نظریہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش

نظریہ کا تصور یونانی فلسفہ سے آیا، جہاں اسے تھیوریا کہا جاتا تھا، اور اس کا اصل مطلب "کو نظر سے دیکھنا، ناظِر" کے تھے، مگر فلسفہ میں غور و فکر یا قیاس کے ٹھیرے۔ نظریہ کو اقدام اور ممارست کا متضاد سمجھا جاتا ہے۔ [1]

اصطلاح term

نظریہ
ممارست

theory
practice


ایک کلاسیکی مثال جو ان میں تمیز کو سمجھانے کے لیے استعمال ہوتی ہے طب سے متعلق ہے۔ نظریہ طب متعلق ہے صحت اور بیماری کی وجوہات اور فطرت کو سمجھنے سے، جبکہ طِب کی ممارستی طرف متعلق ہے افراد کو صحتمند بنانے سے۔ دونوں آپس میں نسبت رکھتے ہیں مگر باہم آزاد ہیں، کیونکہ یہ ممکن ہے کہ صحت اور بیماری پر تحقیق کی جائے بغیر مریضوں کو شفاء کیے، اور یہ بھی ممکن ہے کہ مریض کو شفاء کیا جائے بغیر یہ سمجھے کہ علاج کسی طرح کام کرتا ہے۔[2]

جدید تناظر میں نظریہ اور ممارست میں تمیز ایسی ہی ہے جیسے نظریاتی سائنس اور طرزیات یا اطلاقی سائنس میں۔ جدید علم میں "نظریہ" یا "سائنسی نظریہ" حوالہ ہے تجریبی مظاہر کی تجویز کردہ وجوہاتی وضاحت کی طرف، جو سائنسی طریقہ کے مطابق ہو۔ یہ نظریات اس طرح شرح کیے جاتے ہیں کہ اس میدان کا کوئی سائنسدان انہیں سمجھنے، پرکھنے اور اعتراض (یا جھٹلانے) کرنے کے قابل ہو سکے۔


املاء[ترمیم]

جب کسی میدان کا نظریہ مراد ہو، مثلاً "احتمال کا نظریہ" تو اسے عموماً "نظریہ احتمال" لکھا جاتا ہے اگرچہ صحیح املاء "نظریۂ احتمال" ہے۔

  1. ^ The word theory is related to سانچہ:Polytonic "spectator", سانچہ:Polytonic thea "a view" + سانچہ:Polytonic horan "to see", literally "looking at a show". See for example dictionary entries at Perseus website. The word has been in use in English since at least the late 16th century.سانچہ:OEtymD
  2. ^ See for example Hippocrates Praeceptiones, Part 1.