ملا ہوا تخت ہمایوں کے لیے پھولوں کی سیج ثابت نہ ہوا۔ بابر کو اتنی فرصت ہی نہ ملی کہ وہ اپنی پوزیشن اور حکومت کو مجتمع و مستحکم کرتا اور یہی غیر مستحکم حکومت ہمایوں کی مشکلات کا باعث بنی۔

بہت سے مورخین کی رائے میں ہمایوں نے خود متعدد فاش غلطیوں کا ارتکاب کیا اور اپنے کردار کی خامیوں کے باعث اسے مشکلات سے دوچار ہونا پڑا اور اپنی سلطنت سے بھی ہاتھ دھونا پڑے۔

سلطنت کی تقسیم[ترمیم]

بابر نے بستر مرگ پر ہمایوں کو یہ وصیت کی تھی کہ وہ اپنے بھائیوں سے فیاضانہ سلوک کرے اور ہمایوں نے تخت نشین ہوتے ہی کچھ زیادہ فیاضی کا مظاہرہ کیا۔ اس نے اپنی سلطنت بھائیوں میں تقسیم کردی۔ اس نے کامران کو کابل اور قندھار، ہندال کو میوات اور عسکری کو سنبھل کا علاقہ بطور جاگیر دے دیے۔ اپنے چچیرے بھائی سلیمان مرزا کو بدخشاں کا علاقہ عطا کیا۔ ہمایوں کے اس فیاضانہ سلوک کے باوجود اس کے بھائی مطمئن نہ ہوئے اور انہوں نے ہمایوں کا ساتھ دینے کے بجائے اس کے لیے مشکلات پیدا کیں۔ کامران نے بعد میں پنجاب پر قبضہ کرلیا۔ ہمایوں نے اس کے خلاف کوئی کارروائی نہ کی۔ بلکہ حصار فیروزہ کا علاقہ بھی اس کے حوالے کردیا۔ یہ ہمایوں کی سیاسی غلطی تھی کہ اس نے اپنے اہم علاقے فوجی قوت کے حامل تھے۔ حصار فیروزہ کا پایۂ تخت اور کابل و قندھار کے درمیان ایک اہم فوجی چوکی تھا اور اس علاقے کے ہاتھ سے نکل جانے سے اس کی فوجی طاقت کمزور پڑ گئی۔ ان علاقوں کی آمدنی ہاتھ سے چلی جانے سے مالی نقصان بھی ہوا۔

بغاوتیں اور سازشیں[ترمیم]

بابر کی وفات کے فوراً بعد ملک میں چاروں طرف بغاوتیں پھیل گئیں۔ افغان امراء کو اس بات کا احساس تھا کہ حکومت پر ان کا حق ہے اور مغلوں کو وہ ملک سے نکال باہر کرسکتے ہیں۔ افغانوں کو محمود لودھی پر پورا اطمینان تھا۔ تمام افغان سرداروں نے تخت کے حصول کے لیے ہر ممکن کوششیں شروع کردیں۔ اس کے علاوہ بہار میں شیر خان نے اپنی فتوحات و مہمات کا سلسلہ شروع کردیا۔ گجرات میں بہادر شاہ ہمایوں کو ہندوستان سے نکال دینے کے لیے مصروف جدوجہد تھا۔

ذاتی کردار[ترمیم]

ہمایوں کے تخت نشین ہوتے ہی بہت مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ ان مشکلات سے نبرد آزما ہونے کے لیے سیاسی بصیرت اور قابلیت کی ضرورت تھی لیکن ہمایوں عزم و استقلال سے عاری تھا۔ وہ وقت کی قدر و قیمت نہ جانتا تھا۔ اس نے سب سے پہلے مشرق میں محمود لودھی پر حملے کئے اور انہیں پسپا کیا لیکن ان حریفوں کا قلع قمع کئے بغیر والئ گجرات سے نبرد آزما ہونے کی ٹھانی۔ اگر وہ دور اندیش ہوتا تو شیر خان کو طاقتور بن جانے کی مہلت نہ دیتا اور گجرات کی تسخیر میں وقت ضائع نہ کرتا۔ اسی طرح جب اس نے گجرات پر حملہ کیا تو والئ گجرات چتوڑ کی مہم میں مصروف تھا۔ چتوڑ کی رانی نے ہمایوں سے امداد طلب کی مگر اس نے انکار کردیا۔ اس طرح اس نے راجپوتوں کی دوستی کا موقع ضائع کردیا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہمایوں کی مشکلات کے حل میں ناکامی اس کے اپنے کردار کی خامیوں کی بدولت تھی۔ اگر وہ مستقل مزاج، دور اندیش اور سیاسی بصیرت سے کام لیتا تو باآسانی مشکلات پر قابو پاسکتا تھا۔

ترمیم ابھی جاری ہے